مهربانی کرکے میرے لئے حضرت یوسف علیه السلام کی داستان کے درخشاں نکات بیان فرمایئےـ

0 0

حضرت یوسف علیه السلام کی داستان کی قرآن مجید میں “احسن القصص”[1] (بهترین داستان) کے عنوان سے تعریف کی گئی هے ـ یه داستان، ذاتی، اخلاقی، اجتماعی اور خاندانی مسائل کے سلسله میں  درس و عبرتوں کے بهت هی زیبا اور دلکش نمونوں پر مشتمل هے ـ

چونکه ان تمام درسوں اور عبرتوں کو مفصل صورت میں بیان کرنا کافی طولانی هوگا جس کی یهاں پر گنجائش نهیں هے، اس لئے هم یهاں پر ان میں سے بعض اهم نکتوں کی طرف اشاره کرنے پر اکتفا کرتے هیں:

1ـ انبیاء اور رسولوں(ع) کی رنج و مشکلات:

سوره یوسف، ان متعدد رنج وآلام اور دباو کی طرف اشاره کرتا هے، جن سے انبیاء اپنی زندگی میں دوچار هوتے هیںـ اس سوره میں ان تمام مشکلات اور سختیوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا هے، جنهوں نے نبی خدا حضرت یوسف علیه السلام کی شخصیت کو بنایا ـ[2]

2ـ زندگی حتی ایک خاندان کی حدمیں غلط تفسیر اور غلط فهمی کے اثرات:

یه مسئله،حضرت یوسف علیه السلام کے بھایئوں کے جملات سے بالکل واضح هوتا هے، جو انهوں نے یوسف (ع) اور بنیامین کی حالت کے بارے میں اپنے باپ کے پاس بیان کئے : جب انهوں نے کها: یوسف اور ان کا بھائی (بن یامین) باپ کی نظر میں، هم سے محبوب تر هیں، جبکه هم ایک طاقت ورگروه هیں ـ”[3] یه وهی مسئله هے جو حضرت یوسف(ع) کے بھایئوں کو بهت سی غلطیوں اور گناهوں سے دوچار کرنے کا سبب بنا، بلکه انھیں سر انجام ذلالت و خواری، اور ضرر و ناامید سے دوچار کیا ـ

3ـ انفعالی اور ناپخته ردعمل کا خطره:

مناسب هے که عقلمند انسان اپنے اعمال و رفتار کو ایک سنجیده اور معقول تجزیه بر قرار دے اور غیر معقول تجزیوں پر عمل نه کرے ـ

حضرت یوسف علیه السلام کے بھایئوں نے حکمت و عقلمندی سے مسئله کو حل کرنے اور باپ کا تقریب حاصل کرنے کے لئے عادی راهوں سے استفاده کرنے کے بجائے دوسری راهوں سے اقدام کیا اور سرانجام رسوائی، جسمانی و روحانی عذاب، خواری اور پستی سے دوچار هوئے، کیونکه حسد نے انھیں اجازت نهیں دی تاکه مسئله پر هر جهت سے غور کریں اور حضرت یعقوب (ع) کی یوسف (ع) اور بن یامین سے محبت کرنے کی وجوهات کو سمجھـ سکیں کیونکه هر شخص کے ذاتی منافع اس کے اور اس کی عقل کے درمیان رکاوٹ هوتے هیںـ[4]

4ـ خاندان کی بنیاد کو تحفظ بخشنے میں باپ کا رول:

یه مسئله حضرت یعقوب (ع) کے فرزندوں کی غلطی سے دوچار هونے کے بعد حضرت یعقوب (ع) کے ردعمل سے واضح هوتا هے ـ حضرت یعقوب (ع) اپنے بیٹوں کے جھوٹ بولنے کے بارے میں باخبر تھے، لیکن انهوں نے خاندان کی بنیاد کو محفوظ رکھنے اور خاندانی نظم و انتظام کو درهم برهم هونے سے بچانے کے لئے قرآن مجید کے مطابق اس بات پر اکتفا کیا : “یعقوب (ع) نےکها که یه بات صرف تمھارے دل نے گڑھی هے لهذا میرا راسته صبر جمیل کا هے اور الله تمهارے بیان کے مقابله میں میرا مددگار هے “[5] یه تمام باپ کے لئے ایک عظیم درس هے اور مناسب هے که اسے سیکھـ لیں اور اس پر عملی جامه پهنایئں ـ اس کے علاوه حضرت یعقوب (ع) کی داستان واضح کرتی هے که وه اپنے بیٹوں کے عزائم اور ارادوں سے مکمل طور پر آگاه تھے اور یه ایک اور درس هے، مناسب هے باپ اس سے عبرت حاصل کریں که اپنے خاندان کے افراد کی آرزوں سے آگاه هوں تاکه ان سے سرزد هونے والے کاموں کے بارے میں حکمت عملی کی امادگی رکھتے هوں، جبکه یعقوب نےایسا هی کیا، کیونکه نفسانی خواهشات هر ایک انسان میں موجود هوتی هیں اور شیطان انھیں پرورش کرتا هے ـ[6]

