فیمینیزم کیا هے؟

0 0

 
Feminismفرانسوی لفظ ہے جو لیٹین کے لفظ Femindسے لیا گیا ہے اور ذ را سی تبدیلی سے دوسری زبانوں جیسے انگلش اور جرمن میں بھی ایک ہی معنا میں استعمال ہوتا ہے ۔Femininعورت یا جنس مونث کے معنا میں استعمال ہوتا ہے ۔
اصطلاح میںFeminismان دو معنا میں استعمال ہو سکتا ہے؛ اوّل)جیسا کی مشہور ہے اس طرز فکر یا اس تحریک کو کہا جاتا ہے جو سیاست و معیشت و معاشرتی جملہ تمام شعبوں میں عورتوں کی مردوں  سے برابری دعویدار ہیں ،البتہ اس فکر کی توسیع کے ہمراہ جو نتایج سامنے آتے ہیں ان میں خواتین کے کلب،خواتین کی انجمنوں اور خواتین کی دیگر اداروں کا وجود میں آنا قابل ذکر ہے۔
دوسرا معنی مردوں میں عورتوں کے صفات اور خصوصیات کا ظاہر ہونا ہےالبتہ یہ معنی و منظور بحث نہیں ہے۔
حلانکہ فیمینزم، خواتین کے حقوق کےدفاع اور مردوں کے ہمراہ ان کی برابری کے معنا میں کئی سو سال پرانی فکر ہے ،لیکن انیسویں صدی کے وسط سے اس معنی میں باقاعدہ استعمال ہونے لگا ،اور اس طرز فکر کا نافذ کرنے کے لیئے دھیرے دھیرے بہت سی تحریکوں نے سر اٹھایا اور اپنے مطالبات کو حاصل کرنے کے لیئے بہت سے طریقے اپنائے گئے۔
تاریخی پس منظر میں فیمینزم کے تکاملی مرحلہ کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے:
پہلا مرحلہ: انیسویں صدی کی ابتدا سے 1920عیسوی یعنی پہلی جنگ عظیم کے بعد تک؛
دوسرا مرحلہ:ساٹھ 60 کی دھاتی کے بعد کا مرحلہ ۔
فیمینزم پہلی تعریف کے مطابق خواتین کی حق طلب تحریک کا نام تھا جو امریکا سے شروع ہوتی تھی
یعنی خواتین نے جنسیت کی بناپر اس زمانہ میں رائج امتیازی برتاو کے خلاف اپنے حق کوحاصل کرنے کے لیئے ایک تحریک کا آغاز کیا جو ایک خاص معاشرتی نظریات اور کچھ دینی طرز فکر کے مطابق قدم اٹھایا تھا۔
اس تحریک میں کچھ کمزوریاں بھی تھیں۔لکین 70سے80 کی دھائیوں میں فمینیزم میں بہت سے رجحانات پیدا ہوئے ،شدّت پسند سے لیکر اعتدال پسند رجحانات،یہاں تک کہ دینی اور مذہبی رجحانات بھی سامنے آئے۔ نتیجہ میں فیمینزم کے سلسلہ میں بہت سے نظریات اور رجحانات پیدا ہوگئے۔
لیکن سب کے سب اس بات پر متّفق ہیں کہ عورتوں کے حقوق پامال ہوئےہیں اور مناسب طریقوں سے اس امتیازی برتاو اور حقوق کی پامال کو روکنا چاہئے ۔ البتہ کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جن میںاختلاف نظر پایا جاتاہے جس کی وجہ سے وہ الگ الگ رجحانات میں بت گئے ہیں ۔ فیمینزم میں موجود رجحنات میں سے مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:لیبرل فیمینزم،مارکسی فیمینزم،ریڈیکل فیمینزم،سوشلست فیمینزم،پوست ماڈرن فیمینزم،۔۔۔ اور اسلامی فیمینزم ۔ حلانکہ کافی پرانا نظریہ ہے لیکن انیسویں صدی کے آخر میں مختلف طریقوں سے اسلامی ممالک میں پھیلایا گیا ہے۔
فیمینزم جو کہ ایک معاشرتی تحریک تھی اس نے چند دھائی کی سرگرمیوں میں اپنے نظریات کو نظم و ترتیب دیگر یونیورسیٹیوں کی سطح پر womenis studiesکے نام سے علمی طریقوں سے پیش کئے ہیں نتیجہ میں دنیا بھر میں خواتین کے مسائل کے ماہرین بھی سامنے آگئے ہیں۔
اس اہم نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ مغربی فیمینزم ایک خاص ماحول میں خاص اسباب کی بناپر ایک ثقافتی ،سماجی تحریک بن کے ابھرا ہے ،لذا اس کے نظریات اور دلائل پر باقاعدہ غور کرنے کے لئے کافی وقت اور دقّت کی ضرورت ہوگی ۔
 

مزید  جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ " مرگ بر امریکہ" {امریکہ مردہ باد} کا نعرہ بلند کرنا، مشرکین سے برائت کی تقریبات، جلسے جلوسوں اور تکبیر کے دوران رواج بن گیا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کی آبادی چالیس کروڑ ہے اور اس میں کچھ مسلمان، عیسائی اور اپنے وطن کے محب رہتے ہیں، وہ جب یہ نعرہ سنتے ہیں، توضرور بے چین ہوتے ہیں، کیونکہ اپنے ملک سے محبت رکھتے ہیں، کیا مذکورہ نعرہ بلند کرنا ، کم از کم اس ملک میں رہنے والے مومن مسلمانوں کی ایک تعداد کے لیے ھتک حرمت اور ناراضگی کا سبب نہیں بنتا ہے؟ قطعاً آپ کا جواب یہ ہوگا کہ اس سے مراد اس ملک کے حکام ہیں جو صہیونیوں کی کی حمایت کرتے ہیں اور استکباری ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کچھ لوگوں کے لیے بے گناہ اور بے قصور لوگوں کی ایک تعداد پر نفرین نہیں کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ اس نعرہ کی جگہ پر "مرگ بر استکبار اور مرگ بر صہیونیزم" کا نعرہ دیا جاتا؟ اگر آپ کا جواب مثبت ہے تو آج تک دئے گیے اس نعرہ اور نفرین کا کیا جواب ہے؟ اور کیا ایران کے لوگ اس روایت کے زمرے میں نہیں آتے ہیں کہ جس کے مطابق کہا گیا ہے کہ اگر نفرین اس حد تک کی جائے کہ وہ نفرین اوپر جاتی ہے اور جب کسی مستحق کو نہیں پاتی ہے تو خود نفرین والے کے سر پر گرتی ہے؟ دوسری جانب ہم دینی تعلیمات میں پڑھتے ہیں، کہ دین اسلام اسلام کی طرف گرویدہ ہونے والے اکثر افراد، پیغمبراسلام{ص} کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام کے دائرے میں آءے ہیں؛ کیا بہتر نہیں ہے کہ ہم انقلاب کو برآمد کرنے کے لیے سیرت نبوی {ص} سے استفادہ کریں؟ شکریہ
تبصرے
Loading...