زائرین خاص کر ایرانی کیوں بقیع کے پاس گریه کرتے هیں؟

0 0

گریه کی ماهیت ، اس کے استعمال و استفاده اورعزاداری سے متعلق شیعوں کے نظریه کے بارے میں معرفت حاصل کئے بغیر اس سوال کا جواب دینا ممکن نهیں هے – هم جهاں تک مخاطبین کے حالات اجازت دیں گے ، اس سلسله میں قدرے تفصیل سے بحث کرین گے –

گریه کی ماهیت: گریه دو حصوں پر مشتمل هے ، ظاهر و باطن- اس کا ظاهر ایک فیزیا لوجک امر هے اور اس کا باطن اندرونی غم و آلام اور جذبات هیں ، جو بیرونی محر کات یا اندرونی محر کات، جیسے غور وفکر سے حاصل هو تا هے – جذبات اور غم و آلام کے نتیجه میں ، انسان کے دماغ کا ایک حصه فعال هو تا هے اور آنکھـ کے آنسوٶں کے غدود کو متحرک هو نے کا حکم دیتا هے اور اس کے نتیجه میں آنکھوں سے آنسو کے قطرات جاری هو تے هیں –

لیکن باطنی گریه (جذباتی غم و الام )کے مختلف عوامل هو سکتے هیں، اس لئے گریه کے بھی مختلف اقسام هوں گے:

١)انسان کی اپنے آپ اور اس سے متعلق چیزوں سے فطری محبت کے نتیجه میں گریه: اس قسم کا گریه مصیبت آنے پر[1] اور بے اختیار پیش آتا هے، اس قسم کا گریه ماضی کی کوئی چیز یاد آنے پر هوتا هےـ شخص اپنی محبوب چیز کے فقدان پر غمگین هوتا هے اور (عوام  اصطلاح میں ) اس کے جذبات ابھرتے هیں اور آنسو جاری هو تے هیں-

٢)اعتقادات سے متعلق گریه: جیسا که مناجات میں هو تا هے – انسان خود کو خدا کے حضور پاتا هے اور اپنے آپ کو گناهگار اور اپنے اعمال و کردار کو بے قاعده شده پاتا هے ، اس لئے متاثر هو کر محزون هوتا هے[2] اور… اس قسم کا گریه حال ومستقبل  کو دیکھتا ھے هے لیکن ماضی کے ساتھـ بھی بے تعلق نهیں هو تا هے – اس قسم کا گریه میں  پشیمانی اور توبه کے نتیجه میں حاصل هو نے ولا گریه هے-

٣) فضیلت طلبی اور کمال خواهی کے نتیجه میں هو نے والا گریه: مثال کے طور پر وه گریه جو استاد ، مربی اخلاق ، امام (ع) اور پیغمبر(ص) کے فقدان پر حاصل هو تا هے اور یه اس لئے هے که هم اپنے وجود کی گهرائیوں میں کمال کی  تحسین کرتے هیں اور ان کمالات کی هستی سے هم بھی وجود میں آتے هیں اور ان کے فقدان سے بے آرام اور غمگین هو تے هیں-[3]

پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی رحلت کے بعد ام ایمن گریه کر رهی تھیں ، دوسرے خلیفه نے ان سے پوچھا: تم کیوں گریه کر رهی هو؟ کیا تم نهیں جانتی هو که رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم خدا کے پاس هیں ؟ انھوں نے جواب دیا: میں اس لئے گریه کر رهی هوں که هم وحی سے محروم هو گئے هیں – [4]

٤) مظلوم پر گریه : جو انسان سنگ دل نه هو ، سردیوں کی ایک رات کو ایک یتیم بچے کو اپنی ماں کی آغوش میں اپنے باپ کے فراق میں جان دیتے هوئےدیکھـ کر کانپتا هے – انسانی جذبات سے لبریزایک دل ، جب ایک طفل شیر خوار کے اپنے باپ کی آغوش میں گلے پر تیر کها کر جان دینے کے حادثه کی خبر سنتا هے تو اس شیر خوار کے گلے کے خون سے وه جوش میں آتا هے اور اپنے جذبات کے شعلوں کو آنسو ٶں کی صورت میں ظاھر کر تا هے- اسی لئے مظلوم پر هو نے والے ظلم سے وه محزون هوتا هے-