5ـ بچوں اور نوجوانوں کے ساتھـ سنجیده برتاو کیا جانا چاهئے :

جب حضرت یوسف علیه السلام نے اپنے خواب کی داستان اپنے باپ کے سامنے بیان کی، باپ نے سنجیده ردعمل کا اظهار کیا، نه صرف مثال کے طور پر بچه هے اور اس کے مانند دوسرے امور کے مطابق اسے مسترد نهیں کیا، بلکه ان کے خواب کی تعبیر کی اور فرمایا : اس کا معنی یه هے که آپ مستقبل میں خدا کی طرف سے پیغمبری پر مبعوث هوں گے اور خداوند تجھے تیرے دشمنوں پر کامیابی عطا کرکے اپنی نعمت کو مکمل کرے گا، جیسا که اس سے پهلے اپنے صالح بندوں پر اپنی نعمتیں تمام کی هیں ـ[7] یه عمل باپ کے لئے ایک اچھا درس هوسکتا هے ـ

6ـ بے گناه پر گناه کا الزام نه لگانا:

اس داستان کی عبرتوں میں سے من جمله یه بھی ایک عبرت هے که کسی بے گناه پر گناه کا الزام نه لگایئں ـ حضرت یوسف علیه السلام کے بھایئوں نے ان کے بارے می ایک ایسی غلطی کا ارتکاب کیا که جس کا یوسف(ع) مستحق نهیں تھے ـ یه حکمت عملی سے استفاده نه کرنے اور تعصب اور عقل کی منطق پر زور زبردستی مسلط کرنے کا نتیجه تھا ـ انهوں نے کها: “تم لوگ یوسف کو قتل کردو یا کسی زمین میں پھینک دو تو باپ کا رخ تمھاری هی طرف هوجائے گا (اس کے بعد اپنے گناهوں سے توبه کروگے اور ) تم سب اس کے بعد صالح قوم بن جاو گے ـ”[8]

یهاں پر ایک بنیادی نکته هے اور وه یه هے که حضرت یوسف (ع) کے بھایئوں کی تعداد زیاده هونے اور عمر کے لحاظ سے بڑے هونے کے باوجود وه اپنے باپ کے بارے میں کافی اور دقیق پهچان نهیں رکھتے تھے اور انهوں نے دین و دنیا اور حق و باطل کو جمع کرنے کی کوشس کی اور سر انجام حسد سے کام لیا اور تعصب نے انھیں اپنے بے گناه بھائی کو قتل کرنے کی ترغیب دی، اور دوسری جانب سے انهوں نے یه سوچاکه مستقبل میں وه صالح انسانوں میں تبدیل هوجایئں گے ـ[9] جس طرح مذکوره آیت سے یه معلوم هوتا هے که انهوں نے خود کو توبه سے پرامید بنایا تھا ـ

یهاں پر صاحب تفسیر نمونه “جرم انجام دینے سے پهلے توبه کی بات” کے عنوان سے کهتے هیں” :جرم سے پهلے توبه کی بات کرنا حقیقت میں ضمیر کو دھوکه دینا اور گناه کے لئے راسته کھولنا هے، یه کسی صورت میں پشیمانی اور ندامت کی دلیل نهیں هے ـ[10]

یه مسئله بھی بذات خود همارے لئے درس و عبرت هے ـ

7ـ ظلم کو حتی الامکان کم کرنا:

ایک اور درس جو هم اس داستان سے حاصل کرتے هیں وه یه هے که انسان جب برائی اور گناه کی طرف کھینچ لیا جاتا هے اور تشدد اور شرور انسانوں کے دباو کے تحت قرار پاتا هے، اسے حتی الامکان گناه کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاهئے ـ یه مسئله حضرت یوسف (ع) کے اس بھائی میں مشاهده هوتا هے جو حضرت یوسف (ع) کے بارے میں نسبتاً مهربان اور همدرد تھا، جب اس نه کها که : “یوسف کو قتل نه کرو بلکه کسی اندھے کنویں میں ڈال دو تاکه کوئی قافله اسے اٹھالے جائے “ـ[11]

8ـ تمام فرزندوں کو اهمیت دینا اور اظهار محبت میں تفریط نه کرنا:

اس درس کو اس داستان سے حاصل کیا جاسکتا هے که ماں باپ کو اپنے فرزندوں سے اظهار محبت کرتے وقت دوسرے فرزندوں کا بھی خیال رکھنا چاهئے ـ اگر چه حضرت یعقوب (ع) بیشک اس سلسله میں کسی خطا کے مرتکب نهیں هوئے اور حضرت یوسف (ع) و بن یامین کے بارے میں جو اظهار محبت کرتے تھے، وه حساب شده تھا، لیکن بهرحال یه ماجرا ثابت کرتا هے که انسان کو اس سلسله میں غیر معمولی حساس هونا چاهئے، کیونکه کبھی ایک بیٹے کی نسبت دلچسپی دکھانا دوسرے فرزند کے دل میں حسد پیدا کرسکتا هے اور اسے هر کام انجام دینے پر مجبور کرسکتا هے، کیونکه وه اپنی شخصیت کو مجروح پاتا هے اور اپنے بھائی کی شخصیت کو نابود کرنے کے لئے کسی محدودیت کا قائل نهیں هوتا ـ[12]

9ـ اپنے دوستوں اور رشته داروں کی سازشوں سے د وری اختیار کرنا:

خطرناک ترین سازشیں، جن سے انسان دوچار هوتا هے، وه دوستی کے لباس میں دشمنوں کی سازشیں هیں ـ هم نے جو کاری ضرب اپنے قسم خورده دشمنوں کی طرف سے اس راه سے کھائے هیں وه کم نهیں هیں ـ کبھی اقتصادی مدد کے نام پر اور کبھی ثقافتی روابط کے نام پر اور کبھی انسانی حقوق کے لباس میں، اور کبھی دفاعی معاهدوں کے نام پر ـ[13]

10ـ خداوند متعال اور اس کی رحمت پر امید رکھنا:

یه مسئله حضرت تعقوب (ع) کی بات سے واضح طور پر معلوم هوتا هے که فرمایا: “یه بات صرف تمھارے دل نے گھڑی هے لهذا میرا راسته صبر جمیل کا هے اور الله تمھارے بیان کے مقابله میں میرا مددگار هے”[14] مزید فرمایا: ” میرے فرزندو جاو یوسف (ع) اور ان کے بھائی کو خوب تلاش کرو اور رحمت خدا سے مایوس نه هونا که اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوه کوئی مایوس نهیں هوتا هے ـ”[15]

11ـ مخفیانه طور پر خصوصی مسائل کو حل کرنا:

من جمله جو درس هم اس داستان سے حاصل کرتے هیں وه یه هے که خصوصی اور ذاتی مسائل کو دوسروں کی نظروں سے دور مخفیانه طور پر حل کرنے چاهئے ـ قرآن مجید یوسف (ع) کے بھایئوں کے بارے میں یوں ارشاد فرماتا هے: “اب جب وه لوگ (یوسف کے بھائی) یوسف کی طرف سے مایوس هوگئے تو الگ جاکر مشوره کرنے لگے ….”[16]

12ـ مگرمچھـ کے آنسو بهانے والوں سے دھوکه نه کھانا:

جھوٹے آنسو بهانے والوں سے دھوکه نه کھانا اور جذبات سے متاثر هونا، بھی خداوند متعال کے اس ارشاد سے معلوم هوتا هے : “(یوسف کے بھائی) رات کے وقت باپ کے پاس روتے پیٹتے آئے ـ”[17] یه بھی اس داستان کا ایک درس هے ـ

13ـ صبر جمیل:

واقعات مصیتین اور مشکلات جتنی بھی بڑی هوں، ان کے مقابله میں صبر کرنا چاهئے ـ چنانچه حضرت یعقوب نے (ع) فرمایا: “یه بات صرف تمھارے دل نے گھڑی هے، لهذا میرا راسته صبر جمیل کا هے اور الله تمهارے بیان کے مقابله میں میرا مدد گار هے ـ”[18]

14ـ عفت و پاک دامنی:

یه درس حضرت یوسف (ع) کی داستان کا واضح ترین درس هے، کیونکه انهوں نے عزیز مصر کی بیوی اور مصر کی عورتوں کے ان کے عاشق هونے کے مقابلے میں استقامت کا ثبوت دیا اور فعل حرام انجام دینے سے اجتناب کے اور عزیز مصر کی بیوی اور مصر کی دوسری عورتوں کی پیشکش کو ٹھکرا کر زندان جانے کو ترجیح دی ـ قرآن مجید یوں نقل کرتا هے یوسف نے کها: پروردگار ـ یه قید مجھے اس کام سے زیاده محبوب هے جس کی طرف یه  مجھے دعوت دے رهی هیں اور اگر تو ان کے مکر کو میری طرف سے موڑنه دوگے تو میں ان کی طرف مائل هوسکتا هوں اور میرا شمار جاهلوں میں هوسکتا هے ـ”[19] اس طرح آیت، عورتوں کی طرف سے یوسف کو بھنسانے کے لئے استعمال کی گئی دھوکه و فریب کی شدت کو بیان کرتی هے اور اس کے ساتھـ حضرت هوسف (ع) کی راه مستقیم پر استقامت اور مقابله کی شدت کو بھی بیان کرتی هے ـ

15ـ نیکی کرنے والے کا احترام کرنا:

حضرت یوسف (ع) کی داستان سے استفاده کئے جانے والے درس و عبرت اسی وقت حاصل هوتے هیں جب هم آیه شریفه وه “(عزیز مصر) میرا مالک هے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا هے (کیا ممکن هے که میں اس کے ساتھـ ظلم و خیانت کروں)” کے ضمیر “انھ”[20] کو عزیز مصر کی طرف پلٹا دیں اور یهی صیحح هے ـ (جیسا که صاحب تفسیر نمونه [21] اور بعض دوسرے مفسرین نے اسی کو ترجیح دی هے)ـ یه اهم درس دوسروں کی به نسبت وهی درس وفا اور ان کے مقابله میں زیبا ردعمل هے، اگرچه کافر بھی هوں اور یه که هم ان کے مال، آبرو اور جو کچھـ ان کے لئے عزیز هے اس میں خیانت نه کریں، حتماً اگر هم سے خیانت کا مطالبه کرنے والا اس کے خاندان کے افراد میں سے بھی هو، که عزیز مصر کی بیوی نے ایسا هی کیا ـ

16ـ ارتکاب گناه پر زندان کو ترجیح دینا:

حضرت یوسف (ع) نے گناه کے دام میں پھنس کر معنویت کو خدشه دار کرنے پر زندان کی مشکلات کو برداشت کرنے کو ترجیح دی: “یوسف (ع) نے کها که پروردگار یه قید مجھے اس کام سے زیاده محبوب هے جس کی طرف یه مجھے دعوت دے رهی هیں اگر تو ان کے مکر کو میری طرف سے موڑ نه دے گا تو میں ان کی طرف مائل هوسکتا هوں اور میرا شمار بھی جاهلوں میں هوسکتا هے”ـ[22]

17ـ بندوں کو خدا کی طرف دعوت دینے میں فرصت سےاستفاده کرنا:

اگرچه حضرت یوسف (ع) نے رنج و مصیبتوں سے کافی مقابله کیا، لیکن کبھی حتی زندان میں بھی تبلیغ کو نهیں چھوڑا ـ وه اپنے زندان کے ساتھیوں کو سکھاتے تھے که حقیقی آزادی توحید کے پرچم تلے خدائے واحد کی بندگی هے ـ حضرت یوسف (ع) نے انھیں خدائے یکتا کی طرف راهنمائی کی اور جھوٹے خداوں کی نفی کی: “میرے قید خانے کےساتھیو! ذرا یه تو بتاو که متفرق قسم کے خدا بهتر هوتے هیں یا ایک خدائے واحد وقهار؟”[23]

18ـ اتهامات کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنا:

