“عرف “کے حدود کیا ھیں؟ اس کی تشخیص کس کے ھاتھه میں ھے؟ کیا وه بدلنے کے قابل ھے؟

0 0

لغت میں ” عرف ” کے دو معنی ھیں:

۱۔ معرفت اور پھچاننا          ۲۔ مستحسن اور نیک کام۔

پس کلمھ “معروف” ، مجھول کے مقابلے میں (پھلے معنی سے متعلق ھے) اور کبھی منکر کے مقابل ( دوسرے معنی سے متعلق ) ھے۔[1]

مرحوم طبرسی مجمع البیان میں فرماتے ھیں: ” عرف” ، ” نکر” کی ضد ھے ۔ ھر نیک خصلت جس کی خوبی کو عقل تشخص دے دے اور دل اس پر اطمینان کا اظھار کرے ،اسے عرف کھتے ھیں۔ [2]

لیکن اصطلاح میں عرف کی متعدد تعریفیں کی گئی ھیں۔

فقھاء کی اصطلاح میں ” عرف” ، کسی قوم کی روزمرّه گفتار اور عادات کے طریقے کو کھتے ھیں۔ جس کو عادت اور طریق کار بھی کھتے ھیں[3] ۔

بحث کی مزید وضاحت  کیلئے کچھه نکات کا ذکر کرنا ضروری ھے۔

۱۔ ھمارے فقھاء نے پھلے ھی سے ” عرف ” کے لفظ کا زیاده استعمال کیا ھے اور اسے مختلف معانی میں برتا  ھے۔ یھ مختلف معانی،  استعمال کے طریقے اور اس کے مواقع سے متعلق تھے۔ وه کبھی عرف کو عقلاء کے بارے میں استعمال کرتے تھے اور کھتے تھے ” عقلاء کا عرف اس طرح ھے۔۔۔” عرف عقلا سے انکی مراد، عقلاء کا سیره تھا اور وه کبھی عرف کو ارتکاز کے معنی میں استعمال کرتے تھے وغیره وغیره [4]

۲۔ پس نکتھ اول کے مطابق ” عرف” سیره اور عقلائی ذھن میں استعمال ھوتا ھے۔ لھذا ھمیں پھلے سیره اور ارتکاز کے معنی اور دوسرے سیره اور ارتکاز کی اقسام تیسرے انکی حدود اور شرائط ، چوتھے ان کی تغّیر عدم  تغُّیر کو بیان کرنا چاھئے اور اس صورت میں ھم آپ کے سوال کا اچھی طرح سے جواب دے سکتے ھیں۔

الف ) سیره اور ارتکاز کا مطلب

۱۔ ایک مختصر عبارت میں سیره کا مطلب ” عملی فطرت اور عادات ” ھیں۔ارتکاز سے مراد” ذھنی نظریھ اور فکری بنیادیں ” ھیں۔

سیره انسانوں کی ایک جماعت کے طرزعمل(سلوک) کی حقیقت اور اس کے ظاھر ھونے کو کھتے ھیں۔ اگر کسی خاص موضوع میں اُن کی خاص عادات کا مشاھده کیا جائے ، تو ان لوگوں کی اس عادت کو اس موضوع کے بارے میں ان کا خاص سیره کھا جاتا ھے۔

ارتکاز ، فکری نظریات اور ذھنی مبنی کو کھتے ھیں ۔ ارتکاز حقیقت میں وه چیز ھے ، جو ان کے ذھن کی گھرائیوں میں ھو۔ اس طرح کھ اگر وه اپنے ذھن کی طرف رجوع کریں گے تو اس مسئلھ کا حکم جان کر اس کے بارے میں فیصلھ کریں گے ۔ یھ ارتکازات اور نظریات ممکن ھیں کبھی حقیقت کی صورت میں ظاھر ھوجائیں، یا ممکن ھے کبھی حقیقت میں بالکل نھ بدلیں۔ جھاں پر یھ حقیقت کی صورت میں بدل جاتے ھیں۔ ممکن ھے کھ ان کا اظھار زیاده ھو یا کم ، اگر کھیں ارتکازی بات حقیقت کی صورت میں زیاده ظھور پائے وھاں پر سیره روشن  ھوتا ھے۔ یعنی سیره کے پیدا ھونے کا ایک عامل یھی ارتکاز ھے جو حقیقت میں متحقق ھوا ھے اور اس کے ظھور کا امکان زیاده ھوا ھے۔

ب) سیره اور ارتکاز کی اقسام

ایک کلی تقسیم میں سیره اور ارتکاز دو حصوں میں تقسیم ھوتا ھے۔

۱۔ سیره اور اتکاز جو انسانوں کے خاص گروه اور زمانے کی  خاص انسانی تاریخ سے متعلق نھیں ھے۔ اس قسم کے سیره اور ارتکاز کو “عقلاء کا سیره” اور اتکاز کھتے ھیں ، یھ واضح ھے کھ اس طرح کے سیره اور ارتکاز کی بنیاد تغییر نا پذیر ھوتی ھے ۔ پس ارتکازات عقلائی ، وه فیصلے ھیں جوتمام  شرائط اور ھر زمان اور مکان میں موجود ھیں اور متغیر نھیں ھوتے ھیں۔ اسی طرح سیره عقلائی وه طرز عمل (سلوک ) ھے جو مختلف ثقافت ، سیاسی ، اقتصادی اور علمی شرائط میں یکسان رھتا ھے اور کسی بھی طرح تبدیل اور متغیر نھیں ھوتا۔

