عیسائیوں کے ساتھه شادی کرنے کا حکم اور شرائط کیا ھیں؟

0 0

اسلامی نقطھ نظر سے عیسائی اھل کتاب ھیں ، شیعھ مراجع تقلید کی نظر میں ، مسلمان عورت ان کے ساتھه شادی نھیں کرسکتی ھے۔ چاھے عقد دائم ھو  عقد غیر دائم ( متعھ )   اور مسلمان مرد بھی غیر اھل کتاب کے ساتھه شادی نھیں کرسکتا ھے چاھے دائم ھو غیر دائم ۔ لیکن مسلمان مرد کا اھل کتاب عورتوں کے ساتھه عقد غیر دائم میں اقوی ( سب سے طاقتور نظریه ) جواز ھے۔ اور عقد دائم میں منع اولیت رکھتا ھے۔

حضرت امام خمینی (رض): اس مسئلھ کےبارے میں فرماتے ھیں” مسلمان عورت کافر کے ساتھه عقد نھیں کرسکتی[1] چاھے وه کافر حربی ھو یا کتابی، مرتد فطری ھو یا مرتد ملی ، عقد چاھے دائمی ھو یا غیر دائمی۔ مسلمان مرد بھی غیر کتابی کافر عورتوں اور مرتد (فطری ھو یا ملی ھو) کے ساتھه دائمی عقد یا موقتی عقد نھیں کرسکتا ھے۔ لیکن کتابی عورت (یھودی یا عیسائی ) کے بارے میں فقھاء کے نقطھ نظر مختلف ھیں۔

۱۔ مشھور قول عقد دائم ممنوع اور غیر دائم جایز ھے۔

۲۔ مطلق ممنوع ھے ( دائم یا غیر دائم )

۳۔ شادی کرنا جائز ھے مطلقا ۔

۴۔ لیکن ھمارا نقطھ نظر یھ ھے، که موقتی عقد میں اقوی جائز ھے اور دائمی عقد میں احتیاطا منع ھے[2] اور احتیاط واجب کی بنا پر بھی دائم عقد اھل کتاب کے ساتھه بھی جائز نھیں ھے۔ لیکن اھل کتاب عورت کے ساتھه صیغھ (متعھ ) کرنا جائز ھے [3]

پس مراجع معظم تقلید کے نظریه کے مطابق صرف مسلمان مرد کا عیسائی عورت کے ساتھه عقد موقت جائز ھے۔ لیکن عقد مسلمان عورت کا عیسائی مرد کے ساتھه نھ دائمی عقد جائز ھے اور نھ موقتی عقد جائز ھے اور مسلمان مرد کا کتابی عورت کے ساتھه عقد دائم کے بارے میں مراجع تقلید کے نقطھ ھائے  نظر مختلف ھیں ھم یھاں پر بعض عصری مراجع عظام کے فتاوی بیان کریں گے۔

۱۔ حضرت آیۃ اللھ صافی(دام ظلھ العالی ) : دائمی عقد کرنا قوت سے خالی نھیں ھے۔ لیکن اگر مسلمان عورت کے ساتھه عقد کرنا ممکن ھو تو اس صورت میں شدید کراھت ھے۔ ( اور شادی نھ کرنے میں احتیاط ھے )

۲۔ حضرت آیۃ اللھ خویی(رح) اور حضرت آیۃ اللھ تبریزی ( رح )۔

احتیاط مستحب کی بنا پر عقد دائم جایز نھیں ھے۔

۳۔ حضرت آیۃ اللھ نوری ھمدانی ( مد ظلھ العالی ) عقد دائم کا جائز ھونا اقوی ھے۔ لیکن اگر مسلمان عورت کے ساتھه شادی کرنا ممکن ھو تو اس صورت میں احتیاطا ترک کرنا چاھئے۔

۴ ۔ حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی (رح) : احتیاط واجب جایز نھیں ھے۔

۵۔ حضرت آیۃ اللھ زنجانی( مد ظلھ العالی ) ، ظاھراً عقد کرنا باطل نھیں ھے۔ ( چاھے دائم ھو یا غیر دائم ) بلکھ مکروه ھے ۔ اور احتیاط مستحب کے خلاف ھے خصوصا غیر دائم۔[4]


مزید  کیا حضرت علی علیه السلام کی حقیقت ازلی هے؟

[1]  توضیع المسائل ( الحشی للامام الخمینی ) ج ۳۔ ص ۴۶۸۔ مسئلھ ۲۳۹۷۔ مزید آگاھی کیلئے مذکوره فقھاء ، الفقھ علی المذاھب الخمسۃ محمد جواد مغنیھ۔ ج ۲ ص ۴۷ ۔ ۴۹۔

[2]  ایضا

[3]  ایضا

[4]  توضیح المسائل ( المحشی للامام الخمینی ، ) ج ۲ ص ۴۶۸ ۔۔ ۴۶۹۔ 

تبصرے
Loading...