شیعه کیوں صحابه اور خلفاء پر لعنت بھیجتے هیں؟

0 0

شیعوں پر قدیم زمانه سے آج تک جو الزام لگایا جاتا هے ( جیسا که دشمن دعوی کرتے هیں) وه یه هے که شیعه صحابه کے بارے میں اپنے بغض و کینه کو چھپاکے رکھتے هیں- جب هم اس الزام کے بارے میں حقیقت پسندانه ،تعصب کے بغیراور دور اندیشی پر مبنی تحقیق اور جانچ پڑتال کرتے هیں تو یه الزام غیر حقیقی معلوم هو تا هے ، کیو نکه شیعه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم اور آپ(ص) کے صحابیوں کے بارے میں مکمل احترام کے قائل هیں- یه کیسے ممکن هو سکتا هے کوئی شخص اصحاب کے بارے میں کینه رکھے جبکه وه بشریت کی رسالت اور خدا کے نور کو پهچاننے والے هیں؟ اور بیشک وه رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے حامی اورمددکرنے والے اور مجاهد تھے!یه کیسے ممکن هے که کوئی ان کا بغض رکھے جبکه خداوند متعال نے ان کی مدح کی هے اور ارشاد الهی هے: ” محمد صلی الله علیه وآله وسلم الله کے رسول هیں اور جو لوگ ان کے ساتھـ هیں وه کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتهائی رحم دل هیں، تم انهیں دیکھو گے که بار گاه احدیت میں سر خم کئے هوئے سجده ریز هیں اور اپنے پرور دگار سے فضل و کرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار هیں، کثرت سجود کی بناپر ان کے چهروں پر سجده کے نشانات پائے جاتے هیں- یهی ان کی مثال توریت میں هے اور یهی ان کی صفت انجیل میں هے جیسے کوئی کھیتی هو جو پهلے سوئی نکالے پھر اسے مضبوط بنائے پھر وه موٹی هو جائے اور پهر اپنے پیرٶں پر کھڑی هو جائے که کاشتکاروں کو خوش کر نے لگے تاکه ان کے ذریعه کفار کو جلایا جائے اور الله نے صاحبان ایمان و عمل صالح سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعده کیا هے-“[1]

وه ایسے لوگ تھے، جنهوں نے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیه وآله وسلم کی مدد کی هے اور اس کے دین کو زنده کیا هے اور اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کیا هے اور جهالت کو نابود کر کے رکھدیا هے-[2]

شیعوں کے امام وقائد ، حضرت علی علیه السلام ، پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے اصحاب کے بارے میں فر ماتے هیں :” میں نے حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلم کے اصحاب کو دیکھا هے ، لیکن آپ میں سے کسی کوایک ان کے مانند نهیں جانتا هوں ، وه پریشان بال اور غبار آلوده چهره کی حالت میں صبح کرتے تھے ، رات کو صبح تک سجده، قیام اور عبادت کی حالت میں گزارتے تھے اور اپنی پیشانی اور رخسار کو بار گاه الهی میں خاک پر رکھے رھتے تھے، معاد کو یاد کر کے اس قدر تڑپتے تھے که گو یا آگ پر کھڑے هوں – طولانی سجدوں کی بناپر ان کی پیشا نیوں پر نشانات  پائے جاتے تھے – جب خدا وند متعال کا نام لیا جاتا تها ، تو وه اس قدر آنسو بهاتے تھے که ان کا دامن تر هو جاتا تھا- اور خدا کی طرف سے سزا کے ڈر سے یا جزا کی امید میں ایسے لرزتے تھے که جیسے تیز هوا کی وجه سے درخت لرزتے هیں-“[3]

اسی طرح مزید فر ماتے هیں:” کهاں هیں میرے وه بھائی جو راه حق پر چلے گئے؟ اور حق کے ساتھـ وفات پاگئے؟ کهاں هیں عمار؟ اور کهاں هیں فرزند تیهان؟ کهاں هیں ذوالشهادتین ؟ اور کهاں هیں ان کے جیسے بھائی جنهوں نے جاں نثاری کا عهد نامه کیا تھا اور جن کے سرراه خدا میں تن سے جدا کر کے ظالموں کے لئے بھیجے گئے-{(خطبه کے راوی)نوف کهتے هیں: اس کے بعد حضرت نے اپنی داڑھی کو هاتھـ سے پکڑ کر بهت دیر تک رونے کے بعد فر مایا}: افسوس !میرے بھائیوں کے بارےمیں ، جنھوں نے قرآن مجید کو پڑھا، اس کےمطابق فیصلے سنائے، واجبات الهی پر غور وخوض کر کے ان کو قائم کیا، الهی سنتوں کو زنده کیا اور بدعتوں کو نابود کر دیا،جهاد کی دعوت کو قبول کیا اور اپنے قائد پر اعتماد کر کے ان کی پیروی کی-“[4]

