عقل “محاسب” اور دل (وایمان و عشق)کے درمیان فرق کی وضاحت کیجئے-

0 0

انسان ایک ایسی مخلوق هے جس میں مختلف رجحانات، میلانات اور توانائیان پائی جاتی هیں – اس کے طرز عمل کا سر چشمه کبھی جبلت هوتی هے ، جیسے، غذا کھانا وغیره ، کبھی روحانی اثرات هو تے هیں، جیسے خوف ، و وحشت وغیره اور کبھی انسان کے بلند میلانات هو تے هیں جیسے حقیقت کی تلاش، کمال طلبی ، فضائل اخلاقی کی چاهت وغیره اور کبھی اس کے طرز عمل کا سر چشمه جذبات اور احساسات هو تے هیں، جن میں سے بعض مثبت هیں، جیسے: انس ومحبت وغیره اور بعض منفی هیں ،جیسےحسد و کینه وغیره-[1] قرآن مجید اور روایات کی زبان میں ان رجحانات کے منبع کو نفس سے تعبیر کیاگیا هے-[2] نفس کو در پیش مختلف حالات، اس کی انجام دی جانے والی گو ناگون سر گرمیوں اور مختلف افادیتوں کے پیش نظرکبھی یه نفس ” اماره” هے، کبھی” لوامه” اور کبھی ” مطمئنه ” هے، اور کبھی اپنا مقصد اور نتیجه حاصل کر نے کے لئے جبلتی رجحانات اور بدون تفکر جاذبیتوں  کی پیروی کر تا هے تو اسے” نفسانی خواهشات” کهتے هیں-

انسان کے اختیاری افعال دو نفسانی بنیادوں سے زندگی پاتے هیں : نظر یات اور معارف ٢- میلانات اور رجحانات- ان میں سے ایک کا کام توضیح و تشریح کر نا هے جس کے نتیجه میں حقائق معلوم هو تے هیں اور دوسری قسم محرک هے اور انسان کو کوئی کام انجام دینے پر اکساتی هے –

“عقل” ایک ایسی طاقت هے جو انسان کے نفس میں امانت کے طور پر رکهی گئی هے اور کشش ورجحان کی قسم سے نهیں هے-

“عقل” روشنی پھیلانے والا ایک چراغ هے اور ایک ایسا محاسب هے ، جو افعال کا محاسبه کرتا هے تاکه معلوم کرے که پیش مورد نظر کام هماری تقدیر کے بارے میں مستقبل اورآخرت میں کیا نتیجه دیتا هے-نفس میں موجود رجحانات میں سے بعض عقل کی طرف سے قابل قبول اور لائق تصدیق هیں اور بعض دوسرےاپنی خواهشات کو هر ممکن طریقے سے پورا کر نا چاهتے هیں خواه وه خواهشات عقل کی هدایت کے مطابق ،بهی نه هوں-[3] بهر حال عقل کے دو ماحصل هیں: کبھی بود و نابود کے مقام پر فیصله سناتی هے اور کبهی باید و نباید کے مقام پر فیصله سناتی هے – پهلی صورت کو ” عقل نظری” اور دوسری صورت کو ” عقل علمی” کهتے هیں – عقل نظری علمی جهاد میں وهم و خیال کی سرحدوں کو مشخص کرتی هے ، تاکه انسان علمی اور نظری مسائل میں مطا لعه کے دوران زوال سے دو چار نه هو جائے اور عقل عملی اخلاقی خصلتوں کی اصلاح کی ذمه دار هے اور خواهشات ، رجحانات اور میلا نات کو منظم کر نے کے لئے وارد عمل هوتی هے اور اپنی کار کردگی کی نسبت سے  ” عقل محاسبه ” بھی کها جاتا هے-[4]

اس سلسله میں شهید مطهری فر ماتے هیں:” انسان دو قسم کی قوتیں رکهتا هے جن سے جاندار بهره مند نهیں هیں:

