شراب طهور کیا هے ؟

0 1

“شراب” پینے کی[1] چیز کے معنی میں هے اور قرآن مجید میں بھی یه لفظ اسی معنی میں استعمال هوا هے جیسے ارشاد الهٰی هے: ” اور طرح طرح کے میوے اور شراب ان کے اختیار میں هوں گے[2]-”  اور ” وه وهی خدا هے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا هے جس کا ایک حصه پینے والا هے[3]-” اور “طهور” ایک ایسی چیز کے معنی میں هے جو خود بھی پاک هے[4] اور پاک کرنے والی بھی هے[5]: “اور هم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی برسایا هے[6]-“

شراب طهور:

مختلف آیات سے معلوم هوتا هے که بهشت میں مختلف قسم کے مزیدار، پاک[7] اور گوناگون کیفیتوں کے مشروب موجود هیں- نهروں میں بهنے والی رقیق چیزیں، ذات اور جوهر کے لحاظ سے بھی اور کیفیت اور مزے کے لحاظ سے بھی دنیوی رقیق چیزوں سے مختلف هیں، کیونکه دنیوی نهروں میں پانی کے علاوه کوئی چیز نهیں بهتی هے، اور یه پانی ایک مدت کے بعد بدبو دینے لگتا هے، لیکن بهشت کی نهروں میں بهنے والی سیّال و رقیق چیزیں ان دو لحاظ سے خاص امتیاز کی حامل هیں، جن کے بارے میں قرآن مجید کی آیات سے معلوم هوتا هے- قرآن مجید میں، بهشت کی چار نهروں میں بهنے والی چار رقیق چیزوں کی طرف اشاره کیا گیا هے[8]– پیاس بجھانے کے لئے پانی کی نهر، تغزیه کے لئے دودھ کی نهر ، لذت اور قوت بخشنے کے لئے شهد کی نهر اور نشاط اور شادمانی حاصل کرنے کے لئے شراب کی نهر- یه پینے والی چیزیں اس طرح خلق کی گئی هیں که ایک زمانه گزر جانے کے بعد بھی هرگز هرگز ان میں عفونت اور تبدیلی رونما نهیں هوتی هیں[9]– دوسری آیات میں ” رحیق مختوم یا تسنیم[10]” یا کافور کی آمیزش والی شراب[11] یا زنجبیل[12] کی شراب کا نام لیا گیا هے- قرآن مجید کی ایک آیت میں ” شراباً طھوراً” اور ” وسقاھم ربھم شراباً طھوراً “[13] کی تعبیر بیان کی گئی هے- یعنی : ” ان کا پروردگار ان {بهشتیوں} کو شراب طهور پلاتا هے، جس کا ساقی خود خداوند متعال هے-

مفسرین کے اقوال:

بهشتیوں سے مخصوص حیات بخش شراب کے بارے میں مفسرین کے نظریات کو تین حصوں میں پیش کیا جا سکتا هے:

۱۔ یه که شراب طهور سے مراد وه شراب هے جسے بهشتی کھانا کھانے کے بعد پیتے هیں اور یه شراب ان کے تمام اندرونی فضلات کو پاک کرتی هے اور ان کے بدن کی جلد سے صرف ایک خوشبودار اور معطر پسینه خارج هوتا هے[14] یه تصور بهشت کی نعمتوں اور غزاوں کے بارے میں ان کی بهتر اور لزیز تر کیفیت اور خصوصیت کے ساتھه ایک مادی تصور هے- چناچه روایات[15] اور قرآن مجید کی آیات میں بیان کیا گیا هے که اس شراب کو پلانے والے خوبصورت ترین ساقی هوں گے جو قدوقامت کے لحاظ سے زیبا اور خوشنما آنکھوں والے صفوں میں جام لئے هوئے کھڑے هوں گے اور بهشتیوں کو یه شراب پلانے کے لئے گردش میں هوں گے، یه ایسی شراب هوگی جس سے بهشتیوں کو خاص لذّت محسوس هوگی، وه شراب نه عقل کو مختل کرے گی نه انهیں بدمست کرے گی اور نه ان کے بدن کو کوئی ضرر پهنچائے گی[16]

