شیعوں کے نقطھ نظر سے خمس کے واجب ھونے کی دلیل کیا ھے اور اھل سنت اس کو کیوں ادا نھیں کرتے ؟

0 0

180x480 Banner

خمس دین اسلام کے فرائض اور واجبات میں سے ھے ، قرآن مجید نے اس کی اھمیت میں اس کو ایمان کے ساتھه جوڑا ھے اور فرمایا ھے :”اور یھ جان لو کھ تمھیں جس چیز سے بھی فائده حاصل ھو اسکا پانچواں حصھ اللھ، رسول، رسول کے قرابت داروں ، اَیتام ، مساکین اور مسافران غربت زده کے لئے ھے اگر تمھارا ایمان اللھ پر ھے ” [1]

قرآن مجید نے توحید ، معاد اور نبوت سے متعلق آیات کو مکرر اور مفصل ذکر کیا ھے لیکن صرف محدود آیات کو احکام سے مخصوص کیا ھے اورمشھور یھی ھے کھ “آیات الاحکام ” کی تعداد قرآن مجید میں ۵۰ ھے اور ان میں اگر مکرر آیات اور متداخل آیات کو کم کریں تو ان کی تعداد اس سے بھی کم ھوگی[2] جبکھ ھر ایک فروع دین میں سے احکام اور فقھی مسائل کی تعداد ان سے بھت زیاده ھے۔ اسی لئے مذاھب اسلامی کے فقھاء وه احکام اور قوانین جو قرآن مجید میں بیان نھیں ھوئے ھیں ان کو پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم اور ائمھ معصومیں علیھم السلام کی روایات سے استفاده کرتے ھیں۔

پس ایک جانب فقھ اسلام کی وسعت اور دوسری جانب فقھ کے تمام موضوعات میں ائمھ معصومین علیھم السلام کی متعدد روایات کے موجود ھونے کو مد نطررکھتے ھوئے اگر قرآن مجید میں خمس کے مسئلے پر صرف ایک آیت موجود ھے تو یھ کوئی عجیب بات نھیں۔ کیوں کھ اس کے باقی احکام کو ائمھ معصومین علیھم السلام کی معتبر روایات سے حاصل کیا جاسکتا ھے جیسا کھ دوسرے واجبات جیسے روزه، حج کے بارے میں قرآن مجید میں تین سےچار آیات تک ذکر ھوئی ھیں [3]

یا نماز کے واجبات ، ارکان ، شرائط وغیره جو کھ کافی اھمیت کے حامل ھیں،کی جانب قرآن مجید میں کوئی اشاره نھیں ھوا ھے اور سب اسلامی مذاھب نے ان احکام کو روایات سے حاصل کیا ھے۔ جبکھ خمس کے واجب ھونے کے بارے میں جو آیت سوره انفال میں آئی ھے واضح طور پر اپنے موضوع پر دلالت کرتی ھے۔

مرحوم علامھ طباطبائی ، اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ھیں: ” غنم” اور “غنیمت” کے معنی تجارت، صنعت یا جنگ کے ذریعے حاصل شده آمدنی کو کھتے ھیں۔ [4]

اگرچه آیت جنگی غنیمت کے بارے میں ھے لیکن اس کا مورد اورمصداق معنی کو تخصیص نھیں دیتا (محدود نھیں کرتا ) ۔ [5]

پس آیت کے معنی عام ھیں، اور ظاھرا آیت دلالت کرتی ھے کھ مورد نظر’ حُکم ھر چیز سے متعلق ھے، جس کو غنیمت شمار کیا جاتا ھے اگرچھ کفار سے لیا ھوا جنگی غنیمت ھی کیوں نھ ھو، جیسے معدن، خزانھ اور وه قیمتی جواھر جو سمندر میں غوطھ لگانے سے حاصل ھوتے ھیں وغیره، کو بھی شامل ھوتا ھے حضرت امام جواد علیھ السلام نے فرمایا: غنائم اور جو فائدے ( ھر طرح کی آمدنی اور نفع ) آپ کو حاصل ھوتے ھیں ان کا خمس ادا کرنا واجب ھے اس کے بعد امام علیھ السلام نے خمس کی آیت کی تلاوت کی [6]

آیھ شریفھ میں اگرچھ صرف غنیمت کے بارے میں بات ھوئی ھے لیکن امام علیھ السلام نے اس کی تفسیر میں “فائدوں” کا بھی اضافھ کیا ھے۔ مرحوم علامھ طباطبائی کھتے ھیں ، “خمس جنگی غنائم سے مخصوص نھیں ھے ” اور یھ مطلب بھت سی روایات سے استفاده ھوتا ھے [7]

لیکن “ذی القربی” جو قرابتداروں اور رشتھ داروں کے معنی میں ھے اس آیھ شریف میں مراد رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے قرابتدار بلکھ ان میں سے خاص اور معین اشخاص مراد ھیں، جیسا کھ روایات سے معلوم ھوتا ھے ۔ [8]

