سوره مریم کی آیت نمبر١٧میں، خداوند متعال کے اس قول… فارسلنا الیها روحا فتمثل لها بشرا سویا-” کا معنی کیا هے؟ تمثل کے بارے میں وضاحت فرما ئیے-

0 0

سوره مریم کی آیت نمبر ١٧ کا تر جمه:” اور لو گوں کی طرف پرده ڈال دیا تو هم نے اپنی روح کو بھیجا تاکه ایک خوبصورت انسان کی شکل میں پیش آیا-“

“تمثًل” کا لغوی و اصطلاحی مفهوم: لفظ ” تمثل” تصور کر نے[1] کے معنی میں هے ، جیسے کسی چیز کے مانند هونا، کسی کے سامنے کهڑا رهنا اور کسی کے لئے کسی چیز کا تصور پیدا هو نا –[2] اور کها جاسکتا هے که، تمثًل حقیقت میں ماده “مثول” سے کسی شخص یا چیز کے سامنے کھڑے رهنا هے ، اور “ممثل” ایک ایسی چیز کو کها جاسکتا هے جو دوسرے کی شکل میں نمایاں هو تی هے – اس بنا پر “فتمثل لها بشراً سویاً ” کا مفهوم یه هے که ایک فرشته الهی انسان کی شکل و صورت میں ظاهرهوا- بیشک اس بات کے معنی یه نهیں هیں که جبرئیل صورت وسیرت میں ایک انسان میں تبدیل هوگئے هیں ، کیو نکه اس قسم کی تبدیلی اور دگر گونی ملائکه کے لئے ممکن نهیں هے ، بلکه اس سے  مراد یه هے که وه ایک انسان کی صورت میں ظاهر هوئے  اگر چه سیرت کے لحاظ سے وهی فرشته تھے ، لیکن حضرت مریم (ع) کو ابتدامیں اس کی خبر نهیں تھی ، اس لئے انھوں  نے یوں تصور کیا که وه ایک ایسی مخلوق کے سامنے هیں، جو سیرت و صورت میں انسان هے-[3]

آیه شریفه میں تمثل، اس کے اسی لغوی معنی میں هے، یعنی کسی کے لئے کسی چیز کا تصور اور ظاهر هو نا – قرآن مجید میں لفظ “تمثل “صرف حضرت مریم(ع) کے لئے استعمال هوا هے- لیکن اسلامی روایات اور تاریخ میں تمثًل اور اس کے مشابه الفاظ(تنصب، تصور،تبدل، سنخ، ظهور …) بهت زیاده پائے جاتے هیں اور یه لفظ وسیع معنی میں استعمال هوا هے – من جمله : ابلیس کا دارالندوه میں ایک خیر خواه بوڑھے کی شکل میں تمثل پیدا کر نا جس نے قریش کے سرداروں کو فریب دیا اور یا دنیا اور اس کے باطن کا ایک خوبصورت عورت کے روپ میں حضرت علی علیه السلام کے سامنے ظاهر هو نا اور انسان کے مال ، اولاد اور عمل کا موت کے وقت خاص اور مختلف شکلوں میں اس کے سامنے مجسم هو نا یا انسان کے اعمال اور عبادتوں کا قبر میں اور قیامت کے دن مختلف اور مخصوص صورتوں میں تمثل اور تجسم هو نا-اور اس کے علاه بهشت میں مو من قاری قرآن کے لئے قرآن مجید کا نیک اور بلند درجه کی صورت میں تمثل و تجسم هو نا اور اسی کے مانند اسلامی کتا بوں میں آیا هے-

ان تمام مواقع پر تمثل کے مفهوم و معنی یه هیں که کو ئی چیز یا شخص کسی دوسری شکل میں کسی انسان کے سامنے ظاهر هو جائے ، بغیر اس کے که اس کی ذات اور ماهیت میں کوئی تبدیلی واقع هو جائے-

