عالم وجود میں طولی سلسله کو بیان فرمائیے ـ

0 2

الهٰی فلاسفه من جمله مشائی، اشراقی اور متعالی حکمت کے قائل، اس امر پر اتفاق نظر رکھتے هیں که عالم عقلی، عالم ماوریٰ کے ایجاد کا واسطه هے، اگر چه تعداد عقول اور کثرت عقول کے طریقه کے بارے میں ان میں اختلاف پایاجاتے هےـ مثال کے طور پر اشراقی فلاسفه عقول عرضی کے وجود کو قبول کرتے هیں، لیکن مشائی فلاسفه عقول عرضی کے منکر هیں[1]ـ

اولین صادر کے ایک مجرد عقلانی هونے ــ جسے عقل اول کها جاتا هے ــ کو ثابت کرنے کا فلاسفه کا برهان حسب ذیل هے :

1ـ واجب تعالی بسیط محض هے اور کسی لحاظ سے کثرت کی جهت اس میں ممکن نهیں هے، نه ماده و صورت کی ترکیب کے مانند کثرت خارجی اور نه وجود و ماهیت کی ترکیب کے مانند کثرت عقلی، اور نه وجود و عدم کی ترکیب اور نه جنس و فصل کی ترکیب، پس واجب تعالی ایک واحد موجود هے ـ

2ـ “قاعده الواحد” کے مطابق ایک واحد اور بسیط موجود سے صرف معلول هی صادر هوسکتا هےـ اس بناپر براه راست اور بلاواسطه معلول واجب تعالیٰ صرف ایک چیز هے[2] ـ

اس لحاظ سے ذات احدیت سے کثیر و متعدد موجودات، بلاواسطه اور براه راست صادر نهیں هوتے هیں اور خداوند متعال براه راست ان کثرتوں کو وجود میں نهیں لاتاهے ، بلکه صرف ایک موجود هے جو بلاواسطه ذات اقدس الهٰی سے صادر هو تا هے اور اس کے بعد وه موجود خود چند موجودات کی خلقت کا واسطه بن جاتا هے اور وه بھی اپنی نوبت پر دوسری موجودات کو پیدا کرتی هیں اور اس طرح کثرت وجود میں آتی هے ـ عقل اول هیں ـ جو وهی صادر اول هے ــ حق تعالی کے تمام کمالات ظاهر هوئے هیں ـ یه موجود عالم امکان کا کامل ترین موجود هے اور ممکنات میں، سب سے شریف تر اور کامل تر اور بسیط تر اور قوی ترهے ـ لیکن پھر بھی واجب تعالی کا محتاج، فقیر اور وابسته هے ـ پس صادر اول تمام کمالات وجودی کے باوجود ذاتی نقصان اور امکانی محدودیت کا حامل هے ـ یه محدودیت اس کے معلول اور مخلوق هونے کا لازمه هے ـ یه محدودیت، عقل اول کے وجودی مرتبه کے امکان کو مشخص کرکے اسے متعین کرتی هے ، جو اس کی امکانی ماهیت کا لازمه هے، کیونکه ماهیت حد وجود هے، هر محدود موجود ایک ماهیت رکھتا هے، پس عقل اول اگر چه ایک واحد شخصی هے، لیکن اس میں ایک قسم کی کثرت پائی جاتی هے اور یهی کثرت اس سے کثیر کے صدور کو ممکن بناتی هے، اس کے برعکس واجب تعالی، کی ذات میں کسی قسم کی کثرت نهیں پائی جاتی هےـ عقل اول میں متعدد جهات پائی جاتے هیں جو عبارت هیں: تعقل واجب تعالی، تعقل وجوب غیر خود، اپنے امکان ذاتی کا تعقل، که یه جهت، واجب تعالی کا معلول نهیں هے، کیونکه ذاتی طور پر عقل اور کے لئے امکان ثابت هے اور اس کے لئے علت کی کوئی ضرورت نهیں هے اور واجب تعالی کا تعقل اور اپنی ذات کا تعقل بھی عقل اول کے وجود کے وجوب کا لازمه هے اوراس کو علت کی ضرورت نهیں هے ـ بهر صورت چونکه عقل اول میں جهات کثیره پائے جاتے هیں، لهذا هر کثرتی جهت بعد والے ممکنات کے لئے هے، اس طرح که واجب تعالی کے تعقل سے، عقل دوم اور وجوب غیر خود کے تعقل سے، وجود نفس (صورت) فلک اقصی اور تعقل امکان ذاتی سے جرم (جسم) فلک اقصی وجود میں آتا هے ـ مشائی، عقول طولی کی تعداد 10 عقول بیان کرتے هیں[3] ـ مرحوم ملا هادی سبزواری، شرح منظومه میں اس سلسله میں فرماتے هیں:

فالعقل الاول لدی المشائی            وجوبھ مبدء ثان جائی

و عقلھ لذاتھ للفلک          دان لدان سامک لسامک

و ھکذا حتی لعاشر وصل    والفیض منھ فی العناصر حصل

یعنی مشائیوں کے موثر عقول کی تعداد دس هے که ان میں سے نو عقول 9 افلاک کے لئے هیں اور دسویں عقل کا نام عقل فعال هے، جو عالم کے هیولا اور اس کے تابع جسمی صورت کو خلق کرتے هے، جو اس کا لازمه هے ـ اس کے بعد افلاک اور ان کی حرکات کے حالات کے اثرات کی استعدادوں کے مطابق رفته رفته جوهری صورتوں اور اعراض کو ایجاد کرتی هے[4] ـ پس مشائی عالم کی خلقت کو عقل فعال کے ذریعه جانتے هیں اور کھتے هیں که چونکه عقل فعال کے متعدد جهات هیں اس لئے وه بهت سے معلول کو پیدا کر سکتی هے ـ

لیکن اشراقی، عقل عرضی کے معتقد هیںـ یه عقول، ایسی عقول هیں که اولاً: ان کے در میان علت و معلول کا رابطه نهیں هے ـ ثانیاً: ان میں سے هر ایک، عالم ماده میں موجود انواع میں سے ایک نوع کے مقابل میں قرار پاتی هیں، اور اس نوع کے رب هیں که اس ماده کی تدبیر اس کے هاتھـ میں هے ـ ان عقول کو: ” مثل افلاطونی” بھی کهتے هیں، کیونکه افلاطون ان کے وجود پر اصرار کرتا تھا ـ اشراقیوں کے نظریه کے مطابق، طولی عقول کا سلسله، عقول عرضی پر ختم هوتا هے، یعنی طولی دس عقول کے بعد که اس کی آخری طولی عقل، عقل فعال هے کے بعد عقول عرضی کا ایک سلسله شروع هو تا هے که ان کے در میان کسی قسم کی علت و معلول کا رابطه نهیں هے اور تدبیر و تخلیق عالم ان کے ذمه هے[5] ـ

ملاصدرا اور حکمت متعالیه کا اعتقاد رکھنے والے اشراقی فلاسفه کے نظریه کی تاکید کرتے هین [6] اور عقول عرضی کے لئے چند دلائل پیش کرتے هیں:

1ـ پهلی دلیل: “قاعده امکان اشراف ” وجود و مقدومں پر مشتمل هے:

الف: هر قسم کے فعلی کمالات رکھنے والے شخص کا وجود اس شخص کے وجود سے شریف تر هے جس میں کمالات میں سے صرف چند کمالات فعلیت میں تبدیل هوئے هوں اوراکثر کمالات اس میں بالقوه موجود هیں، مثلاً جس انسان میں نوع انسانی کے کمالات بالفعل موجود هوں، وه اس مادی انسان سے شریف تر هے، جس میں نوع انسان کے صرف بعض کمالات بالفعل موجود هوں ـ

