عزاداری ، جشن مسرت اورمذهبی عیدوں میں ایرانیوں کے آداب و رسول دوسرے مسلمانوں حتی شیعوں کے آداب و رسوم سے مختلف کیوں هیں ؟

0 0

هر دین و مذهب میں اس مذهب کے شعائر ، کی تعظیم کے لئے مختلف آداب و رسوم موجود هیں ، دین اسلام اور خاص کر شیعه مذهب میں بھی اس طرح کی رسمیں موجود هیں ، خداوند عالم نے قرآن مجید میں اپنی نشانیوں کی تعظیم کامطالبه کیا هے اور اس نیک کام کو تقوی کی دلیل قرار دیا هے ، ارشاد هوتا هے :” اور جس شخص نے خدا کی نشانیوں کی تعظیم کی تو یقینا یه بھی دلوں کی پرهیزگاری سے حاصل هوتی هے ”۔[1]

لهٰذا مذهبی شعائر کی تعظیم ایک پسندیده اور مطلوب عمل هے ، لیکن یه بھی واضح سے بات هے که هر قوم و ملت میں رسم کے منانے کے مخصوص طریقے اور آداب هیں یه رسمیں جب تک اسلام اور اسلامی احکام کے مخالف نه هوں اس وقت تک ان میں کوئی مضائقه نهیں هے اور دین اسلام نے اسے قبول کیا هے ، مثال کے طور پر امام حسین علیه السلام کی عزاداری منانے کا طریقه ان کے غم میں رونا اور رلانا هے جو ان امور میں سے هے جس کی بهت زیاده تاکید کی گئی هے [2] لیکن اس واقعه ، (کربلا) اور عزاداری کو منانے کا طریقه هر ملک اور ثقافت میں الگ الگ هے ، حتی خود ایران کے شهروں میں اس کا طریقه ایک جیسا نهیں هے بلکه هر علاقے میں ایک خاص طریقه موجود هے ، اس طرح کے رسوم میں پهلے مرحلے میں جو چیز اهمیت کی حامل هے وه امام حسین علیه السلام کی یاد اور ان کا نام لینا هے اور دوسرے مرحلے میں ضروری هے که اس کی شکل و رسوم اسلامی اصول واحکام کے خلاف نه هو ، ایران میں قدیم زمانے سے یه رسم تھی که مجلسیں هوں اور جلوس عزا سڑکوں پر نکال کر عزاداری کریں اور یه طریقه علماء کے نزدیک مقبول اور مورد تائید بھی تھا جیسا که امام خمینی (ره) فرماتے هیں :” همیں ان اسلامی سنتوں کا محافظ هونا چاهئے۔ همیں ان اسلامی جلوس جو عاشور کے دن ، محرم و صفر اور دوسرے موقعوں پر برآمد هوتے هیں ، کی حفاظت کرنی چاهئے ۔ همیں ان کے لئے تاکید کرنی چاهئے [3] شیخ طوسی ( مرحوم ) امام جعفر صا دق علیه السلام کی ایک حدیث نقل کرتے هیں جس سے پته چلتا هے که آپ زمانے میں سیدانیاں کس طرح عزاداری کرتی تھیں ، امام ان فاطمی سادات کی سنت کی تاکید فرماتے هیں :”امام حسین علیه السلام جیسے افراد کے لئے اسی طرح عزاداری کرنی چاهئے ۔[4]

افسوس کے ساﺘﮭ کهنا پڑ رها هے که ﮐﭽﮭ جاهلوں کی طرف سے عزاداری کے طریقه میں بعض تحریفات یا خلاف شرع اعمال وجود میں آئے هیں جن سے مقابله کے لئے بیدار اور آگاه علمائےکرام نے اپنا موقف اختیار کیا هے اور هر ایک کی ذمه داری بھی واضح کر دی هے ، مثال کے طور پر قمه زنی جو صرف عقید ت کے اظهار کا وسیله تھا جو لوگوں نے خود رائج کیا گیا ، لیکن عالم اسلام کی مصلحتوں کے پیش نظر امام خمینی (ره) نے اوائل انقلاب میں فرمایا : موجوده حالات میں قمه مت لگائے . آیت الله خامنه ای ( دام ظله) نے فرمایا : علی الاعلان اور دکھاوے کے لئے قمه لگانا حرام اور منع هے ۔[5]

خلاصه کلام یه که مذهبی رسوم کے منانے میں جهاں شریعت کی طرف سے کوئی خاص طریقه بیان نهیں هو ا هے اور لوگ مختار هیں [6] وهاں تفاوت اور فرق پایا جاتا هے ، کیونکه هر ماحول کے آداب و رسوم اور ثقافتیں فرق کرتی هیں جو ایک فطری اور قابل قبول بات هے ۔


مزید  مینڈک اور سمندری کائی[Alga] کو پالنے اور انھیں غیر مسلموں کو بیچنے کا کیا حکم ھے؟ اسی طرح اس سلسله میں حضرت آیت الله مھدی ھادوی تھرانی کا فقھی نظریه کیا ھے؟

[1] سورهٔ حج :آیت ٣٢۔

[2] مقتل مقرم ، ص ٩٦۔

[3] فرھنگ عاشورا، محدثی ، جواد، ص ٣٤١، به نقل از صحیفه ٔ نور، ج١٥، ص ٢٠٤١۔

[4] مقتل مقرم ، ٠٧؛ تهذیب ، ج٢، ص ٢٨٣(آخر بحث کفارات )۔

[5] فرھنگ عاشورا، ص ٣٨٦۔ ٣٨٧۔

[6] عبادات جیسے نماز وغیره کے بر خلاف جس کی شکل و صورت اور انجام دینے کا طریقه بھی شارع مقدس کی زبان اور آداب و رسوم کے مطابق پڑھے ۔

تبصرے
Loading...