١) انسان میں معنوی میل اور کششوں کا ایک سلسله پایا جاتا هے ، جیسے : اخلاقی حس، تجسس کی حس، زیبائی کی حس ، دوستی اور پرستش کی حس- دوسرے جانداروں میں یه چیزین نهیں پائی جاتی هیں – یه جاذبے انسان کو مجال بخشتے هیں که وه اپنی سر گر میوں کے دائره کو وسعت دے کر مادیات کی محدو دیت سے نکال لے اور  معنو یات کے بلند افق تک پهنچادے –

٢) انسان عقل و اراده کی طاقت سے مسلح هے – عقل تشخیص کرتی هے اور اراده انجام دیتا هے- انسان میلانات کو ترجیح دینے کے سلسله میں محاسبه کی قدرت رکهتا هے – اسی طرح باطنی میلانات کے سلسله میں محاسبه اور مقابله کی طاقت سے وه بهره مند هے- انسان اپنی تقدیر کو ظاهری طاقتوں کے حواله نهیں کرسکتا هے اور اپنے آپ کو ظاهری طاقتوں کی کشش سے نجات دے کر اپنے آپ کا خود مالک بن سکتا هے اور معنو ی آزادی کو حاصل کر سکتا هے اور اپنی تمام خواهشات پر حکمرانی کر سکتا هے-“[5]

شهید مطهری ایک اور جگه پر فر ماتے هیں :” لذت کو فطرت اور جبلت تشخیص کرتی هے اور مصلحت کو عقل –لذت ، میل کو ابهار نے والی هے اور مصلحت اراده کو ابهار تی هے -انسان اپنے تد بیری کاموں کو اپنی عقل واراده کی طاقت سے انجام دیتا هے ،جبکه لذت کے کام احساس و میل کے حکم سے انجام پاتے هیں – تدبیری کام عقل کے حکم سے انجام پانے کے  معنی یه هیں که محاسبه کر نے والی عقل کی طاقت ، خیر و کمال اور لذت کو کافی فاصله پر دیکھتی هے اور اس تک پهنچنے کے راسته کو (جو غالبا دشوار هے ) کشف کرتی هی اور اس تک پهنچنے کی منصوبه بندی کر تی هے – تدبیری کام، اراده کی طاقت سے انجام پانے کے معنی یه هیں که انسان میں عقل کی قوت سے وابسته ایک قوت موجود هے ، جس کی ذمه داری عقل کے فیصلوں کو نافذ کر نا هے اور غالبا تمام فطری میلانات اور جاذبوں اور کششوں کے بر خلاف عقلی فیصلوں اور فکری منصوبوں کو عملی جامه پهناتی هے – ایک بیمار کے مانند ، جو اپنی پسند کی غذا کهانے کی خواهش اور میل رکهتا هے اور دوائی کهانے سے نفرت کر تا هے اور تلخ اور بد مزه دوائی پینے سے رنج وتکلیف اٹھاتا هے، لیکن مصلحت اندیش عقل کے حکم سے اور میلانات پر حاکم اراده کی طاقت سے تلخ اور بد مزه دوا کو پی لیتا هے-

اب اگر تد بیری فعا لیتیں، لذت والی فعالیتوں کو اپنے کنٹرول میں قراردیں اور لذت والی فعالیتیں زندگی کے کلی اور عام پرو گراموں کا ایک حصه قرار پائیں تو فطرت، عقل کے مطابق اور میل اراده کے مطابق کام انجام دیتا هے-

ایک جهت سے، انسان اپنی تدبیری فعالیتوں میں ،اپنے مقصد تک پهچنے کے سلسله میں خواه مخواه منصوبه بند پروگرام ، روش اور وسیله کو انتخاب کر نے کا محتاج هو تا هے، کیونکه تدبیری فعالیتیں ، بعض دوررس اهداف و مقاصد کے محور پر گردش کر رهی هیں – یه فعالیتیں ، انسان کے بلند و عالی رجحانات کے ساتھـ متضاد نهیں هو نی چاهئیں ورنه یه لذت والی حیوانی فعا لیتوں سے بھی خطر ناک تر هیں-

