سوره نساء کی آیت نمبر ۷۸ اور ۷۹ کے پیش نظر کیا برائیاں خدا سے منسوب ھیں یا انسان سے ؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa3381


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
12002

سوره نساء کی آیت نمبر ۷۸ اور ۷۹ کے پیش نظر کیا برائیاں خدا سے منسوب ھیں یا انسان سے ؟

سوره نساء کی آیت نمبر ۷۸ اور ۷۹ میں پھلی آیت میں کھاگیا ھے که برائیاں اور نیکیاں سب خدا کی طرف سے ھیں جبکه دوسری آیت میں کھاگیا ھے که برائیاں انسان کی طرف سے ھیں ۔ پس آخر کار حقیقت کیا ھے ؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  شیعہ کہتے ہیں امام علی (ع) کے فضائل اور انکی امامت کا منصوص ہونا تواتر سے ثابت ہے ، جبکہ یہاں کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ دعوی کرنے والے شیعہ حضرات ، اصحاب میں سے نہیں ہیں لہذا انہوں نے نہ تو پیغمبر کی زیارت کی ہے اور نہ ہی آپ کی فرمائشات کو سنا ہے اور اگر شیعہ اپنی روایات کہ صحابہ سے منسوب نہ کریں تو انکے یہ بیانات مرسل اور منقطع شمار ہونگے اور صحیح حدیث کے زمرے میں نہیں آئیں گے اور اصحاب کی وہ تعداد جسے شیعہ قبول کرتے ہیں انکی تعداد بہت کم ہے کہ جسے دس افراد یا اس سے تھوڑا زیادہ بیان کیا گیا ہے اور اگر اتنی تعداد کسی روایت کو نقل کرتی ہے تو انکے اس منقول کو تواتر نہیں کہا جا سکتا اور اصحاب کی جس بڑی تعداد نے امام علی (ع) کے فضائل نقل کیے ہیں شیعہ حضرات انکی بابت اچھی ذہنیت نہیں رکھتے اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں ۔ جب وہ اتنی بڑی جماعت کہ جنکی قرآن نے تعریف کی ہے اس پر جھوٹا ہونے اور حقیقت چھپانے کا الزام لگاتے ہیں تو مٹھی بھر افراد کے جھوٹ بولنے اور حقیقت چھپانے کا تو زیادہ احتمال ہے ؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.