موسیقی کے حلال اور حرام ھونے کی دلیلوں کو بیان کیجئے ؟

0 0

” موسیقی ” یا ” موسیقیا” ایک یونانی لفظ ھے جو لغت میں ” غنا” کے معنی میں استعمال ھوا ھے ۔ لیکن دینی مفاھیم اور فقھ کی اصطلاح میں ان کے درمیان فرق ھے۔

شریعت کی اصطلاح میں غنا اس آواز کو کھتے ھیں جو انسان کے حلق سے نکلتی ھے اور اسے حنجره میں اس طرح کھینچ لیا جاتا ھے جس سے سننے والے میں سرور اور وجد کی کیفیت پیدا ھوجائے۔ یھ آواز لھو و لعب کی مجالس کے ساتھه مناسبت رکھتی ھے۔

لیکن “موسیقی” اس آواز کو کھا جاتا ھے جو موسیقی کے آلات سے ایجاد ھوتی ھے۔ اس بنیاد پر علمی اصطلاح میں موسیقی اور فقھی اصطلاح میں موسیقی دونوں کے درمیان ، منطقی لحاظ سے عموم و خصوس مطلق کی نسبت حاکم ھے۔[1]

۲۔ موسیقی اور غنا کے حرام ھونے کی حکمت

آیات قرآنی ، روایات اور علماء نفسیات کے بیانات میں غور کرکے، مندرجھ ذیل نکات کو موسیقی کی حرمت کا فلسفھ مانا جانا جاسکتا ھے:

الف ) انسان کو فساد اور فحشاء کی جانب کھینچتی ھے ۔

رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم سے منقول ایک حدیث میں آیا ھے : “غنا زنا کی سیڑھی ھے” [2]

یھ بات تجربھ سے ثابت ھوچکی ھے کھ بھت سارے لوگوں نے غنا کی آواز کی تاثیر سے تقوی کا راستھ چھوڑ کر فساد کا راستھ اپنالیا ھے۔ غنا کی مجلس عام طور پر مختلف مفاسد کا مرکز ھوتی ھے۔ [3]

ب) غنا انسان کو خدا کی یاد سے غافل کرتی ھے۔

قرآن مجید میں ارشاد ھے: ” لوگوں میں ایسا شخص بھی ھے جو مھمل باتوں کو خریدتا ھے تا کھ ان کے ذریعھ بغیر سمجھے بوجھے لوگوں کو راه خدا سے گمراه کرے اور آیات الھیھ کا مذاق اڑائے در حقیقت ایسے ھی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ھے” [4]

اس آیھ شریفھ میں خدا کے راستے سے گمراھی کا ایک سبب ” لھو الحدیث” جانا گیا ھے ” لھو” ھر اس چیز کو کھتے ھیں جو انسان کو اپنے ساتھه اس طرح مصروف رکھے کھ انسان اھم کاموں سے ره جائے اور اسلامی روایات میں اسے ” غنا ” سے تفسیر کیا گیا ھے۔ [5]

ج) انسان کے ذھن اور اعصاب پر موسیقی اور غنا کا غلط اثر

غنا اور موسیقی اعصاب کو بے حس کرتے ھیں۔ دنیا کے بڑے بڑے موسیقی دانوں کی زندگی پر نظر ڈالنے سے یھ بات ثابت ھوتی ھے کھ وه اپنی زندگی میں ننسیاتی بیماریوں میں مبتلا رھے ھیں اور آھستھ آھستھ اپنے اعصاب سے ھاتھه دھو بیٹھے ھیں۔ ان میں سے بعض نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ھوئے ھیں ، اور بعض کا ذھنی توازن بگڑ گیا ھے بعض دوسرے فالج سے دو چار ھوکر اپنی طاقت کھوبیٹھے ھیں ، ان میں سے بعض کا موسیقی آلات بجانے کے دوران بلڈ پریشر زیاده ھوا ھے اور انھیں دل کا دوره پڑا ھے۔ [6]