اس دعوی کا ایک واضح نمونه سوره هود کی آیت نمبر ٦٩ اور ٧٠هے جس میں حضرت ابراهیم علیه السلام کے پاس آئے ھوئے فرشتوں کا تجسم و تمثل هونا بیان هوا هے – جناب استاد علامه شعرانی (رح) اپنی کتاب “راه سعادت” میں کهتے هیں:” قرآن مجید میں آیا هے که جب فرشتے حضرت ابراهیم علیه السلام کے پاس آگئے تاکه انهیں حضرت اسحاق (ع) کی بشارت دید یں ، تو حضرت ابراهیم علیه السلام نے ایک گوساله کو ذبح کر کے کباب بنا کر ان کے سامنے رکھا اور دیکها که وه گوساله کو هاتهـ نهیں لگاتے هیں ، حضرت ابراھیم (ع) کو ان کا یه طرز عمل پسند نهیں آیا اور ڈر گئے – لیکن تورات میں آیا هے (تورات سفر تکوینی ١٨،٨) که فرشتوں نے اس گو ساله کو کها یا ، لیکن صحیح وهی هے جو قرآن مجید فر ماتا هے ، کیونکه فرشتے دنیا کی غذا نهیں کهاتے هیں – اگر قرآن مجید کی حکا یتیں تورات سے نقل کی گئی هوتیں تو اس کے مانند هوتیں ، لیکن یه پروردگار کی طرف سے وحی الهی هے که وه جانتا هے که فرشتے غذا نهیں کھا تے هیں ، اور جس نے تعلیم حاصل نهیں کی هے ، حکمت الهی کے رموز سے آگاه نهیں هے اور عالم مجردات کی خبر نهیں رکھتا هے ، وه اس قسم کے امور کو نهیں سمجھـ سکتا هے…[4]

معلوم هوا که جو احادیث ملائکه کے بارے میں روایت کی گئی هیں که وه مختلف صورتوں میں دکھائی دیتے تھے ، اس سے مراد ان کی ذات و حقیقت کو ظاهری آنکھوں سے دیکھنا نهیں هے ، کیونکه ان کی اصل، روحانی اور مجرد هے،بلکه ان کا ظهور ادراک کر نے والوں کے ادراک کی ظر فیت کے مطابق هے که وه مجرد حقائق سے ” خالی  ھونے کے بغیر ادراک کر نے والوں کے وجود کے دائره میں مختلف صورتوں میں ظهور پیدا کرتے هیں ، جسے قرآن مجید نے “تمثل ” سے تعبیر کیا هے-

یه جو هم نے “بغیر تجافی ” کها اس سے

مزید  حضرت محمد(ص) کو، کیوں امین کهتے هیں؟

 

 

 مراد یه هے که فرشته کا نفسی وجود،جو اس کی حقیقی ذات هےاپنی حقیقت سے خارج نهیں هوتا هے اور اس کی ذات انسان کی حقیقت میں اسطرح تبدیل نهیں هوتی هے که هو بهو انسان میں بدل جائے ، بلکه اس کی ذات حقیقت ادراک کی ظر فیت میں انسان کی صورت میں ” تمثل” پیدا کرتی هے اور مجرد کے قوه ادراک نے جو فرشته کی حقیقت مجرد سے رابطه پیدا کیا هے وه ادراک کر نے والا اپنے ادراک کی ظرفیت کے مطابق اپنے قوه خیال میں ، جو بذات خود تجرد بر زخی کا حامل هے ، ادراک کر نے والے کے نفسانی حالات کے مطابق متمثل هو تا هے-[5]

” تمثل” کے سلسله میں ممکن هے ذهن میں چند شبهات اور سوالات پیدا هو جائیں که ان میں سے بعض کی طرف هم ذیل میں ان کے جواب کے ساتھـ اشاره کر تے هیں:

١) تمثل کے سلسله میں ، کیا یه ممکن نهیں هے که ادرا ک کر نے والا شخص کسی چیز کو غلطی سے ادراک کرے اور پھر ایسا تصور کرے که وه چیز حقیقی اور واقعی تھی ، جبکه اصل میں کوئی حقیقت نهیں تھی – دوسرے الفاظ میں ادراک کر نے والے کے ادراک کا معیار کیا هے؟

جواب: اس مسئله کی یاد دهانی کرانا ضروری هے که معرفت شناسی کی بحث میں یوں کها گیا هے که شناخت و ادراک عبارت هے : ” خود شے یا اس کی جزئی صورت کا حاضر هو نا( ظاهری صورت اورا نفرادی مشخصات میں ) یا ادراک کر نے والے کے پاس اس کا کلی مفهوم”- خود شے کا حضور جیسے “میرے” اور “میرے حالات”میرے نزدیک اور کسی چیزکی جزئی صورت میں حضور ، جیسے انسان ، حیوان اور پهاڑ کی کلی صورت کا میرے پاس حاضر هو نا- یه تعریف علم حضوری اور علم حصولی پر مشتمل هے.[6]

یه امر بھی مسلم هے که حسی اور خیالی معرفتوں میں همارا مدرک (ادراک کر نے والا) ایک جزئی امر هے – لیکن اس فرق کے ساتھـ که خیالی ادراک میں ، ادراک کر نے والے کے حسی ادراک کے بر عکس محسوس کی صورت میں ماده کے حضور کے بغیر قابل تصور هے – مذ کوره مسئله کے پیش نظر ، تمثل ، جو عبارت هے ، انسان کے لئے کسی چیز کا ، اس صورت میں ظهور که انسان اس سے محبت رکھتا هے اور اس کا ظهور اس کی غرض کے مطابق هو تا هے، جیسے ، جبرئیل(ع) کا ایک مکمل انسان کی صورت میں حضرت مر یم (ع) کے سامنے ظاهر هو نا – چونکه انسان کا رسالت سے معمول یهی هے که شخص رسول(ص) اپنی رسالت کو لے کر مرسل الیه کے پاس آتا هے،اورجو کچھـ لے آتا هے اسے گفتگو کی صورت میں ادا کرتا هے اور اس سلسله کو باطل وهمی اور تخیلی امر سے مخلوط نهیں کر نا چاهئے جو سرا ب کے مانند هو تا هے – جس طر ح سو فسطائی اپنا نظریه پیش کر تا هے که: کوئی بهی چیز ایسی نهیں هے جیسا که هم اس کا ادراک کر تے هیں، کیو نکه اس گروه کا استدلال یه هے که ایک حقیقت کے واقعی صورت میں ظاهر هو نے ، جو ادراک کر نے والے کا معمول هے ،اوراس کے ادراک کے مطابق هونے اور خارج میں اصلا ً وجود نه رکھنے اور صرف ایک تصوراتی صورت ادراک هو نے کے در میان فرق هے ، یه دوسری حالت سو فسطائی هے نه که پهلی- اور علم حصولی میں اس سے زیاده توقع رکھنا ایک بے جا توقع هے-[7]

ضمناً قابل ذکر بات یه هے که اسلامی فلسفه میں ، معیار اور صحیح اور غلط هو نا، ادراک شده قضیه کے حقیقت کے مطابق هو نا هے ، خواه قضیه خارجی هو یا ذهنی اور یا اعتباری یا نفس الامری – اس بناپر ذهنی قضایا میں صدق کا معیار ان قضایا کے نفس الامری سے مطابقت رکھنا هے که وه وجود خارجی محسوس سے زیاده عام  هے –[8]

٢) کیا پیغمر(ص) اور ان کے وصی کے علاوه کوئی اور شخص جبرئیل کو دیکھـ سکتا هے عالم ملکوت سے رابطه پیدا کر سکتا هے ؟ جیسے حضرت مریم (ع)؟

