قرآن مجید کى آخرى آیت کونسى هے؟ کیا وحى میں اضافه هونے کا امکان تھا؟

0 0

180x480 Banner

پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیات کے بارے میں متعدد اور مختلف روایتیں موجود هیں، اور اسى لئے اس سلسله میں مفسرین کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا هے:

1ـ بهت سى شیعه و سنى روایتوں میں آیا هے که: پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر جو آخرى چیز نازل هوئى هے، وه سوره مبارکه “نصر” هےـ



[1]


2ـ دوسرى روایتوں کے مطابق پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیات، سوره مبارکه برائت کى ابتدائى آیات هیں، جو پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر سنه 9 هجرى میں فتح مکه کے بعد واپسى کے دوران نازل هوئى هیں



[2]



ـ

3ـ بهت سی روایتوں میں نقل کے مطابق پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیت ” واتقوا یوماً ترجعون الی الله ثم توفی کل نفس ما کسبت و ھم لا یظلمون



[3]



” هے، که جبرئیل امیں نے نزول کے بعد دتسور دیا که یه آیت سوره بقره کى آیت نمبر 280 کے بعد قرار دى جائے اور یه حادثه پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى رحلت سے 21 یا 7 دن پهلے واقع هواـ



[4]


4ـ ابن واضح یعقوبى معتقد هیں که صحیح اور صریح روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیت، آیه اکمال دین “الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً



[5]



” هےـ یه آیت غدیر خم کے دن على علیه السلام کو امیر المومنین کى حیثیت سے منصوب کئے جانے کے وقت نازل هوئى هےـ



[6]


مرحوم آیت الله معرفت فرماتے هیں: ” اس میں کوئى شک و شبهه نهیں هے که سوره “نصر” سوره برائت (کى ابتدائى آیات) سے پهلے نازل هوا هے، چونکه سوره نصر فتح مکه کى بشارت هے، لهٰذا قبل از فتح مکه نازل هواهے یا اسى فتح مکه کے سال، مکه میں نازل هوا هے



[7]



، جبکه سوره برائت فتح مکه کے ایک سال بعد نازل هوا هےـ پس مذکوره روایات سے مجموعی طور پر یه نتیجه نکلتا هے که:

الف: پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والا آخرى سوره، سوره “نصر” تھا اور سوره کى ابتدائى آیات نازل هونے کى حیثیت سے آخرى سوره، سوره “برائت” تھاـ

ب: پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیت کے بارے میں ایسا لگتا هے که ابن واضح یعقوبى کے نظریه کو ترجیح دى جا سکتی هے اور آخرى نازل هونے والى آیت آیه اکمال دین هے ـ چونکه اس آیت میں دین کے مکمل هونے کا اعلان اور وحى کے اختتام تک پهنچنے کا اشاره هے ـ

لیکن سوره بقره کى آیت نمبر 281 کے بارے میں دو نظریه پائے جاتے هیں:

1ـ یه آیت حجته الوداع میں، عید قربان کے دن، منىٰ میں پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هوئى هےـ



[8]



اگر یه روایت صحیح هو تو، آخرى آیت ” اکمال ” دین هے ـ کیونکه آیه اکمال دین 18 ذى الحجه کو حجته الوداع سے واپسى پر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هوئى هے ـ

2ـ اگر یه روایت صحیح هو، تو پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هونے والى آخرى آیت یهى هونى چاهئے، اور اس صورت میں کها جاسکتا هے که آیه اکمالى دین، احکام سے مربوط آیات میں سے آخرى آیت هے، اور سوره بقره کى 281 ویں آیت پیغمبراکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر وحى هونے والى آخرى آیت هے ـ



[9]


مزید  صحیح معاملہ کے شرائط کیا ہیں؟

لیکن آپ کے سوال کے دوسرے حصه کے جواب میں، که پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى عمر طولانى هونے کى صورت میں کیا مزید آیات نازل هونے کا امکان تھا یا نه، اس سلسله میں قابل ذکر بات هے که، قطعى اور مسلم دلائل کى بنیاد پر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم خاتم الانبیاء هیں اور قرآن مجید، خداوند متعال کا آخرى پیغام هےـ اس بنیاد پر همیں کهنا چاهئے که خداوند متعال نے اپنے مکمل اور آخرى پیغام کو پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کے توسط سے لوگوں تک پهنچادیا هے، اب اگر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى عمر شریف کم تر هوتى تو یه بیغام مکمل طور پر اسى مدت کے دوران پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هوتا اور اگر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى عمر طولانى تر هوتى تو یه پورا پیغام طولانى تر زمانه میں پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم پر نازل هوتا ـ اس لئے ختم نبوت کى قطعى دلائل کے پیش نظر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى عمر طولانى هونے کى صورت میں آیات قرآن کے اضافه هونے کے امکان کا معنى نهیں هے، کیونکه اس صورت میں یه لازم آتا ه که خداوند متعال نے اپنے مکمل اور آخرى پیغام کو ادھورا چھوڑا هے اور اسے مکمل نهیں کیا هے، اور یه واضح تنا قض هے ـ