٥) عجز وزبوں پر گریه: انسان کبھی کسی چیز کو کھونے یا کسی ناکامی کی تلخی سے عجز وزبوں کے احساس کے نتیجه میں سر انجام غمگین هو کر گریه کرتا هے – اس قسم کا گریه ان کمزور انسانوں کا هو تا هے جو مقصد تک پهنچنے میں ناکام هو تے هیں یا امقصد کو حاصل کر نے میں ناتواں هو تے هیں – بظاهر صائب تبریزی نے اپنے مندرجه ذیل شعر میں اس قسم کے گریه کی طرف اشاره کیا هے:

گریه ی شمع از برای ماتم پروانه نیست      صبح نزدیک است و درفکر شب تار خود است

٦)شوق کا گریه: اس ماں کے گریه کے مانند جو اپنے گم شده فرزند دلبند کو برسوں کے  انتظار کے بعد پاتی هے اور اس کی آنکهوں سے شوق کے آنسو جاری هو تے هیں یا اس پاک عاشق کا گریه جو ایک عمر تک اپنے معشوق کی محرومیت کے بعد اس کو پاتا هے اور شادمانی کے آنسو بهاتا هے – [5]

٧) فراق کا گریه: اس عاشق کا جیسا گریه ، جو اپنے محبوب کی دوری یا فقدان پر ناله وزاری کرتا هے یا اس سے جدا هو نے پر آنسو بهاتا هے- حافظ نے کیا خوب کها هے :

زگریه مردم چشمم نشسته در خون است * ببیں که در طلبت حال مرد مان چون است

از آن دمی که رچشمم ، برفت یاعزیز    *   کنار دامن من ،همچو رود جیحون است

٨) رحمت و مهر بانی کا گریه: دا نشوروں کے کهنے کے مطابق ، انسان کے وجودی پھلوؤں میں سے ایک ، اس کا جذباتی پهلو هے، جو انسان جذبات اور محبت سے محروم هو تا هے ، اس میں انسانیت کا نام ونشان نهیں پایا جاتا- اسی لئے جس شخص نے اپنی پوری عمر میں ایک بار بھی شفقت پدری سے اپنے بیٹے کا بوسه نهیں لیا تھا ، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے اس طرح اس کی ملامت کی : ” من لا یر حم لا یرحم ” [6]اور جب آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے اپنے بیٹے ” ابراهیم” کی وفات پر گریه کیا ، تو بعض لوگوں کی طرف سے اس کی وجه پو چھنے پر آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم نے جواب میں فر مایا :” لیس هذا بکاء (غضب) انما هذه رحمه ومن لا یر حم لا یرحم –” [7]

٩) فریب کا رانه اور جھوٹا گریه: اسے ” مگر مچھـ کے آنسوبهانا ” بھی کها جاتا هے- [8]

گریه کا استعمال اور اس کے نتائج :

گریه کے مقاصد:  گریه کے تمام اقسام کا سیاسی یا ثقافتی موقف هو سکتا هے – مثلا ائمه معصومین(ع) کے گریه کے بارے میں کها گیا هے که: جب ان سے تبلیغات کا حق چھین لیا جاتاتھا تو وه گریه سے حکمراں طبقه کے خلاف ایک سرد جنگ کے هتھیار کے طور پر استفاده کرتے تھے – ان کا گریه یه سوال پیدا کر نے کی غرض سے هوتا تھا که یه بزرگوار کیوں اس قدر پریشان هیں ؟ کیا ان کو کوئی غمناک حادثه پیش آیا هے؟

