قابیل نے هابیل کو کیوں قتل کر ڈالا؟

0 0

قرآن مجید نے حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں کی داستان اور ان میں سے ایک فرزند کے ایک دوسرے فرزند کے هاتھوں قتل هو نے کو یوں ارشاد فرمایا هے :” جب دونوں نے قربانی دی اور ایک (هابیل) کی قربانی قبول هوگئی اور دوسرے (قابیل)کی قبول نه هوئی [1]–” یهی موضوع سبب بنا که جس بھائی (قابیل ) کا عمل قبول نهیں هوا تھا، اس نے دوسرے کو قتل کر ڈالنے کی دھمکی دی اور ” اس نے قسم کھائی که تجھے قتل کر ڈالوں گا![2] ” لیکن دوسرے بھائی (هابیل) نے اسے نصیحت کی اور کها : ” اگر ایسا واقعه پیش آیا وه میرا گناه نهیں هے بلکه تیرا اپنا قصور هے که تیرا کام تقوی و پرهیز گاری پر مبنی نهیں تھا، اور ” خدا وند متعال صرف صاحبان تقوی کے اعمال کو قبول کرتا هے-[3]

اس کے بعد مزید اضافه کیا : حتی” اگر تم اپنی دھمکی پر عمل کرتے هوئے مجھے قتل کر ڈالوگےتو ،میں هرگز اس کا مقابله مثل نهیں کروں گا اور تجھے قتل کر نے کا اقدام نهیں کروں گا”[4]– کیونکه میں خدا سے ڈر تا هوں اور هر گز اس قسم کے گناه کا مرتکب نهیں هوں گا-[5]

اس کے علاوه میں کسی کے گناه کی ذمه داری نهیں لینا چاهتاهوں ” بلکه چاهتاهوں که تم میرے اور اپنے گناهوں کا بوجھـ سنبھال لے-“[6] ( کیونکه حقیقت میں اگر تم اس دھمکی پر عمل کروگے تو میرے گزشته گناهوں کا بوجھـ بھی اٹهالوگے، کیونکه تم مجھے زنده رهنے کے حق سے محروم کرتے هو اور اس کا تاوان تجھے ادا کر نا هوگا اور چونکه تم نے کوئی نیک کام انجام نهیں دیا هے اس لئے میرے گناهوں کا بوجھـ بھی سنبھالنا پڑے گا) اور یقیناً اس بڑی ذمه داری کو قبول کر کے ” جهنمی بن جاٶ گے اور ظالموں کی سزا یهی هے-[7]

ان ایات سے بخوبی معلوم هو تا هے که عالم انسانیت کے ابتدائی اختلافات، قتل اور ظلم وبربریت کا سر چشمه حسد تھا اور یه موضوع همیں اس برے اخلاق کی اهمیت اور سماجی حوادث اور واقعات پر اس کے غیر معمولی اثرات سے آگاه کرتا هے- [8]


مزید  منابع اجتهاد کے مشترک هو نے کے باوجود ، کئی مشترک مسائل میں بعض مجتهدین کے در میان اختلاف کی وجه کیا هے؟

[1] – سوره مائده ، ٢٧” اذ قربا قرباناً فتقبل من احدھما ولم یتقبل من احدھما ولم یتقبل من الاخر-

[2] – سوره مائده ، ٢٧ ” قال لاقتلنک”

[3] – سوره مائده ، ٢٧ ” قال انما یتقبل الله من المتقین-“

[4] – سوره مائده ،٢٨” لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا ببا سط یدی الیک لا قتلک –”

[5] – سوره مائده، ٢٨” انی اخاف الله رب العالمین-“

[6] – سوره مائده، ٢٩” انی ارید ان تبو ء با ثمی و اثمک-”

[7] – سوره مائده،” فتکون من اصحاب النار و ذلک جزاء الظالمین-”

[8] – ملاحظه هو ; تفسیر نمونه،ج٤،ص٣٤٦: ترجمه تفسیر المیزان،ج٥،ص٤٩١: من ھدی القرآن،ج٢،ص٣٥٣-تفسیر “من ھدی القرآن” تالیف سید محمد تقی مدرسی میں آیا هے : ان قابیل لم یقتل اخاه من اجل الصراع علی البقاء کما یزعم المذھب الدار وینی ، ولا من اجل الحصول علی بنت اجمل کما یز عم المذھب الفروبدی ، ولا من اجل سوء التربیۃ و ضغوط الاجتماع ،او الصراع الطبقی او غیرھا مما تزعمھا المذاھب الاجتماعیۃ المختلفۃ ،کلا، ولکنه قتلهلحب الاستعلاء والحسد، واذا سیطرت البشریۃ علی غریزۃ الاستعلاء فی ذاتها فقد وفقت للعیش بسلام مع بعضها وانتزعت من نفسها فتیل الحروب-

تبصرے
Loading...