دوسری جانب عقل ، یقینی طور پر ایک ایسا وسیع ، جامع اور کلی منصوبه بند پرو گرام مرتب نهیں کر سکتی هے جو انسان کی همه جهت سعادت کو پورا کر سکے ، کیونکه عقل انسانی کی زندگی کی مجموعی مصلحتوں کا  احاطه نهیں کرتی هے-

اس لئے آئیڈیا لوجی (مکتب) کی ضرورت پیدا هوتی هے اور یه وھی چیزهے جو سعادت کی شاهراه کے اصلی خطوط کو مشخص کرتی هے اور عقل و علم کاکام ان اصلی خطوط کے اندر حرکت کر نا هے – انسان کا آئیڈیا لوجی سے متصل هو نا اس وقت انجام پا تا هے جب وه ایمان کی صورت اختیار کرے – کار آمد آئیڈیا لوجی نظریه کائنات پر مبنی هو نی چاهئے تاکه فکر و عقل کو مطمئن اور تغذیه کراسکے اور دوسری طرف منطقی طور پر اپنے نظریه کائنات سے ،آئیڈیا لوجی ، ایسے مقاصد حاصل کر نے کی صلاحیت رکھتی هو جن میں کشش وجذبه موجود هو ، اس حالت میں “عشق” و “اطمینان” جو ایمان کے دو بنیادی عناصر هیں ، ایک دوسرے کی مدد کر کے دنیا کی تعمیر کر سکتے هیں-[6]

اس لئے ایمان کی تعریف میں کها جاسکتا هے که “ایمان” عبارت هے :” قلبی تصدیق و اعتراف، جو ایک امر کی نسبت ایک قسم کی صفت ونفسانی حالت هے اور شناخت و معرفت محض سے متفاوت هے-[7]

ایمان کے تحقق کا مقام ، نفس ، قلب و دل هے اور اگر چه ان کے قول وفعل کے آثار هیں ، لیکن حقیقت کا متحقق هو نا قول و عمل پر منحصر نهیں هے ، لهذا اسلام و ایمان کے در میان عام و خاص مطلق کی نسبت هے، یعنی هر مومن مسلمان هے، لیکن ممکن هے بعض مسلمان بظاهر حق کو تسلیم کرتے هوں لیکن مو من نه هوں- [8]

ایمان، ایسا عمل هے جوقلب سے زندگی پاتا هے اور افعال قلبی اور اختیاری شمار هو تا هے اور علم و عقیده سے تفاوت رکهتا هے ـ چونکه علم و عقیده اختیار کے بغیر حاصل هو تے هیں اور اپنے خاص مقدمات اور بنیادوں کے تابع هو تے هیں-[9] اس لئے ایمان ، دل لگی اور دل بستگی هے اور یه اس وقت حاصل هو تا هے جب دل کا رخ کسی دوسرے کی طرف نه هو – ایمان ، ایک حقیقت کو قبول کر کے اس پر عمل کر نا هے اور سمجھنے اور جاننے کا مقوله نهیں هے – علم ، ذهن سے مربوط هے اور ایمان ، دل کا کام هے ، البته علم کی بنیاد ھے اور اس کے لئے شرط لازم هے-” [10]

شهید مطهری علم و ایمان میں فرق کے بارے میں یوں فر ماتے هیں:” علم همیں روشنی اور توانائی بخشتا هے اور ایمان، عشق و امید اور حرا رت بخشتا هے – علم وسائل اور اوزار خلق کرتا هے اور ایمان مقصد- علم رفتار  پیدا کر تا هے اور ایمان جهت – علم صلاحیت هے اور ایمان نیک چاهنت – علم دکها تا هے که کیا هے اور ایمان الهام بخشتا هے که کیا کیا جائے –علم انسان کے وجود کو افقی صورت میں وسعت بخشتا هے اور ایمان اسے عمودی صورت میں بلندی عطا کر تا هے – علم ، عقل کی خوبصورتی هے اور ایمان روح کی زیبائی هے- علم فکر کی زیبائی هے اور ایمان احساس کی زیبائی هے-“[11]