اسی لئے وه اسلامی احکام کے حقائق بیان کر نے کے لئے، انسانوں کو آگاه کر نے کے لئے ، ان کو بیدار کر نے کے لئے اورظالموں اور غاصبوں کے باطن کو افشا کر نے کے لئے آنسو بهاتے تھے – پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی اکلوتی بیٹی کے گریه کے بارے میں جو تاریخ میں ذکر هوا هے ، اس کا راز بھی یهی تھا – وه دن کو حسنین(ع) کا هاتھـ پکڑ کر، دروازه مدینه کے پاس ایک درخت کے سایه میں بیٹھـ کر گریه کرتی تھیں – جو لوگ وهاں سے گزرتے کر تے تھے ، ان کے ذهن میں یه سوال پیدا هوتاتھا که فاطمه (ع) کیوں گریه کر رهی هیں؟ آخر کیا هوا؟ کیا ان کے والد بزرگوارنے نهیںفر مایا هے که فاطمه (ع)کی ناراضگی میری ناراضگی هے ؟[9] پس یه کس کے خوف سے گریه کررهی هیں ؟ اور ان حالات میں حضرت زهراء (ع) اپنی شعله بیانی سے لوگوں کو حقائق کے بارے میں آگاه فر ماتی تھیں – اسی لئے رات کو آکر اس درخت کو کاٹ دیا گیا ، لیکن حضرت علی(ع) نے اس بانوئے اسلام کے لئے ایک سائبان درست کیا اور اس طرح اپنی بیوی کے اس کام میں تعاون فر مایا که وه راستے پر بیٹھـ کر گریه کریں اور همیں مذکوره سیاسی اسرار کے بارے میں هدایت کریں اور اسی لئے هم اعتقاد رکھتے هیں که : فاطمه (ع) کے آنسو علی (ع) کی تلوار کے لئے حفاظتی سر مایه تھے-

بقیع، حضرت فاطمه زهراء (ع) کے حزن و ملال کی یاد تازه کر تا هے ، بقیع ، ایسی مصیبتوں کی یاد دلاتا هے ، جنهیں اس بانوئے اسلام (ع) اور شیعوں کے اماموں(ع) نے اسلام کے تحفظ کے لئے برداشت کئے هیں!

یه جان لینا چاهئے که شیعوں کا بقیع کے پاس حزن وغم اور گریه ایک بچے کے حزن و گریه کے مانند نهیں هے جو اپنے کهلونے کو کھو جانے کے سبب روتا هے ، یهاں تک که یه گریه و حزن ایک بالغ شخص کے مال و منال … کهو نے پر گریه کر نے سے بھی مختلف هے – یه حزن ، ایک ایسا حزن هے جو شیعوں کے اجتماعی رشد وکمال کی حکایت کر تا هے – یه غم، اس ظلم کا غم هے جو حق کے خلاف کیا گیا اور یه گریه شیعه کی کمال خواهی کی علامت هے – حقیقت میں همارا گریه ایک جهت سے همارے ائمه معصومیں(ع) کے لئے هے اور ایک جهت سے همارے اپنے لئے هے- مگر ان عزیزوں نے کونسا گناه کیا تھا که ان پر اس قدر ظلم کیا گیا؟ کیا ان کی محبت اجر رسالت نهیں تھی ؟ کیاوجه هے که بعض لوگوں نے همیں اس بات کی اجازت نهیں دی که هم اپنی پیاس کو ان عزیزوں (ع) کے سر چشمه حکمت سے بجھا تے؟ بهر حال شیعوں کا گریه ، مظلوم پر گریه هے اور یه فضیلت طلبی کا نتیجه هے اور اس کی بنیاد اعتقاد پر هے – البته اس قسم کا حزن اجتماعی تصادم اور تولی و تبری کو بھی اپنے ساتھـ رکھتا هے که جس کے بارے میں هم اشاره کرتے هیں ، یعنی ایسا نهیں هے که ایسی حالت سستی اور کاهلی کا سبب بن جائے ، بلکه یه حالت اجتماعی تحریک کے اسباب فراهم کرتی هے ، شیعوں کا گریه هر گز عاجزانه گریه نهیں هے ، کیونکه هم اعتقاد رکھتے هیں که :

