معلم اور شاگرد کے متقابل حقوق کیا هیں ؟

0 0

شاگرد کے معلم کے بارے میں فرائض اور حقوق اور بر عکس کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا هے :

اوّل : معلم کے اپنے شاگرد کے بارے میں فرائض اور حقوق :

یه دو قسم کے هوسکتے هیں :

الف : اخلاقی اور تر بیتی فرائض ، جوحسب ذیل هیں :

١- شاگرد کی به نسبت مهربانی اور محبت[1]

٢- اپنے شاگردوں کے ساتھـ نرم روی و فروتنی سے پیش آنا[2]

٣- طالب علموں اور شاگردوں کے حالات کے بارے میں مهر بانی کا مظاهره کرنا[3]

٤- شاگرد کے نام اور اس کے کوائف سے آگاه هونا[4]

٥- شاگرد کی شخصیت کا احترام اور اس کے افکار کی اهمیت کا اعتراف کرنا[5]

٦- شاگردوں سے محبت اور توجه کر نے میں مساوات کی رعایت کرنا[6]ا-

٧- شاگردوں کے تجربوں کی رعایت کرنا اور( علم وشائستگی میں) ان کے محاسن کی طرف توجه کرنا[7]

٨- شاگردوں کو شائسته معلمین کی معرفی کرنا[8]

٩- ادب اور شائستگی کے ساتھـ نشست برخاست کرنا[9]

١٠- درس کے دوران سنجید گی اور وقار کا مظاهره کرنا[10]

١١- شاگردوں میں ذمه داری اور نظم وضبط کی حس کو ایجاد کرنا[11]

١٢- شاگرد کے ساتھـ نرمی اور مهر بانی سے پیش آنا اور اس کے سوالات کا اهتمام کر نا[12]

١٣- نئے شاگردوں کے ساتھـ محبت وهمدردی اور خنده پیشانی سے پیش آنا[13]

١٤- جن مسائل پر عبور نه رکهتا هو ان کے بارے میں لاعلمی کا اعتراف کرنا[14]ا-

١٥- درس کو ختم کر نے سے پهلے اپنی لغزشوں اور غلطیوں کے بارے میں تذکر دینا[15]

١٦- درس کو ختم کرنے کے بعد کلاس میں چند لمحه رکنا[16]

١٧- شاگردوں کے لئے مانیٹرکا تعیّن کر نا[17]

١٨- اخلاقی نصیحتوں اور دعا سے درس کو اختتام بخشنا[18]ا-

ب : علمی اور تعلیمی فرائض ،جوحسب ذیل هیں :

١-علمی و عملی لحاظ سے شاگردوں کو قدم به قدم آگے لے جانا[19]

٢- شاگردوں میں علم ودانش کے بارے میں شوق وولوله ایجاد کر نا[20]

٣- شاگردوں کی استعداد کی رعایت کرتے هوئے مطالب کو سمجهانے کی کوشش کرنا[21]

٤- علوم کو پڑهانے کے دوران ان کے کلی ضوابط وقواعد کا ذکر کرنا[22]

٥- شاگردوں کو علمی مشغلوں اور دروس کو دهرانے کی همت افزائی کرنا[23]

٦- شاگردوں میں دقیق مسائل بیان کر نا اور ان سے سوالات کر نا[24]

٧- شاگردوں کو اپنا درس سمجهانے میں بهترین قواعد اور طریقه کار سے استفاده

کر نا[25]

٨- علوم ودانش کے منطقی قواعد کی رعایت کرنا[26]

٩- مطالب کو بیان کر نے میں خلاصه اور اعتدال کی رعایت کر نا[27]

١٠- کلاس کی مناسب فضا کی طرف توجه کر نا (هر قسم کے آزا ردهنده عوامل سے پرهیز کرتے هوئے[28])

١١- شاگردوں کی مصلحتوں کا خلیال رکهنا اور تدریس کے وقت کو معین کرنا[29]

١٢- تدریس کے دوران آواز اور بیان کی طرف توجه رکهنا[30]ا-

١٣- درس کے کلاس کے نظم و انتظام کے تحفظ کی رعایت کرنا-

دوّم : شاگرد کے اپنے معلم کے بارے میں حقوق و فرائض ، جو حسب ذیل هیں :

١- استاد کی تعظیم کرنا اور علم ودانش کے مقام کی تجلیل کر نا[31]