حضرت یوسف(ع) همیں سکھاتے هیں که جب انسان اتهامات سے دوچار هوجائے تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق هے اور اسے اپنا دفاع کرنا چاهئے ـ جیسا که قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے: “یوسف نے کها که اس نے خود مجھـ سے اظهار محبت کیا هے …..”[24]

19ـ بے گناهی کو ثابت کرنے کے لئے کوشش کرنا اور دشمن سے اقرار کرانا:

حضرت یوسف (ع) کی داستان سے حاصل هونے والا ایک اور درس یه بھی هے که انهوں نے نه صرف زندان میں رهنے کو ترجیح دیدی اور عزیز مصر کی طرف سے عفو و بخشش کی پیشکش کو مسترد کردیا، بلکه وه اس بات پر مصر تھے که آزادی سے پهلے عزیز مصر کی بیوی اور دوسری تمام عورتوں سے ان کی بے گناهی و پاک دامنی کا اقرار کرایئں ـ قرآن مجید اس سلسله میں یوں ارشاد فرماتا هے : “تو بادشاه نے یه سن کر کها : ذرا اسے یهاں تو لے آو پس جب نمایئده آیا تو یوسف (ع) نے کها اپنے مالک کے پاس پلٹ کے جاو اور پوچھو که ان عورتوں کے بارے میں کیا خیال هے جنھوں نے اپنے هاتھـ کاٹ ڈالے تھے که میرا پروردگار ان کے مکر سے خوب باخبر هے “ـ[25] جب وه اپنے مقصد تک پهنچا اور سبوں نے ان کی پاک دامنی اور به گناهی کا اقرار کیاـ قرآن مجید یوں فرماتا هے: “بادشاه نے ان عورتوں سے دریافت کیا که آخر تمھارا کیا معامله تھا جب تم نے یوسف (ع) سے اظهار تعلق کیا تھا؟ ان عورتوں نے کها که ماشاالله هم نے هرگز ان میں کوئی برائی نهیں دیکھی ـ تو عزیز مصر کی بیوی نے کها که اب حق بالکل واضح هوگیا هے که میں نے خود انھیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی اور وه صادقین میں سے هیں”ـ[26] تب وه زندان سے نکلے ـ کیونکه حقیقت میں شائسته نهیں تھا وه زندان سے آزاد هوتے جبکه ابھی اس پر گناه کے اتهامات باقی تھے، بلکه اس نے اس وقت آزاد هونا چاها جب سب اس کی حقانیت، پاک دامنی، پاکی تقویٰ اور بے گناهی بلکه مظلومیت کا اعتراف کریں ـ

20ـ اپنی شائستگی، علمی قابلیت اور مهارت کو بیان و معرفی کرنا:

حضرت یوسف(ع) کی داستان سے ایک اور درس جو هم حاصل کرتے هیں، وه یه هے که انسان لوگوں کی مدد کرنے اور انھیں خیر پهنچانے کے سلسله میں اپنی تعریف کرسکتا هے اور اپنی علمی شائستگی، مهارت اور فنی صلاحیتوں کو معاشره میں بیان و معرفی کرسکتا هے: “یوسف نے کها: مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو که میں محافظ بھی هوں اور صاحب علم بھی”[27]  [28]

21ـ فتح و کامران کے وقت عفو و بخشش کرنا:

یه درس حضرت یوسف(ع) کے اپنے بھایئوں سے کئے گئے برتاو سے حاصل هوتا هے ـ جب سب کچھـ واضح هوا اور کوئی چیز پس پرده نه رهی اور انکار کی کوئی گنجائش باقی نه رهی، تو حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھایوں سے مخاطب هوکر فرمایا: “آج تمھارے اوپر کوئی الزام نهیں هےـ خدا تمھیں معاف کردے گا وه بڑا رحم کرنے والا هے ـ”[29] یعنی آج کسی قسم کی تنبیه، سرزنش اور انتقام گیری نهیں هے، بلکه میں نے تمھاری خطاوں کو بخش دیا هے اور جلدی هی خداوند متعال بھی تمھیں بخش دے گا ـ

22ـ دوسروں کو بری کرنا، گزشته گناهوں اور غلطیوں کو تازه نه کرنا اور گزشته کینوں کو نه دهرانا:

حضرت یوسف (ع) کی داستان میں موجود بڑے درسوں میں سے ایک درس یه هے که انهوں نے گزشته تاریکی کو زنده نهیں کیا اور کوشش کی که اپنے بھایئوں کے برے اعمال، جن کی وجه سے انهوں نے رنج و مصیبتیں برداشت کی تھیں، کو فراموش کریں، اس سے بالا تر یه که اپنے بھایئوں کو دیکھـ کر خوشحالی کا اظهار کرتے تھے اور اس گناه کو شیطان کی گردن پر ڈالتے تھےاور شیطان کی مذمت و ملامت کرتے تھے ـ اس سلسله میں قرآن مجید یو بیان فرماتا هے : “یوسف نے کها آج تمهارے اوپر کوئی الزام نهیں هے ـ خدا تمھیں معاف کردے گا وه بڑا رحم کرنے والا هے ـ”[30] ایک دوسری جگه پر فرماتا هے : “اس نے میرے ساتھـ احسان کیا هے که مجھے قید خانه سے نکال لیا اور آپ لوگوں کو گاوں سے نکال کر مصر میں لے آیا جبکه شیطان میرے اور میرے بھایئوں کے درمیان فساد پیدا کر چکا تھا ـ بیشک میرا پروردگار اپنے ارادوں کی بهترین تدبیر کرنے والا اور صاحب علم اور صاحب حکمت هے “ـ[31]

23ـ امیری اور غریبی میں خدا کی بخشس اور نعمتوں کو فراموش نه کرنا:

یه درس، حضرت یوسف (ع) که داستان میں واضح طور پر موجود هے که وه خواه کنویں کی تاریکی میں تھے یا عزیز مصر کے محل میں یا حکومت و وزارت کے عهدے پر انهوں نے کسی حالت میں خداوند متعال کی بخشش اور نعمتوں کو فراموش نهیں کیا ـ اس سلسله میں قرآن مجید کے الفاظ میں حضرت یوسف(ع) نے یوں کها هے: “بیشک میرا پروردگار اپنے ارادوں کی بهترین تدبیر کرنے والا اور صاحب علم اور صاحب حکمت هے ـ”[32]

یه اس داستان کی زیبا اور خوبصورت تصویر کشی کی ایک جھلک تھی، جسے هم نے خلاصه کے طور پر بیان کیا اور ان کو یهاں پر تفصیلی طور پر بیان کرنےکی گنجائش نهیں هے ـ


مزید  آیه شریفه: انّ الله یحول بین المرء و قلبه، کے معنی کیا هیں؟

[1]  سوره یوسف. 3.

[2]  مدرسی تفسیر نمونه ، ج 5، ص 155

[3]  سوره یوسف، 8.

[4]  مکارم شیرازی، ناصر ، تفسیر نمونھ، ج 9، ص 322.

[5]  یوسف، 18.

[6]  مدرسی، تفسیر من هدی القرآن، ج 5، ص 162.

[7]  ایضاً، ص 163؛ یوسف، 6.

[8]   سوره یوسف، 9.

[9]  مدرسی، تفسیر من هدی القرآن، ج 5، ص 166؛ تفسیر نمونه، ج 9، ص 323.

[10]  مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج ‏9، ص 323 .

[11]   سوره یوسف، 10.

[12]  مکارم شیرازی، ناصر، ج 7، ص 129؛ تفسیر نمونه، ج 9، ص 328.

[13]  مکارم شیرازی، ناصر، ج 7، ص 134؛ تفسیر نمونه، ج 9، ص 333.

[14]  سوره یوسف، 18.

[15]  سوره یوسف، 87.

[16]  سوره یوسف، 80.

[17]  سوره یوسف، 16.

[18]  سوره یوسف، 18.

[19]  سوره یوسف، 33.

[20]  سوره یوسف، 23.

[21]  مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج 9، ص 369 و 370.

[22]  سوره یوسف، 33.

[23]  سوره یوسف، 39.

[24]  سوره یوسف، 26.

[25]  سوره یوسف، 50.

[26]  سوره یوسف، 51.

[27]  سوره یوسف، 55.

[28]  مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج 10، ص 12.

[29]  سوره یوسف، 92.

[30]  سوره یوسف، 92.

[31]  سوره یوسف، 100.

[32]  سوره یوسف، 100.

تبصرے
Loading...