زهد (سادی زندگی) اور ترقی کے درمیان کیا رابطه هے؟

0 0

زهد اور ساده زیستی ، انسان کے اخلاقی کمالات سے هے اور همارے دینی متون میں دنیوی تجملات اور دنیا پرستی کی مخالفت کے سلسله میں بهت زیاده تاکیدیں کی گئی هیں قرآن کریم میں خداوند عالم نے حضرت پیغمبر اکرم صل الله علیه و اله وسلم سے ارشاد فرمایا هے:”جو ان میں سے کچه لوگوں کو دنیا کی اس ذرا سی زندگی کی رونق سے نهال کردی اهے تا که هم ان کو اس میں آزمائیں تم اپنی نظریں ادھر نه بڑھاو اور (اس سے) تمھارے پروردگار کی روزی (تو اب ) کهیں بهتر اور زیاده پایدار هے ۔[1]

دنیوی کلیاں کبھی کس کے لیئے پھل نهیں دے سکتی هیں ،عالم طبیعت میں اس قدر سردی پائی جاتی هے که جب تک یه کلیاں پھل میں تبدیل هونا چاهیں گی اس سے پهلے هی طبیعت کی زور رس سردی آکر کلیوں کو جھاڑدے گی۔[2]

زهد و پارسائی کے سلسله مین پوری تاریخ میں جو مختلف نظریات پائے جاتے هیں وهی اجتماعی معاملات میں مختلف تفسیروں کا باعث بنے هیں افسوس مه دینی منابع سے غلط نتیجه نکالا گیا اور حضرات معصومین صلوات الله علیهم اجمعین کی سنت و سیرت کو پس پشت ڈال دیا گیا لهذا مختلف قسم کے پیڑلگادیئے گئے کچه لوگ افراط میں گرفتار هوگئے اور کچھ تفریط میں انهیں افراد نے زهد اور سادی زندگی کے خوبصورت چهره کو بد صورت بنادیا هے وه بھی اس قدر بگاڑ کر خراب کر دیا هے که زهد کا لفظ سن کر گوشه نشینی ،تنهائی ،لوگوں سے دوری ،تمدن و ترقی سے دوری ،سنسان جگه دعا و عبادت اور زندگی کے تمام مشغولوں سے بالکل الگ تھلگ دنیا په ساری باتیں انسان کے ذهن میں آتی هیں جب که ایسا تصور ایک ارزشی حقیقت کو الٹ دینا اور ایک ملکوتی مفهوم کو آلوده کرنا هے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام فرماتیں هیں :زهد یه نهیں هے که تم مال دنیا کو برباد کرڈالو اور زهد یه بھی نهیں هے که دنیا کی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلو بلکه زهد تو یه هے که جو چیزخدا کے پاس هے اس پر تمهارا اعتماد د و توکل اس چیز سے زیاده هو جو تمهارے پاس هے۔[3]

امیر المومنین علیه السلام فرماتے هیں :قرآن کی ایک آیت میں زهد کو بیان کیا گیا هے ؛تاکه کسی چیز ختم هوجانے په افسوس نه کرو اور جو چیز تم کو حاصل هوچکی هو اس پر خوش نه هو۔[4]

اسی لئیے زهد و پارسائی کا مطلب یه هے که باقی رهنے والی چیز پر دل لگایا جائے اور فانی هونے والی چیز سے امید ختم کی جائے ،دنیوی تعلقات سے دوری اور ملکوت سے قربت اختیار کی جائے تا که آسمانی فضائل و ملکات انسانی میں آسانی سے پرواز کی جا سکے ۔اب یه دیکھنا هے که کیا رشد و کمال اور تعلیم و ترتیب نیز سعادتمندی یه چیزیں پارسائی کے لیئے رکاوٹ بنی هیں یا اس کے لیئے مددگار ثابت هوتی هیں ؟

اسلام کی طرح کس مکتب و آئین نے علم و معرفت حاصل کرنے اور ترقی کرنے کی تاکید و تشویق کی هے؟کیا پیغمبر اسلام نے یه نهیں فرمایا هے :علم حاصل کرو چاهے وه چین هی میں کیوں نه هو۔[5] آپ نے علم حاصل کرنے کو تمام لوگوں په ضروری و لازمی قراردیا هے ۔[6]

ایک روایت میں مولا امیر المومنین علی علیه السلام نے دنیا کے تمام   کو جهل بتایا هے اسی حدیث میں ارشاد فرمایا که علم ،نور و روشنی هے[7] اس سے صراحت کے همراه علم کی اهمیت کا اندازه هوتا هے نیز دنیا کی حقارت اور اس سے دلبستگی کا پته چلتا هے ۔