اظهار عجز پیش ستمگر روا مدار      اشک کباب باعث طغیان آتش است

بیشک یه گریه ، فراق کا گریه هو سکتا هے[10] جیسا که هم سالار شهیدان حضرت امام حسین (ع) سے مخاطب هو کر کهتے هیں : ” یا لیتنی کنت معکم فا فوز فوزا عظیما-“[11]

اور یا ممکن هے کھ یه گریه شوق کا گریه هو- مثال کے طور پر ایک انسان ، بظاهر اسیر اور زنجیروں میںجکڑے هوئے چند مردوں اور خواتین کی بهادری ، شجاعت ، حریت اور ان کی شعله بیاں تقریروں کا مشاهده کر کے متاثر هو اور  گریه کرے-

اور یا ممکن هے گریه صرف جذباتی اور رحمت کے لحاظ سے هو ، کیا یه ممکن هے که ایک انسان حادثه کر بلا  میں ڈھائے گئے ظلم و جنایات کے بارے میں سنے اور اس کی آنکهوں سے ایک قطره آنسو بھی جاری نه هو پائے؟

گریه کے نتائج اور آثار: گریه کے آثار باطنی اور ظاهری دو صورتوں میں قابل بحث هیں – باطنی صورت میں گریه کے نتائج کو مندرجه ذیل حالات میں پایا جاسکتا هے :

١) جیساکه بیان هوا ، گریه ایک قسم کا باطنی هیجان هے اگر، تزویر ، عجز یا جو کچھـ پهلی قسم میں [12] بیان کیاگیا، کے لحاظ سے نه هو تو اس سے قلبی سکون حاصل هو سکتا هے که حقیقت میں یه دل کو جلا بخشنے کا سبب بن جاتا هے-

اس هیجان کو ختم کر نا ، انسان کی بلند روش سے مربوط هے ، انسان چاهتا هے که کمال کے عروج پر پهنچ جائے ،لیکن ایسا نهیں هے که اس کو صرف ادراک کر تا هے اور جذباتی هوتا هے- وه چاهتا هے که کسی قسم کا ظلم وستم نه هو، لیکن ظلم وستم هے اور وه اسے دیکھتا هے اور متاثر هوتا هے – وه اپنے اور دوسروں کے حق میں الهی برکتوں اور نعمتوں کا مشاهده کرتا هے اور ان کی یاد دهانی … اور اگر اس طرح کا گریه هو تو بدیهی هے که یه امید افزا اور متحرک گریه هے اورافسردگی سے[13] اس کا معکوس رابطه هے اور یه نشاط آفرین هے اور نه صرف انسان کی زندگی میں خلاف معمول عامل نهیں هے بلکه بعض مواقع پر معالجه کا کردار بھی [14] ادا کرتا هے – اور جو لوگ عزاداری کی مجالس میں شرکت کرتے هیں وه اعتراف کرتے هیں که انهیں ایک خاص حا لت کا احساس حاصل هو تا هے اور یه سب ان مجالس میں طاری غم واندوه ، آخرت کے غم اور مظلو موں کی مظلو میت کے غم کے سبب سے هے اور…

٢)هیجان اور قلبی وروحانی غم وآلام معرفت کے پھلو پر بعد میں بھی اثر ڈال کر انسان کی تلاش وکوشش اور ادراک کو تقویت بخشتے هیں-

٣) جذبات، احساسات اور معرفت میں تقویت پانے سے اس معرفت اور جذبات کی نسبت سے انسان کے طرز عمل کی آمادگی میں اضافه هو تا هے –