لیکن “عشق” : لغت کی کتابوں میں “عشق” ” شدید دوستی” کے معنی میں آیا هے ،[12] اور کها گیا هے که یه لفظ “عشقه” سے مشتق هے – اور عشق وهی گٹو(پودا) هے جو درخت کو اپنے لپیٹ میں لیتا هے اور سر انجام اس کے تنفس کی راهوں کو بند کر کے درخت کو زرد کر دیتا هے-[13]

جو لوگ عبادت اور… کے عاشق هیں ان کے بارے میں کها جاسکتا هے:” که انهیں عبادت کے گٹو نے اپنی لپیٹ میں لے کر زرد و لاغر بنا دیا هے-[14] ابو سعید ابو الخیر اس حالت کو خزان میں درختوں کے زرد پتوں سے مخاطب هو کر یوں بیان کر تا هے :

توراروی زرد و مراروی زرد                تواز مهر ماه ومن از مهر ماه

بهر حال، عشق انسان کے صفات کی ایک حالت اور کشش اور رجحان کی ایک قسم هے ، اور ایک ایسا باطنی احساس هے جسے “قلب و دل” سے نسبت دی جاتی هے-[15]

همارا اعتقاد هے که کائنات کی بنیاد عشق پر مبنی هے، یعنی عشق ایک جهت سے تخلیق عالم کا سبب  هے – ذات حضرت حق ، حجله غیب کا شاهد ، کائنات کی خلقت سے پهلے خود تمام معشوق تھا، اس نے اپنے جمال کو آشکار کر نا چاها ، اس لئے خلقت کو اپنے جمال کا آئینه قرار دیا-[16] جامی اس سلسله میں ، یوسف و زلیخا کے مقد مه میں یوں کهتا هے :

درآن خلوت که هستی بے نشان بود                       به کنج نیستی عالم نهان بود

وجودی بود، از نقش دویی دور                                 زگفگوی مائی و توی دور

“جمالی” مطلق از قید مظاهر                                 به نور خویشتن، بر خویش ظاهر

دلاراشاهدی، در حجله ی غیب                               مبرا ذات او اذ تهمت عیب

نه با آیینه رویش در میانه                           نه زلفش راکشیده دست شانه

نوای دلبری باخویش می ساخت                             قمار عاشقی با خویش می باخت

ولی زان جا که حکم خوبرویی است             زپرده خوبرو در تنگ خوئی است

نکو رو تاب مستوری ندارد                          چو در بندی سر از روزن بر آرد…

چوهر جاهست حسن، اینش تقاضاست                   نخست این جنبش از حسن ازل خاست

دوسری جانب هر مخلوق اپنے کمال کی طالب هے اور هر معلول کا وجودی کمال وهی اس کے وجودی علت کا مرتبه هے- پس هر معلول اپنی علت کا عاشق هے اور چونکه هستی کا بلند ترین مرتبه ذات حضرت حق هے، اس لئے سلسله هستی کا حقیقی معشوق، ذات مقسد حضرت حق هے،[17] جیسا که جامی کے کلام میں بیان هوا اسی لئے غیر خدا کا عشق، مجازی شمار هو تا هے – آیه کریمه ” یحبهم و یحبونه”[18] سے استناد کر کے نتیجه حاصل کیا جاسکتا هے که عشق دو طرفه هے اور مبدا، معاد، نزول اور صعود میں ایک بلند مقام رکھتا هے:

گل از هجران بلبل ، بلبل از دوری گل هردم*  به طرف گلستان هر یک به عشق خویشتن مفتون

شد- [19]

عقل ، عشق و ایمان کا رابطه:

مذ کوره مطالب کے پیش نظر کها جاسکتا هے که: زندگی کی راه میں عقل کی مثال گاڑی کی لایٹ کے مانند هے، جو روشنی مهیا کر نے کے علاوه ، بریک کے مانند، تند اور سر کش احساسات کو بھی کنٹرول کرتی هے اور انھیں نافر مانی کر نے سے روکتی هے-[20]

اور عشق گاڑی کے انجن کے مانند هے جو گاڑی کو حر کت میں لاتا هے – اس لئے کها جاسکتا هے که بے چراغ انجن ، ایک اندها عشق ، خطر ناک، رسوا کن اور مهلک هے اور انجن کے بغیر چراغ، بے اثر، بے جان، سرد اور بے حرکت هے ، پس ایک دوسرے کے رقیب نهیں هیں ، جیسا کھ بعض صوفیوں نے دعوی کیاهے-[21] عشق وعقل بھی ایمان کے دو بنیادی عناصر هیں-

البته عرفا کے کلام میں عقل دو قسم کی هے: جزئی عقل اور کلی عقل ـ جزئی عقل وه عقل هے جو عشق کے مقابلے میں قرار پاتی هے اور عشق و… کے قلمرو میں متحیر هے:

عشق از حق چون غذایا بدر حیق   عقل آنجا گم شود گم اے رفیق

عقل جزئی عشق را منکر بود                     گرچه بنماید که صاحب سر بود[22]

اس لئے جزئی عقل کا دنیوی سود وزیان اور عالم فطرت سے سرو کار هے، اسے ” عقل محاسب” کها جاسکتا هے – جبکه کلی عقل ، شک و وهم اور شهوت… سے محفوظ هے اور آخرت و عالم غیب کا ادراک کر نے کی کوشش کرتی هے:

عقل جزئی گاه چیره گه نگون                     عقل کلی ایمن از ریب المنون

عقل بفروش وهنر، حیرت بخر                      روبه خواری نه بخاراای پسر [23]

عقل کلی جو اس عقل جزئی سے بالاتر هے، سعادت کا سر مایه هے:

غیر این معقو لها معقول ها                        یابی اندر عشق با فربها

غیر این عقل تو حق را عقلهاست    که بدان تد بیر اسباب سماست

که بدین عقل آوری ارزاق را             زان دگر مفرش کنی اطباق راء[24]

سر انجام، عقل، ابدیت کی طرف انسان کی راهنما هے-

کیست بوی گل دم عقل وخرد                     خویش فلا و وزره ملک ابد[25]

هم آخر پر، عاشقوں کے نور چشم ، امیرالمومنین علی علیه السلام کا ایک کلام نقل کرتے هیں که آپ(ع) نے فر مایا”حب الله نار لا یمر علی شئی الا احترق…” عشق و محبت الهی کسی چیز کو  عبور نهیں کرتی هے مگر یه که اس چیز کو جلا دے…”[26]                                                                                                                   

شاید اسی کلام سے الهام حاصل کر کے شیخ فخر الدین عراقی عشق کو پھچنواتے هوئے کهتے هیں :” عشق ایک آگ هے ، جب دل پر گرتی هے ، تو جو کچھـ دل میں موجود هو اسے جلا دیتی هے ، یهاں تک که معشوق کی صورت کو بهی دل سے محو کرتی هے –مجنون اسی آگ میں جل رها تھا ، کها گیا : لیلی آگئی هے- اس نے کها : میں تو خود لیلی هوں ، تیرے فراق میں غرق هو چکا هوں ، لیلی نے کها : ذرا سر اٹها کے دیکھـ لو که میں تیری محبوب و مطلوب هوں – آخر سوچ لو که کس سے پیچھے هٹتے هو ؟ مجنون نے کها : ” الیک فان حبک قد شغلنی عنک”

آن شد که به دیدار تو می بودم شاد از عشق تو پر وای تو ام نیست کنون[27]