دوسرے الفاظ میں: عقلاء کا عاقل ھونے کے لحاظ سے ایک ثابت سیره اور ارتکازات ھوتے ھیں، چاھے وه بیسویں صدی میں ھوں یا ھجرت سے پھلے والی صدیوں میں ، چاھے ھندوستان میں ھوں یا ایران وغیر میں۔ زمان اور مکان کا اس ارتکاز اور سیره میں کوئی دخل نھیں ھوتا ( اس کی دلیل چوتھے حصے میں آئے گی ) اس طرح کے سیره اور ارتکاز کا ثابت رھنا فقھی اور اصولی بحثوں کیلئے ایک کلامی بنیاد ھے۔

ب) سیره اور ارتکاز جو خاص لوگوں کے متعلق زمان اور مکان کے خاص شرائط میں ھے۔ اس نوع کے سیره اور ارتکاز کی اقسام میں سیره اور ارتکاز متشرعھ ھے جو کھ فقھ میں استعمال ھوتا ھے ، سیره متشرعھ ، متشرعھ کی عملی فطرت ھے اور ارتکاز متشرعھ بھی وه ھے جو فقھاء کے ذھن میں موجود ھو ، متشرعھ سے مراد فقھاء اور اصولیوں کے نزدیک مسلمان ھیں پس سیره اور ارتکاز متشرعھ ، عملی طرز عمل (سلوک ) اور ذھنی نظریھ ھے جو مسلمانوں کے درمیان موجود ھو اور یھ واضح ھے کھ مسلمان کیلئے ممکن ھے کھ وه اپنے ارتکازات کی جانب متوجھ نھ ھوں لیکن اگر وه توجھ کریں او انھیں آگاھی فراھم ھو تو ان میں اس طرح کے ارتکازات موجود ھیں۔

یھ بات قابل ذکر ھے کھ ھماری مراد سیره اور ارتکاز متشرعھ سے وه سیره اور ارتکاز ھے جس کا سرچشمھ مسلمانوں کے درمیان اسلام ھو۔ کیوں کھ ممکن ھے مسلمانوں میں ایسے سیره اور ارتکازات بھی ھوں جو انکی قومیت سے نکلے ھوں نھ کھ مسلمان ھونے سے ، پس اگر کسی خاص خطے میں مسلمانوں کے درمیان خاص سیره اور ارتکاز ھو جو ان کیلئے مخصوص ھے تو ھم اس سیره اور ارتکاز کا نام سیره اور ارتکاز متشرعھ نھیں رکھیں گے۔

البتھ کسی ایک مذھب جیسے شیعھ کے سیره اور ارتکاز پر خاص توجھ دی جائے ، تو اس صورت میں اگرچه یھ سیره اور ارتکاز نھیں ھے۔ لیکن ان کے شیعھ ھونے کے عنوان سے،  یھ سیره اور ارتکاذ بنا ھے۔ پس یھ سیره اور ارتکاذ شیعوں کا سیره اور ارتکاز ھے اس حیثیت سے کھ وه شیعھ ھیں۔[5]

یقینا دوسرے سیره اور ارتکازات بھی ھیں جو فقھی اور اصولی بحثوں ( یعنی احکام کے انکشاف اور استنباط) میں قابل توجھ ھیں۔ جیسے جاھلی عرب کا سیره اور ارتکاذ ، قدیم ایرانیوں کا سیره اور ارتکاز، ھندو قوموں کا سیره اور ارتکاز وغیره وغیره ۔

لیکن ھماری بحث صرف دو قسم کے سیره اور ارتکاز یعنی عقلا کے سیره اور ارتکاز ، اور متشرعھ کے سیره اور ارتکاز کے بارے میں ھے۔ جس کو کبھی کبھی عرف ، عقلاء اور عرف متشرعھ بھی کھا جاتا ھے۔ [6]

ج ) سیره اور ارتکاز کی حدود اور شرائط۔

قابل ذکر ھے کھ سیره اور ارتکازات کی تحقیق کرنے میں اھم نکات کی طرف توجھ کرنی چاھئے اور وه انکی خصوصیات اور صفات کا ظاھر ھونا ھے۔ ھمیں یھ ثابت کرنا چاھئے کھ کیا ھمارا زیر بحث نظر سیره یا ارتکاز ( چاھے عقلانی سیره ھو یا متشرعھ یا کوئی اور سیره اور ارتکاز ھو ) اپنی خصوصیات ، صفات اور امتیازات کا حامل ھے یا نھیں؟ مثال کے طور پر اگر ھم کسی سیره کو عقلاء کا سیره جانتے ھیں تو اس میں ھمیں: اولاً: یھ ثابت کرنا ھے کھ یھ سیره ، عقلا کی روش اور انکا عملی طریقھ ھے ۔ ثانیاً: یھ ثابت کرنا ھے کھ یھ سیره عقلاء سے متعلق ھے (اس لحاظ سے کھ وه عاقل ھیں) اور وه کسی خاص عقیدے ، ثقافت اور کسی خاص قوم سے متعلق نھیں۔ دوسرے الفاظ میں، اس کو  عقلاء کا سیره کھتے ھیں جس میں عقلاء کے سیره کی خصوصیات موجود ھوں تو اس صورت میں ھم اس سیره کے بارے میں عقلاء کے سیره کے قوانین جاری کرسکیں گے۔

