زنا کے نتیجه میں حامله ھونے کی صورت میں خاندانی مشکلات سے دوچار ھونے سے بچنے کے لئے کیا جنین میں روح داخل ھونے سے پھلے اسقاط جنین جائز ھے؟


کا

7959


ظاہر کرنے کی تاریخ:
2011/04/17


سائٹ کے کوڈ
fa4544


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
13368

زنا کے نتیجه میں حامله ھونے کی صورت میں خاندانی مشکلات سے دوچار ھونے سے بچنے کے لئے کیا جنین میں روح داخل ھونے سے پھلے اسقاط جنین جائز ھے؟

کئی برسوں سے علاج و معالجه کے طور پر خاص مواقع پر سقط جنین کو شرعی اور قانونی طور پر قبول کیاگیا ھے اور یه کام انجام پاتا ھے اور یه شیعه فقه کے فخر و مباھات میں سے ھے که معاشره کے روز مره مسائل کو حل کرسکتا ھے۔ میرا سوال یه ھے که اگر کسی عورت کی زبردستی عصمت دری کی جائے اور وه اس سے حامله ھو جائے، اور وه جانتی ھو که اس حاملگی اور تولد اور معاشره میں اس ناجائز اولاد کی وجه سے اس کے لئے روحانی، نفسیاتی اور اجتماعی مشکلات پیدا ھو جائیں گی، من جمله طلاق جیسے مشکلات اس عورت کے لئے پیدا ھونے کا امکان ھو اور معاشره کے لئے مالی بوجھ بننے کا احتمال ھو اور اس کے علاوه اس ناجائز بچے کی وجه سے معاشره میں دوسری مشکلات پیدا ھونے کا احتمال ھو تو کیا اس صورت میں جنین میں روح داخل ھونے سے پھلے اس بچه کا اسقاط کرانا جائز ھے؟ اس سلسله میں حضرت آیت الله ھادوی تھرانی کا نظریه کیا ھے؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.