قلب ودل کے معنی:

فیزیا لوجی اور عرف عام کی نظر میں ، قلب وهی دل هے اور دل یعنی ، ایک عضو جو سینه میں بائیں طرف قرار پایا هے اور… لیکن قرآن مجید ، روایات اور اخلاقی اصطلاحات میں ، قلب انسان کی وهی مجرد روح هے اور چونکه مختلف شئو ن کا حامل هے ، اس لئے مختلف اعتبارات کے پیش نظر ، مختلف اسم رکھتا هے: صدر، نفس، قلب، فٶاد، روح اور تمام ناموں کا لب مطلب اس لطف الهی کا نام هے ، جسے فارسی ادبیات میں ” انسان کا دل و جان” کهتے هیں – قرآن مجید میں دل سے تین قسم کے کاموں کی نسبت دی گئی هے:

١- وه خصو صیات جو معرفت کے اقسام سے متعلق هیں ، مثلا ادراکات حصولی جیسے: تعقل، تدبر و تفقه[28] اورادراکات حضوری (روئت حضوری )خواه عادی هوں یا غیر عادی (وحی ،ایک قسم کا رمزیه ادراک هے که قرآن مجید میں اسے قلب سے نسبت دی گئی هے)[29]

٢- وه خصو صیات جو رجحان کے بعد سے متعلق هیں – جیسے: ترس، اضطراب، قساوت ،کهردراپن، ایمان ،تقوی، شوق(وعشق) اور رجحان و…[30] اورجو کچھـ نیت کے قصد و اراده سے متعلق هے-[31] لهذا قلب ایک ایسی مخلوق هے جو اس قسم کے کام انجام دیتا هے : یعنی ادراک کر تا هے ، جذبات کا مرکز هے ، فیصله کر تا هے اور دوستی و دشمن انجام دیتا هے و…

اسی لئے هم کهه سکتے هیں : قلب سے  مراد وهی انسانی روح و نفس هے – اگر اس بنیاد کو قبول کریں که انسان ایک روح سے زیاده نهیں رکهتا هے اور یهی ایک روح انسان کی نباتی اور حیوانی زندگی کا سر چشمه هے، تو اس صورت میں قلب، انسانی روح کے پھلوؤں میں سے صرف ایک پھلو ( یعنی وه پھلو جو انسانی زندگی کی خصو صیات کا سر چشمه هے) هے- دوسرے الفاظ میں ،قلب قرآن مجید کی اصطلاح میں حیوانی و نباتی زندگی کا سر چشمه نهیں هے-[32]

جی هاں ،عرفا کی تحریروں میں جهاں پر “قلب ودل” “عقل کے مقابل میں قرار پایا هے ، اس سے انسان کی روح و نفس کا پھلو مراد هے جو صرف انسانی جذبات اور عشق کا مر کز هے اور اگر چه ادراک کا منشا بھی هو، لیکن اس سے ادراک حصول کی نسبت نهیں دی جاسکتی هے اور اس قسم کا مرکز، شهود و علم حضوری کے لئے ایک وسیله هے-


مزید  آیہ شریفہ " سماعون للکذب اکالون للسحت" کیسے رشوت کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے؟

[1] – ملاحظه هو: شیر وانی ، علمی، اخلاق اسلامی، ص١١٦- ١١٧-

[2] ـ نفس” شخص” اور”میں” کے معنی میں هے اور یه لغوی معنی وهی چیز هے که قرآن مجید نے نفس سے اراده کیا هے(اخلاق در قرآن ،ج١ ، مصباح یزدی ، محمد تقی، ص٢٤٤-٢٣٤) نفس کے قرآن مجید میں استعمال کے بارے میں مزید آگاهی حاصل کر نے کے لئےملاحظه هو:المیزان ، ج ١٤، ص ٢٨٧- ٢٨٥)-

[3] ملاحظه هو:مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق اسلامی، ج١،ص١٩٥به بعد-