٤) گریه کے دوسرے نتائج یه هیں که انسان کو اپنے محبوب کی شبیه بناتا هے-

٥) پیش نظر موضوع کے بارے میں انسان کی دلچسپی اور محبت کو بڑها وا ملتا هے- البته بالکل واضح هے که روحانی آلام ، مظلوم کے ساتھـ همدردانه وابستگی کی حکایت کرتے هیں، خواه انسان ایک اجنبی کی مصیبت اور اس پر وارد شده غم سے متاثر بھی نه هو۔

٦) انسان کامل وه انسان هے که جس کے تمام وجودی پھلو ایک ساتھه  تربیت پا چکے هوں اور جذبات، فکر کی توانائی اور قوی معرفت سے بهره مند هوں

گریه بھی جذبات کو رشد و بالیدگی بخشنے کا یک عامل هے اور لطیف روح اور جذبات کی توانائی کی حکایت کرتا هے –

لهذا آسانی کے ساتھـ سمجھا جاسکتا هے که جب حضرت علی(ع) کو خبر ملی که اں  کی حکمرانی کے دوران ایک یهودی عورت پر ظلم هوا هے اور اس کے پاٶں سے پازیب کو زبر دستی نکال کر لے گئے هیں تو آپ (ع) نے فر مایا :” اگر کوئی اس غم میں مر جائے تو وه سرزنش کا سزاوار نهیں هے- ” [15]

ظاهری پهلو سے گریه کے اثرات: اجتماعی اورسیاسی پهلو سے گریه کا نتیجه تولّٰی و تبّریٰ اور اجتماعی وسیاسی تحریکوں کا عامل هے – اسی لئے ظالم حکو متیں سالار شهیدان حضرت امام حسین علیه السلام کے لئے عزاداری کے مراسم منعقد کر نے کی ممانعت کرتی تھیں  اور هم یهاں پر گریه کے بعض اجتماعی اور  سیاسی اثرات کی طرف خلاصه کے طور پر اشاره کرتے هیں:

١) گریه اور ظلم وستم کے ساتھـ اعلان جنگ : بعض اوقات آنسو کے قطرات مقصد کے پیامی هو تے هیں – جو لوگ یه کهنا چاهتے هیں که هم امام حسین علیه السلام اور ان کے اصحاب کے مقصد کے ساتھـ اور ان عزیزوں کے هدف کے هم آهنگ هیں ، وه اس بات کا کو کبھی ولوله انگیز نعروں سے اور رزمیه اشعار پڑھ کر اظهار کرتے هیں اور کبھی دوسرے وسائل سے،[16] لیکن ممکن هے یه سب ریا اور ترویز پر مبنی هو ، اما، جو اتفاق سے اس دلسوز حادثه کی خبر سن کر اپنے باطن سے آنسو کے چند قطرات کو آنکهوں سے جاری کرتا هےوه صدق دلی سے اس حقیقت (امام حسین (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب کے مقدس مقاصد کے ساتھـ وفاداری کا اعلان) کو بیان کرتا هے ، اور یه ان کے ساتھـ وهی دل و جان کا پیوند اور ظلم استم کے ساتھـ اعلان جنگ هے – البته واضح هے که اس قسم کا گریه ان عزیزان کے پاک مقاصد کی معرفت کے بغیر ممکن نهیں هے-

٢) گریه اور مکتب اسلام کا احیاء: معصومین علیهم السلام کی مظلو میت من جمله حضرت فاطمه زهراء (ع) اور بقیع میں مدفون ائمه (ع) اور امام حسین علیه السلام کی مظلو میت پر شیعه جو گریه کرتے هیں ، وه اصلی محمدی (ص) اسلام کے تحفظ کا سبب بنا هے-

امام خمینی (رح) فر ماتے هیں ” سیدا لشهداء (ع) کو اس گریه نے محفوظ کیا هے اور…هر مکتب جب تک سینه زن نه هو، جب تک گریه کر نے والا نه هو …محفوظ نهیں هے-“[17]

” عاشورا کو زنده محفوظ رکھنا ایک انتهائی اهم سیاسی عبادتی مسئله هے -“[18]