۲۔ اس سے مراد هے، معنوی سیروسلوک کے لئے روحانی فوائد، تفسیر المیزان میں اس شراب کی معنوی پاکیزگی کی طرف اشاره کیا گیا هے، یه شراب خداوند متعال سے غفلت اور اس کی طرف توجه کرنے میں پردوں کی رکاوٹ کو هٹاتی هے[17]– چناچه حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے روایت هے که آپ۴ نے فرمایا: ” جب مومن شراب طهور پئے گا، تو وه خدا کے سوا تمام چیزوں سے اجتناب کر کے اپنے مولا{خدا} کی طرف متوجه هوگا[18]-” تفسیر الطیب البیان میں آیا هے که “شراب طهور” ابرار اور نیکوکاروں کے دلوں کو بُرے صفات، فاسد خیالات، هم و غم اور گندگیوں سے پاک کرتا هے[19]– امام باقر علیه السلام سے ایک روایت میں نقل کیا گیا هے که: ” جب مومنین اس شراب سے کچھه مقدار پی لیتے هیں، تو خداوند متعال اس کے توسط سے ان کے دلوں کو حسد و کینه سے پاک کرتا هے[20]-” بعض بزرگوں کا فرمانا هے که : ” چونکه توحید میں محو هو جانا اور غیر خدا سے قطع تعلق کرنا مکمل طهارت میں مضمر هے، اس لئے جو بھی چیز اس سے هم آهنگ نه هو وه ملکه طهارت سے مفقود هے، اگر ایسی شراب اس قسم کے ساقی کے هاتھوں پی لی جائے، تو وه انسان کو غیر خدا کی تمام چیزوں سے پاک کر دے گی- {چناچه} یه مضمون اهل بیت علیهم السلام کی وسیع تعلیمات پر مبنی هے[21]– حضرت امام صادق علیه السلام سے روایت نقل کی گئی هے که آپ۴ فرماتے هیں: ” یه شراب ان {بهشتیوں} کے جسم و جان کو خدائے لاشریک کے علاوه تمام چیزوں سے پاک و پاکیزه کر ڈالے گی، کیونکه صرف خداوند متعال کی پاک ذات اور اس کی یاد اور اس کا نام هی انسان کو ناپاکیوں اور آلودگیوں سے پاک کر سکتا هے[22]-“

۳۔ بعض مفسرین نے مذکوره دو نظریات کو جمع کر کے ایک درمیانی نظریه پیش کرتے هوئے فرمایا هے[23]: “چونکه انسان تاریک، مکدر، سیاه گوں مٹی اور روح خدا کا ایک خوبصورت آمیزه هے، اور خداوند متعال نے اس کے لئے مادی رزق کے علاوه روحانی اور معنوی فائدے بھی عطا کئے هیں اور چونکه انسان اپنے سیروسلوک میں متفاوت هیں، اس لئے ان کے بهشتی مراتب بھی گوناگون هیں- بعض {بهشتی} مانند ابرار “رحیق محتوم” نامی مزیدار شراب سے سیراب هوتے هیں اور اس سے انهیں باطل سے تحفظ کی ضمانت ملتی هے اور وه هر قسم کی آلودگی سے منّزه و پاک هیں اور مقربین الهٰی کے لئے چشمه تسنیم کی شراب هے- رسول اکرم صلی الله علیه وآله وسلم سے نقل کی گئی ایک حدیث میں آیا هے که آپ {ص} نے فرمایا: ” تسنیم بهشت کی بهترین شراب هے جس سے محمد و آل محمد علیهم السلام استفاده کرتے هیں اور اصحاب یمین اور باقی اهل بهشت اس شراب کے ساتھه مخلوط کی گئی شراب پیتے هیں[24]-” اس کا ساقی خود ذات اقدس الهٰی هے: ” وسقاھم ربھم شراباً طھوراً [25]” اور اس بهترین حقیقت و معرفت کا ساغر خود وهی {الله} هے: ” ان الابرار لفی نعیم۔۔۔۔۔ یسقون من رحیق مختوم۔۔۔۔[26]” مذکوره بیانات سے یوں معلوم هوتا هے که جس طرح انسان اس دنیا میں کمال کے مختلف درجوں اور مراتب پر فائز هیں ، بهشت میں بھی ان کے مختلف مراتب هیں اور وه اپنی ظرفیت اور معنوی صلاحیت کے مطابق بهشت سے استفاده کرتے هیں- اور اس لئے قرآن مجید میں ان کے بارے میں مختلف تعبیریں استعمال کی گئی هیں- بعض کو “اصحاب یمین” ، بعض کو ” ابرار” اور بعض کو بارگاه الهٰی کے “مقربین” کا نام دیا گیا هے- جو اپنے اپنے مقامات کی به نسبت بهشت کی نعمتوں سے استفاده کرتے هیں- جو بات مسلم اور حقیقت هے، وه یه هے که بهشتی سرشار اور حیات و سرور بخش لذتوں سے استفاده کرتے هیں، لیکن ویسے نهیں جیسے دنیا میں تصور کرتے تھے-


