{مختلف تفاسیر کے پیش نظر} عرش و کرسی سے کیا مراد هے؟

0 0

۱۔ عرش کے معنی:

لغت میں “عرش” اس چیز کو کهتے هیں جس کی چھت هو[1]– اسی لئے سائبان، خیمه ، چھپر، جھونپڑی، محل، قصر اور کنویں پر بنی عمارت کو بھی عرش کها جاتا هے[2]– کبھی اونچے پایه والے تخت کے معنی میں بھی استعمال هوتا هے اسی وجه سے حکومتی اور بادشاهی تخت کے معنی میں بھی استعمال هوا هے[3]، جس سے قدرت و حکومت کا کنایه مراد هے-

قرآن مجدید میں “عرش”:

یه لفظ قرآن مجید میں ۲۶ بار آیا هے[4] که ان میں سے اکثر جگهوں پر “عرش خدا” کے معنی میں استعمال هوا هے اور بعض جگهوں پر چھت کے معنی میں آیا هے: “—- وھی خاویته علی عروشھا[5]” جبکه اس کی دیواریں اس کی چھت پر گر چکی تھیں-” اور بادشاهی تخت کے عنوان سے استعمال هوا هے: ” ورفع ابویه علی العرش—[6]” انھوں {یوسف} نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھا دیا-” “ایّکم یاتینی بعرشھا[7]” تم میں سے کون اس {بلقیس} کے تخت کو میرے پاس لے آئے؟—” یا بلندی کے معنی میں استعمال هو هے: ” وما کانو ا یعرشون[8]“- یهاں پر “عرش خدا” زیر بحث هے-

عرش خدا:

عرش خدا کے معنی و مفهوم کے بارے میں، علماء اور مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا هے، اور کلی طور پر ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا هے:

۱۔۱۔ اکژ علمائے سلف، کا یه اعتقاد هے که دینی حقائق کے بارے میں بحث کرنا اور کتاب و سنت کے ظواهر سے تجاوز کرنا بدعت هے- وه کهتے هیں: “عرش خدا ایک ایسی چیز هے، جس کے بارے میں انسان صرف اس کا نام جانتا هے اور اس کی حقیقت کو ادراک کرنے میں عاجز و کمزور هے-” اور وه لوگ اس قسم کی آیات کو متشابهات میں سے جانتے هیں اور ان کے بارے میں بحث کرنے سے اجتناب کرتے هیں جبکه عقل بلکه قرآن مجید اور سنت کی طرف ان کے عقیده کے خلاف لوگوں کو قرآن مجید کی آیات کے بارے میں غور و خوض اور خدا کی معرفت اور آیات الهی کو پهچاننے کے سلسله میں کوشش کرنے ، تذکر و تفکر اور ان کے عقلی استدلال حاصل کرنے کی سفارش کی گئی هے- یه کیسے ممکن هے که مقدمات میں اس قدر تاکید اور سفارش کے باوجود اس کے نتیجه کے بارے میں منع کیا گیا هوگا[9]؟

۱۔۲۔ بعض علماء، دینی حقائق کے بارے میں بحث کرنا جائز جانتے هیں- اس مسئله {عرش خدا} کے بارے میں یه علماء چار حصوں میں تقسیم هوتے هیں:

الف: وه علماء جو لفظ کے ظاهری معنی پر جم کر کهتے هیں: “عرش، ایک خارجی مخلوق هے اور یه مخلوق مکمل طور پر ایک تخت کے مانند هے اور اس کے پایے هیں اور وه پایے ساتویں آسمان پر نصب هیں اور خداوند متعال بھی، بادشاهوں کے مانند اس پر مستقر هے، اور وهاں سے کائنات کے نظام کو چلاتا هے-