اھل سنت کی کتابوں میں بھت سی روایات موجود ھیں کھ خمس خود رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے زمانے میں تقسیم ھوا اور آنحضرت جب تک زنده تھے اس واجب کو ادا کرتے تھے۔ سیوطی جو ابن ابی شیبھ سے وه جبیر بن مطعم سے نقل کرتے ھیں که رسول خدا صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم ، ذی القربی کے حصھ کو بنی ھاشم کے درمیان اور بنی عبد المطلب کے درمیان تقسیم کرتے تھے اس کے بعد میں اور عثمان بن عفان آنحضرت (ص) کی خدمت میں شرفیاب ھوئے اور آنحضور صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم سے اپنے حصھ کو چاھا اور عرض کیا : کیا آپ عبد المطلب کے فرزندوں کو دیتے ھیں لیکن ھمیں نھیں دیتے ھیں؟ جب که وه اور ھم نسبت کے لحاظ سے ایک ھی رتبھ میں ھیں؟ آنحضور نے فرمایا: وه جاھلیت اور اسلام میں بھی ھم سے الگ نھیں تھے۔ ” [9]

اھل سنت کی سب فقھی کتابوں میں خمس کی بحث آئی ھے۔ بعض نے زکات کے باب کے بعد اور بعض نے جھاد کی فروعات میں اس سے بحث کی ھے۔ قاضی ابن رشد ( ۵۹۵ ھ ) نے خمس کے بارے میں اھل سنت کے مذاھب کوبیان کرنے کے بعد کھا ھے: “البتھ اھل سنت میں اختلاف ھوا ھے کھ ذی القربی کون ھیں ؟ بعض نے کھا صرف بنی ھاشم مراد ھیں اور دوسروں نے کھا بنی ھاشم اور بنی عبد المطلب مرادھیں۔ اور اس نے جبیر بن مطعم کی روایت کو دوسرے قول کے اوپر دلیل جانا ھے” ۔ [10]

پس واضح ھوا کھ خمس صرف شیعوں کی طرف سے بنایا ھوا نھیں ھے بلکھ صرف جو فرق موجود ھے وه یھ ھے کھ شیعھ تاکید کرتے ھیں کھ اس آیھ مبارکھ پر ھمیشھ عمل کرنا ھے۔ کیونکھ رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے قرابتدار ھمیشھ موجود ھیں اور ان کے درمیان فقیر مسکین بھی موجود ھیں۔ اسی لئے اھل سنت کے اماموں میں امام شافعی (رح ) بھی قائل ھیں کھ اقرباء کا خمس پیغمبر کی موت سے ختم نھیں ھوتا [11]

خمس اداکرنے، اور اس کے نصف کو سادات کیلئے مخصوس کرنے کا فسلفه خمس کو ادا کرنے کیلئے ممکن ھے بھت سی حکمتیں اور اسباب ھوں، جن میں سے بعض کی جانب اشاره کیا جاتا ھے:

۱۔ ھر سماج میں، اُس سماج کے رھبر اور امام کو، خدا کا دین زنده کرنے کے لئے اور اسلام کے احکام پرعمل کرانے کے لئے، نیز ملک اور حکومت کی ترقی کے لئے اخراجات کی ضرورت ھوتی ھے، جو مھیاھونے چاھئیں پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اور ان کے بعد ائمھ معصومین علیھم السلام اور زمان غیبت میں شیعھ فقھاء جو ائمھ اطھار کے جانشین ھیں۔ اسلامی معاشرے کے رھبر ھونے کے عنوان سے مختلف اخراجات کے محتاج تھے ، جیسے غریبوں کی مدد کرنا، مسجد بنانا ، فوج کو آماده کرنا وغیره وغیره۔ یھ اخراجات خمس ادا کرنے سے پورے ھوجاتے ھیں۔ ائمھ علیھم السلام نے فرمایا: خمس، خداکے دین پر عمل کرانے کے لئے ھماری مدد ھے۔ [12]

۲۔ خمس ، انسانی کمال کے ارتقاء کے لئے ایک وسیلھ ھے۔ خمس کو قصد قربت کے ساتھه ادا کرنے اور دنیا سے قطع تعلق کرنے سے یھ واجب انجام پاتا ھے اور بنده گناھوں سے پاک ھوکر کمال کی جانب ترقی کرتا ھے ۔ [13]

