مراجع تقلید میں سے کون مرجع تقلید ناخن پر نیل پالش لگانے کو وضو کے لیے مانع نهیں جانتا هے-


سائٹ کے کوڈ
fa2578


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
8762

مراجع تقلید میں سے کون مرجع تقلید ناخن پر نیل پالش لگانے کو وضو کے لیے مانع نهیں جانتا هے-

: میں نے سنا هے که مراجع تقلید میں سے ایک مرجع تقلید نے فرمایا هے که : نیل پالش لگا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نهیں هے، ممکن هو تو اس مرجع تقلید کا نام اور اس کا مکمل حکم بیان فرمائیے؟

تمام مراجع تقلید نے وضو کے شرائط میں فرمایا هے که: وضو صحیح هونے کے شرائط میں سے ایک یه هے که کوئی چیز وضو کے ان اعضا تک پانی پهنچنے میں رکاوٹ نه هو جو وضو میں دھوئے جاتے هیں یا جن پر مسح کیا جاتا هے- اس بنا پر وضو کرنے سے پهلے هر اس چیز کو وضو یا مسح کے اعضاء سے هٹانا چاهئیے جو اس عضو تک پانی پهنچنے میں رکاوٹ بنی هو ورنه وضو باطل هے

لیکن اگر وضو کے بعد ان رنگوں کا استفاده کیا جائے تو نماز میں کوئی حرج نهیں هے- اس طرح اگر پاوں کی انگلیوں کے ناخن پر نیل پالش لگی هو تو وضو کے لیے هر پاوں میں سے ایک انگلی کے ناخن سے نیل پالش برطرف کرنا کافی هے اور ضروری نهیں هے که پاوں کی تمام انگلیوں کے ناخن سے نیل پالش  برطرف کی جائے

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.