عورت مرجع تقلید کیوں نهیں هوسکتی؟

0 0

عورت کے مرجع تقلید یا قاضی هونے جیسے ﮐﭼﻬ مسائل میں دینی علماء و دانشمند کے درمیان اختلاف هے۔ یه امور، دین کے مسلمات اور ضروریات میں شمار نهیں هوتے۔

خواتین کے قاضی اور مرجع تقلید کے جائز نه هونے کے قائلین کے پاس روایات و احادیث سب سے اهم دلائل هیں۔

امام صادق علیه السلام نے فرمایا هے: اپنے درمیان سے اس کو دیکھو جو همارے مسائل کو جانتا هو یعنی جانتا هو که هماری نظر کیا هے اور همارے نظریات کے بارے میں معلومات رکھتا هو اسے اپنے درمیان قاضی قرار دو، اور میں نے اسے تمهاری درمیان قاضی نصب کیا هے۔[1]

ابو خدیجه کی روایت میں [رجل یعنی مرد] کی تعبیر استعمال هوئی هے اور قاعده اولیه کی بنیاد پر اس قید کو احترازی اور موضوع میں دخیل هونا چاهئے،[2] دوسری سمت چونکه قضاوت کرنا مجتهد اور مرجع تقلید کے شؤون میں هے لهذا عورت مرجع تقلید نهیں هوسکتی۔

اس کے علاوه جواز قضاوت و مرجعیت خواتین کے منکرین نے خود اجماع کو بھی اپنی تکیه گاه قرار دیا هے یعنی اس بات پر اجماع[3] کا دعوی هوا هے که مرد هونا قضاوت او دینی مرجعیت کی شرائط میں هے۔[4]

اسی طرح یه گروه کچھ امور کو مد نظر رکھ کر ایک نتیجه پر پهنچتے هیں۔ وه امور مندرجه ذیل هیں:

1۔ ذمه داری کا بوجھ طاقت و توانائی کے اعتبار سے هے۔

اسلامی نقطه نظر سے مرد و زن کی حقیقت و ماهیت ایک هے: [اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جسم سے پیدا کیا اور اس کے جوڑے کو اس (کی جنس) سے پیدا کیا۔[5]

لهذا تکوینی و تشریعی اعتبار سے جو چیز انسان کے لئے ثابت هے وه مرد و زن دونوں کے لئے ثابت هے۔ عورت مرد اگرچه ایک هی نوع انسانی سے هیں لیکن دونوں هی انسان کی دو قسمیں هیں جو که آپس میں کچھ فرق و فضیلت رکھتے هیں۔

قرآن فرماتا هے: مرد عورتوں پر نگراں هیں کیونکه الله نے ان میں سے بعض (مرد) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی هے۔[6] مردوں کی جسمانی، فکری[7] اور روحانی توانائی هی سبب هوئی که گھریلو اور سماجی زندگی مثلا سیاست و حکومت میں عورتوں کی بنسبت مرد زیاده کردار نبھائے۔[8]

خلاصه یه که عورت مرد جسمانی اور تکوینی لحاظ سے الگ الگ هیں اسی وجه سے خاص قسم کی ذمه داریوں کے لئے پیدا کئے گئے هیں۔ یه فرق (جو که تبعیض نهیں هے) حکمت کے عین مطابق هے اور بشری نسل کے دوام کے لئے هے۔ اور اس کا یه مطلب نهیں هے که راه کمال عورتوں کے لئے بند هے یا محدود هے بلکه ان فرقوں کے سبب بعض ذمه داریاں مثلا قضاوت و مرجیعت دینی کو عورتوں سے اٹھا لیا گیا هے۔ بالفاظ دیگر: مردوں کی یه طاقت، تکوینی اور فطری هے اور صرف مردوں کی ذمه داریوں کو بڑھاتی هے اور اس طاقت کے سبب الله کے نزدیک زیاده قرب و اجر کے مستحق قرار نهیں پاتے۔

2۔ قضاوت و مرجیعت دینی میں فیصله کن قوت ارادی درکار هے

عورتوں کا جذبات و احساسات سے متاثر هونا ایک جدائی ناپذیر نفسیاتی خصوصیت هے، لهذا وه مردوں کے مقابل جلدی نفسیاتی تاثیرات مثلا خوشی و غم اور رونے هنسنے میں مبتلا هوجاتی هے اور ظاهر هے که قضاوت کی حقیقت بینی ایسے ماحول هی میں پیدا هوسکتی هے جهاں انسان اپنے جذبات پر مضبوط کنٹرول رکھتا هو۔

نیز چونکه دینی قیادت میں امت کی هدایت اور مسائل کی قضاوت (خصوصاً حدود و قصاص میں) مد نظر هوتی هے اور اس کام میں بهت سی مشکلات هیں یا دین ستیزوں نے کھڑی کر رکھی هیں لهذا اس سلسله میں فیصله کن قوت ارادی اور اس کے نتائج کے تحمل کی ضروت هوتی هے۔ بالفاظ دیگر: خواتین کی سرشت و طینت در حقیقت مهر و محبت کا گلستان هے اور بعض جگهوں پر فیصله کن قوت ارادی کی حامل نهیں هے لهذا ان ذمه داریوں سے معاف کردی گئی هیں اور یه عظیم ذمه داری مردوں کی کاندھوں پر رکھی گئی هے۔ یه خود اپنی جگه عورت کے رتبه کی طرف مثبت اور اقداری نگاه هے۔

