سال کے آخر پر بچى استعمال کى چیزوں پر خمس کا کیسے حساب کیا جا سکتا هے ؟

0 0

مقام معظم رهبرى نے اسى سلسله میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا هے : ” روزمره اخراجات کى چیزوں ، جیسے چاول، تیل وغیره، میں سے اگر کوئى چیز خمس کے سال تک باقى بچے تو اس پر خمس دینا هے ـ “[1]

چونکه خمس عین اجناس سے متعلق هے، مثلاً اگر خمس کے سال پر پانچ کلو چاول باقى بچے تو ان میں سے ایک کلو چاول خمس دینا هے، یا وهى ایک کلو چاول دینا چاهئے یا رائج الوقت      قیمت کے مطابق مرجع تقلید کے دفتر میں اس کے پیسے ادا کرنے چاهئے ـ

لیکن خریدارى کے زمانه کے لحاظ سے اول سال یا آخر سال میں کوئى فرق نهیں هے، کیونکه اگر آپ نے سال کے آخرى وقت میں کوئى چیز خریدى هو اور سال خمس کے آخر تک باقى بچى هو تو اس پر خمس ادا کرنا هے اور اگر یه چیز نه خریدی هو تو قطعاً اس کے پیسے آپ کے پاس موجود هیں، اس لئے ان بیسوں کا خمس ادا کرنا ضرورى هے ـ



[1]  توضیح المسائل (المحشى للامام الخمینى)، ج 2، ص 79 س 912.

مزید  کیا مشرکین کو بخش دیا جائے گا یا انھیں سزادی جائے گی؟ سورہ مؤمنون آیہ ١۷ اور سورہ بینہ آیہ ٦ میں ارشاد ھوتا ہے:“ اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے گا جس کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے تو اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور کافروں کے لئے نجات بہرحال نہیں ہے،” اسی طرح سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۹ میں ارشاد ھوتا ہے:“ ان لوگوں سے جہاد کرو جو خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جس چیز کو خدا و رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے اور اہل کتاب ھوتے ھوئے بھی دین حق کا التزام نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ تمھارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ھو جائیں۔” لیکن سورہ جاثیہ آیت نمبر ١۴ میں اس کے بالکل برعکس فر ما تا ہے:“ آپ صاحبان ایمان سے کہہ دیں کہ وہ خدائی دنوں کا توقع نہ رکھنے والوں سے در گزر کریں تاکہ خدا قوم کو ان کے اعمال کا مکمل بدلہ دے سکے۔” اور اس کے علاوہ سورہ نحل کی آیہ نمبر ١۲۸ بھی قابل توجہ ہے۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۹ میں خدا پر ایمان لانے والوں سے چاہتا ہے، جنھوں نے اللہ، دین خدا کی حقانیت اور قیامت پر ایمان نہ لایا ہے ان سے جنگ کرو۔ممکن ہے، اسلام پسند اس کے جواب میں کہیں کہ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۹ جنگ کے دوران نازل ھوئی ہے اور سورہ جاثیہ کی آیت نمبر ١۴ جنگ کے خاتمہ پر نازل ھوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید یہ مشخص نہیں کرتا ہے کہ کونسی آیات جنگ کے زمانہ سے متعلق ہیں اور کونسی آیات، جنگ کے بعد والے زمانہ سے معلق ہیں یا یہ کہ قرآن مجید کا کونسا حکم ماضی سے متعلق تھا یا زمانہ حال کے لئے یا زمانہ مستقبل کے لئے ہے۔ افسوس ہے کہ خداوند متعال نے تمام چیزوں کو انسان کے اختیار میں قرار دیا ہے اور اسلام پسندوں کے ہاتھوں کو انتخاب کے لئے کھلا رہا ہے۔ اسلام پسند دعوی کرتے ہیں قرآن مجید ماضی، حال اور مستقبل کے مشکلات کے لئے بہترین راہ حل ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ دعوی زیادہ تر جذبات اور تعصب پر مبنی ہے نہ حقیقت پر۔
تبصرے
Loading...