ب: کچھه علماء عرش کو خارجی وجود اور مخلوق جانتے هیں، لیکن مصداق میں مذکوره علماء سے اختلاف نظر رکھتے هیں اور عرش کو نویں آسمان سے مطابقت دیتے هیں جو جسمانی عالم پر احاطه کرتا هے اور اس کی جهتوں کو محدود کرنے والا هے اور چونکه ستاروں سے خالی هے اس لئے اسے اطلس کها جاتا هے[10]– کرسی کو یه لوگ ایک متجسم چیز جانتے هیں- یه لوگ مشبهّه کے نام سے مشهور هیں-

یه عرش خدا کو آسمانی اعلا اور کرسی کو ستاروں کا آسمان سمجھتے هیں اور اسے بطلمیوسی نظریه اور رسول خدا صلی الله علیه واله وسلم کی ایک روایت سے استناد کرتے هیں که آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا هے: “سات آسمان و زمین کرسی کے کنارے نهیں هیں، بلکه ایک وسیع اور عریض صحرا میں حلقه کے مانند بکھرے هوئے هیں[11]-“

ج: تیسرا نظریه، مذکوره دو نظریوں کے برعکس هے که: ” “عرش خدا” ایک کنایه پر مشتمل مفهوم هے اور اس کا کوئی خارجی وجود نهیں هے- البته اس کے کنائی معنی کے بارے میں، بهت سی باتیں کهی گئی هیں- کبھی عرش کی “خداوند متعال کے لامتناهی علم” کے معنی میں تفسیر کی گئی هے- اور اس سلسله میں حفص بن غیاث سے نقل کی گئی ایک حدیث سے استناد کیا گیا هے که حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے آیه شریفه : ” وسع کرسیه السمٰوات والارض” کے بارے میں سوال کیا گیا، تو حضرت علیه السلام نے فرمایا: اس سے مراد اس {خدا} کا علم هے[12]– اور ” ثم استوی علی العرش[13]” یا ” الرحمٰن علی العرش استوی[14]” جیسی آیات کے پیش نظر عرش کو خدا کی مالکیت و حاکمیت کے معنی میں لیا گیا هے- کبھی خداوند متعال کے کمال و جمال کی صفتوں میں سے هر ایک صفت کی تفسیر کی گئی هے، کیونکه ان اوصاف میں سے هر ایک صفت خداوند متعال کی عظمت کو بیان کرتی هے، جس طرح سلاطین کے تخت ان کی عظمت کو بیان کرتے هیں-

د: یه نظریه، ایک لحاظ سے پهلے اور دوسرے نظریه کے ساتھه مشترک هے اس نظریه کے مطابق کهتے هیں: “عرش” ایک خارجی وجود هے، {تیسرے نظریه کے برعکس}- ایک لحاظ سے تیسرے نظریه کے ساتھه مشترک هے اور عرش سے مراد، کنایه پر مشتمل معنی مانتے هیں، { پهلے اور دوسرے نظریه کے برخلاف} – بعض معاصر مفسرین جیسے علامه طباطبائی اسی نظریه کے قائل هیں- اس کے مطابق “عرش” عالم وجود کے مراحل میں سے ایک مرحله هے که جمیع حوادث اور ان حوادث کو وجود میں لانے والے اسماء اور اس سلسله میں اسباب و علل کو مرتب کرنے کی باگ ڈور کا منتها یهی مرحله هے- علامه طباطبائی فرماتے هیں: ثم استویٰ علی العرش[15]” کا جمله ایک مثال هونے کے علاوه خداوند متعال کی تدبیر کو اس کے ملک میں متجسم کرتا هے، اور یه دلالت کرتا هے که اس میں ایک حقیقت مضمر هے، اور وه ایک ایسا مقام هے که امور کی باگ ڈور وهاں پر مرکوز اور مجتمع هوتی هے- اور “وه پروردگار ایک عظیم عرش هے[16]-” اور ” جو عرش کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتے هیں اور جو اس کے اطراف میں هیں[17]-” جیسی آیات اس معنی پر دلالت کرتی هیں[18]

۲۔ کرسی:

کرسی تخت کے معنی میں هے اور عام طور پر اس چیز کا نام هے جس پر بیٹھتے هیں[19]– یه لفظ قرآن مجید میں دو جگهوں پر آیا هے اور دونوں جگهوں پر تخت کے معنی میں هے- اس فرق کے ساتھه که ایک مصداق عرفی میں “تخت سلیمان” مدنظر هے: “اور هم نے سلیمان کا امتحان کیا، جب ان کی کرسی پر ایک بے جان جسم کو ڈال دیا اور پھر اس نے خدا کی طرف توجه کی[20]-” اور دوسرا موقع خداوند متعال کے تخت کے بارے میں هے، اس کے کنائی معنی ایک حقیقت کے وجود کے بارے میں هیں[21]

خدا کی کرسی:

آسمانوں اور زمین کو احاطه کرنے والی کرسی اور سریر کیا چیز هے؟

وهی نظریات جو عرش کے بارے میں پیش کئے گئے، تھوڑے سے فرق کے ساتھه، کرسی کے بارے میں بھی هیں که ان کے مجموعه کو یوں بیان کیا جا سکتا هے:

۱۔ اکثر علمائے سلف کا نظریه هے که: ” خدا کی کرسی ایک ایسی چیز هے که انسان صرف اس کا نام جانتا هے اور اس حقیقت کو سمجھنے سے عاجز هے اور اس کے بارے میں بحث کرنا بدعت هے-

۲۔ اهل بحث علماء کا نظریه:

الف: مشبهه کا نظریه، یه هے که کرسی و عرش آپس میں متحد هیں اور وه سلطنت الهی کا تخت هے جو ساتویں آسمان پر موجود هے اور وهاں سے کائنات کا نطم و انتظام چلاتا هے-

ب: ایک گروه کے بطلمیوسی کے نظریه کے مطابق کهتے هیں: کرسی ستاروں کا آسمان هے اور عرش آسمان اعلیٰ هے-

ج: بهت سے مفسرین کا یه نظریه هے که کرسی کا کوئی وجود خارجی نهیں هے- بلکه علم خدا یا قدرت خدا اور یا خدا کے تسلط کی طرف ایک کنایه هے-

د: علمائے معاصر، جیسے علامه طباطبائی کا نظریه، اور صحیح نظریه کے مطابق ، کرسی باوجودیکه ایک کنایه هے، لیکن اس کا حقیقی وجود هے اور وجود کے مراتب میں سے ایک مرتبه هے اور اس سے مراد مقام ربوبی هے که آسمان و زمین کی تمام مخلوقات اس پر قائم هیں- پس کرسی، خدا کے علم کے مراتب میں سے ایک مرتبه هے که تمام کائنات اس پر قائم هے اور تمام چیزیں اس میں محفوط اور تحریر شده هیں- اس بنا پر درحقیقت عرش و کرسی ایک امر واحد هے که جس کے اجمال و تفصیل کے مطابق دو مرتبے هیں اور حقیقت میں ان کے درمیان فرق رتبه کے لحاظ سے هے اور دونوں وجودی حقیقتیں هیں، لیکن اس صورت میں نهیں که بعض لوگوں نے تصور کیا هے که یه ایک تخت هے اور خداوند متعال اس پر بیٹھتا هے[22]– ائمه اطهار علیهم السلام کی طرف سے نقل کی گئی رویتیں اس سلسله میں اس قول کی تائید کرتی هیں- هم یهاں پر ان روایتوں میں سے چند کی طرف اشاره کرتے هیں:

۱۔ امیرالمومنین علیه السلام جاثلیق کو دئے گئے ایک جواب کے ضمن میں فرماتے هیں: ” ملائکه ،عرش خدا کو اٹھا ئے هیں، اور عرش خدا، جس طرح تم فکر کرتے هو ایک تخت کے مانند نهیں هے، بلکه ایک ایسی چیز هے جو محدود، مخلوق اور خدا کی تدبیر پر مبنی هے، اور خداوند متعال اس کا مالک هے، نه که یه اس پر بیٹھتا هے[23]-“

