شیطان، هماری فکر و اندیشه میں کیسے نفوذ کر کے اپنے عزائم کو القا کر تا هے؟

0 0

مذکوره سوال کے صحیح جواب تک پهنچنے کے لئے ضروری هے که پهلے هم شیطان نامی اس مخلوق کے بارے میں ایک اجمالی تعارف حاصل کریں – لفظ ” شیطان” کی اصل کے استننباط کے بارے میں دانشوروں میں اختلاف نظر پایا جاتا هے – لیکن ان میں سے  سب سے مناسب تر یه هے که لفظ ” سیطان” ماده ” شطن” سے لیا گیا هے اور اس کے معنی دور کیا هوا هیں[1]

بهت سے مفسرین کے کهنے کے مطابق، شیطان ، ایک ایسی مخلوق هے ، جوموذی اور باغی هے اور سیدھے راسته بھٹک کر گمراه ھوگیا هے – اس فرض کی بناپر ، شیطان کا نام ایک عام نام هے ، جس کے متعدد مصادیق هیں اور ان مصادیق میں جن وانس میں سے هر باغی مخلوق شامل هوتی هے –[2] لیکن ابلیس وهی شیطان هے جس نے ابو البشر حضرت آدم (ع )[3] کے لئے سجده کر نے سے انکار کیا –

قرآن مجید کی وضاحت اور صراحت کے مطابق ، ابلیس جنس جن میں سے هے[4] اورآگ سے پیدا کیاگیا هے اس قسم کی مخلوقات کی خصوصیت یه هے که وه جسم وتجرد کی ایک در میانی حالت رکھتے هیں ، اس لئے شیاطین مختلف شکلوں میں رونما هوسکتے هیں یعنی ایک ظاهری قالب اور عینی حالت میں رونما هوسکتے هیں-

بظاهر، سوال سے  مراد، وهی ابلیس هے – اسی مفرضه کی بناپر هم جواب دینے کی کوشش کریں گے – جیسا که هم نے کها که شیطان ایک مثالی مخلوق هے اور هم جانتے هیں که انسان ایک دو زاویوں سے مخلوق هے، یعنی انسانی پهلو بھی رکهتا هے اور روحانی پهلو بھی رکھتا هے – پس اگر شیطان انسان کو فریب دینا چاهے تو وه مجبور هے که انسان کی روح سے رابطه کرے اور انسان کی روح حقیقت میں انسان کا وجود اور انسانیت هے – انسان کانفس مختلف پھلوؤں کا مالک هے- روحانی پهلو ، جسے روح یا نفس مطمئنه کها جاتا هے اور اس کے شیطانی پهلو کو نفس اماره یا نفسانی خواهشات کهتے هیں-

شیطان ، انسان پر حکمرانی کر نے کے لئے ، مجبور هے که اس کے نفس اماره[5] سے استفاده کرے اور دوسری جانب وه ایک مثالی مخلوق هے اور مثالی مخلوق ایک جسمانی مخلوق سے براه راست رابطه نهیں رکھه کرسکتی هے – لهذا شیطان کا انسان کے نفس اماره سے رمزیه رابطه وهی چیز هے جسے القا یا وسوسه کے عنوان سے یاد کیا جاتا هے-

علامه طباطبائی (رح)، اس سلسله میں کهتے هیں: ” شیطان دل میں وسوسه ڈالنے کے طریقے  سے انسان کو بهکاتا هے-” [6]

پس شیطان علت کا ایک جزو هے اور اکیلے هی انسان کو گمراه نهیں کرسکتا هے ، بلکه انسان کو اس کی نفسانی خواهشات کے مطابق دعوت دیتا هے- دوسرے الفاظ میں شیطان علت کا ایک حصه هے نه که مکمل علت-

انسان بھی اس کی نسبت، مختار هے اور اس کے نقش قدم پر چل سکتا هے یا حق اور اپنی عقل کی پیروی کر سکتا هے – اسی لئے خدا وند متعال انسان کو شیطان کے فر مان پر عمل کر نے سے منع کرتے هوئے فر ماتا هے : ” شیطان کے نقش قدم پر نه چلنا ، کیونکه وه تمهارا کهلا هوا دشمن هے- ” [7]

اب سوال یه هے که شیطان، انسان کے غیر معقول  جذبات اور نفسانی خواهشات کو کیسے مشتعل کرتا هے اور اسے برے اعمال انجام دینے پر مجبور کر تا هے ؟ شیطان اپنے اس مقصد تک پهنچنے کے لئے مختلف طریقوں سے استفاده کر تا هے که هم یهاں پر ان میں سے چند مواقع  کی طرف اشاره کرتے هیں-