عقلا کے سیره میں زمان،مکان، اور مذھب وغیره کا کوئی دخل نھیں ھے۔ انسان جس فرقھ اور گروه سے ھوں وه اس سیره کے حامل ھیں ۔ لیکن اگر کوئی سیره سیره متشرعھ ھو ، اور صرف مسلمانوں کے درمیان رائج ھو ، تو اس کی علامت یھ ھے کھ وه ان کے مسلمان ھونے کی وجھ سے پیدا ھوا ھے۔  اگر مسلمانوں کے درمیان نھ کوئی عمل مشترک ھو نھ کوئی نظریھ مشترک ھو تو اس صورت میں سیره اور ارتکاز متشرعھ موجود نھیں ھوگا۔[7]

د) عقلائی سیره اور ارتکاز کا ثابت رھنا ۔

بے شک کسی خاص سیره اور ارتکاز میں ( یعنی جو سیره اورارتکاز کسی خاص قوم ، ملت اور ثقافت سے متعلق ھے ) فرق ایک طبیعی بات ھے ، جو لوگ کسی خاص نظریھ کے پابند ھیں اور جن لوگوں کی ثقافت مشترک ھے وه ایک واقعھ پر یکسان رد عمل دکھاتے ھیں جو دوسروں کے رد عمل کے بالکل مختلف ھے ۔ ان کے فیصلے بھی خاص ھوتے ھیں۔ جو دوسروں کے فیصلوں سے مختلف ھوتے ھیں اسی فرق سے ھم یھ جان لیتے ھیں کھ انکا وه رد عمل یا ان کا وه فیصلھ ایک خاص ثقافت سے پیدا ھوا ھے۔ ان ھی خاص سیره اور ارتکازات کے درمیان سیره متشرعھ ھے جو اصولیین اور فقھاء کی  توجھ کا مرکز بنا ھے۔ اسلامی شریعت میں مختلف احکام پائے جاتے ھیں جو اس شریعت سے مخصوص ھیں اور کبھی ممکن ھے کھ دوسرے مذاھب کے پیرؤں کے درمیان اس کے خلاف رائج ھو ۔ مثال کے طورپر حیوانات کا ذبح کرنا اسلام میں ایک جائز اور کبھی مستحب اور حتی کھ واجب جانا گیا ھے۔ جبکھ یھی ذبح کرنا ھندو مذھب میں بُرا اور غلط شمار کیا جاتا ھے۔ اسی طرح ھم مؤذی حیوانوں کا مار ڈالنا جائز جانتے ھیں جبکھ تناسخ پر عقیده رکھنے والے ھر طرح کے جانوروں کو مارنا  غلط سمجھتے ھیں۔

خاص سیره اور ارتکازات کا باھمی فرق سلسلھ اسباب اور عناصر سے متعلق ھے۔ جو عوامل اور اسباب اس قوم کے  تمدن اور ثقافت کو تشکیل دیتے ھیں ان عوامل کا گوناگوں ھونا ، مختلف عملی روش اور مختلف فیصلوں کے ظاھر ھونے کا موجب بنتا ھے پس خاص سیره اور ارتکازات کےدرمیان فرق ایک طبیعی بات ھے اور اس پر کوئی بحث کرنے کی ضرورت نھیں ھے۔

ھماری اصلی بحث عقلائی سیره اور ارتکازات کے بارے میں ھے ، عقلائی سیره اور ارتکاز میں بھی ممکن ھے فرق ھو۔ کیا عقلا ( اس لحاظ سے کھ عقلاء ھیں ) کی عملی روش، کسی واقعه کے بارے میں مختلف ھوتی  ھے اور کیا کسی مسئلے کے بارے میں ان کے فیصلے مختلف ھوتے ھیں؟

اس سوال کا ابتدائی جواب یھ ھے کھ عقلائی  سیره اور عقلائی ارتکاز، وه سیره اور ارتکاز ھے جو کسی خاص قوم یا تمدن سے مخصوس نھیں ھے ، لھذا مختلف زمانوں اور مختلف مکانوں پر اسے  تغُّیر نھیں پانا چاھئے۔ لیکن کیا ممکن ھے کھ عقلاء کی ایک جماعت( نھ کسی خاص گروه اور ثقافت میں ) میں کوئی تبدیلی واقع ھوتی ھے؟ اور ثقافت اور قومی خصوصیات سے صرف نظر اور ان کےفرق سے قطع نظر، کیا عقلا کی مشترک حیثیت میں تبدیلی آتی ھے؟ کیا ممکن ھے کھ عقلاء کا سیره اور ارتکاز ان حوادث کے اثرات میں، جو عقلاء کیلئے پیش آتے ھیں۔ کسی نئے مرحلے میں داخل ھوں اور عقلاء کے فیصلے بھی نئے ھوں جو ان کے سابقھ فیصلے سے مختلف ھوں اور عقلاء اپنی طرف سے ایسی عملی روش دکھائیں جو ان کی سابقھ عملی روش سے مختلف ھو ؟ کیا یھ صورتحال ممکن ھے؟

