سکون کی حقیقت کیا هے اور اس تک پهنچنے کی کونسی راهیں هیں؟

0 1

آرام، یعنی سوکن، تسکین اور اطمینان[1] اس کے مقابل میں تشویش، پریشانی و اضطراب هے ـ

اسلام کے مطابق، آرام و سکون، ایک حقیقی اور قابل و صول چیز هے ـ هماری دینی کتابوں میں سکون کو حاصل کرنے کی کئی راهیں بیان کی گئی هیں اور یه اس کو حاصل کرنے کے امکان کی بهترین دلیل هے ـ اس کے علاوه وه ان بزرگوں کی زندگی کا مطالعه کرنا، جهنوں نے دین کے احکام پر عمل کرکے اندرونی آرام و سکون کو حاصل کیا هے، اس حقیقت کی طرف راهنمائی کرسکتا هے که زندگی میں سکون حاصل کرنا صرف ایک نعره نهیں هے بلکه یه ایک ایسی چیز هے، جسے، دینی احکام پر عمل کرکے هم بھی اپنے اندر محسوس اور تجربه کرسکتے هیں ـ

سکون حاصل هونے کے عوامل:

قرآن مجید اور روایتوں میں آرام و سکون کو حاصل کرنے کے متعدد عوامل بیان هوئے هیں، که ان میں سے بعض حسب ذیل هیں:

1ـ ذکر و یاد خدا: قرآن مجید میں ارشاد الٰهی هے : “آگاه هوجاو که اطمینان قلب (اور آرام) یاد خدا سے هی حاصل هوتا هے ـ”[2] یاد اور ذکر خدا کا مراد یه هے که انسان کو همیشه توجه اور یقین رکھنا چاهئے، که دنیا میں کوئی مخلوق “الله” سے جدا اور آزاد وجود نهیں رکھـ سکتی هے، اثر کا سرچشمه هونے کی بات هی نهیں ـ ارشاد الٰهی هے: “ساری عزت صرف الله کے لئے هے”ـ[3] “پیغمبر! آپ کهئے که خدا تو صاحب اقتدار هے جس کو چاهتا هے اقتدار دیتا هے اور جس سے چاهتا هے سلب کرتا هے ـ جس کو چاهتا هے عزت دیتا هے اور جس کو چاهتا هے ذلیل کرتا هے، سارا خیر تیرے هاتھـ میں هے اور تو هی هر شے پر قادر هے ـ”[4]

اس قسم کے انسان کو کسی قسم کی پریشانی، خوف اور ڈر نهیں هوتا هے، چنانچه قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے : “. . . جو بھی اس کا اتباع کرے گا اس کے لئے نه کوئی خوف هوگا نه حزن ـ”[5] جی ھاں: اگر انسان حقیقت میں دل و جان سے باور کرتا هو که خداوند متعال سے وابستگی کے بغیر دنیا میں کوئی قدرت اور تغیر و تبدل ممکن نهیں هے اور اس کے بعد زبان پر جاری کرے “لاحول ولا قوۃ الا باالله العلی العظیم” تو اس کے لئے کوئی پریشانی اور اضطراب نهیں هوگا ـ

رسول اکرم صلی الله وآله وسلم نے فرمایا: “لاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم” کا ذکر 99 بیماریوں کا شفا هے که ان میں سے معمولی ترین بیماریاں غم و غصه هے ـ[6]

2ـ خدا پر توکل: توکل، یعنی انسان اپنا فریضه اپنی تونائی کے مطابق انجام دے اور کام کا نتیجه خداوند متعال پر چھوڑ دے ـ اس سلسله میں قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے : “جو خدا پر بھروسه کرے گا، خدا اس کے لئے کافی هے”ـ[7]

3ـ رضائے الٰهی پر راضی هونا: اگر انسان یقین رکھتا هو که خداوند متعال همیشه اپنے بندوں کا خیر خواه هے اور رضائے الٰهی پر راضی هو جائے تو اس کے لئے کسی قسم کی پریشانی نهیں هوگی ـ

4ـ اولیا ئے الٰهی سے رابطه اور ان کی اطاعت: خداوند متعال اپنے پیغمبر (ص) سے ارشاد فرماتا هے : “آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث هوگی ـ[8]

5ـ مومن و صالح شریک زندگی سے ازدواج: اس سلسله میں قرآن مجید میں ارشاد الٰهی هے:”اور اس کی نشانیوں میں سے یه بھی هے که اس نے تمھارا جوڑاتمھیں میں سے پیدا کیا هے تاکه تمھیں اس سے سکون حاصل هو ـ”[9]

6ـ رات کو آرام کرنا: خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتے هے: “خدا وه هے جس نے تمھارے لئے رات بنائی هے تاکه اس میں سکون حاصل کرسکو”ـ[10]

7ـ سالم اور طبیعی غذایئں کھانا: روایتوں میں آیا هے که سیاه انگور کو کھانا[11] غم و غصه کو دور کرتا هے ـ

8ـ پاکیزگی اور صفائی: روایتوں میں آیا هے که: لباس دھونا[12] اور سر دھونا . . .[13] غم و غصه کو دور کرنے کا سبب بن جاتا هے ـ