جواب: قرآن مجید کی بعض آیات اور اسلامی کتا بوں سے معلوم هو تا هے که انسان عالم ملکوت سےرابطه قائم کر سکتا هے ، کیو نکه سوره اعراف آیت نمبر ١٨٥ میں خدا وند متعال توبیخ ، تر غیب و تحریک کے مقام پر انسانوں کو عالم ملکوت اور دنیا کے باطن کا ادراک کر نے کے لئے دعوت دیتا هے : ” اولم ینظروا فی ملکوت السموات والارض”- اور عرفاء کے قول کے مطابق حضرت ابراھیم علیه السلام کے واقعات (انعام/٧٥) اور حضرت مریم علیها السلام کی داستان سے ثابت هو تا هے که هر انسان عالم ملکوت کی طرف پرواز کر نے کی صلاحیت ، شائستگی اور استعداد رکھتا هے ، کیو نکه ” تمثل” آئینه میں کسی چیز کی تصویر دکھائی دینے کے مانند هے که وه چیز اپنی جگه پرقائم هو تی هے اور آئینه میں بھی ظهور پیدا کر تی هے – عالم مجرد کا ادراک کر نا اور ملائکه اور ماورائے فطرت ارواح کو دیکھنا بھی ایک صورت میں اسی کے مانند هے- یه تصور نهیں کیا جانا چاهئے که یه مقام صرف نبی یا اس کے وصی تک محدود هے، کیو نکه حضرت مریم(ع) نه نبی تھیں اور نه وصی بلکه صرف اولیائے الهی میں سے تھیں-[9]

٣- کیا عالم غیب سے عالم فطرت میں پلٹ کر آنا، کمال سے عیب کی طرف رجوع کر نے کے مترادف نهیں هے اور ملا صدرا کے فلسفه میں پیش کی گئی حر کت جوهری کے نظریه سے منافی نهیں هے؟ یعنی کسی مخلوق کے فعلیت کی حالت پر پهنچنے کے بعد پھر سے بالقوه حالت کی طرف پلٹنا اور کیا اپنے اعلی اور کمال کے مطلوب کو چھوڑدینا تمثل میں مشکل پیدا نهیں کرتا هے؟

جواب: عالم غیب سے دنیا اور عالم فطرت کی ظرف پلٹنا اس وقت محال هے که جب کوئی مخلوق کمال جوهری کو حاصل کر نے کے بعد اسے کھو دے اور اپنے حاصل کئے گئے عالی فعلیت کی حالت کے کمال کو ضائع کر دے، جو اس کی ذات میں تحول وتبدل پیدا  کر نے کا سبب بن چکا هو- یه معنی” تمثل” اور اس کے مانند امور ( جیسے مسئله رجعت) پر لاگو نهیں هو تا هے ، کیو نکه اس حالت میں قوت وجودی اور وجود و شخصیت  میں اپنی وسعت کے پیش نظر نفس، تمام عالموں  کو اس معنی میں تحفظ د ے اور اس صورت میں عالم پر مکمل توجه رکھتا هے اور اس کے علاوه عالم فطرت و دنیا پر بھی تو جه رکھتا هے-[10] جیسا که عرفا خداوند عالم کے انسان اور کائنات کے لئے تجلی اور ظهور کے بارے میں بیان کرتے هیں ، اس معنی میں عرفا اعتقاد رکھتے هیں که، چونکه خداوند متعال نے اراده فر مایا هے که وه مخفی هو نے کی حالت سے باهر آئے( مخفی ایک ایسا مرتبه هے که اس میں تعین اور  قید نهیں هے اور ایک لا تعینی اور اطلاق ذاتی کا مرتبه هے) اور اپنے جمال و صفات کو اشیا و افراد میں دکھلائے ، پس اس نے دنیا وانسان میں جلوه نمائی  کی اور ان کو تخلیق کر نے کا اقدام کیا اور نتیجه کے طور پر پهلا ذاتی تعین متحقق هوا-( فکنت کنزاً مخفیاً فاجبت ان اعرف مخلقت الحق لکی اعرف…”پس خدا وند متعال کا انسان اور دوسری مخلوقات کو تخلیق کر نے کا مقصد اس کا “ظهور و تجلی” هے-[11]

