صبح ( فجر) صادق اور کاذب سے کیا مراد ھے؟

0 0

صبح (فجر) صادق اور صبح کاذب ، دو فقھی اورنجومی اصطلاحات ھیں ، جس سے مراد دن اور رات کے مخصوص اوقات ھیں۔ صبح کاذب، مشرق سے نمودار ھونے والی سفیدی کے ساتھه شروع ھوتی ھے، اور اس وقت کے دوران نماز صبح کو نھیں پڑھا جا سکتا ھے۔ فجر صادق کا وه وقت ھے جب مشرق سے نمودار ھوئی سفیدی پھیل جائے اور یھ نماز صبح کی فضیلت اور اس کا اول وقت ھے۔

خلاصھ یھ کھ دو فجر کے درمیان مندجھ ذیل فرق موجود ھیں۔

۱۔ فجر کاذب ، آسمان سے الگ ھے جبکھ فجر صادق آسمان کے ساتھه متصل ھے۔

۲۔ فجر کاذب عمودی طریقے پر ھے جبکھ فجر صادق افقی ھے۔

۳۔ فجر کاذب طلوع ھوتے وقت چمکتی ھے اور تھوڑی دیر کے بعد ختم ھوجا تی ھے جبکھ فجر صادق تھوڑے نور کے ساتھه طلوع کرتی ھے اور تھوڑی دیر کے بعد نور سے بھر جاتی ھے۔

تفصیلی جوابات

صبح صادق ( فجر) دن اور رات کے دوران اس وقت کو کھتے ھیں جو نماز صبح کو ادا کرنے کا با فضیلت اور اول وقت ھے۔  صبح کاذب ( فجر کاذب) اس لحظے کو کھتے ھیں جب رات ختم ھوتی ھے، اور رات کے ختم ھوتے ھی مشرق کی جانب سے ایک سفید نور چمکتا ھے۔اور اس سفیدی کی شکل بھیڑئے کے کانوں کے مانند ھوتی ھے اسی وجھ سے اسے صبح کاذب یا فجر کاذب کھا جاتا ھے لیکن آھستھ آھستھ یھ سفیدی مشرق کی جانب پھیل جاتی ھے اور اس وقت نماز صبح پڑھی جاسکتی ھے کیوں کھ صبح ھوگئی ھے اور اس طرح اس سفیدی کو فجر صادق کھا جاتا ھے۔ [1]

ان دو فجروں کے درمیاں مندرجھ ذیل فرق موجود ھے:

۱۔ فجر کاذب ، آسمان سے الگ ھے جبکھ فجر صادق آسمان کے ساتھه متصل ھے۔

۲۔ فجر کاذب عمودی طریقے پر ھے جبکھ فجر صادق افقی ھے۔

۳۔ فجر کاذب طلوع ھوتے وقت چمکتی ھے اور تھوڑی دیر کے بعد ختم ھوتی ھے جبکھ فجر صادق تھوڑے نور کے ساتھه طلوع کرتی ھے اور تھوڑی دیر کے بعد نور سے بھر جاتی ھے۔[2]


مزید  ایک شخص کی بیوی حاملہ تھی، بیوی کی عدم موجودگی میں طلاق دیتا ہے اور اسی مجلس میں رجوع لفظی کرتا ہے اور پھر طلاق دیتا ہے اور پھر لفظی رجوع کرکے تیسری بار طلاق دیتا ہے( تین طلاق اور دو رجوع)۔ اس مسئلہ کے پیش نظر سوال یہ ہے کہ:1۔ کیا بیوی کا حاضر ہونا یا رجوع کے بعد دخول شرط ہے یا نہ؟2۔ کیا یہ طلاق صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح ہے تو کیا یہ طلاق بائن شمار ہوتا ہے یا نہ؟

[1]  ” عروۃ الوثقی” ج ۱ ، ص ۳۸۸۔ ص ۷ ، انتشارات دار التفسیر ، “تحریر الوسیلۃ” ج ۱ ص ۱۱۲ ، انتشارات مؤسسھ تنطیم و نشر آثار امام خمینی (رح) ۔

[2]  نھایۃ التقریر ، ج ۱ ص ۱۵۲۔

تبصرے
Loading...