[4] – مغربی تمدن میں عقل محاسب کو “اوزاری عقل” یا”جزئی عقل” یا “استدلالی عقل”سے بھی یاد کیا گیاهے-

اس اصطلاح میں ابزاری عقل وعقل محاسب کا موقف، انسان کا فطرت پر تسلط هے- اوزاری عقل معاش پر منحصر هے ، اور کلی طور پر عبارت هے انسان کی وه قدرت اور شعور جس کا وه استفاده کر کے اپنے ذریعه معاش کو نظم بخشتا هے اور اپنی مطلوبه دنیوی زندگی حاصل کر تا هے – یه عقل چونکه هنر مندی و محاسبه کی قدرت رکھتی هے اس لئے انسان کو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی پیشنگوئی کر نے کی توا نائی بخشتی هے-

اسلامی احادیث اگر چه عقل کے اوزاری نتائج اور عقل معاش کو قبول کرتی هیں ، لیکن عقل معاش کی یه تفسیر هیوم کی جیسی مغربی تفسیر سے مکمل طور پر متفاوت هے-

هیوم کی عقل اوزاری ، دنیا و دنیوی زندگی پر منحصر هے اور انسان کی آخرت سے سروکارنهیں رکھتی هے –یه وه عقل هے جو انسان کی میلانات اور انسانی شهوت تک پهنچنے کے لئے وسائل فراهم کرتی هے –اس لئے یه عقل شهوت کے طول میں اور اس کی خد مت میں قرار پاتی هے نه اس کے عرض و معارض هیں-او یه عقل، خدا ودین کو ثابت کر نے والی عقل نظری اور اعمال کے حسن وقبح کو تشخیص دینے والی عقل عملی نهیں هے جو انسان کی  گرانقدر اخلاقی اعمال کی طرف رهنمائی کرتی هے ، بلکه یه عقل نظری و عملی کی مخالف هے-عقل عملی انسان کو الهی احکام، دین اور آخرت کی طرف دعوت دیتی هے ، عقل ابزاری دین، معنویت اور آخرت کی خد مت میں قرار پاسکتی هے اور شهوت و نفسانی خواهشات کے مقابلے میں قرار پاسکتی هے – ا سی لئے امام علی علیه السلام نے اپنے بعض بیانات میں عقل معاش وعقل معاد کی کارکردگی کو ایک دوسرے کے قرین سمجها هے –

[5] – ملاحظه هو: مقد مه ای بر جهان بینی اسلامی، مرتضی مطهری، ص ٢٦٢- ٢٥٣، با تلخیص –

[6] – مقد مه ای بر جهان بینی اسلامی، ص٤٨- ٤٢ باتلخیص-

[7] – الذخیره ، سید مرتضی، ص ٥٣٨، تفسیر القرآن ، صدر الدین شیرازی ، ج١،ص ٢٤٩، اوائل المقا لات ، شیخ مفید، ص ٤٨، نظریه ایمان در عرصه ی کلام در قرآن، محسن جوادی، ص ١٥٨- ١١٩، اخلاق اسلامی ، احمد دیلمی و مسعود آذر بایجانی ، ص٧٣-

[8] – اخلاق اسلامی ، احمد دیلمی و مسعود آذر بایجانی ،ص ٧٣-

[9] – اخلاق اسلامی ، علی شیروانی ، ص١٠٠-

[10] – اخلاق اسلامی ، علی شیروانی ، ص١٠٣ و ١١٩-

[11] ـمقد مه ای بر جھان بینی اسلامی ، ص٢٣- ٢١-با تلخیص-

[12]– العشق افر اط الحب و یکون فی عفاف وفی الاساس ” اشتقاق العشق من العشق…”

