سال کے آخر پر بچى استعمال کى چیزوں پر خمس کا کیسے حساب کیا جا سکتا هے ؟

0 0

مقام معظم رهبرى نے اسى سلسله میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا هے : ” روزمره اخراجات کى چیزوں ، جیسے چاول، تیل وغیره، میں سے اگر کوئى چیز خمس کے سال تک باقى بچے تو اس پر خمس دینا هے ـ “[1]

چونکه خمس عین اجناس سے متعلق هے، مثلاً اگر خمس کے سال پر پانچ کلو چاول باقى بچے تو ان میں سے ایک کلو چاول خمس دینا هے، یا وهى ایک کلو چاول دینا چاهئے یا رائج الوقت      قیمت کے مطابق مرجع تقلید کے دفتر میں اس کے پیسے ادا کرنے چاهئے ـ

لیکن خریدارى کے زمانه کے لحاظ سے اول سال یا آخر سال میں کوئى فرق نهیں هے، کیونکه اگر آپ نے سال کے آخرى وقت میں کوئى چیز خریدى هو اور سال خمس کے آخر تک باقى بچى هو تو اس پر خمس ادا کرنا هے اور اگر یه چیز نه خریدی هو تو قطعاً اس کے پیسے آپ کے پاس موجود هیں، اس لئے ان بیسوں کا خمس ادا کرنا ضرورى هے ـ



[1]  توضیح المسائل (المحشى للامام الخمینى)، ج 2، ص 79 س 912.

مزید  : "۔۔۔ جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے ( کہ کسی طرح ناقابل رویت خدا بنی اسرائیل کے لئے قابل رویت ہوتا ہے اور جسمیت پیدا کرتا ہے، جو خدا قابل تغیر ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا ہے)
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.