یه آرام و سکون حاصل کرنے کے بعض عوامل هیں جو آیات و روایات میں بیان کئے گئے هیں ـ

دوسری جانب سے اگر انسان ان چیزوں سے پرهیز کرے جو آرام و سکون کے لئے رکاوٹ بنتی هیں اور انسان کے لئے پریشانیوں کا سبب بنتی هیں، تو آرام و سکون کے لئے زمینه فراهم هوتا هے ـ آرام و سکون کونابود کرنے والے بعض عوامل جن کا روایتوں میں اشاره هوا هے، حسب ذیل هیں:

1ـ دنیا سے لگاو: پیغمبر اسلام صلی الله وآله وسلم نے فرمایا هے : “دنیا سے دلچسپی اور لگاو انسان کے لئے غم و حزن کا سبب بن جاتا هے اور تقوی اور دنیا سے عدم دلچسپی قلب و بدن کے لئے سکون و آرام کا سبب بنتے هیں”ـ[14]

امام خمینی (رح) نے بھی روایات کے پیش نظر اپنے فرزند حاج سید احمد خمینی “(رح) سے فرمایا: “میں نے مختلف طبقات کے بارے میں جو ملاحظه اور مطالعه کیا هے اس سے اس نتیجه پر پهنچا هوں که قدر تمنه اور دولتمند طبقات کے باطنی نفسیاتی رنج وآلام دوسرے طبقات کی به نسبت بهت هی تکلیف ده اور جگر سوز ترهیں ـ ـ ـ” جو چیز انسانوں کے لئے نجات اور سکون قلب کا سبب بنتی هے،وه دنیا اور اس کے تعلقات سے لگاو و دلچسپی نه رکھنا هے اور یه چیز خداوند متعال کی دائمی یاد اور ذکر سے حاصل هوتی هے ـ[15]

2ـ لوگوں کے مال کی لالچ کرنا: پیغمبر اسلام صلی الله وآله وسلم نے فرمایا هے: “جو دوسروں کے مال کی لالچ اور اس پر نظر رکھتا هے، اس کا حزن و غم طولانی هوگا ـ”[16]

3ـ حسد:امیرالمومنین حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: “میں نے حسود کے علاوه کسی ظالم کو نهیں دیکھا جو مظلوم کا شبیه ترین فرد هوتا هے، کیونکه اس کا دل غم و غصه سے بھرا هوتا هے اور اس کاحزن نه ختم هونے والا هوتا هے”ـ[17]

4ـ شک و ناراضگی: رسول خدا صلی الله وآله وسلم نے فرمایا هے: “بیشک خداوند متعال نے اپنے فضل و حکمت سے یقین و رضا میں سکون و شادی قرار دی هے و ناراضگی میں غصه و نا آرامی کو قرار دیا هے ـ”[18]

پس آرام و سکون کو حاصل کرنا صرف ایک نعره نهیں هے، بلکه قابل وصول ایک حقیقت هے اور اس پر عمل کرنے کی بهت سے طریقے هیں جو دینی کتابوں میں واضح صورت میں بیان کی گئی هیں ـ


مزید  حق کیا هے اور کس طرح حق کی پیروی کی جا سکتی هے؟

[1]  المصباح المنیر، قسمت حرف «ط» کلمه طمأن.

[2]  سوره رعد، 28. «الا بذکر الله تطمئن القلوب».

[3]  سوره نساء، 139. «ان العزة لله جمیعاً».

[4] سوره آل عمران، 26؛ «قُلِ اللَّهُمَّ مالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشاءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشاءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلى‏ کُلِّ شَیْ‏ءٍ قَدیرٌ».

[5] سوره بقره،38؛ «فمن تبع هدای فلاخوف علیهم…»

[6]  بحارالانوار، ج 74، ص 88.

[7] سوره طلاق، 3؛ «ومن یتوکل علی الله فهو حسبه».

[8] سوره توبه، 103. .«ان صلوتک سکن لهم».

[9] سوره روم، 21.

[10] سوره یونس، 67. «هو الذی جعل لکم اللیل لتسکنوا فیه».

[11]  [11] 6- سن، [المحاسن‏] عَنْ بَکْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ شَکَا نَبِیٌّ مِنَ الْأَنْبِیَاءِ إِلَى اللَّهِ الْغَمَّ فَأَمَرَهُ بِأَکْلِ الْعِنَبِ. بحارالانوار، ج 73، ص 323.

[12]  قال علی (ع): غسل الثیاب یذهب بالهم و الحزن – بحارالانوار، ج 76، ص 84 و الخصال.

[13]  قال الصادق (ع): “من وجد هما فلایدری ما هو فلیغسل رأسه”، بحار الانوار، ج 76، ص 323.

[14]  قال رسول الله (ص): “الرغبة فی الدنیا تورث الغم و الحزن، و الزهد فی الدنیا راحة القلب و البدن”، بحارالانوار، ج 73، ص 91.

[15]  وعده دیدار، موسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، نامه 26/4/1363.

[16]  قال رسول الله (ص): “من نظر الی ما فی ایدی الناس، طال حزنه و دام اسفه”، بحارالانوار، ج 77، ص 172.

[17]  بحارالانوار، ج 73، ص 256.

[18]  بحارالانوار، ج 77، ص 61 و تحف العقول.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.