حضرت علی علیه السلام سے ایک اور روایت نقل کی گئی هے که، اس میں کرسی سے مراد، علم الهٰی هے جو تمام آسمانوں اور زمین پر موجود چیزوں کو احاطه کئے هوئے هے[24]– حنان بن سدیر نقل کرتے هیں که میں نے حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے عرش و کرسی کے معنی پوچھے، تو آپ علیه السلام نے فرمایا : عرش کی بهت سی اور مختلف صفتیں هیں- قرآن مجید میں جهاں پر بھی جس مناسبت سے عرش کا نام لیا گیا هے اسی جهت سے صفتیں ذکر کی گئی هیں[25]– اس روایت میں عرش ملک و مشیت و اراده کے معنی میں استعمال هوا هے- اور عرش و کرسی علم کے ایک هی معنی کے دو نام کے طور پر استعمال هوئے هیں که علم عرش ، علم کرسی سے مخفی تر هے-


مزید  کیازمین کی خلقت، آسمان کی خلقت سے پھلے انجام پائی ھے؟ کھکشانوں میں زمین کی به نسبت کافی قدیمی کرات اور سیارے پائے جاتے ھیں اور زمین کی عمر ان کی به نسبت کافی جوان ھے۔ کسی فضا نورد نے نھیں کھا ھے که آسمان کے سات طبقے ھیں۔

[1] راغب، مفردات، لفظ عرش.

[2] المنجد، ترجمه، بندر ریکى، محمد، ج2، ص 1100.

[3] قرشى، سید على اکبر، قاموس قرآن، ج4، ص 316.

[4] غافر، 7، 15؛ الحاقه، 17؛ نحل، 23 و 26 و 42 و 41 و 38؛ اعراف، 54؛ توبه، 129؛ یونس، 3؛ یوسف100 ؛ رعد، 2؛ اسراء، 42؛ طه، 5؛ انبیاء، 22؛ مؤمنون، 86 و 116؛ فرقان، 59؛ سجده، 4؛ زمر، 75؛ زخرف، 82؛ حدید، 4؛ تکویر، 20؛ بروج، 15؛ هود، 7.

[5] بقره، 259.

[6] یوسف، 100.

[7] نمل، 38.

[8] اعراف، 137.

[9] طباطبایى، سید محمد حسین، المیزان، ترجمه فارسی، موسوى همدانى، ج 15، ص212، مرکز انتشارات محمدى، طبع سوم 1362.

[10] راغب، مفردات، واژه‏ى عرش؛ المیزان، ایضاً، ص 213.

[11] به نقل از مفردات راغب ماده‏ى عرش.

[12] بحار الانوار، ج 58، ص 28، حدیث 46 و 47.

[13] اعراف: 54.

[14] طه، 5.

[15] اعراف، 54.

[16] توبه، 129.

[17] غافر، 7.

[18] المیزان، همان، ج 15، ص 216.

[19] مفردات راغب ماده کرسى؛ قرشى، سید على اکبر، قاموس قرآن، ج4، ص 316.

[20] ص، 34.

[21] بقره، 255.

[22] مجموعه‏ى مطالب مندرجه ذیل کتابوں سے لئے گئے هیں. المیزان، ج 4، ص 230 به بعد، و ج 15، ص 212 به بعد، و ج 27، ص 187 به بعد؛ تفسیر نمونه ج 2، ص 201 به بعد، و ج 6، ص 204، و ج 9، ص 25، و ج 20، ص 53، و ج 24، ص 458، و ج 26، ص 193 و 348.

[23] شیخ صدوق، التوحید، ص 316، انتشارات جامعه مدرسین، تاریخ 1375 هش،.

[24] کلینى، کافى، ج1، ص 130، چاپ دارالکتب الاسلامیه، تهران، تاریخ 1365 هش،.

[25] التوحید، ایضاً، باب العرش و صفاته، ص 322.

تبصرے
Loading...