شیطان کے مقاصد اور منصوبے کیا هیں؟

0 0

قرآن مجید نے سوره نساء کی 120 اور 118ویں آیت میں شیطان کے مقاصد اور منصوبوں کی طرف اشاره کیا هے۔ جب الله نے نافرمانی کی وجه سے شیطان کو اپنی رحمت سے دور کیا تو شیطان نے قسم کھائی که وه انسانوں کے بارے میں چند منصوبوں کو عملی کرے گا:

۱۔ لمبی آرزوں کے چکر میں ڈال کر انسانوں کو گمراه کرنا (جنھوں نے شیطان کی سرپرستی کو قبول کرلیا هے)

۲۔ انسانوں کو خرافاتی اور بدعتی کاموں کی دعوت دینا

۳۔ فریبی طریقوں سے اور انسان کی سالم فطرت کی جگه برے صفات کو جاگزین کرکے، الله کی خلقت میں تغییر وتبدیلی کے لئے انسانوں کو آماده کرنا۔

الله ان آیات میں شیطان کی تخریبی کاروائیوں کے بارے میں آگاه کرنے کے بعد خبردار کرتا هے که ایسے عناصر (یعنی شیطان) کی پیروی کرنے کے بهت بڑے نقصانات هیں۔ ‹۔۔۔ و من یتخذ الشیطان ولیا من دون الله فقد خسر خسرانا مبینا›



[1]



(اور جو بھی الله کو چھوڑکر شیطان کو دوست بنائے گا تو وه یقینا کھلا نقصان اٹھائے گا)۔ اور جان لو که شیطان جو وعدے کرتا هے وه جھوٹ کے علاوه ﻜﭽﮭ نهیں هے۔ ان چیزوں کے اچھے ظاهر کو تمهارے سامنے پیش کرتا هے جن کے باطن میں پستی اور بد بختی هے۔



[2]


مزید معلومات کے لئے ذیل کے اشاریوں کی طرف رجوع کریں:

۱۔ خلقت شیطان کا فلسفه س 2914 (سائٹ 3149)



۲۔ شیطان اور موت س 3764 (سائٹ 3969)



۳۔ شیطان کا ناله و شیون شیطان س 3624 (سائٹ 3891)

مزید  : "۔۔۔ جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے ( کہ کسی طرح ناقابل رویت خدا بنی اسرائیل کے لئے قابل رویت ہوتا ہے اور جسمیت پیدا کرتا ہے، جو خدا قابل تغیر ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا ہے)







[1]



سوره نساء/119






[2]



بهرام پور، ابو الفضل، نسیم حیات، ص187و188

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.