سویابین کى ملیٹھى بناتے وقت اگر اس کے دانوں میں سے الکحل کا مواد خارج هوجائے، تو کیا اس صورت میں سویا بین کى ملیٹھى کھانا جائز هے؟

0 0

اس سوال کے جواب میں مراجع تقلید (حفظه الله) نے حسب ذیل جواب فرمایا هے ;

حضرت آیت الله العظمى خامنه اى (مدظله العالى):

اگر نشه آورنه هو تو کوئى حرج نهیں هے ـ

حضرت آیت الله العظمى ناصر مکارم شیرازى (مد ظله العالى):

اگر اس میں اس قدر الکحل هو، جو مستى ایجاد کرنے کا سبب بنے تو جائز نهیں هے اور اس طرح اگر اس میں پهلے سے مست کرنے والا الکحل ملا یا گیا هو، اگرچه اس وقت نشه آور نه هو، پھر بھى جائز نهیں هے ـ

حضرت آیت الله العظنى صافى گلپایگانى (مدظله العالى):

بعض غذاوں میں، جیسے سرکه اور مذکوره غذا میں صرف الکحل کى کچھـ مقدار کا بطور تجزیه و آزمائش هونا اس کے نجس هونے کا سبب نهیں بن سکتا هے اور اس کے کھانے میں کوئى حرج نهیں هے ـ  والله العالم ـ

مزید  انسا نوں کے معاد کے سلسلہ میں سورہ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۱ اور سورہ قصص کی آیت نمبر۲۸ میں بیان کیا گیا ہے کہ: اس وقت کوئی شخص کسی دوسرے سے مدد کی درخواست اور سوال نہیں کرے گا{ لا یسئلون} لیکن سورہ صافات کی آیت نمبر ۲۷ اور ۵۰ میں اور سورہ طور کی آیت نمبر ۲۵ میں اعلا ن کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض افراد ایک دوسرے سے سوال کرکے مدد کی درخواست کرتے ہیں {یتسائلون}، اس تناقض کو کیسے برطرف کیا جاسکتا ہے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.