ب: قاعده امکان اشرف کے مطابق، اگر ایک ممکن چیز محقق هوجائے جس میں دوسری ممکن چیز کی به نسبت وجودی کمالات کم تر هوں تو اس شریف تر ممکن چیز کو اس دوسری چیز سے پهلے موجود هونا چاهئے ـ

اس بناپر، ایک نوع کے مادی افراد کا وجود، تنها اس کے فرد کے وجود (عقول عرضی) کی دلیل هے، مثال کے طور پر مادی انسان کا وجود اس بات کی دلیل هے که انسان کی عقلی مثال پهلے مرحله میں محقق هوئی هے[7] ـ

اتفاقی طور پر وجود هیں نهیں هیں، پس خود وه انواع اور ان میں جاری نظام، ایک قسم کے حقیقی علتوں کے معلول هیں اور یه علتیں وهی جوهر هیں، جنهوں نے ان انواع کو وجود میں لایا هے اور ان کی تدبیر و پرورش کا اهتمام کیا هے ـ انھیں مثل افلاطونی یا عقول عرض کها جاتا هے[8] ـ

3ـ تیسری دلیل: رب النوع کو ثابت کرنے والى تیسرى دلیل کے چند مقدمات هیں:

الف: نباتات کى حیرت انگیز ترکیب، ان میں پائى جانے والى خوبصورت نقش نگارى، اس کے علاوه ان پر حاکم ایک دقیق اور مستحکم نظام، کے لئے ایک علت کى ضرورت هے اور یه علت کے بغیر پیدا نهیں هو سکتے هیں ـ

ب: یه علت، نباتاتى طاقتیں اور قدرت نهیں هے، کیونکه نباتاتى طاقتیں علم و آگاهى سے فاقداعراض هیں، جو جسم میں حلول کرکے ان کے موضوع میں تغیر و زوال کے اثر میں تغیر و زوال کا سبب بن جاتے هیں ـ

ج: مذکوره امور کے لئے بیان کى جانے والى تنها علت جو هر عقلى مجرد هے، اس نوع کا اتهمام کرتى هے اور اس کے امور کو تدبیر کرتى هے ـ

4ـ چوتھى دلیل: چونکه هر نوع کے خاص افعال و آثار هیں، اس لئے هر نوع کى ایک خاص مجرد عقل هوگى جو اس نوع کے افعال و آثار کا مصدر هے اور تمام، مادى انواع کے افعال کو ایک عقل مجرد سے نسبت نهیں دیا جاسکتا هے،[9] اس بنا پر مثل افلاطونى یا عقول عرضی کے متعقد هوئے هیں ـ


مزید  کیا چشم زخم اور وسواس سے بچنے کے لئے دعا لکھنا اسلام کی نظر میں جائز ھے ؟

[1]  شیررانى، على، ترجمھ و شرح بدایۃ، ج 4، ص 236.

[2]  حسن زاده آملى، حسن، وحدت از دیدگا عارف و حکیم، ص 108; طباطبائى، محمد حسین، بدایۃ الحکمۃ، ص 216; این حمرۃ الفنارى، مصباح الانس، ص 191.

[3]  الالھیات الشفاء، المقلۃ التاسعۃ، الفصل الرابع والخامس.

[4]  سبز وارى، ملاھادى، شرح المنظومۃ، تصحیح، حسن زاده آملى، ج 3، ص 672ـ674.

[5]  نھا یۃ الحکمۃ، ص 382ـ 383.

[6]  صدر الدین محمد الشیرازى، الاسفار الاریعۃ، ج2، ص 46 ـ 81 و ج 7، ص 169 ـ 171 و 258 ـ 281.

[7]  حکمۃ الاشراق، ص 143 ; شرح حکمۃ الاشراق، ص 349 ـ 348

[8]  ایضاً، ص 143 ـ 144; شرح حکمۃ الاشراق ، ص 349 ـ 351.

[9]  المطارحات، ص 455 ـ 459; السفار، ج 2، ص 53 ـ 55.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.