اس کے باوجود کچھ لوگوں نے مذکوره براهین کو خدشه پذیر جانا هے اور قضاوت و مرجعیت دینی کو عورتوں کے لئے جائز سمجھتے هیں۔[9] وه لوگ کهتے هیں: قضاوت اور مرجعیت دینی خواتین کے لئے ایک ذمه داری کے طور پر نهیں هے اور شارع نے اس سخت اور بڑی ذمه داری سے خواتین کو معاف کردیا هے اور ان سے ذمه داری کے عنوان سے یه مطالبه نهیں کیا هے۔ اور اگر حدیث میں آیا هے که [لیس علی النساء جمعۃ ولا جماعۃ… ولا تولی القضاء…][10] تو اس کا مطلب یه هے که نماز جمعه اور نماز جماعت … اور قضاوت کی ذمه داری… خواتین کے اوپر نهیں هے۔ لیکن حدیث میں یه نهیں آیا که [لیس للمراۃ الجمعۃ…] که آپ اس سے سلب حق کا استفاده کرسکیں۔[11]

اسی طرح عورت کا جذباتی هونا اس کی قوت عقل و فکر کے اعتدال میں مانع نهیں هے اور عورت بھی مرد کی طرح عقل نظری کا اعتدال حاصل کرسکتی هے تاکه قضاوت میں شرط هونے والی فکر و لیاقت اس کے جذبات سے مغلوب نه هو۔ البته ممکن هے که خواتین مردوں سے زیاده جذبات کے اوپر قابو پانے کی مشق کی ضرورتمند هوں لیکن اگر مشق کے نتیجه میں مرد کے مساوی لیاقت و شرائط پیدا هوگئے تو مذکوره منصب سے خواتین کی محرومیت پر کوئی دلیل نهیں هے۔[12]

اس کے علاوه جیساکه بیان هوا که مرجعیت دینی کے کچھ شؤون هوتے هیں[13] اور مذکوره دلائل کی بنیاد پر معاشره کی قیادت یا قضاوت کے شؤون کو عورت سے سلب کرنے کو مان بھی لیا جائے تو وه کس دلیل کی بنیاد پر شأن افتاء سے محروم هوں گی۔ اس کے درمیان کون سا تلازم هے؟

دوسری طرف اگر تمام فقهاء کے اتفاق کو مان بھی لیا جائے تو اجماع میں بھی مذکوره تمام یا بعض وجوهات کی طرف استناد کا احتمال هے اور ایسا اجماع حجت اور قابل اعتبار نهیں هے۔[14]


مزید  کیا آج کے زمانہ میں احکام اظہار کی تحقیق کرنا ضروری ہے؟ اگر ضروری نہیں ہے، تو اس بحث سے متعلق آیات کی تکلیف کیا ھوگی؟ کیا اس بحث کے بارے میں شیعہ فقہا کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؟ اس سلسلہ میں اہل سنت فقہا کا نظریہ کیا ہے اور اس نظریہ کے بارے میں ان کی دلیل کیا ہے؟

[1] کافی، ج1، ص67

[2] مزید معومات کے لئے: هادوی تهرانی، مهدی، قضاوت و قاضی، ص91/92

[3] ایک برهان کے طور پر اجماع تمام فقهاء کے یهاں قابل قبول هے۔

[4] جواهر الکلام، ج4، ص14؛ مفتاح الکرامۃ، ج10، ص9؛ جامع الشتات، ج2، ص680

[5] نساء/1، دیکھئے: حقوق زن در اسلام نامی جزوه، سلسله مباحث معارف قرآن، مصباح یزدی، محمد تقی

[6] الرجال قوامون علی النساء بما فضل الله بعضهم علی بعض…، نساء/34

[7] عام طور سے عورتیں جسمانی اعتبار سے مردوں سے کمزور هوتی هیں اور غالبا مردوں کا بدن عورتوں سے زیاده سخت اور قوی هوتا هے، جیساکه نسوانی جسم کی طاقت کا اوسط مردانه جسم کی طاقت سے کم هوتا هے اور عورتیں حاملگی کے علاوه تقریبا پچاس سال تک ماهواری میں مبتلا رهتی هیں جس کے سبب ان کے اوپر مرض جیسی کیفیت، جسمانی شدید کمزوری اور غیر معمولی حالت طاری رهتی هے۔ اسی طرح نسوانی چھاتی سے بچه کے دودھ کا مسئله بھی جڑا هے اور اس وجه سے بھی اس کی کمزوری بڑھتی هے۔

[8] المیزان، ج14، ص343

[9] مزید معلومات کے لئے: جوادی آملی، زن در آئینه جلال و جمال، ص۳۴۸۔۳۴۵

[10] من لا یحضره الفقیه، ج۴، ص۳۶۲

[11] زن در آئینه جلال و جمال، ص350

[12] ایضا، ص353

[13] یه شؤون اس طرح هیں: ولایت و قیادت، قضاوت و افتاء، مزید معلومات کے لئے: هادوی تهرانی، مهدی، ولایت و دیانت، ص138۔143

[14] جوادی آملی، ن در آئینه جلال و جمال، ص349۔353

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.