یهاں پر هم اس سلسله میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے آیت الله هادوى تهران کے ایک بیان کو نقل کرتے هیں:


قرآن مجید اور تاریخ

کیا قرآن مجید کے حقائق اور معارف اپنے زمانه سے مربوط هیں، اگر پیغمبر اکرم
 
صلى الله علیه وآله وسلم ایک دوسرے زمان و مکان میں پیغمبرى پر معبوث هوتے تو کیا پھر بھى یهى آیات اسى زبان میں ان پر نازل هوتیں؟ کیا قرآن مجید ایک تاریخى پهلو رکھتا هے ؟

بعضوں نے ان سوالا کے جواب میں مطلق رجحان کا نظریه پیش کیا هے که : قرآن مجید کى آیات وحى کے امور سے متعلق هیں اور یه زمان و مکان سے بالاتر هیں اور ان کا تاریخ اور تاریخ کے امور کے ساتھـ کسى قسم کا ربط نهیں هے ـ ان کى نظر میں پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم جس زمان و مکان میں بھى پیغمبرى پر مبعوث هوتے، تو یهى آیات نازل هوتیں اور قرآن مجید کے مطالب یا زبان میں کسى قسم کى تبدیلى واقع نهیں هوتى ـ

اس نظریه کے مقابل میں، ایک گروه نے نسبى رجحانات پر مشتمل نظریه کے مطابق جواب دیا هے اور کها هے: قرآن مجید کے مطالب ان خاص حالات سے مربوط هیں که جس میں قرآن مجید نازل هوا هے، اور اگر زمان و مکان بدل جاتا، نه صرف زبان بدل جاتى، بلکه قرآن مجید کے مطالب بھی متفاوت هوتےـ یه لوگ اعتقاد رکھتے هیں که اگر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى عمر شریف طولانى تر هوتى یا آنحضرت (ص) اس سے پهلے بیغمبرى پر مبعوث هوتے اور آنحضرت (ص) کى رسالت کى مدت زیاده هوتى، تو قرآن مجید کى آیات بھى زیاده تر هوتیں اور شائد قرآن مجید کى ضخامت موجوده ضخامت سے کئى گنا زیاده هوتى ـ

اس مسئله کى جانچ پڑتال کرکے صیحح جواب حاصل کرنے کے لئے چند نکات کى طرف توجه کرنا ضرورى هے:

1ـ جیسا که هم نے اس سے پهلے بھى اشاره کیا هے، جو چیزانسان کى زندگى میں بدلتى هے وه اس کى زندگى کے چھلکے سے مربوط هے اور انسان کى اصلى اور جوهرى هویت ان تبدیلیوں سے نهیں بدلتى هے ـ اس توصیف کے بیش نظر، تاریخى حالات میں فرق، ان مختلف حالات میں موجود انسانوں کے جوهر کو تبدیل نهیں کرتا هے ـ

2ـ دین، انسان کى ذاتى اور جوهرى هویت کو مد نظر رکھتا هے، جو ایک پائدار اور ناقابل تبدیل امر هےـ

البته دینى حقائق کو حاصل کرنے کے سلسله میں مخاطبین کى استعداد میں اضافه کے تنا سب سے، ادیان نے اپنے تاریخى سفر میں کمال کى طرف قدم بڑھا یا هے اور یه تکاملى سفر، دین خاتم میں اپنى انتها تک پهنچتا هے اور کامل ترین دین ظاهر هوتا هے، یه دین ان تمام چیزوں کا حامل هے، جو وحى کے ذریعه بیان هونى چاهئے اور تحریف سے محفوظ هے ـ اسى لحاظ سے، کسى دوسرے دین کے ظهور کى کوئى گنجائش باقى نهیں رهتى هے ـ

3ـ جو پیغمبر، لوگوں کے لئے کسى دین کو لے کر آتا هے، وه معارف کے حقائق کو زمانه کے لوگوں کى زبان میں بیان کرناچاهئے تاکه افهام و تفهیم کے امکانات فراهم هوجائین اور لوگ اس کے پیغام کو سمجھـ سکیںـ اس لحاظ سے، اگر کوئى پیغمبر ان لوگوں میں مبعوث هوجائے جو عبرانى زبان میں گفتگو کرتے هیں، تو اسے عبرانى زبان میں گفتگو کرنى چاهئے ـ تاکه لوگ اس کى بات کو سمجھـ سکیں ـ دوسرى جانب سے، پیغمبر کی اپنے پیغام کو وضاحت میں مثالیں بیان کرتے وقت ایسے مفاهیم سے استفاده کرنا چاهئے جنھیں لوگ سمجھـ سکیں ـ پس جس زمانه میں کوئى پیغمبر مبعوث هوا هے اس کى تاریخی حقیقت پیغمبر کى زبان اور اس کے بیغام کے محتوىٰ پر اثر انداز هوتى هے اور اس طرح پائدار عناصر کے ضمن میں دین میں کچھـ وقتى عناصر بھى ظاهر هوتے هیں ـ