جیسا که هم نے کها که شیطان ایک عینی مخلوق کے عنوان سے ظاهری صورت اختیار کرسکتا هے – یه شیطان کے بهکانے کا ایک طریقه هے ، یعنی نازک اور تاریخی لمحات میں ، ایک نیک انسان کے عنوان سے ظاهر هو کر انسانوں کو حق کی راه سے ، گمراه کر تا هے – اس سلسله میں   کچھـ نمو نے تاریخ میں درج هو چکے هیں ، اور ممکن هے ایسا واقعه هم میں سے بھی هر کسی کسی کی لئے پیش آیا هو- [8]

لیکن وه دوسری روشوں سے بھی استفاده کر تا هے ، جن کے بارے میں قرآن مجید کی آیات میں اشاره هوا هے:

الف) برے اعما ل کو خوبصورت انداز میں پیش کرنا: یعنی شیطان ناپسند اور برے کاموں کو خوبصورت انداز میں پیش کرتا هے ، تاکه انسان کو ان پر عمل کر نا پسندیده اور شائسته نظر آئے – یه وهی چیز هے که قرآن مجید میں اسے باطل کو حق کا لباس پهنانے[9] اور حق کو باطل کا لباس پهنانے کی تعبیر کی گئی هے اور یه یهودیوں کی ایک روش هے-

اعمال کو زینت بخشنا، ایک آسان راه هے اور انسان کے نفسانی خواهشات کے موافق هے – اس لئے قرآن مجید میں آیا هے : ” شیطان نے ان کے کردار کو زینت بخشی، پھر انهیں خدا کی راه سے گمراه کیا…” [10]

ب) جھوٹے وعدے: شیطان ، جھوٹے وعدے اور بلند وبالا آرزٶں کو ترویج دے کر اور حقائق اور اس کے سامنے موجود چیلنجوں سے انسان کو غافل کر کے ناقابل وصول وهم و گمانوں میں مشغول کرتا هے – اور یه تو معلوم هے که اس قسم کی چیز کا نتیجه خداوند متعال سے غفلت اور دین فراموشی کے سوا کچھـ نهیں هے-

اس لئے خداوند متعال فر ماتا هے: ” شیطان ان سے وعده کرتا هے اور انهیں امیدیں دلاتا هے…” [11]

ج) خوف وهراس: شیطان کے      حر بوں میں سے ایک حربه ، انسان کو اس کے مستقبل کے بارے میں ڈرانا اور دهمکانا هے – خوف و هراس کی یه حالت ایک علت هے مختلف اور فراوان ناپسند عوامل کے لئے، جیسے : امید ، خدا کے بارے میں غلط فهمی ، عدم توکل اور بالآخر انسان کو نیک کام انجام دینے سے روکنا ، مثال کے طور پر شیطان انسان کو مستقبل کے فقر وتنگدستی سے ڈراتا هے اور یه امر انسان کے لئے – بخل سے کام لینے اور خیرات  نه کر نے کا سبب بن جاتا هے – یه موضوع بھی قرآن مجید کی آیات میں مرکز توجه قرار پایا هے ، خدائے متعال فر ماتا هے: ” شیطان تم سے فقیری کا وعده کرتا هے اور تمهیں برائیوں کاحکم دیتا هے- [12]

منابع و ماخذ:

١- تفسیر نمونه، ناصر مکارم شیرازی

٢- المیزان ، محمد حسین طباطبائی-

٣- اخلاق درقرآن ، محمد تقی مصباح یزدی-


مزید  کنیت کے معنی کیا هیں؟ اور پیغمبراسلام{ص} کی کنیت،کس مناسبت سے، ابوالقاسم هے ؟

[1]  لسان العرب ، ج ١٣ اصطلاح “شطن”-

[2]  تفسیر نمونه، ج١، ص ١٩١ـ

[3] ” جب هم نے ملائکه سے کها که آدم کے لئے سجده کرو تو ابلیس کے علاوه سب نے سجده کر لیا – اس نے انکار اور غرور سے کام لیا اور کافرین میں هو گیا” بقره /٣٤-

[4] سوره کهف ، آیه ٥٠-

[5]  اخلاق در قرآن ،ص ٢٣٤-

[6] تر جمه المیزان، ج١، ص٢٠١-

[7] سوره بقره ، آیه ٢٠٨-

[8] ملاحظه هو: سلیم ابن قیس هلالی ، اسرار آل محمد ، ص٢٢٠-

[9] سوره بقره، ٤٢-

[10] سوره نحل، ٢٤-

[11]  سوره نساء ، ١٢٠ـ

[12]  سوره بقره، ٢٦٨-

تبصرے
Loading...