زمانه کے گزرنے کے پیش نظر امام زمان(عج) کا ظاهری چهره کیسا هے؟

0 0

حضرت مهدی عجل الله تعالی فرجه الشریف سنه ٢٥٥هجری قمری میں پیدا هوئے هیں چونکه اس وقت هم سنه ١٤٢٩هجری قمری میں هیں ، اس لئے اس سال ١٥ شعبان کو حضرت مهدی (عج) کی عمرشریف ١١٧٤سال هو گی-

امام زمان (عج) جب اپنے والد کی شهادت کے بعد ان کے جسد پاک پر نماز جنازه بجا لانے کے لئے حاضر هوئے، تو لوگوں نے آپ(ع) کو دیکها، جبکه آپ (عج) گندمی رنگ کے گونگر والے بال کے ایک طفل تهے اور آپ(عج) کے اگلے دانت کے درمیان فاصله تها[1]

حضرت مهدی (عج) کے قیافه اور شکل وشمائل کے بارے میں مجموعی طور پر دوقسم کی روایتیں پائی جاتی هیں :

الف : ایسی روایات جو مطلق هیں اور آپ(عج)عمر بیان نهیں کرتی هیں صرف آپ (عج) کے جوان هو نے کا ذکر کرتی هیں :

١- ” شاب بعد کبر السن” ” وه جوان هیں باوجودیکه ان کی عمر زیاده هے[2]-“

٢- ” رجوعه من غیبته بشرخ الشباب[3]” ” جوانی کی بهترین حالت میں ظهور کریں گے-”    ٣- ” فی سن الشیوخ ومنظر الشباب” کهن سالی میں جواں صورت[4]

ب : وه روایتیں جو جوانی کی تاکید کے ضمن میںاآپ(عج) عمر بھی مشخص کرتی هیں –

١- ” فی صورۃ فتی موفق این ثلاثین سنۃ” ” ایک مکمل جوان کے روپ میں ، تیس سال کی عمر میں [5]–”

٢- “فی صورۃ شاب دون اربعین سنۃ-” “جوانی کے چهره میں چالیس سال سے کم عمر میں [6]–”

٣- ان کی عمر زیاده هے لیکن چهره جوان هے، اس طرح که دیکهنے والے کو چالیس ساله یا اس سے کم تر نظر آئے اور ان کی نشانیوں میں سے یه هے که وفات کے زمانه تک بوڑهے نهیں هوں گے[7]

شیخ طوسی (رح) بعض ان افراد سے نقل کرتے هیں ، جنهوں نے غیبت صغری میں حضرت(عج) کو دیکها هے که حضرت (عج) ایک خوبصورت جوان، معطر اور عظیم هیبت کے مالک هیں – راوی کهتا هے : جب گفتگو کرتے تهے ، میں نے ان سے بهتر سخن ور کو نهیں دیکها هے[8]

ایک اور روایت میں آیا هے که : “ان کا قد نه لمبا هے اور نه چهوٹا ، بلکه اعتدال کا قد رکهتے هیں – ان کا سر مبارک گول اور پیشانی گشاده هے، ان کی ناک لمبی اور رخسار صاف اور دائیں رخسار پر ایک خال هے[9]

یهاں پرضروری هے که حضرت مهدی (عج) کی عمر مبارک اور ظاهری چهره کے بارے میں چند نکات بیان کئے جائیں :

١- هم جانتے هیں که اس وقت حضرت مهدی (عج) کی عمر مبارک ایک هزار سال سے زیاده هے اور جن روایات میں آپ (ع) کی عمر مبارک ٣٠یا ٤٠ سال ذکر کی گئی هے، اس سے مراد یه هے که ظهورکے وقت حضرت(ع) کی عمر مبارک اس حد میں هوگی اور اس موضوع میں عمر کا اختلاف تضاد کا سبب نهیں بن سکتا هے، کیونکه یه اعداد انسان کامل کی عمر کی نشانی هیں-

حضرت امام رضا علیه السلام سے نقل کیاگیا هے که آپ(ع) نے فر مایا :” ان کی علامت یه هے که وه عمر کے لحاظ سے بوڑهے هیں ، لیکن بظاهر جوان دکهائی دیتے هیں ، اس حد تک که اگر کوئی ان پر نظر ڈالے تو گمان کرے گا که وه تیس سال یا اس سے کم عمر کے هیں – ان کی نشانیوں میں سے ایک یه هے که دن اور رات کے گزرنے سے بوڑهے نهیں هوتے هیں یهاں تک که موت آئے[10]-“

٢-البته طولانی عمر کا مسئله سابقه دار هے اور یه حضرت مهدی عجل الله تعالی فرجه الشریف سے هی مخصوص نهیں هے – کئی شخصیتیں جیسے حضرت نوح علیه السلام (٩٥٠ سال)کے بارے میں قرآن مجید میں آیا هے یا حضرت خضر نبی(ع) ، جنهوں نے هزاروں سال عمر کی هے اور ابهی تک زنده هیں یا لقمان بن عاد( ٣٥٠٠سال) اور لقمان حکیم(٤٠٠سا) یا حضرت عیسی علیه السلام کا ابهی تک زنده هونا، ، طولانی عمر کے افراد شمار هو تے هیں –اس امر کی علمی توجیه واستدلال یه هے که، بوڑهاپن اور موت ، سائیدگی کے عوامل کا نتیجه هے، اگر یه عوامل نه هوں تو انسان جوان ره سکتا هے[11]


مزید  میں ایک آذری گھرانه میں پیدا ھواھوں، لیکن چونکه میرے گھر کے افراد دینی احکام کے پابند نھیں تھے، اس لئے میں نے اپنے دینی مسائل کو اھل سن٘ت سے سیکھا اور ایک مدت تک اسی پر عمل کرتا رھا۔ لیکن جب بعد میں، میں نے اپنے مذھب، یعنی مذھب شیعه کو پھچان لیا، تو اس کے مطابق عمل کرنے لگا، اب جو اعمال میں نے ایک مدت تک اھل سن٘ت کے فقه کے مطابق انجام دئے ھیں، ان کے بارے میں کیا حکم ھے؟ کیا مجھے ان کی قضا بجا لانی چا ھئے؟

[1] – ملاحظه هو: موعود شناسی ص ٤٣٧-

[2] – بحار الانوار ٢١٧٥١ باب ١٣- ما فیه ع من سنن الانبیاء-

[3] – غیبت طوسی ،ص٤٢١-

[4] – اکمال الدین،ج٢،ص٣٨٦-

[5] – بحار الانوار ٢٨٧٥٢ باب ٢٦ یوم خروجه وما بدل علیه-

[6] – اکمال الدین ،ج١،ص٣١٦-

[7] -اکمال الدین ،ج٢،ص٦٥٢-

[8] – ملاحظه هو : موعود شناسی ،ص٤٣٧-

[9] – ملاحظه هو : موعود شناسی،ص٤٣٧-

[10] – موعود شناسی ،ص٥٥٥-

[11] – ملاحظه هو : عدالت گستر جهان ،ابراهیم امینی-

تبصرے
Loading...