امام سجاد علیه السلام بھی صحیفه سجادیه میں اصحاب پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کے لئےدعا کرتے هوئے فر ماتے هیں: ” خدا وندا! اپنے تمام پیرٶں اور هر زمانے میں( حضرت آدم علیه السلام سے خاتم الانبیاء تک بھیجے گئے انبیاعلیهم السلام)پیغمبروں کی تائید و تصدیق کر نے والوں کو اور ان سب پر سلام و دورود بھیجنا ، جنهوں نے انبیاء کے مشکلات سے دو چارهو نے پر ( جب دشمن انھیں جھٹلا کر ان کی مخالفت کرتے تھے)مخفی طور پر (دل میں) ان پر ایمان لاکر ان کے گرویده هو گئے اور انھیں عفو و بخشش اور اپنی خوشنودی کے ساتھـ یاد فر مایا! خداوندا! حضرت محمد (صلی الله علیه وآله وسلم) کے اصحاب کی مدد فرما، خاص کر جنھوں نے آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کے ساتھـ مصاحبت کے حق کو بهتر صورت میں ادا کیا اور ان کی مدد کر نے کی راه میں مشکلات برداشت کیں اور جنگوں میں بهادری اور دلاوری کے جوهر دکھائے اور اس طرح ان کی مدد کی اور ان پر ایمان لانے میں سبقت پائی اور ان کی دعوت کو قبول کیا، اور جب پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے اپنی رسالت کو ان تک پهنچا دیا تو انھوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی دعوت کی تبلیغ میں اپنے اهل وعیال کو چھوڑ دیا اور اپنے پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کے مشن کی بنیادوں کو مستحکم کر نے کے سلسله میں اپنے والدین اور فرزندوں کے ساتھـ جنگ کی اور آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی مدد سے کامیاب هوئے اور وه جنھوں نے آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی محبت اورد وستی کو نقصان کے بغیر تجارت کے طور پر اپنے دلوں میں جگه دی تھی،  اور ان پر درود و سلام بھیجنا! جنھیں آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی حمایت کر نے پر اپنے قبیلوں اور خاندانوں سے نکال باهر کیاگیا اور انھیں (پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کا ساتھـ دینے پر) اجنبی شمار کیاگیا ! پس خدا وندا! انھوں نے جو کچھـ تیرے لئے اور تیری راه میں کھو دیا هے ، اس کی تلافی فر ما ،اور لوگوں کو تیرے نزدیک لانے، پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کے همراه تیری طرف لوگوں کو دعوت کر دینے اور تیری راه میں اپنے وطن ، شهر اور رشته داروں کو چھوڑ نے اور آرام وآسائش کی زندگی چھوڑ کر سختی اور مشکلات برداشت کر نے کے عوض انھیں اپنی خوشنودی سے خوشحال فر ما! اور ان مظلوموں کو اجر و صله عطا فر ما جنھوں نے تیرے دین کی نصرت کر نے والوں کی تعداد کوبڑھایا هے – خداوندا! اصحاب محمد صلی الله علیه وآله وسلم کے تابعین کو بهترین جزا عطا فر ما جو اصحاب رسول صلی الله علیه وآله وسلم کی راه پر چل کر کهتے تھے : ” پروردگارا! همیں اور همارے ان بھائیوں کو عفو وبخشش عطا فر ما جنھوں نے ایمان میں هم پر سبقت حاصل کی هے-“[5]

اس کے علاوه شیعوں کے فقها بھی صحابه کے لئے شان و منزلت کے قائل تھے – شهید صدر (رح) فر ماتے هیں “: صحابه مٶمنین کے پیش قدم اور امت کی رشد و بالید گی کو واضح کر نے والے بهترین افراد تھے – یهاں تک که تاریخ انسانیت ، پیغمبر اکرم صلی الله علی وآله وسلم کے توسط سے تر بیت کئے گئے صحابه سے بهتر، برتر اور عقید تمند تر نسل کو پیش نهیں کرسکی هے-“[6]

یقیناً هم اهل سنت کے ساتھـ صحابه کے سلسله میں بعض اختلافات رکھتے هیں ، کیونکه هم پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے صحابیوں اور آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے ساتھـ مصاحبت کر نے والوں کو چند گروهوں میں تقسیم کرتے هیں:

١- پیش قدم گروه: اس گروه کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد هوا هے:” اور مها جرین و انصار میں سے سبقت کر نے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا هے اور ان سب سے خدا راضی هوگیا هے اور یه سب خدا سے راضی هیں اور خدا نے ان کے لئے وه باغات مهیا کئے هیں جن کے نیچے نهریں جاری هیں اور یه ان میں همیشه رهنے والے هیں اور یهی بهت بڑی کامیابی هے-“[7]