قرب الموارد، ج٢،ص٧٨٦-

[13] -سجادی، سید ، جعفر، فر هنگ اصطلاحات و تعبیرات عر فانی ، وازه ی ، عشق، ایضا ، فرهنگ علوم عقلی ، وازه ی عشق، اور شاید اسی لئے حضرت علی (ع) نے متقین کی توصیف میں فر مایا هے: ان کے اجساد اور بدن کمزور اور نحیف هو تے هیں …وه تیر کے مانند لاغر هو تے هیں ، نهج البلاغه ، ترجمه ی محمد دشتی ، ص٣٠٣، و ٣٠٥-

[14] – سجادی، سید، جعفر، فرهنگ اصطلاحات و تغیرات عرفانی، وازه ی، عشق ایضا ، فرهنگ علوم عقلی ، وازه ی عشق ، اور شاید اسی لئے حضرت علی علیه السلام نے متقین کی توصیف میں فر مایا هے : ان کے اجساد اور بدن کمزور اور نحیف هو تے هیں … وه تیر کے مانند لاغر هو تے هیں ، نهج البلاغه ، ترجمه ی محمد دشتی ،ص٣٠٣،و ٣٠٥-

[15] – آیات وروایات کی زبان میں معمولا محبت کے بارے میں ایسی تعبیر پیش کی جاتی هے –

[16] – ملاحظه هو: عرفان نظری ، یحیی یثربی ، ص٥٣- ٤٧-

[17] – ملا صدرا ، اسفار، ج ٧، طبع جدید ، ص١٥٨ به بعدـ

[18]– سور ه مائده، ٥٤” خداوند متعال ان کو دوست رکھتا هے اور وه خدا کو دوست رکھتے هیں-”

[19]– دیوان امام خمینی(رح)-

[20] – البته نفسانی خواهشات سے مقابله کر نے کے سلسله میں مخالف کششوں کی

خاص اهمیت هے- مثلا، اعمال خیر کے آثار کو ادراک کر نے کے ذریعه ، انسان کے دل میں خدا کی محبت پیدا هو تی هے اور خدا کی محبت کے هو تے هوئے دل میں کسی اور کے لئے جگه باقی نهیں رهتی هے ، لهذا مناجات شعبا نیه میں آیا هے :” الهی لم یکن لی حول فا نتقل به عن معصیتک الا فی وقت ایقظتنی لمحبتک” ملاحظه هو: اخلاق اسلامی ، ج ١، مصباح یزدی، ص ٢١٣- ١٩٥-

[21] – ملاحظه هو: جلوه ی حق، مکارم شیرازی ، با مقد مه و پا ورقی از داود الهامی ، ص١٢٩- ٩٣-

[22] – مثنوی مولوی، دفتر اول ، ابیات١٩٨١و ١٩٨٢-

[23] -مثنوی مولوی، دفتر سوم ،ابیات، ١١٤٥ و١١٤٦-

[24] مثنوی مولوی ،دفتر پنجم،ابیات ٣٢٣٥- ٣٢٣٢-

[25] – مثنوی مولوی، دفتر پیج، بیت ٣٣٥٠-

[26] -بحار الانوار ، علامه مجلسی، ج ٧٠، ص٢٢، محجه البیضاء ، ج٨، ص٧-

[27] – دیوان عراقی، لمعات، لمعه ی بیستم و سیم ، ص٤٢٠-

[28]سوره اعراف،١٧٩،سوره انعام ، ٢٥،سوری اسراء ٤٦، سوره کهف٥٧، سوره محمد٤٢ و..

[29] – سوره بقره ٩٧، سوره شعراء ، ١٩٣ و١٩٤-

[30] – سوره انفال،٢، سوره نازعات،٨، سوره زمر،٢٢، سوره حجرات، ١٤، سوره ابراھیم، ٣٧

…-

[31] – سوره ق، ٣٧، سوره نازعات، ٨، سوره ز مر،٢٢، سوره حجرات، ١٤، سوره ابراھیم، ٣٧ و…-

[32] – ملاحظه هو: اخلاق اسلامی ، ج١، مصباح یزدی ، ص٢٦٦- ٢٤٤-

تبصرے
Loading...