لفظ [آل محمد] کے بغیر صلوات ناقص کیوں هے اور اس سے کیوں روکا گیا هے؟

0 0

جواب کے واضح هونے کے لئے ﮐﭼﮭ نکات کو بیان کرنا ضروری هے:

۱۔ بدعت؛ یعنی اس چیز کو دین میں سمجھیں جو دین میں نهیں هے۔ یه بات اپنی جگه پر ثابت کی جاچکی هے که رسول صلّی الله علیه وآله اور آپ کے اهلبیت علیهم السلام کے اعمال و اقوال کو دین میں شمار کیا جاتا هے۔ لهذا آپ نے جو یه کها هے که لفظ آل محمد چونکه قرآن میں نهیں هے اس لئے بدعت هے، یه صحیح نهیں هے چونکه اگر قرآن میں نه بھی آیا هو پھر بھی روایات میں آنا هی دین میں شمار هونے کے لئے کافی هے اور بدعت شمار نهیں هوگا۔ اور جو فقهاء کهتے هیں که شهادت ولایت (یعنی اشهد ان علیا ولی الله) کو اذان میں جزئیت کی نیت سے کهنا بدعت هے ان کا مقصد بھی یه هے که مذکوره شهادت کے جزو اذان هونے پر آیات و روایات میں کوئی دلیل نهیں هے۔

۲۔ جن فرائض کو الله نے انسان کے کاندھوں پر رکھا هے مثلا طهارت، نماز، روزه، حج، جهاد، خمس، زکات وغیره یه سب کے سب قرآن میں آئے هیں لیکن تمام جزئیات، شرائط، لوازمات اور موانع کے ساﭠﮭ نهیں بلکه صرف ان کا وجوب اور اس کے بعض اجزاء و شرائط کو کلی اور اجمالی انداز میں بیان کردیا گیا هے مثلا نماز کا وجوب قرآن میں آیا هے اور اس کے بعض اجزا و شرائط مثلا طهارت، رکوع و سجود کی طرف اشاره بھی کیا گیا هے لیکن ذکر رکوع و سجود، قرائت، تسبیحات اربعه، قیام متصل برکوع، غسل، وضو اور تیمم کا طریقه وغیره مکمل طور سے اور تمام خصوصیات کے ساﭠﮭ کسی بھی آیت میں بیان نهیں هوا هے۔

مسلمانوں کا طریقه شروع سے هی یه رها که ان جزئیات کے سلسله میں معلومات کے لئے رسول اکرم صلّی الله علیه وآله کی خدمت میں حاضر هوتے تھے اور فرائض کی جزئیات اور ان کی ادائگی کا طریقه معلوم کرتے تھے اور آپ کے فرمان کے مطابق عمل کرتے تھے۔

صلوات کے سلسله میں بھی ایسا هی تھا که آیه [إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَى النَّبِیِّ یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلیما][1] کے نازل هونے بعد مسلمان رسول اکرم صلّی الله علیه وآله کی خدمت میں آئے اور آپ سے [نبی پر صلوات] بھیجنے کا طریقه پوچھنے لگے اور شیعه سنی کی متواتر روایات کے مطابق آپ نے فرمایا که اس طرح کهیں: [اللهم صل علی محمد و آل محمد کما صیلت علی ابراهیم و…][2] اور اس طرح صلوات کے بارے میں اپنی ذمه داری کی طرف مسلمان متوجه هوگئے۔[3]

دوسرے لفظوں میں جب الله نے اپنے رسول صلّی الله علیه وآله کو قرآن کا مفسر اور مبیّن قرار دے دیا هے[4] تو آپ کا بیان اور تفسیر بھی الله کا بیان اور تفسیر سمجھی جائے گی۔ اور رسول اکرم صلّی الله علیه وآله نے آیه [إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَى النَّبِیِّ یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلیما][5] کی تفسیر [اللهم صل علی محمد و آل محمد کما صیلت علی ابراهیم و…] کے ذریعه کی هے لهذا نتیجه یه هوا که آل محمد پر صلوات خود قرآن سے سمجھی جاسکتی هے۔

۳۔ ظاهری معانی کے علاوه قرآن کے عمیق باطنی معانی بھی هیں جس بارے میں رسول صلّی الله علیه وآله اور آل رسول علیهم السلام بتاسکتے هیں۔[6] اس لئے کها جاسکتا هے جو روایات کهتی هیں که صلوات میں آل محمد کا بھی ذکر هونا چاهئے وه قرآن کے باطنی معانی بتاتی هوں؛ اگرچه لفظ نبی کے ظاهری معنی میں آل محمد شامل نه هوتے هوں لیکن باطنی معنی کے لحاظ سے شامل هوتے هیں۔

