قرآن مجید میں “ سماء ” کے کیا معنی ھیں اور اس کے ممکنه اور ظاھری تعارضات کا کیا حل ھے؟

0 2


سائٹ کے کوڈ
fa4598


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
12486

قرآن مجید میں “ سماء ” کے کیا معنی ھیں اور اس کے ممکنه اور ظاھری تعارضات کا کیا حل ھے؟

قرآن مجید فرماتا ھے:
“ اور ھم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنایا ھے اور یه لوگ اس کی نشانیوں سے برابر اعراض کرتے ھیں۔“ (سوره انبیاء / ۳۲)
“ اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ھے، تم دیکھ رھے ھو ۔” (سوره لقمان / ۱۰)
“اس پروردگار نے تمھارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانه بنایا ھے” (سوره بقره / ۲۲)
“ اور آسمان کے راستے کھول دئے جائیں گے اور دروازے بن جائیں گے ۔” (سوره نباء / ۱۹)
“ جب آسمان شگافته ھو جائے گا۔” (سوره انفطار / ۱)
کیا حقیقت میں آسمان چھت کے مانند ھے جس کے دروازے ھیں اور یه چھت شگافته ھوکر مسمار ھو جائے گی ؟ ان آیات کے کیا معنی ھیں ؟ اور کیا ان میں تعارض نھیں پایا جاتا ھے ؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  کہا جاتا ہے کہ امام حسین (ع)کی خاک شفا، وہ سرخ رنگ کی مٹی ہے، جو امام حسین (ع) کی قبر مبارک میں حضرت(ع) کے سرمبارک کی طرف سے اُبلتی ہے اور یہ خاک شفا دینے والی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.