د) غنا ، استعماری طاقتوں کے ھاتھه میں کھلونا ۔

دنیا کے استعمارگر ھمیشھ لوگوں خاص کر جوان نسل کے بیدار ھونے سے ڈر رھے ھیں۔اس لئے اپنی استعماری سیاست کو جاری رکھنے کیلئے،ان کا ایک وسیع پروگرام یھ ھے کھ سماج کو غفلت اور بے خبری اور جھالت میں ڈبو دیں۔ ان کیلئے مضرسرگرمیوں ، غلط تفریح گاھوں ، عریانیت کے مرکزوں، اور جوا کھیلنے والے کلبوں کی بنا کریں۔ اسی طرح “غنا” اور “موسیقی” کو وسعت دینا ان کے اھم منصوبوں میں سے ھے جس کے ذریعے وه لوگوں کے افکار کو بھکاکر بے حس کردیتے ھیں۔ [7]

۳۔ مذکوره نکات غنا اور موسیقی کے حرام ھونے کے اسباب ھیں۔ لیکن یھ موارد اس کے حرام ھونے کیلئے مکمل سبب نھیں ھیں۔ پس اگر ان میں سے بعض موارد ھوں جن پر یھ غلط آثار و نتائج ترتیب نھ پاتے ھوں پھر بھی حرمت کا حکم اپنی جگھ پر برقرار ھے۔

۴۔ موسیقی کے حرام ھونے کی اصلی دلیلیں ( یا اس کے بعض اقسام کا حلال ھونا) قرآنی آیات اور پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور ائمھ طاھرین سے منقول روایات سے ثابت ھوتی ھیں۔ جن پر فقھ کے خصوصی مراکز میں غور و غوض کیا جاتا ھے۔ ھمارے اس مختصر سے مقالے میں اجتھادی مسائل کو چھیڑنے کی گنجائش نھیں ھے۔ اس لئے خلاصھ کے طور پر چند مطالب کی طرف اشاره کرنے پر اکتفا کرتے ھیں :

۱لف) قرآنی آیات اگرچھ واضح طور پر غنا کے حکم کو بیان نھیں کرتی ھیں، لیکن دیگر احکام کے مانند اس کے اصول اور کلیات کو بیان کرتی ھیں۔

ان میں سے بعض آیات کی جو تفسیر پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور اھل بیت علیھم السلام نے بیان کی ھے ، وه غنا پر منطبق ھوتی ھے اور اس سلسلے میں چند آیات کو یھاں پر پیش کیا جاتا ھے:۔

۱۔ حضرت امام صادق علیھ السلام نے آیھ شریفھ ” اور وه لوگ جھوٹ اور فریب کے پاس حاضر بھی نھیں ھوتے ھیں اور جب لغو کاموں کے قریب سے گزرتے ھیں تو بزرگانھ انداز سے گذرجاتے ھیں” [8] اور آیھ شریفھ ” لغو اور مھمل باتوں سے اجتناب کرتے رھو” [9]کے بارے میں فرماتے ھیں ” مراد لھو و لعب اور غنا کی محفلیں ھیں” [10]۔

۲۔ امام صادق علیھ السلام آیھ شریفھ “وه لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ھیں” [11] کے بارے میں فرمایا ھے : “لغو” سے مراد اس آیھ میں غنا اور لھو ولعب ھے[12]۔

۳۔امام محمد باقر اور امام صادق علیھما السلام نے آیھ شریفھ : ” لوگوں میں ایسا شخص بھی ھے جو مھمل باتوں کو خریدتا ھے تا کھ ان کے ذریعھ بغیر سمجھے بوجھے لوگوں کو راه خدا سے گمراه کرے اور آیات الھیھ کا مذاق اڑائے در حقیقت ایسے ھی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ھے” [13] کے بارے میں فرمایا: مھمل باتوں سے مراد “غنا ” ھے۔[14]