مزید  اگر ھم وضوء کے بغیر قرآن مجید کی تحریر پر اس نیت سے که یه ایک علمی کتاب ھے یا داستانیں نقل کرنے کی کتاب ھے ھاتھ لگائیں، مثال کے طور پر حضرت یوسف {ع} کی داستان نقل کرنے والی کتاب کی نیت سے اس پر ھاتھ لگائیں یا اسے ایک علمی اور تاریخی کتاب کے عنوان سے ھاتھ لگائیں، نه قرآن مجید کے عنوان سے تو کیا اس میں کوئی حرج ھے؟ اگر ھم وضوء کے بغیر، سھواً قرآن مجید کو مس کریں تو کیا اس میں کوئی اشکال ھے؟

[1] قرشى، سید على اکبر، قاموس قرآن، ج 4، ص 12.

[2] ص، 51.

[3] نحل، 10.

[4] قاموس قرآن، همان، ج 4، ص 242.

[5] فخر رازى، تفسیر الکبیر، ج 30، ص 254.

[6] فرقان، 48.

[7] بظاهر بهشتی شرابوں کی پاکیزگی اس طرح نهیں هے که دنیا میں تصور کیا جاتا هے، کیونکه بهشت میں نجاست کا هونا ممکن هی نهیں هے اور جو کچھ وهاں پر هے وه صرف رشدوکمال هے-

[8] محمد، 15.

[9] مکارم شیرازى، ناصر، پیام قرآن، تفسیر موضوعى، معاد در قرآن، ج 6، ص 244.

[10] مطففین، 27 و 28.

[11] دهر، 5 و 6.

[12] دهر، 17 و 18.

[13] دهر، 21.

[14] فخر رازى، تفسیر الکبیر، ج 30، ص 254؛ مجمع البیان، ج 10، ص 623.

[15] نورالثقلین، ج 5، ص 32 و 33، کی حدیث 30 کی طرف رجوع کیا جا سکتا هے جو عبدالله بن سنان نے حضرت امام صادق۴ سے نقل کی هے.

[16] صافات، 45 و 47؛ زخرف، 7.

[17] طباطبائى محمد حسین ، تفسیر المیزان، ترجمه، موسوى همدانى، بنیاد علمى فکرى علامه طباطبایى، 1363، ج 20، ص 361.

[18] منهج الصادقین، ج 10، ص 110؛ مجمع البیان، ج 10، ص 623.

[19] طیب سید عبدالحسین ، تفسیر اطیب البیان در تفسیر قرآن، ج 13، ص 327.

[20] تفسیر صافى از کافى، نقل از تفسیر احسن الحدیث، سید على اکبر قرشى، ج 11، ص 27.

[21] جوادى آملى، تفسیر موضوعى قرآن در قرآن، ج 5، ص 298 و 302.

[22] طبرسى، تفسیر مجمع البیان، ج 10، ص 623.

[23] جوادى آملى، تفسیر تسنیم، اسراء، چاپ اول 1378 هش، ج 1، ص 27.

[24] بحارالانوار، ج 44، ص 3؛ علم الیقین، ج 2، ص 1253، نقل از تفسیر تسنیم.

[25] انسان، 21.

[26] مطففین، 27 و 28.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.