ان اوصاف کے پیش نظر اگر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم انگریزى بولنے والى کسى سرزمین میں مبعوث هوتے، تو بیشک قرآن مجید انگریزى زبان میں نازل هوتا اور اگر اس سرزمین میں لوگ اونٹ کے بجائے پنگوئن سے سروکار رکھتے تو اونٹ کى حیرت انگیز خلقت کے بجائے پنگوئن کى حیرت انگیز خلقت کى طرف اشاره کیا جاتا ـ

لیکن یه امر اس چیز کا سبب نهیں بن سکتا هے که قرآن مجید اپنے مطالب کے تقدس اور قدر و منزلت کو کھود ےـ کیونکه اولاً : اگر یه تبدیلیاں رونماهوتیں، توصرف اس کے وقتى عناصر سے مربوط هوتیں جو انسانى زندگى کا چھلکا هے، اور پایئدار عناصر، جو انسان کى هویت پر ناظر هیں، اثرانداز نهیں هوتیںـ دوسرے الفاظ میں، دین خاتم کا لافانى پیغام هر زمان ومکان میں یکساں هے، اگر چه ممکن هے کسى دوسرے زمان ومکان میں ظاهر هو جائے، زبان، قالب اور اس کا محتوى اس کے وقتى اور ظاهرى تبدیل هونے والے حصه پر اثر انداز هوسکتا هےـ

ثانیاً: ایک پیغمبر کے زمان ومکان کا انتخاب خداوندمتعال کى حکمت کے مطابق انجام باتا هے اور یه ایک اتفاقى امر نهیں هے ـ یه جو پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم جزیرۃالعرب میں تاریخ کے اس خاص زمانه میں مبعوث هوئے هیں، حکمت و دلیل کے  بغیر کوئى حادثه نهیں هے ـ یه جو اس طرح کے ماحول کا اقتضا تھا، که قرآن مجید عربى زبان میں هونا چاهئے، اس بات کى علامت هے که خدا کى حکمت کے مطابق یه زبان، دین خاتم کے مطالب کو بیان کرنے کے لئے مناسب ترین زبان تھى، اور یه که اسلام عربوں کی جهالت کے ماحول میں ظهور پیدا کرے، اس حقیقت کو بیان کرتا هے، که اسلام کے لافانى مفاهیم کو بیان کرنے کے لئے بهترین حالات اسى فضامیں موجود تھے ـ پس اگر قرآن مجید میں اونٹ کى مثال پیش کى جاتى هے، اس کى وجه مخاطبین کى اس حیوان سے آشنائى هے ـ لیکن معرفت کی اس قسم کے مطابق قرآن مجید کے حقائق بیان کرنے کے لئے ان مخاطبین کو منتخب کرنا، اس بات کى علامت هے که اس مطلب کے لئے بهترین مثال وهى ” اونٹ ” کى مثال تھى ـ

اس لحاظ سے حکمت الهىٰ میں آیات کى یهى تعداد اور اسی عربى زبان میں اور انهى مثالوں کے ساتھـ دین خاتم کے پیغام کو پهنچانے کے لئے بهترین طریقه تھا ـ اس لئے کها جاسکتا هے که: اگر پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم کى نبوت کى مدت طولانى تر هوتى تو قرآن مجید کى آیات کى تعداد اور اس کے محتوىٰ میں کسى قسم کى تبدیلى رونما نهیں هوتى ـ

پیغمبر اسلام کى خاتمیت کے دلائل کے سلسله میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ملاحظه هو: سوال نمبر 3286 (سائٹ: 3582) تحت عنوان : ” دین اسلام کے دین خاتم هونے کا راز ”

مزید  اگر نذر کی هوئی غذا قابل استفاده نه هوتو اس کو دور پهینکنے کے سلسله میں کیا حکم هے؟






[1]



طبرسى، مجمع البیان، ج 10، ص 554: بحرانى، تفسیر برھان، ج1، ص 29; سیوطى، الاتقان، ج، ص 27.




   



[2]



فیض کاشانى، تفسیر صافى، ج1 ،ص 680.






[3]



 

  بقره، 281.






[4]



 

 تفسیر شبر، ص 83.






[5]



 

 مائده، 3.






[6]



 

 تاریخ یعقوبى، ج 2، ص 35.






[7]



 

 اسباب النزول، بھامش الجلالیین، ج2، ص 145.






[8]



 

 
زرکشى، برھان، ج 1، ص 187.








[9]



 

 آیت الله محمد ھادى معرفت، تلخیص التھمید، ج 1، ص 80 و 81.

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...