لیکن آدھے خمس کو سادات سے مخصوس کرنے کے سبب میں یھ کھنا چاھئے کھ خمس اور زکات ایسے اسلامی ٹیکس ھیں جو اسلامی امت کی مالی مشکلات کو حل کرنے کے لئے اور عادلانھ طور پر دولت کو تقسیم کرنے کے لئے اور اسلامی حکومت کی مالی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے قرار دیا گیا ھے ، خمس اور زکات کے درمیان یھ اھم فرق موجود ھے کھ زکات اسلامی معاشرے کے عمومی اموال میں محسوب ھوتا ھے لھذا اس کے مصارف عام طورپر اسی حصے میں ھیں جبکھ خمس ان مالیات میں سے ھے جو اسلامی حکومت سے متعلق ھیں اور جن کے ذریعے اسلامی حکومت کے اخراجات اور اس کے چلانے والوں کے اخراجات پورے ھوتے ھیں۔

سادات کو زکات سے محروم رکھنا حقیقت میں پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے قرابتداروں کو اس مال سے دور رکھناھے تا کھ مخالفوں کے ھاتھه کوئی بھانھ نھ آئے اوروه یھ نھ کھیں کھ پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے اپنے خاندان کو عمومی اموال پرمسلط کیا ھے۔   دوسری جانب غریب سادات کا حق بھی ادا ھونا چاھئے ، در اصل خمس نھ صرف سادات کے لئے کوئی رعایت نھیں ھے بلکھ عمومی مصلحت کے لئے انھیں الگ رکھنے کا بھانھ ھے تا کھ کسی طرح کی غلط فھمی پیدا نھ ھوجائے [14]

کیا یقین کیا جاسکتا ھے کھ اسلام نے غیر بنی ھاشم کے غریبوں اور یتیموں اور محروموں کے لئے کوئی چاره کیا ھے اور زکات کے ذریعے ان کے سال بھر کے اخراجات کو پورا کیا ھے لیکن بنی ھاشم کے ضرورتمندوں کو ھر طرح کی مدد سے خالی رکھا ھے؟ اس لئے خمس کا قانون سادات کے لے کسی طرح کی رعایت نھیں ھے اور مادی نقطھ نظر سے زکات جو کھ عام فقراء کے لئے ھے، خمس کے ساتھه کوئی فرق نھیں رکھتا ھے۔

حقیقت میں دو طرح کے صندوق موجود ھیں ،

۱۔ خمس کا صندوق ،

۲۔ زکات کا صندوق۔

اور ھر طرح کے محتاجوں کو صرف یھ حق ھےکھ وه دو میں سے ایک صندوق کےذریعے اپنے اخراجات کو پورا کریں اور وه بھی ایک خاص مدت تک ، یعنی ایک سال کی ضرورتوں کو [15] غیر سید فقرا زکات کے صندوق سے اور سادات فقراء خمس کے صندوق سے پورا کریں، اور سادات فقیروں کو یھ حق نھیں پھنچتا کھ زکات کوصرف کریں۔ح


مزید  “ کل شیء ھالک الا وجھہ” ﴿ قصصِ:۸۸﴾ ۔ کہا گیا ہے کہ امام علی ﴿ع﴾ “وجہ اللہ” ہیں، اس کے کیا معنی ہیں؟

[1]  سوره انفال آیھ ۴۱۔ و اعلموا انما غنمتم من شیء فان للھ خمسھ و للرسول و لذی القربی و الیتامی و المساکین و ابن السبیل ان کنتم امنتم باللھ و ۔

[2]  کنزر العرفان ، تصحیح عقیقی بخشایشی ، ص ۲۹۔

[3]  کنز العرفان ، تصحیح عقیقی بخشایشی ، ص ۱۷۹۔ و و ۲۴۲۔

[4]  ترجمھ تفسیر المیزان ، ج ۹ ص ۱۱۸۔

[5]  ترجمھ تفسیر المیزان، ج ۹ س ۱۲۰۔

[6]  وسائل الشیعھ ، ج ۶ با ۸ ( ابواب ما یجب فیھ الخمس ) ج ۵۔

[7]  ترجمھ المیزان ، ج ۹ ص ۱۳۷۔ ۱۳۶۔

[8]  تجمھ المیزان ج ۹ ص ۱۱۸۔

[9]  الدر المنثور، ج ۳ ص ۱۸۶ بھ نقل المیزان ، ج ۹ ص ۱۳۸۔

[10]  بدایۃ المجتھد ابن رشد، کتاب الجھاد، ص ۳۸۲۔ ۳۸۳۔

[11]  بدایۃ المجتھد ، ابن رشد ، کتاب الجھاد ، ص ۳۸۲۔

[12]  برسش ھا و پاسخ ھا ، ج ۱۰ ص ۳۲۔ ( احکام خمس )

[13]  امام رضا علیھ السلام کا ارشاد ھے : ان اخراجھ ( خمس ) مفتاح رزقکم و تمحیص ذنوبکم، ( خمس کا ادا کرنا روزی کا سبب اور گناھوں کو بخشنے کا سبب ھے )

[14]  تفسیر نمونھ ج ۷، ص ۱۸۴۔

[15]  ایضا ص ۱۸۳۔

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...