اس مسئلھ کی اھمیت آنے والی بحث میں جھاں پر ھم احکام کو استنباط کرنے میں سیره اور ارتکاز کے اثرات کے بارے میں ذکر کریں گے ، معلوم ھوجائے گی اگر ھم اس کے قائل ھوئے کھ عقلا کے سیره اور ارتکاز میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نھیں ھوتی، اور وه ثابت رھتے ھیں تو عقلائی سیره اور ارتکاز کے انکشاف میں یھ نتیجھ حاصل کرسکتے ھیں کھ کم سے کم معصوم ائمھ علیھم السلام کے زمانے میں وه عقلائی ارتکاز موجود تھا اگر چھ ممکن ھے کھ سیره موجود نھیں تھا۔ ا سکی دلیل یھ ھے  کھ اس سیره کے ظاھر ھونے کا امکان فراھم نھیں تھا یا اس کے ظاھر ھونے کا امکان کم تھا لیکن اگر ھم عقلائی ارتکازات کے ثابت ھونے کو نھ مانیں اور یھ ممکن جانیں کھ عقلائی ارتکازات تبدیل ھوتے رھتے ھیں، تو اس صورت میں ھم مذکوره نتیجھ حاصل نھیں کرسکتے ھیں۔

یھ بحث اگرچھ ایک محدود نظر سے دیکھی جاتی ھے اور اس میں صرف عقلاء کا سیره اور ان کے ارتکازات کے بارے میں بحث ھوتی ھے۔ لیکن اس کی حدیں وسیع ھیں۔ اور یھ بحث حقیقت میں انسان اور طبیعت کے بارے میں ھمارے نقطھ نظر کی جانب لوٹتی ھے اور اس صورت میں یھ بحث ایک خالص فلسفیانھ بحث قرار پاتی ھے حتی کھ علم اصول اور فقھ کے فلسفھ سے بھی خاص ھوتی ھے ھم یھاں پر ضرورت کے مطابق اجمالی طور پر اس کے بارے میں بحث کریں گے۔

فلسفیانھ نقطھ نظر سے انسان کی حقیقت اور ماھیت کے بارے میں دو نظریات موجو ھیں : پھلا نظریھ یھ ھے کھ جو فلسفھ اسلامی میں بھی قابل قبول ھوا ھے اور جدید فلسفے اور کلاسیک فلسفھ میں بھی اسے مان لیا گیا ھے وه یھ ھے ک پوری تاریخ میں انسان کی ھیئت  یکساں ھوتی ھے۔ اس نظریھ کے مطابق انسان کی حقیقت اس کی ماھیت اور اس کا جوھر کبھی تبدیل نھیں ھوتا ھے اور انسان اپنی انسانی کلیت کی نظر سے آپس میں فرق نھیں رکھتے اس نظریے کے مقابل دوسر انظریھ یھ ھے کھ بعض جدید فلسفے انسان کی حقیقت اور ماھیت کے متغیر ھونے کے قائل ھیں۔ جن میں سے بعض تاریخ کے عنصر پر زیاده تاکید کرتے ھیں ۔ تاریخ گرا فلسفھ (Historians) جو ھیگل کے فلسفھ سے متاثر ھیں اس سلسلے میں ایک طاقتور نظریھ رکھتا ھے ۔ دوسرے فلسفے جیسے فلسفه وجودی ( Existentialists)  دوسرے طریقے سے انسان کی ماھیت اور حقیقت کے تغیر کو مان لیتے ھیں۔ جو لوگ فلسفه تاریخ گرا کو مانتے ھیں ان کا نقطھ نگاه یھ ھے کھ انسان کی کلیت زمانے کے گزرنے کے ساتھه ساتھه تغیر پاتی ھے۔ اس نظریھ کے مطابق ان میں سے بعض تاریخ گرا فلسفھ کے مخالف جانے جاتے ھیں اور وه ماڈرن انسان ، روایتی انسان، انسان کی تغییر اور تبدیلی جیسی بحثوں کو مانتے ھیں ان کے نظریھ کے مطابق بھت سی چیزیں جو ایک روایتی انسان کی اقدار جانی جاتی ھیں وه ایک ماڈرن انسان کےلئے غیر اقدار جانی جاتی ھیں۔ اس کےبرعکس جو چیزیں غیر اقدار تھیں وه ایک ماڈرن انسان کے لئے اقدار بن گئی ھیں۔ مثال کے طورپر روایتی انسان کیلئے تواضع کرنا ایک قدر تھی اور خود پسندی ، غیر قدر لیکن ماڈرن انسان کے لئے اس کے بر عکس ھے وه خود پسندی اور تکبر کو اقدار جانتے ھیں اور تواضع اس  کے لئے غیر اقدار ھیں۔

یھ  واضح ھے جو ماڈرن انسان اور روایتی انسان کے درمیان فرق کو مانتا ھے وه یھ بھی مانتا ھے کھ ماڈرن انسان کےارتکازات اور روایتی انسان کے ارتکازات بھی مختلف ھیں۔ جیسے کھ ماڈرن انسان حقیقت میں روایتی انسان سے مختلف ھے۔ لیکن یھ بات اپنی جگھ پر ثابت ھوگئی ھے کھ پھلا قول صحیح قول ھے۔ انسان کی حقیقت سب افراد کیلئے یکسان ھے اگر چھ انسان کمال یا سقوط کے وسیع سفر کو طے کرتا ھے لیکن انسانی جوھر میں دوسرے افراد کے ساتھه فرق نھیں کرتا ۔