یھاں اس بات کی وضاحت ضروری ھے کھ اگر چھ اکثر روایات میں آیھ شریفھ کو “غنا” پر منطبق کیا گیا ھے[15] لیکن بعض روایات میں اس آیت کو موسیقی پر بھی منطبق کیا گیا ھے۔[16] اور فقھاء نے بھی بعض آیات کو موسیقی پر منطبق کیا ھے۔

ب) غنا کے حرام ھونے پر سب سے اھم دلیل وه روایات ھیں جو پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اور اھل بیت علیھم السلام کے وسیلے سے ھم تک پھنچی ھیں ۔ یھ روایات واضح طور پر “غنا” کے حرام ھونے پر دلالت کرتی ھیں۔ نمونھ کے طورپر یھاں بعض روایتوں کی جانب اشاره کیا جاتا ھے۔

امام محمد باقر علیھ السلام فرماتے ھیں: “غنا” ان چیزوں میں سے ھے جس کی سزا خدا نے جھنم کی آگ قرار دی ھے۔ [17]۔ امام صادق علیھ السلام فرماتے ھیں: “غنا” سے پرھیز کرو۔ [18]

ج) موسیقی کے حرام ھونے کے سلسلے میں جو روایات پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور ائمھ طاھرین علیھم السلام سے ھم تک پھنچی ھیں ان میں بعض کو یھاں نقل کیا جاتا ھے۔

امام صادق علیھ السلام فرماتے ھیں: ” ساز و آواز کے آلات، شیطان کا عمل ھیں، پس جو کچھه ان میں سے زمین پر موجود ھے وه سب شیطان کی جانب سے ھے۔”[19]

پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کا ارشاد ھے : آپ کو مزمار اور کوبات (بانسری اور ڈھول، جو موسیقی کے آلات ھیں) سے منع کرتا ھوں۔ [20]

د)”غنا” کا لفظ آواز کو کھینچنے بلکھ ھر طرح کی کھینچی جانے والی آواز کے معنی میں ھے[21]۔ شیخ انصاری (رح) کھتے ھیں: “یھ واضح اور روشن ھے کھ ان میں کوئی بھی مفھموم حرام نھیں ھے”[22]۔ اس لئے سب فقھاء نے”لھوی ھونے” کی قید کو حرام غنا میں شامل کیا ھے۔ یعنی “لھوی غنا” حرام ھے۔[23] ۔ “لھو” کے لفظ کو خدا کی یاد نھ کرنا اور فساد میں ڈوب جانے کے معنی دئیے ھیں[24]۔اور کھا ھے کھ “غنا” اور وه آواز حرام ھے جو لھو و لعب اور رقص و سرور کی محفلوں کیلئےمناسب ھو۔ [25]

بعض فقھا نے “لھوی” ھونے کے علاوه ” مطرب” کی قید کا بھی اضافھ کیا ھے۔[26]

” طرب” عقل کی سست حالت کو کھا جاتا ھے جو آواز یا آھنگ کو سننے سے انسان میں پیدا ھوتی ھے اور اسے اعتدال کی حالت سے نکال دیتی ھے۔ موسیقی ( وه آواز جو آلات موسیقی سے نکلتی ھے ) کے بارے میں بھی اکثر فقھاء “لھو” قسم کی موسیقی کو حرام جانتے ھیں۔ بعض دوسرے “مطرب موسیقی” کو حرام جانتے ھیں[27]۔

آخری نکتھ: جس طرح پھلے بھی ذکر ھوچکا ھے اس میں غور و خوض فقھ کے مخصوص مراکز میں انجام دیا جاتا ھے۔ عام لوگ جو اس سلسلے میں اجتھاد کی طاقت نھیں رکھتے ھیں ۔ انھیں اپنے مراجع تقلید سے رجوع کرنا چاھئے اور ان کی پیروی کرنی چاھئے۔


