سورهٔ مبارکهٔ صافات میں لفظ مخلَصین اسم مفعول کی صورت میں کیوں استعمال هوا هے ؟کیا اسم مفعول کو اسم فاعل کے مقابله میں بر تری حاصل هے اور اس کے معنی یه هیں که خدا وند عالم ، فقط جن لوگوں نے خود کو خالص بنالیا هے ،انھیں هلاک نهیں کرے گا ؟

0 0

پیش نظر آیات کا سیاق کفار کی طرف آیات الٰهی کی تکذیب اور شرک اور ان پر نازل هونے والے عذاب کی طرف اشاره کر رها هے علامه طباطبائی مرحوم سورهٔ صافات آیت 73- 74 کے ذیل میں فرماتے هیں:[1]

یه وه کلام هے جس کا سیاق اس امت میں مشرکوں کو ڈرانے کے لئے هے جس میں اس امت کے مشرکوں کو گذشته امتوں کے مشرکوں سے تشبیه دیا گیا ، اس لئے که گذشته امتوں کی اکثریت گمراه هوئی تھی جس طرح یه گمراه هوئے هیں اور ان امتوں کی طرف بھی رسولوں کو بھیجا گیا تھا جس طرح اس امت کی طرف رسول بھیجے گئے ، ان لوگوں نے رسول کی تکذیب کی سوائے چند گنے چنے بندے هیں یا بطور اعم مخلَصین اور انبیاء هیں ۔[2]

لهٰذا اس آیت میں مخلَصین سے مراد صرف انبیاء نهیں هیں، بلکه اس میں خداوند عالم کے مخلَص بندوں کو بھی شامل کیا گیا هے اور وهی لوگ هلاک هوں گے جو مشرک هوں گے جس طرح حضرت نوح و ابراهیم کے زمانے والے مشرک جن کی کهانی اسی سوره میں اس کے بعد ذکر هوئی هے که سوائے چند افراد کے باقی سب مشرک تھے اور هلاک هو گئے ۔

مخلِص اور مخلَص کے درمیان فرق کی باز گشت اس ( خلص کے ماده کے معنی میں فرق کی جانب سے هے نه که اسم فاعل و اسم مفعول کی طرف ؛ یعنی ایسا نهیں هے که جب کبھی کوئی صفت اسم مفعول کی صورت میں ذکر هو یا اسم فاعل کی صورت میں ذکر هو تو اسے ایک دوسرے پر برتری حاصل هو بلکه یه برتری فعل کے ماده سے وابسته هے مثال کے طور پر رازق ( اسم فاعل ) خداوند عالم کے اوصاف میں سے هے جو خداوند عالم کے روزی عطا کرنے کو بیان کرتی هے اور مرزوق ( اسم مفعول ) خداوند عالم کے مخلوقات کی صفت هے که جنھیں خداوند عالم روزی عطا کرتا هے ، واضح سی بات هے که خداوند عالم کی صفت مخلوق کی صفت پر برتری رکھتی هے ، اسی طرح سے خالق و مخلوق هے ، لیکن ماده ( خلص ) میں مخلِص ؛ یعنی خالص کرنے والا جو اکثر و بیشتر انسان کے تزکیه نفس اور خودسازی کے ابتدائی مراحل کے وقت استعمال هوتا هے ، لیکن مخلَص تزکیه نفس کے بعد اعلیٰ مراحل کو بیان کرتا هے ، یعنی وه مرحله جهاں شیطان وسوسه کرنے سے مایوس هو جاتا هے ۔[3] اور اس کے معنی خداوند عالم کی جانب سے خالص اور پاک هونے والا هے۔

سورهٔ حجر میں خداوند عالم شیطان کا قول نقل کرتے هوئے فرماتا هے ” میں پوری نسل انسانی کو گمراه کروں گا سوائے تیرے مخلَص بندوں کے ”[4] یعنی امت کے مخلَصین پر شیطان قابونهیں پائے گا اور باقی امت اگر چه اس درجه پر نهیں هے لیکن پھر بھی ضروری نهیں هے که مخلَصین کے علاوه سارے هلا ک هو جائیں ۔ شاید بهت زیاده مخلِص انسان ، تزکیه نفس اور اپنی کوشش کے ذریعه خود کو برائیوں سے پاک کرکے اعلیٰ درجوں پر پهنچ جائیں اور ان میں بعض اپنی ظرفیت کے مطابق خداوند عالم کی جانب سے باقی تمام برائیوں سے پاک کر دیئے جائیں اور پاک هونے والوں کے مرتبه تک پهنچ جائیں ، البته اس مرتبه تک رسائی ان کی بے حساب ان کو کوششوں کی بدولت هوگی جو انھوں نے مخلَص بننے کی راه میں انجام دیں هوں ؛ دوسری طرف سے خداوند عالم کی حکمت بھی اثر گزار هے ۔


مزید  حضرت علی (ع) کے زمانے میں خمس جمع کرنے والے کون لوگ تھے؟

[1] ”فانظر کیف کان عاقبة المنذرین ۔ الا عباد الله المخلصین ”۔

[2] تفسیر المیزان ، ج17، ص 217۔

[3]  شرح و تفسیر لغات قرآن کریم ، شریعت مداری ، ج1، ص 715۔

[4] سورهٔ حجر ، آیت40۔

تبصرے
Loading...