یھاںپر ممکن ھے یھ سوال اٹھے کھ انسان کی کلیت ایک فرد کے مانند بالیده ھے اور اس میں کمال کی جانب حرکت موجود ھے۔ جس طرح ایک انسان ولادت کے زمانے سے ھی موت کے آنے تک عقلی لحاظ سے بھت سے مراحل کو طے کرتا ھے اور اسکی عقل ، ھیولانی کے مرحلھ سے آھستھ آھستھ عقل مستفاد تک پھنچ جاتی ھے ، انسان کی کلیت بھی کمال کی جانب ابتدائی مراحل سے گزر کر کامل مرحلے تک پھنچ جاتی ھے۔ اور ایک دور میں انسان( اسکے سب افراد ) ایک طرح کی طفولیت اور سادگی میں تھے ۔ اس کے بعد یھ دور نوجوانی کے دور میں تبدیل ھوا اور اس کے بعد آھستھ آھستھ انسان عقلی دوراور فکری بلوغ تک پھنچ گیا ۔

اس طرح ممکن ھے کھ ابتدائی دور میں کوئی ارتکاز موجود نھ ھو اور اس کے بعد پیدا ھوگیا ھو۔ اس زمانے میں موجود ارتکاز دوسرے ارتکاز میں تبدیل ھوگیا ھو۔ گذشتھ ارتکازت انسان کی عقلی ضعف کی وجھ سے تھے اور موجوده ارتکازات جو موجود ھیں یا جو گزشتھ ارتکازات سے تبدیل ھوئے ھیں انسان کے عقل کے کمال کے نتیجے میں ھیں۔

لیکن اس کے مقابلے میں یھ کھنا چاھئے کھ عقلا کے ارتکازات کا مطلب یھ نھیں ھے کھ انسان کو اپنی حیات کے دوران ارتکازات کی جانب توجھ ھو ممکن ھے کوئی چیز ارتکازی ھو لیکن انسان کی توجھ اسکی طرف نھ ھو۔ دوسری جانب ممکن ھے کھ ارتکازات کی طرف توجھ کیلئے کچھه تمھیدات کی ضرورت ھو جو ابھی مھیا نھیں ھیں۔ اور اس میں عام انسان کیلئے کھ اگر ھم انھیں متوجھ بھی کرنا چاھتے ھوں، لیکن یھ کام آسانی کے ساتھه ممکن نھیں اور اس میں غور و خوض ، ، زمانے کا گزرنا اور بھت سارے مقدمات کا فراھم ھونا ضروری ھے پس یھ ضروری نھیں کھ سب عقلاء ابتداء سے ھی سب ارتکازات کی طرف متوجھ ھوں۔ عقلائی ارتکازات میں جو کچھه اھم ھے وه یھ ھے کھ اگر انسان اپنی عقلی توانائیوں سے کامل استفاده کرے تو ان ارتکازی امور کو اپنے اندر پا لیتا ھے اور ان پر یقین کرتا ھے۔

جیسا کھ اصولی مباحث کی روش شناسی( میٹاڈولوجی)میں آیا ھے۔ ھم عقلائی ارتکازات کے انکشاف میں تحلیلی روش سے استفاده کرتے ھیں نھ کھ آمار   (static’s) اور میدانی روش سے۔ فقیھ چونکھ عقلی حیثیت سے دوسرے لوگوں جیسا ھے لھذا اپنے ذھن کی تحلیل ( جو شاید دوسروں کیلئے ممکن نھ ھو) سے یھ نیتجھ نکالتا  ھے کھ فلان امر عقلاء کے ذھن میں مرکوز ھے۔ حقیقت میں ایک فقیھ کا ذھن اس معدن کے مانند ھے۔ جس کے اندر گوھروں کا ذخیره ھوتا ھے۔ فقیھ اپنےتصورات اور خیالات  کو توڑ کر اور ان کے اندر موجود ارتکازات اور فیصلوں تک پھنچتا ھے اور یھ نتیجھ حاصل کرلیتا ھے، کھ یھ فیصلے موجوده صدی سے متعلق ھیں نھ که اس کے ثقافتی اور مکانی خصوصیات۔ اس لئے ارتکاز وسیع اور عقلانی ھے۔

اس بنا پر دوباره تاکید کرتے ھیں کھ انسان کی حقیقت واحد ھے کھ جو تاریخی یا فردی لحاظ سے تَغَیُّر نھیں پاتی اور اس کا انسانی جوھر باقی رھتا ھے۔ انسان اگر چھ دو لا متناھی ( کمال سعادت ، اور کمال بدبختی ) کے درمیان حرکت میں ھے اور ان میں سے ایک کو اپنے اختیار سے منتخب کرتا ھے۔ لیکن اس حال میں بھی انسانوں کی انسانیت اور عاقلوں کی معقولیت مشترک ھے۔ یعنی انسان اپنی انسانیت کو محفوظ رکھه کر بھی سعادت یا بدبختی کی راه کو منتخب کرتا ھے ۔

چونکھ عقلائی ارتکازات عقلاء کے درمیان مشترک امور سے پیدا ھوتے ھیں اور کسی ایک سیره یا ایک ارتکاز میں اشتراک اور یکسوئی ، ایک مشترک امر کی موجودگی کے بغیر محال ھے۔ لھذا عقلائی ارتکاذات خود بخود تغیر نھیں پاتے یھ بات ممکن ھے کھ عقلاء کسی دور میں ارتکازات نھ رکھتے ھوں یا ان کیلئے ارتکازات واضح نھ ھوں، لیکن بعد میں وه توجھ کریں یا ارتکاز واضح ھوجائے ، لیکن اصلی بات یعنی کوئی ارتکاز موجود نھ ھونا یا بعد میں وجود پانا ، یا ایک ارتکاز کا دوسرے ارتکاز کی جگھ لینا۔ یھ سب انسانی عقل یا انسانوں کے مشترک جوھر میں کسی طرح کا بھی تغیر واقع ھونے سے مشروط ھے ۔ جب کھ یھ بات بالکل قبول کرنے کے لائق نھیں۔