مزید  زمین کے گول ھونے کے بارے میں قرآن مجید کا نظریه۔

[1]  حسینی ، سید مجتبی ، “پرسش ھا و پاسخ ھای دانشجویی”، س ۱۶۹؛ امام خمینی ، المکاسب المحرمۃ ، ج ۱ ص ۱۹۸ ۔۔ ۲۲۴۔ حسینی ، علی ، “الموسیقی “، س ۱۶ اور ۱۷؛ آیۃ اللھ جواد تبریزی ، استفتائات ، س ۱۰ ، ۴۶، ۴۷، ۱۰۴۸؛ آیۃ اللھ فاضل لنکرانی، جامع المسائل ، ج ۱، س ۹۷۴، ۹۷۸ ۰ ۹۷۹۔

[2]  “الغنا رقیۃ الزنا “؛ محمد باقر مجلسی ، بحار الانورا ، ج ۷۶، باب ۹۹، الغناء۔

[3]  “تاثیر موسیقی بر روان و اعصاب “، ص ۲۹، ، تفسیر روح المعانی ،ج ۲۱ ، ص ۶، ؛ تفسیر نمونھ ، ج ۱۷ ، س ۲۵ اور ۲۶۔

[4]  ” و من الناس من یستری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللھ بغیر علم و یتخذها ھزوا اولئک لھم عذاب مھین” سوره لقمان آیھ ۶۔

[5]  وسال الشیعھ ، ج ۱۲، با ۹۹، ابواب ما یکتسب بھ۔

[6]  تاثیر موسیقی بر روان و اعصاب ، ص ۲۹، و ۹۲۔ ( نفسیر نمونھ سے منقول ، ج ۱۷ ص ۲۶)

[7]  تفسیر نمونھ ، ج ۱۷ ص ۲۷۔

[8]  ” والذین لا یشھدون الزور” ، فرقان ۷۲۔

[9]  ” و اجتنبوا قول الزور” حج ۳۰۔

[10] وساءل الشیعھ ،ج ۱۲، باب ۹۹، ابواب ما یکتسب بھ ، ح ۲،۳،۵، ۹، ۲۶۔

[11]  ” والذین عن اللغو معرضون ” ، سوره مومنون، آیت ۳۔

[12] تفسری علی بن ابراھی، م ج ۲ ، ص ۸۸۔

[13]  سوره لقمان / ۶۔

[14] وسائل الشیعھ ، ج ۱۲۔ باب ۹۹، ، ابواب ما یکتسب بھ ، ح ۶، ۷، ۱۱، ۱۶، اور ۲۵۔

[15] ایضا ً باب ۱۰۰۔ ح۳۔

[16] المکاسب المحرمۃ ، امام خمینی ، ج ۱ ص ۲۔

[17] وسائل الشیعھ ج ۱۲، باب ۹۹، ابواب ما یکتسب بھ ،ح ۶۔

[18]  ایضا ً ح ۲۳، ۲۴۔

[19]  وسائل الشیعھ باب ۱۰۰ ح ۵ اور ۶۔

[20]  وسائل الشیعھ ، باب ۱۰۰ ، ح ۵ ، ۶۔

[21]  المکاسب المحرمۃ ، امام خمینی، ج ۱ ص ۲۹۹۔

[22]  مکاسب ، شیخ انصاری ، ج ۱ ص ۲۹۲۔

[23] رسالھ دانشجویی، ص ۱۷۱۔

[24] شرمخانی ، احمد ، انسان ، غناء ، موسیقی، ص ۱۴۔

[25]  رسالھ دانشجویی ، س ۱۷۱۔ بھرحال ھر طرح کی خوبصورت آواز کا حرام ھونا انسان کی فطرت اور عقل سے میل نھیں کھاتی۔ اور یھ ان روایات سے جو قرآن کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا حکم دیتی ھیں متناقض ھے۔ لھذا یھاں پر خاص قسم کی آواز مورد نظر ھے اور حرام ھونے کا معیار وھی ” باطل” یا “لھوی” ھونا ھے۔

[26]  رسالھ دانشجویی ، ص ۱۷۱۔

[27]  توضیح المسائل مراجع ، ج ۲، ص ۸۱۳۔ اور ۹۱۳؛ مسائل جدید ، ج ۱ ص ۴۷ اور اس کے بعد۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.