٢- درخت کے نیچے بیعت کر نے والے : اس گروه کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد هوا هے:”یقیناً خداصاحبان ایمان سے اس وقت راضی هو گیا جب وه درخت کے نیچے آپ(ص) کی بیعت کر رهے تھے پھر اس نے وه سب کچھـ دیکھـ لیا جو ان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کر دیا اور انھیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کر دی-“[8]

٣- فتح سے پهلے خیرات  کر نے والے اور مجاهدین:اس گروه کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد هے:”— اور تم میں سے فتح سے پهلے خیرات  کر نے والا اور جهاد کر نے والا اس کے جیسا نهیں هو سکتا ھے ، جو فتح کے بعد خیرات  اور جهاد کرے- پهلے جهاد کر نے والے کا درجه بهت بلند هے ، اگر چه خدا نے سب سے نیکی کا وعده کیا هے اور تمھارے جمله اعمال سے باخبر هے-“[9]

مذکوره  اهم  نمونوں اور دلچسپ شخصیتوں کے مقابلے میں قرآن مجید چند دوسرے گروهوں کا بھی ذکر کر تا هے جو مذکوره گروهوں سے واضح فرق رکھتے هیں:

١- منافقین[10]

٢- وه منافقین جو چھپے تھے اور پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم انھیں نهیں پهچانتے تھے –[11]

٣- ضعیف الایمان اور دل کے مریض انسان-[12]

٤- وه (سست اور ضعیف)افراد جو اهل فتنه کی باتوں پر کان دھرتے هیں-[13]

٥-وه لوگ جو اچھے اور برے دونوں کام انجام دیتے هیں –[14]

٦- وه لوگ جو مرتد هوئے هیں-[15]

٧- و فاسق جن کے قول و فعل میں تضاد هو تا هے-[16]

٨-وه لوگ جن کے دلوں میں ایمان داخل نهیں هوا هے – [17]بعض دوسری بری صفتیں جو بعض لوگوں کے لئے ذکر هوئی هیں-

اس کے علاوه ، صحابیوں کے در میان ایسے افراد بھی تھے جو رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کو شب عقبه میں قتل کر نے کا اراده رکھتے تھے-[18]

پس صحابیوں کے بارے میں شیعوں کا نظریه ، خلاصه کے طور پر یوں بیان کیا جاسکتا هے که:

مکتب اهل بیت علیهم السلام میں صحابی دوسرے لوگوں کے مانند هیں ، یعنی ان کے درمیان عادل بھی هیں اور غیر عادل بھی-

ایسا نهیں هے که جو بھی صحابی هو وه سب عادل هوں گے ، جب تک ایک صحابی کے سلوک میں پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی سیرت اور طرز عمل نے اثر نه کیا هو، صرف صحابی هو نا عدالت کے لئے کوئی دلیل نهیں هے –

پس ، صحابی کا طرز عمل اور سلوک معیار هے – جس کی سیرت اسلامی معیاروں کے مطابق هو وه عادل هے اس کے علاوه غیر عادل هے- جیسا که هم نے بیان کیا یه نظریه قرآن مجید اور سنت نبوی (ص) کے مطابق هے-

یه کیسے اور کس منطق کے مطابق ممکن هے که مالک بن نویره جیسے باعظمت صحابی اور ان کو ظالمانه طور پر قتل کر کے پهلی هی رات کو ان کی بیو ی سے همبستری کر نے والے شخص کو مساوی طور پر صحابی مانا جائے؟!

یه هر گز صحیح نهیں هے که ولید بن عقبه جیسے شراب خوار کی صرف صحابی هو نے کی وجه سے حمایت اور طرفداری کریں یا ایک ایسے شخص کا دفاع کریں جس نے اسلامی حکو مت کو ایک جابر اور ڈیکٹیٹرشپ میں تبدیل کیا اور امت کے نیک اور صالح انسانوں کا قتل کیا اور حقیقی امام اور خلیفه (علی بن ابیطالب علیه السلام) کے ساتھـ جنگ کی؟

کیا یه صحیح هے که هم عمار یاسر اور باغیوں کے گروه کے سردار دونوں کو صحابی هو نے کے ناطے مساوی جانیں وه بھی اس حالت میں جبکه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآه وسلم نے فر مایا هے :” عمار کو ظالموں اور باغیوں کا ایک گروه قتل کرے گا-“

کیا کوئی عقلمند ایسا کرے گا؟ فرض کیجئے  اگر هم ایسا کریں ، تو کیا اس صورت میں اسلام صحابی کے بهانے ظالموں اور جابروں کی حمایت کر نے والے دین کے علاوه کچھـ اور باقی رهتا هے؟