۴۔ آیات قرآنی سے یه سمجھا جاسکتا هے رسول صلّی الله علیه وآله اور آل رسول علیهم السلام کو الله حقیقت واحد کے عنوان سے لحاظ میں دیکھتا هے۔ مثلا آیه تطهیر کو ملاحظه فرمائیں [إِنَّما یُریدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهیرا][7]، اس میں الله نے پیغمبر صلّی الله علیه وآله اور آپ کے اهلبیت علیهم السلام کو ایک حقیقت کے عنوان سے پیش کیا هے۔

آیه مودت [قُلْ لا أَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبى‏][8] میں الله پیغمبر صلّی الله علیه وآله کے اجر رسالت کو اهلبیت علیهم السلام کی مودت قرار دیتا هے اس سے پته چلتا هے که الله کی نظر میں یه ایک دوسرے سے الگ نهیں هیں۔ یا آیه مباهله [فَمَنْ حَاجَّکَ فیهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْکاذِبین‏][9]میں جیسا که آپ ملاحظه فرماتے هیں که اس میں حضرت علی علیه السلام کو نفس پیغمبر قرار دیا گیا هے اور دعا کی قبولیت کے لئے اس مجموعه کی حاضری کو ضروری سمجھا گیا هے۔

۵۔ اچھی خاصی روایات یه بیان کرتی هیں که پیغمبر صلّی الله علیه وآله اور آپ کے اهل بیت علیهم السلام نور واحد هیں۔

نمونه کے طور پر اس روایت پر توجه کریں: رسول الله صلّی الله علیه وآله نے فرمایا: میں الله کے نور سے خلق هوا اور میرے اهلبیت میرے نور سے خلق هوئے۔[10]

۶۔ عرفاء بھی پیغمبر اکرم صلّی الله علیه وآله اور ان کے اهلبیت علیهم السلام کی ذوات مقدسه کے لئے [حقیقت محمدیه] یا [صادر اول] کی تعبیر استعمال کرتے هیں جو که ایک حقیقت هے اور جس کے تجیلات و ظهورات مختلف هیں۔

۷۔ عرف و عقلاء کی نظر میں وه لوگ جو ایک فکر اور عقیدے کے هیں اور جن میں فکری و عملی تضاد و تقابل نهیں هے وه حقیقت واحده سمجھے جاتے هیں یعنی ان کو ایک نگاه سے دیکھا جاتا هے۔

نتیجه یه هوا که رسول صلّی الله علیه وآله پر صلوات بھیجنے میں اهلبیت علیهم السلام کو شامل کرنا نه صرف یه که بدعت نهیں هے بلکه قرآن، روایات اور عرف و عقلاء کے موافق هے اور اهل بیت علیهم السلام کی صلوات در حقیقت وهی پیغمبر صلّی الله علیه وآله کی صلوات هے، اور دونوں ایک حقیقت تک پهنچاتے هیں۔

آخری بات یه هے که پیغمبر پر صلوات مطلقا واجب نهیں هے بلکه صرف خاص موقعوں پر مثلا نماز کے تشهد میں واجب هے۔[11] البته جهاں صوالت واجب هے وهاں آل محمد علیهم السلام کا ذکر بھی ضروری هے؛ اور جهاں مستحب هے وهاں آل محمد کا ذکر بھی مستحب هے اور آل محمد علیهم السلام کا ذکر نه کرنا صلوات کے ناقص هونے کا سبب هوگا۔


مزید  بیوی کو کس حد تک اپنے شوهر کی اطاعت کرنی چاهئے؟ کیا شوهر اپنی بیوی کو کسی جگه سفر کرنے پر مجبور کرسکتا هے؟ اس سلسله میں حضرت آیت الله هادوی کا نظریه کیا هے؟

[1] احزاب، ۵۶۔

[2] تفسیر نمونه، ج۱۷ ،ص ۴۱۹۔

[3] مزید معلومات کے لئے رجوع فرمائیں: الصلاۃ علی محمد و آل محمد ، سوال نمبر ۴۲۸

[4] حشر، ۷۔

[5] احزاب، ۵۶۔

[6] بحار الا نوار، ج ۸۹، ص۹۰۔۹۵۔

[7] احزاب، ۳۳۔

[8] شوری، ۲۳۔

[9] آل عمران، ۶۱۔

[10] بحار الانوار ،ج ۱۵ ،ص ۲۰ ۔

[11] تحریر الوسیلۃ ، ج۱ ،ص ۱۴۳، القول فی التشھد، مسئله ۱۔

تبصرے
Loading...