قرآن مجید میں سورج کے طلوع اور غروب سے کیا مراد ھے؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa4233


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
12484

قرآن مجید میں سورج کے طلوع اور غروب سے کیا مراد ھے؟

قرآن مجید ھمیں بتاتا ھے که سورج ایک کالی دلدل والے چشمه میں غروب ھوتا ھے، جیسا که سوره کھف کی آیت نمبر ۸۶ میں بیان ھوا ھے: “یھاں تک که جب وه غروب آفتاب کی منزل تک پھنچے تو دیکھا که وه ایک دلدل والے چشمه میں ڈوب رھا ھے اور اس چشمه کے پاس ایک قوم کو پایا تو ھم نے کھا که (اے ذوالقرنین!) تمھیں اختیار ھے چاھے ان پر عذاب کرو یا ان کے درمیان حسن سلوک کی روش اختیار کرو.“
پھر اسی سوره کی آیت نمبر ۹۰ میں فرماتا ھے: “یھاں تک که جب طلوع آفتاب کی منزل تک پھنچے تو دیکھا که وه ایک ایسی قوم پر طلوع کر رھا ھے جس کے لئے ھم نے آفتاب کے سامنے کوئی پرده بھی نھیں رکھا تھا’ ۔ ”
اولاً: علم وسائنس کے مطابق سورج کبھی دلدل والے چشمه میں غروب نھیں کرتا ھے ۔
ثانیاً: سورج کے لئے غروب اور طلوع کی کوئی خاص جگه موجود نھیں ھے۔ کیا یه نظریه افلاک کی گردش کے بارے میں کپرنیک اور کپلر اور گلیلیو کے انکشافات کے منافی نھیں ھیں؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  ۱۔ کیا زنده انسانوں کے مستحب اعمال {مستحبی نماز، مستحبی روزے، زیارت، دعا وغیره} کو نیابتاً انجام دیا جاسکتا ھے؟ ۲۔ زنده انسان کے کن مستحب اعمال کو نیابت میں انجام نھیں دے سکتے ھیں؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.