نتیجھ کے طورپر یھ بات صحیح ھے کھ انسان کی تاریخ میں بعض امور گویا مشترک قرار دیئے گےھیں۔ لیکن جب ھم تجزیھ کرتے ھیں تو ھم دیکھتے ھیں کھ یھی مشترک امور انسان کی تاریخ میں اپنے منفرد انداز میں موجود تھے۔ اگر چھ اس زمانے میں مرکز توجھ قرار نھیں پائے تھے اور اتنی مقدار کافی ھے کھ ھم کھیں : که یھ بات عقلاء کے ارتکاذ میں موجود تھی لیکن اسکی جانب عقلاء کی توجھ نھیں تھی اور بعد میں عقلاء نے اس کی جانب توجھ کی ۔ عقلائی سیره بھی خود بخود تبدیل نھیں ھوتا، لیکن ممکن ھے کھ کسی زمانے میں اس کے عملی شرائط کے فقدان کی وجھ سے سیره موجود نھ ھو اور بعد والے زمانے میں متحقق ھوجائے اس کا مطلب یھ ھے کھ ایسا ممکن نھیں ھے کھ کوئی سیره متحقق ھو۔ لیکن دوسرے زمانے میں وه اپنی متناقض شکل میں ظاھر ھوجائے ۔ البته ممکن ھے کھ وه موجود نھ ھو اور بعد میں متحقق ھوجائے کیونکھ سیره عمل سے متعلق ھے اور اس کے متحقق ھونے کے شرائط کی ضرورت ھے۔ جب یھ شرائط متحقق ھوجائیں تو سیره ظاھر ھوتا ھے۔

گزشتھ مطالب کو مد نظر رکھه کر سیره اور ارتکاذ کے ثابت ھونے کو قبول کرتے ھیں اور قبول کرتے ھیں کھ پورے عقلائی سیره اور ارتکاز سب انسانوں کیلئے ھر زمانے میں یکسان ھیں اوران میں کسی طرح کی تغییر اور تبدیلی واقع نھیں ھوتی، اگرچھ ارتکازات کسی زمانے میں مرکز توجھ قرار نھیں پاتے اور وه واضح اور روشن نھیں ھوتے اورسیره میں ممکن ھے کھ اس کے شرائط ھموار نھ ھونے  کی وجھ سے متحقق ھوجائیں۔ [8]

پس عرف سے ھماری مراد ، خاص معاشره ،یا خاص فکر جو معاشره پرحاکم ھو ، نھیں ھے کھ یھ بات صحیح ھو کھ معاشرے پر حاکم افکار مختلف شرائط میں تبدیل ھوتے ھیں۔

عرف کی تشخیص کی راه بھی مختلف ھے ، چنانچھ عقلاء کے عرف کی تشخیص یھ ھے کھ ” لوگوں کے اس طرز عمل (سلوک ) اور نقطھ نظر کو حاصل کرنا جو کلی، عمومی اور جس کی بنیادیں عقلی ھوں۔ اوعرف متشرعھ کی تشخیص بھی یھ ھے کھ ” لوگوں کے عملی روش اور ذھنی نقطھ نظر کو حاصل کرنا جو مذھبی ایمان کی بنیاد سے اٹھا ھو۔ اور باقی خاص عرف بھی اسی طرح ھے ۔

نتیجھ یھ کھ اگرچه عرف کی تشخیص مجتھد سے مخصوس نھیں ھے لیکن چونکھ اسکی تشخیص میں بعض قیود جو اس کے متحقق ھونے میں دخیل ھیں ، کو مد نظر رکھا جائے ، توھر فرد آسانی سے حد درجھ عرف کو سمجھه نھیں سکتا ھے بلکھ بھت سارے مواقع پر میں ماھرین کی ضرورت ھے۔

آخر میں بعض نکات کی طرف توجھ دیں گے۔ جو بحث کو کامل کرنے کیلئے سو مند ھیں۔

۱۔ فقھ میں عرف کی تشخیص کیلئے دو طریقے بیان کئے گئے ھی۔

الف ) حکم شرعی اور اصولی قاعده کا انکشاف ( احکام کا استنباط)

حکم شرعی کا انکشاف: جیسے غیر اھم یا جزئی معاملات میں صبی ( نابالغ بچے) کے معاملات کو صحیح جاننا ۔ عرف کے ذریعے، اس طرح کا عرف اس کے معاملات کو قبول کرتا ھے پس صبی کا معاملھ یا اس کا معاطات (صیغھ کے بغیر معاملھ) صحیح ھے۔ اس قسم میں عرف کا امام معصوم علیھ السلام کا معاصر ھونا ، اکثر علماء کی طرف سے شرط ھے یعنی ھم کھھ سکیں کھ مثلا بچے کے معاملات جو آج کل عرف میں ھیں معصوم کے زمانے میں تھے اور انھوں نے اس کی تائید یا تقریر کی ھے۔ [9] البتھ گزشتھ توضیحات سے واضح ھوگیا کھ اگر عقلاء سے کوئی عمل عاقل ھونے کی حیثیت سے واقع ھوجائے تو یھ عمل اور یھ سیره حتی ارتکاذی طور پر بھی ، معصوم کے زمانے میں موجود تھا۔

