سویابین کى ملیٹھى بناتے وقت اگر اس کے دانوں میں سے الکحل کا مواد خارج هوجائے، تو کیا اس صورت میں سویا بین کى ملیٹھى کھانا جائز هے؟

0 0

اس سوال کے جواب میں مراجع تقلید (حفظه الله) نے حسب ذیل جواب فرمایا هے ;

حضرت آیت الله العظمى خامنه اى (مدظله العالى):

اگر نشه آورنه هو تو کوئى حرج نهیں هے ـ

حضرت آیت الله العظمى ناصر مکارم شیرازى (مد ظله العالى):

اگر اس میں اس قدر الکحل هو، جو مستى ایجاد کرنے کا سبب بنے تو جائز نهیں هے اور اس طرح اگر اس میں پهلے سے مست کرنے والا الکحل ملا یا گیا هو، اگرچه اس وقت نشه آور نه هو، پھر بھى جائز نهیں هے ـ

حضرت آیت الله العظنى صافى گلپایگانى (مدظله العالى):

بعض غذاوں میں، جیسے سرکه اور مذکوره غذا میں صرف الکحل کى کچھـ مقدار کا بطور تجزیه و آزمائش هونا اس کے نجس هونے کا سبب نهیں بن سکتا هے اور اس کے کھانے میں کوئى حرج نهیں هے ـ  والله العالم ـ

مزید  میں 16 سال کی عمر میں ایک لڑکے کی عاشق ہوئی لیکن اس کی نیت سے بے خبر تھی اور خدا سے غفلت کرکے اس لڑکے کے ساتھ عشق و مبت کے پیش نظر گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوئی۔ لیکن ایک مدت کے بعد اس نے ازدواج کی اور مجھے مشکلات سے دوچار کرکے تنہا چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد میں نے بارگاہ الہی میں پناہ لے لی اور روز بروز میرا اعتقاد مستحکم تر ہوا، لیکن کبھی کبھی مشت زنی کے گناہ کی مرتکب ہوتی تھی لیکن خوف خدا مجھے بارہا توبہ کی طرف لے آیا اور میں نے بارہا توبہ توڑ دیا۔ اخیراً میں ایک مشکل سے دوچار ہوئی ہوں اور شیطان مجھے مسلسل وسواس سے دوچار کر رہا ہے کہ اگر میں عبادت کرنے لگتی ہوں تمام چیزوں ( وجود خدا، قرآن کی حقیقت اور وجود ائمہ) پر شک کرتی ہوں، باوجودیکہ جانتی ہوں کہ میراشک باطل ہے، مسلسل گناہ کا احساس کرتی ہوں، میں کیسے شیطان کے شر سے آزاد ہوجاؤں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا نے مجھے رد کیا ہو؟ میں خداوند متعال کو دوست رکھتی ہوں۔
تبصرے
Loading...