حقیقت میں اسلام اس سے محترم اور عزیز تر هے که هم اسے هر زمان و مکان کے مجرمین اور منحرفوں کے جرم کے ساتھـ مخلوط کریں ! یه همارا اعتقاد هے اور اس سلسله میں هم کسی سے مذاق نهیں کرتے هیں ، کیو نکه حق، بیان و اتباع کر نے سے بھی زیاده سزاوار هے-

هم اپنے اهل سنت بھائیوں سے سوال کر تے هیں که کیا آپ تیسرے خلیفه حضرت عثمان اور ان کے قاتلوں کو برابر اورمساوی جاننے کے قائل هیں ؟

اگر یه مساوی هیں تو کیوں عثمان کی خونخواهی کے بهانه سے حضرت علی علیه السلام پر یه سب حملے کئے گئے اور حضرت کے خلاف جنگ جمل و صفین کی آگ بھڑکا دی گئی؟ اور اگر یه دو گروه مساوی نهیں هیں اور حضرت عثمان کے قاتلوں کی بات هی نهیں بلکه اس قتل میں معاونت اور حمایت کر نے والوں کو بھی دین اور شرع سے خارج سمجھا جاتا هے، یهی تو صحابی کی عدالت کا فقدان هے! پس شیعوں پر کیوں الزام لگایا جاتا هے جبکه ان کا نظریه دوسروں کے نظریه کے مانند هے؟!

اس بناپر شیعوں کے اعتقاد کے مطابق عدالت کا معیار پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی سیرت سے تمسک پیدا کر نا اور آنحضرت کی زندگی میں آپ(ع) کی حیات کے بعد آپ(ص) کی سنت پر عمل کر نا هے- جو بھی اس راسته پر گامزن هو اس کا احترام کیا جاتا هے اس کی روش کی پیروی کی جاتی هے ، اس کے لئے طلب رحمت کی جاتی هے اور هم اس کے درجات بلند هو نے کی دعا بھی کرتے هیں – لیکن جو اس راه کے راهی نه هوں ، هم انھیں عادل نهیں سمجھتے هیں- مثال کے طور پر دو صحابیوں نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی ایک بیوی کے همراه لشکر کشی کی اور بصره میں پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم  کے حقیقی اور قانونی خلیفه حضرت علی بن ابیطالب علیه السلام سے جنگ جمل کی آگ بھڑ کادی اور اس جنگ میں هزاروں مسلمان قتل کئے گئے ، اب هم پوچھنا چاهتے هیں که کیا یه خروج اور اس قدر خون بهانا جائز هے؟

یا یه که ایک دوسرا شخص جس کے لئے رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کا صحابی هو نے کا عنوان هے، صفین نامی ایک جنگ میں خروج کر تا هے ،ایک ایسی جنگ جس نے خشک وتر کو آگ لگادی – همارا کهنا هے که یه کام خلاف شرع اور شرعی امام اور خلیفه کے خلاف خروج هے –اس قسم کے اعمال صحابی هو نے کے بهانه سے صحیح نهیں هو سکتے هیں اور قابل قبول نهیں هیں- یه وهی اختلاف هے جو شیعوں اور دوسروں کے در میان پایا جاتا هے-

یه مسلم بات هے که یهاں پر برا بھلا کهنا بحث سے خارج هے-


مزید  ائمه اطهارعلیهم السلام اپنی شهادت کے وقت کے بارے میں علم غیب رکھنے کے باوجود اس سے بچنے کے لئے کیوں اقدام نهیں کرتے تھے؟

[1] – سوره فتح،٢٩ –

[2] -عدالت صحابی ،ص١٤،مجمع جهانی اهل بیت (ع)-

[3] – نهج البلاغه ،ص١٤٤،خطبه ٩٧-

[4] – نهج البلاغه، تحقیق صبحی صالح،ص١٦٤،خطبه ١٨٢-

[5] – صحیفه سجادیه ،ص٤٢، دعاء حضرت بر پیروان پیامبران-

[6] – مجموعه کامله ،شماره ١١، بحث درباره ی ولایت ص٤٨-

[7] – سوره توبه ،١٠٠-

[8] – سوره فتح،١٨-

[9] – سوره حدید ،١٠-

[10] – سوره منافقون،١٠-

[11] – سوره توبه،١٠١-

[12] – سوره احزاب،١١-

[13] – سوره توبه، ٤٥- ٤٧-

[14] – سوره توبه،١٠٢-

[15] – سوره آل عمران، ١٥٤-

[16] – سوره حجرات،٦ سوره سجده، ١٨-

[17] – سوره حجرات ،١٤-

[18] – فصول المهمه ،عبدالحسین شرف الدین ، ص١٨٩-

تبصرے
Loading...