من پسند لڑکی سے ازدواج کرنے کی رضامندی کو اعلان کرنے کا کونسا طریقه صیحح هے؟

0 0

ازدواج ایک انتهائی مقدس اور اهم مسئله هے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کے بهت سے مثبت اثرات هیں که ان میں سے ایک انسان کی فطری ضرورتوں کو پور کرنا هے، که خالق کائنات نے هر مرد و زن میں اسے قرار دیا هے تاکه ایک دوسرے کی ضرورتوں کو پورا کرسکیں ـ اسی لحاظ سے ازدواج کی کافی سفارش کی گئی هے اورائمه اطهار علیهم السلام نے اس کے ضروری طریقه کار بیان فرمائے هیں که ان پر عمل کرنا طرفین کے لئے خوشحال زندگی میسر هونے اور معاشره کے سالم هونے کا سبب بن جاتا هےـ اس بنا پر جو بھی لڑکا یا لڑکی اس میدان میں قدم رکھنا چاهیں ، انھیں مکتب اسلام کی تعلیمات اور دستورات کو مدنظر رکھنا چاهئے ـ دین کے دستورات میں سے ایک یه هے که تمام مسائل میں جو چیز آپ کے لئے اتهام کا سبب بنے اس سے پرهیز کیجئے ـ[1]

چونکه ازدواج کے مختلف پهلو هیں، ان میں سے ایک پهلو خاندان اور افراد کی عزت، ناموس اور حیثیت کا مسئله هے، اس بنا پر هر جهت سے احتیاط کی جانی جاهئے ـ اس لئے آپ جس لڑکی کو پسند کرتے هو اور اسے اپنا شریک حیات بنانا چاهتے هو اس کے سامنے ازدواج کی تجویز پیش کرسکتے هیں لیکن یه کام اس صورت میں انجام پانا چاهئے که طرفین میں سے کوئی بھی اتهام کا شکار نه هوجائے ـ آپ کیوں اس مقدس امر کو مخفی رکھـ کر ایک انفرادی اور اجتماعی مشکل میں تبدیل کرنا چاهتے هیں؟ اگر آپ کے ماں باپ آپ کے ازدواج کی مخالفت کرتے هیں اور قابل قبول منطقی دلیل نهیں رکھتے هیں تو آپ کو اپنے دوسرے رشته داروں سے مدد لینی چاهئے، اگر آپ کے تمام رشته دار اس امر کے مخالف هیں تو اپنے محله کے بزرگوں، مثال کے طور پر محله کے روحانی، استاد، معلم، اپنے افسر اور دوستوں سے مدد حاصل کرسکتے هیں، بهر حال ازدواج جیسے مقدس امر کو مخفی رکھنا پاک انسانوں کو بھی اتهام سے دوچار کرسکتا هے اور اس کی شیرینی کو تلخی میں تبدیل کرسکتا هے ـ


مزید  ائمہ اطہار{ع} کے پاس زرارہ کی عظمت کس قدر تھی؟ کیا ان کی تمام روایتوں کو قبول کیا جا سکتا ہے؟

 [1]  ِ بحارالأنوار، ج72، ص 90. أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ (ع) عِنْدَ وَفَاتِهِ: إِیَّاکَ وَ مَوَاطِنَ التُّهَمَةِ وَ الْمَجْلِسَ الْمَظْنُونَ بِهِ السُّوءُ فَإِنَّ قَرِینَ السَّوْءِ یَغُرُّ جَلِیسَهُ.

تبصرے
Loading...