اصولی قاعده کا انکشاف : جیسے عقلاء  اور عرف عام کے سیره سے ” خبر واحد” کی حجیت کا اثبات [10]

ب) حکم شرعی کے موضوع کی وضاحت

احکام شرعیھ کے موضوع دو طرح کے ھیں:

۱۔ وه موضوعات ، جن کی حدود اور ثغور کو خود شارع نے معین کیا ھے۔

۲۔ وه موضوعات ، جو عرف کے سپرد کئے گئے ھیں اس صورت میں ھم موضوع کا نام عرفی موضوع رکھتے ھیں۔ احکام کے اکثر موضوعات عرفی ھیں۔ حتی کھ موضوعات شرعی میں بھی بعض اجزا اور عناصر عرفی ھیں اور شرعی موضوعات میں ایسے موضوع کم پائے جاتے ھیں جو عرفی عنصر سے خالی  ھیں۔[11]

یھ بحث فقھ میں بھت سارے مصادیق پر مشتمل ھے۔ مثال کے طور پر اگر جنس عیب دار ھو،مشتری (خریدار) کو خیار فسخ کا حق حاصل ھے اور وه اپنی چیز کو واپس کرسکتا ھے۔ لیکن مبیع (چیز) میں عیب کی تشخیص عرف کا کام ھے یا موسیقی اور غنا سننا حرام لیکن طرب انگیر موسیقی اور مجالس لھو سے منسوب موسیقی کی تشخیص عرف پرھے۔ [12]

یھاں پر عرف کے دائره کی وسعت اور تنگی اس کے استعمال کی نوعیت سے وابستھ ھے کبھی عرف کا معیار کوئی خاص خطھ ھے مثال کے طور پر اگر خرید و فروخت کے پیمانے مختلف ھوں۔ تو پیمانھ کا معیار وھی علاقھ ھے جھاںپر خرید و فروخت ھوئی ھے۔ کبھی عرف عام اور بین الاقوامی ھے جیسے که عرف میں لھوی موسیقی حرام ھے۔ لیکن عرف کی تشخیص میں معاشرے کے افراد میں اختلاف ممکن ھے۔ ایسی صورت میں اگر مجتھد نے ماھر یا حاکم ھونے کے طورپر حکم صادر نھیں کیا ھے، تو افراد اپنے علم کے مطابق عمل کرسکتے ھیں اور اگر کسی فرد کیلئے اختلاف کی وجھ سےعرف معلوم نھ ھوسکا اس صورت میں اصولی قواعد کی طرف ( جو مواقع  کے مختلف ھونے سے مختلف ھوتے ھیں) جیسے احتیاط ،برائت ، مصالحۃ کی جانب رجوع کرے اس صورت میں اگر چھ ” حکم واقعی ” خداوند متعال کے نزدیک ثابت ھے لیکن چوں کھ خدا نے مکلفین کی سھولت اور آسانی کیلئے موضوع کی تشخیص کو انکے اوپر چھوڑا ھے احکام میں اختلاف کسی مشکل کا سبب نھیں بنتا جیسا کھ فقھاء نے اجزاء (حکم ظاھری کے حکم واقعی سے مجزی ھونے ) کی بحث میں بیان کیا ھے۔۔

یھاں پر ایک اور نکتھ کی جانب توجھ کرنا ضروری ھے کھ ممکن ھے عصری عرف امام معصوم علیھ السلام کے زمانے کے “عرف” سے مختلف ھو ، یعنی معصوم کے زمانے میں کوئی چیز قمار (جوا) کے آلات میں سے تھی جس کی خرید و فروخت حرام تھی جیسے شطرنج، لیکن یھی چیز عصری عرف میں قمار کے آلات میں شمار نھیں ھوتی ۔

اس طرح ممکن ھے کھ مختلف ملکوں کے عرف بھی مختلف ھوں۔ جیسے کھ شطرنج کسی ملک میں آلات قمار میں شمار ھوگا لیکن دوسرے ملک میں آلات قمار میں شمار نھیں ھوگا اور طبیعی ھے کھ موضوع کے تغیر پانے سے حکم بھی بدلتا ھے اور حرام ھونا بھی ختم ھوجاتا ھے۔

دوسرے الفاظ میں، اگر یھ آلات معصوم کے زمانے میں بھی قمار کے آلات نھ ھوتے ان کی خرید و فروخت حرام نه ھوتی پس شرع کا حکم ھمیشھ باقی رھتا ھے اور خدا کا حرام کبھی حلال نھیں ھوتا بالکل جس طرح رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآولھ وسلم نے اسلامی احکام کے دائمی ھونے کے بارے میں فرمایا : “جس کو میں نے حلال کیا ھے وه قیامت کے دن تک حلال ھے اور جس کو میں نے حرام کیا ھے وه قیامت کے دن تک حرام ھے”۔ [13]

۲۔ یھ واضح ھے کھ اس بات کی تشخیص کھ کیا عرف تبدیل ھوگا یا نھیں ، یا عرف خاص موضوع کے بارے میں کیا نظر رکھتا ھے؟ مثال کے طورپر کیا شطرنج قمار کے آلات میں سے ھے یا نھیں؟ یھ مکلف کے ذمھ ھے۔ [14]