اور فرشتوں کے “تمثل” کا سلسله بھی یهی مقوله هے، کیونکه ملائکه بدن محسوس کے حامل هو نے کے محتاج نهیں هیں ، لیکن بعض مواقع پر خدا کے حکم سے متمثل هو تے هیں اور مخصوص جسموں میں ظاهر هو تے هیں ، جس طرح حضرت مریم(ع) کی داستان میں اشاره هوا اور یهاں پر مذکوره سوال کے بارے میں ابهام کو دور کر نے کے لئے یاد دهانی کراتے هیں که: کبھی روح کے عقلی عروج کے مقام کو حاصل کر نے کے لئے ظاهری اور جسمانی حواس کی ضرورت هو تی هے که اسے کل علوم و معارف ظاهری حواس کی روشنی میں روح کے جوهر سے حاصل کر نا چاهئے ، تاکه عقل بالفعل مکمل هو جائے اور یه دنیوی سیر اور حر کت جوهری هے – اور کبھی وهی کامل روحانی قوت کمال حاصل کر نے کے بعد اپنے کو شکل و صورت کے عالم میں ظاهر کرتی هے اور حس وقوائے حسیه کی صورت میں نمایاں هو تی هے، اس تجلی اور ظهور کو “تمثل” کهتے هیں – روح کی یه قوت حواس خمسه کی احتیاج تب تک پوری نهیں هو سکتی هے جب تک نه فعل سے قوت میں نزول کرے ، بلکه ” اشراق روح” کے معنی هیں، مقام نازل کی نسبت جو بھی تنزل عالمی اور اپنے آپ کو اپنے مقام اعلی سے رها کر نے کے در میان فرق کو اشراق عالی کے مقام نازله اور  تجلی پر نه چھوڑے ، تو وه اس قسم کے وسوسوں اور اوهام سے دو چار هو گا – لهذا واضح هوا که نفس کامل کا دنیا میں پلٹ کر آنا (رجعت) اور حس کی ترقی، بشریت کے روپ میں[12] روح القدس کے تمثل کے مانند هے-


مزید  نماز وحشت میں آیته الکرسی کو " العلی العظیم" تک پڑھنا چاھئے یا " ھم فیھا خالدوں" تک؟

[1] – راغب اصفهانی ، مفر دات، لسان العرب، وازه ی تمثل-

[2] – دھخدا، لغتنامه، وازه ی تمثل-

[3]– علامه ی طباطبائی ، تفسیر المیزان، ج١٤، آیه ی١٧ سوره ی مریم ، مکارم شیرازی ، تفسیر نمو نه ، ج ١٣-

[4] – حسن زاده آملی، انسان و قرآن، ص٦٧-

[5] – حسن زاده آملی ، انسان وقرآن،ص٧١، کمره ای ، میرزا خلیل ، افق وحی، ص٣٢٢، طبع آبان، ١٣٤٧ش-

[6] – مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش فلسفه ای، ج١، فصل اول، به نقل انسان شناسی ، سید حسین ابرا ھیمیان ، ص٧٢-

[7] – نقل اوراز المیزان،ج١٤،ص٥٧-

[8] – سبحانی، جعفر، نظریه المعرفه،ص٢١٧-

[9] – نقل اوراز محمد الهمم، در شرح فصوص الحکم ، ص٤٧، طبع اول ، بهار ١٣٧٨ش-

[10] – رفیعی قزوینی،سید ابو الحسن، رجعت و معراج، ص٤٤، طبع سوم-

[11] – انسان شناسی،ص١١٤، طبع اول، بهار١٣٨١-

[12] – رفیعی قزوینی، سید ابوالحسن، ،رجعت و معراج ، ص ٤٥-

 

تبصرے
Loading...