٢- استاد کے مقابلے میں تواضح، انکساری اور فروتنی کا مظاهره کرنا[32]ا-

٣- معلم کے ساتھـ آمرانه گفتگو کر نے سے پرهیز کرنا-

٤- معلم کو احترام کے ساتھـ یاد کرنا-

٥- استاد و معلم سے سر مشق حاصل کرنا-

٦- معلم کے نصائح اورتنبیهات کا شکریه اداکرنا-

٧- استاد کی ممکنه تیزی کو برداشت کرنا-

٨- معلم کی تشریف آوری کا انتظار کرنا-

٩- استاد کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے پرهیز کرنا-

١٠-استاد کے کلاس میں داخل هوتے وقت اپنے آپ کو منظم کرنا-

١١- تدریس کے وقت کو استاد پر زبردستی عائد نه کرنا-

١٢- استاد کے آرام میں ایجاد نه کرنا-

١٣- استاد کے سامنے شائستگی اور ادب کے ساتھـ بیٹهنا-

١٤- استاد کے سامنے اپنے حالات اوربرتاٶ کا خیال رکهنا-

١٥- معلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر نے سے پرهیز کرنا-

١٦- معلم کی باتوں میں پائی جانے والی کمی کو اشاروں سے تلافی کرنا-

١٧- استاد کے سامنے سوالات کے جواب دینے میں سبقت حاصل نه کرنا-

١٨- استاد کی باتوں کو دقت اور غور سے سننا-

١٩- استاد کی وضاحتوں کا احترام کرنا-

٢٠-فضول اور وقت ضائع کر نے والے سوالات کو دهرانے سے پرهیز کرنا-

٢١- استاد سے موقع پر سوال کرنا-

٢٢- اچهے اور دلکش سوالات پیش کرنا-

٢٣- شرم وحیا کی وجه سے سوال کر نے سے اجتناب نه کرنا-

٢٤- مطالب کو نه سمجهنے کا جرات مندی سے اعتراف کرنا-

٢٥- هر حالت میں استاد کے احترام کا تحفظ کرنا-

٢٦- استاد کی برائی کر نے سے پرهیز کرنا[33]

٢٧- استاد کے بارے میں هر قسم کے ناروالزام کا دفاع کرنا[34]

٢٨- استاد کے عیبوں کی پرده پوشی کرنا اور اس کی خوبیوں کو بیان کر نا[35]

٢٩- استاد کے دشمنوں سے نشست بر خاست نه کرنا اور اس کے دشمنوں سے دوستی نه کرنا[36]

٣٠- خدا کی رضا کے لئے اس سے علم سیکهنا[37]

٣١- درس کے کلاس میں خاموشی کی رعایت کرنا[38]

اس سلسله میں مزید معلو مات حاصل کر نے کے لئے کتاب ” آداب تعلیم وتربیت در اسلام ” ترجمه ڈاکٹر سید محمد باقر حجتی کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے-


مزید  حضرت آیت الله العظمی خامه ای(مد ظله العالی) کے نظریه کے مطابق ایک متنجس چیز کے دوسری چیز سے ملنے کے نتیجه میں کتنے واسطوں سے پاک چیزوں کو نجس کرتی هے؟

[1] – شهید ثانی، منیۃ المرید،ص١٩٠-

[2] – ایضاً،ص١٩١و١٩٢-

[3] – ایضاً،ص١٩٤-

[4] – ایضاً،ص١٩٥-

[5] – ایضاً،ص١٩٩-

[6] – ایضاً،ص٢٠٨-

[7] – ایضاً،ص١٩٩-

[8] -ایضاً،ص٢٠٩-

[9] – ایضاً،ص٢٠٢-

[10] – ایضاً،ص٢٠٦-

[11] – ایضاً،ص٢١٤-

[12] – شهید ثانی ،منیۃ المرید ،ص٢١٤-

[13] – ایضاً،ص٢١٥ و٢١٤-

[14] – ایضاً،ص٢١٨-

[15] – ایضاً،ص٢٢٠-

[16] – ایضاً،ص٢٢٠-

[17] – ایضاً،ص٢١٩-

[18] -ایضاً،ص١٨٩-

[19] – ایضاً،ص١٨٩-

[20] – ایضاً،ص٢١١-

[21] – ایضاً،ص١٩٧-

[22] – ایضاً،ص١٩٨-

[23] – ایضاً،ص١٩٨-

[24] – ایضا،ص٢١١-

[25] – ایضاً،ص٢١٢-

[26] – ایضاً،ص٢١٢-

[27] – ایضاً،ص٢١٢-

[28] – ایضاً-

[29] – ابومنصور ،معالم الدین وملاذ المجتهد ین،ص٤٣-

[30] – ایضاً-

[31] -اابو منصور ،معالم الدین وملاذ المجتهدین ،ص٤٣-

[32] -ایضاً-

[33] -ایضاً-

[34] -ایضاً-

[35] -ایضاً-

[36] -ایضاً-

[37] -ایضاً-

[38]ایضاً-

تبصرے
Loading...