۳۔ عرف کی تعریف (لغوی یا اصطلاحی ) کے مطابق جو قاعده سب لوگوں یا بعض لوگوں کے درمیان رائج ھوجائے اسے “عرف” کھتے ھیں۔ پس “عرف” کی تشکیل کم از کم ایک شھر یا ایک محلھ ھونا چاھئے جس میں افراد کی کثرت پائی جائے اور اسی افرادی کثرت کی وجھ سے اسے عرف کھا جائے۔ لیکن اس بات پر غور کرنا چاھئے کھ کیا شارع مقدس نے اپنی دلیل میں خاص عرف کو معیار بنایا ھے یا عرف عام اور بین الاقوامی عرف۔ ھان اگر عرف عام معیار ھو تو خاص عرف (خطھ یا گروه یا ملک وغیره ) کو بھی اس کے تابع ھونا چاھئے۔

نتیجھ یھ کھ اگر کوئی عرف کسی امر پر دلالت کرے تو سب کیلئے وه عرف یکسان ھے لیکن ممکن ھے کھ کوئی شخص کبھی عرف کی نظر کو غلط جانے لیکن چونکھ عرف کی تعریف میں ایک عمل کا مشھور اورجامع ھونا اسی عرف کے متحقق ھونے کیلئے اصلی شرط ھے اگر یھ بات متحقق ھوجائے تو انسان کا فرض اس عرف کی پیروی کرنا ھے۔

مثال کے طورپر اگر کوئی موسیقی لھو و لعب کی مجالس سے منسوب ھے لیکن ایک شخص کو تحریک نھ دے [15] یا اس کی نظر میں یھ موسیقی لھو و لعب کی مجالس سے منسوب نھ ھو لیکن عرف اسے لھو ولعب کی مجلس سے منسوب دیکھے تو اس شخص کو اسی موسیقی سے اجتناب کرنا چاھئے۔


مزید  کن دلائل سے معلوم هوسکتا هے که سوره الرحمن کی آیت نمبر ٢٦ سے مراد انس و جن هے اور یا جنات زمین پر زندگی کر تے هیں اور یا. . . اس قسم کے دوسرے مسائل ، اور کن قرائن کے پیش نظر قرآن مجید کی آیات سے اس سلسله میں استفاده کیا جاسکتا هے؟

[1] منابع فقھ و زمان و مکان ، ج ۹ ، گروھی از نویسندگان۔ چاپ مرجع، ص ۳۲۔

[2]  مجمع البیان ، طبرسی ، ج ۴ ص ۵۱۲۔ چاپ مکتب العلمیۃ۔

[3]  ترمینولوجی حقوق ، جعفر لنگرودی ص ۴۴۸۔ گاھی کھا جاتا ھے : عرف کی تشکیل میں جند صفات دخیل ھیں؛

الف: رائج اور شایع ھونا ، ( اصطلاحی معنی میں)

ب: مستحسن ( پسندیده ) ھونا، ( لغوی معنی کو مد نظر رکھه کر)

ج: ملتزم ھونا۔

یھ آخری قید عرف کو آداب اور رسوم سے الگ کرتی ھے ۔ آداب اور رسوم لزوم سے قید نھیں ھوتی ، بلکھ فقط ان کا خیال رکھا جاتا ھے۔

مستحسن ( پسندیده) ھونا بھی عرف کو عادت سے الگ کرتا ھے۔ کیونکھ عادت مستحسن ھونے سے عام ھے اور اس میں غلط بھی داخل ھے ، منابع فقھ ، و زمان و مکان ، ج ۹ ص ۲۵۔

4] استاد مھدی ھادوی تاملات در علم اصول فقھ، دفتر ھفتم ص ۱۰۲۔

[5]  ایضا : ص ۸ ۔۔ ۹۵۔ خلاصھ کے ساتھه۔

[6]  ایضا : ص ۸۵۔ ۔ ۸۶۔

[7]  ایضا: ص ۹۵، اور ۹۶۔

[8]  ایضا : ص ۸۸ ، ۹۵۔ خلاصھ کے ساتھه ۔

[9]  فوائد الاصول ، نائینی، ج۳ ص ۱۹۳۔ چھاپ جامعھ مدرسین۔

[10]  رسائل شیخ انصاری ، بحث حجیت خبر واحد ، ج ۱ ص ۲۰۰۔ چاپ اسماعیلیان۔

[11]  تاملات در علم اصول فقھ ، دفتر ھفتم ، ص ۱۰۰۔

[12]  توضیح المسائل مراجع، ج ۲ ص ۹۶۲، مسئلھ ۱۱۲۷۔

[13]  سفینۃ البحار، ج ۱ ص ۶۹۶

[14]  جواھر الکلام ، ج ۲۲ ص ۴۲۷، چاپ بیروت ، حدائق ، ج ۱۸ ص ۱۰۱ ، چاپ علمیھ۔

حضرت آیۃ اللھ فاضل لنکرانی اس سلسلے میں ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ھیں: موضوع کی تشخیص ( اور عرف) مقلد کے فرائض میں سے ھے ، جامع المسائل ، آیۃ اللھ فاضل لنکرانی، ج ۲ ص ۶۸۔

[15]   توضیح المسائل مراجع ، ج ۲ ص ۹۶۷۔ مسئلھ ۱۱۵۴۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.