اب حرف رهی یه بات که دنیا اسلام اور ترقی کے درمیان کیا نسبت و رابطه هے تو یه کهنا چاهئے که تاریخی لحاظ سے اسلام نے همیشه نو هونے کو رجحان دیا هے لیکن اس کے معنی یه نهیں کی غربی نیا پن اپنا لیا جائے لفظ مدرنیته (ماڈرن) انگریزی لفظ (modernus) به معنی نو و تازه سے ماخوذ هے مدرنیته یعنی گذشته چیزوں اور سنتی امور میں نو هونا اگر چه اس کے همراه رشته کی وجوهات بھی پائے جاتے هیں، نمونه کے طور پر جهان اسلام کی علم گرائی جو غربی جدت پسندی کا ایک نمونه هے اسی طرف اشاره کیا جاسکتا هے ،حقوق بشر کی طرف توجه دینا ،عقل گرائی ،مخالفین اور اپنے مذهب لوگوں کے علاوه تمام لوگوں کے همراه مدارا کرنا یه سب غربی ضدت پسندی کے مظاهر میں شمار هوتے هیں۔

اسلامی تمدن میں ان چیزوں کی اصلیت پائی جاتی هے اور اسی سے ماخوذ هیں،معارف دینی کے حوزه میں بحث آزاد اور قطعیت سے گریز بھی غربی جدت پسندی کے تعلیمات میں سے هیں۔[8] ایک نکته قابل اهمیت یه هے که اسلام کی نظر میں صرف وه ترقی پسندیده هے جو انسان کو نفسانی تمایلات اور دنیاوی تعلقات مین گرفتار نه کرے بلکه اسے هوی اور هوس سے نجات عطا کرے۔ حضرت علیه علیه السالم نه فرمایاهے :عقل جس علم کی تاکید نه کرے وه گمراهی هے۔[9] اسلام نے جب یه بتادیا که اگر انسان کے دو دنوں مین کوئی فرق نه هو تو وه گھاٹے میں هوگا خود یهی اس کی ترقی پر بهترین دلیل هے ۔مزید اطلاع کے لیئے اس موضوع سے متعلق چند روایات کو بیان کیا جاتا هے :

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے فرمایا:جو اپنے زمانے کے تمام حالات سے باخبر هوگا وه اشتناهات کے هجوم میں واقع نهیں هوگا۔[10]

حضرت علی علیه السلام نے فرمایا : عقلمند انسان کو دوسرے عقلمندوں کی رأے کو اپنی رأے کے همراه ملا لینا چاهے وه علما کے علم کو اپنے علم کے همراه ملا کر اپنے علم میں اضافه کرے۔[11]

حضرت علی علیه السلام نے فرمایا:انسان کے تجروبوں کی کوئی انتها نهیں هے اور عقلمند انسان کی معلومات میں تجروبوں کے ذریعه برابر اضافه هوتا رهتا هے ۔[12]

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام نے فرمایا: وه شخص هم میں سے نهیں هے جو اپنی دنیا کو اپنے دین کے لیئے یا اپنے دین کو اپنی دنیا کے لیئے ترک کردے[13]


مزید  طلسم سے مقابله کرنے کا طریقه کار کیا هے؟

[1] قرآن کریم سوره طه آیه ۱۳۱

[2] جوادی آملی عبد الله ،تفسیر موجوعی قرآن کریم ،مراحل اخلاق در قرآن ،ص۱۷۲

[3] مجلسی محمد باقر ،بحارالانوار ج۶۷ ص۳۱۰

[4] مجلسی محمد باقر ،بحارالانوار ج۶۷ ص۳۱۰

[5] ری شهری محمد ،(حسینی سید محمد )۔منتخب میزان الحکمۃ۔روایت نمبر ۴۴۸۰

[6] کلینی محمد بن یعقوب۔الکافی ۱/۳۰/۱۔

[7] مجلسی محمد باقر ،بحار الانوار ج۷۵ ص۳۲۱

[8] بازتاب اندیشه ،مرکز پژوھش های اسلامی صدا و سیما ۔ نمبر ۲۰ ص ۲۱

[9] آمدی عبد الواحد ،غرر الحکم ص ۳۸۴

[10] حرانی حسن،تحف العقول ص ۳۵۶

[11] آمدی عبد الواحد ،غرر الحکم ص ۳۸۴

[12] آمدی عبد الواحد ،غرر الحکم ص۴۲

[13] مجلسی محمد باقر، بحارالانوار ج۱ ص۱۷۱

تبصرے
Loading...