اس سلسله میں شهید مطهری کهتے هیں : “ایک جوان نے مجھـ سے پوچھا : اگر امام حسین علیه السلام کا مکتب احیاء کر نا هے تو، کیا اس امام (ع) کا ذکر مصیبت (عزاداری) کر نا بھی ضروری هے؟ میں نے کها: یه وه حکم هے جو همیں اپنے اماموں کی طرف سے ملا هے اور اس حکم کا ایک فلسفه هے اور وه یه هے که هر مکتب جس میں جذبات و همدردی کی چاشنی نه هو اور صرف فلسفه و تفکر کا مکتب هو، وه هماری روح میں زیاده نفوذ نهیں کر سکتا هے اور پائدار نهیں هو سکتاهے، لیکن اگر اس میں جذبات اور همدردی کی چاشنی هو تو یه جذبه اسے حرارت بخشتا هے… بیشک امام حسین علیه السلام کے مکتب میں منطق و فلسفه هے ، اس میں سبق هے، اسے سیکهنا چاهئے- لیکن اگر اس مکتب کو هم مسلسل طور پر صرف فکری صورت میں بیان کریں تو اس سے حرارت و جوش و جذبه جدا هو جائے گا اور  یه مکتب کهنه هو کر ره جائے گا-“[19]

ائمه اطهار(ع) پر کئے گئے ظلم وستم پر گریه کرنا ، اس داغ کے همیشه کے لئے زنده رهنے کا سبب بن جاتا هے اور غدیر خم کے مانند کوئی شخص واقعه عاشورا سے انکار نهیں کر سکتا هے – عاشورا کو احیاء کر نا ، یعنی مکتب اسلام کو احیاء کر نا هے ، کیونکه اس امام (ع) نے اسلام کو بچانے کے لئے قیام کیا تھا-

نتیجه یه که: بقیع کے پاس اور امام حسین علیه السلام کی عزاداری وغیره پر شیعوں کا گریه پهلے تو ایک فطری اور انسانی امر هے اور دوسرے یه که کچھـ مقاصد کو حاصل کر نے کے لئے هے جو بیان هو ئے ، اس قسم کے گریه کی قرآن مجید اور روایات میں تائید کی گئی هے اور اس کی پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم اور آپ(ص) کے اصحاب [20]کی سیرت بھی گواه هے-

مطالعه کے لئے منابع و ماخذ:

١- بحار الانوار ، ج٤٤ ، ص٢٨٩، ٢٩٣، ج ٢١، ص٢٤-

٢- وسائل الشیعه ، ج١٢،ص٩٠-

٣- طبقات ابن سعد، ج٨،ص٢٨٢-

٤- الف، کاویانی ، گریه حربه ی دردست شیعه-

٥- شهید مطهری ، امامت و رهبری ، ص٥٣-

٦- مکارم شیرازی ، فلسفه ی شهادت، صص ١٣- ١٠-

٧- شهید مطهری ،قیام وانقلاب مهدی ، ص١٠٨-

٨- حسین رجبی ، پاسخ به شبهات عزاداری-

٩- رجال کشی ،ص١٨٧-

١٠- ترجمه ی نفس المهموم ، ص١٥- ١٧، ٢٣، ٣٤-

١١- سمهودی ، وفاء الوفاء ، ص٤٦٨ـ


مزید  یورپ کی جانب سے حضرت محمد (ص) کی توهین کرنے کا مقصد کیا هے ؟

[1] – صدمه اٹھا نا ایک نفسانی اور باطنی حالت هے جوذاتی اور غیر اختیاری هوتی هے البته بعض اوقات ناگهانی هو تی هے ، جیسے کسی عزیز رشته دار کے حادثه میں فوت هونے کی خبر شننے سے انسان کے لئے وجود میں آتی هےاور کبھی پهلے سے آمادگی کے ساتھـ هوتی هے – ملاحظه هو:” ره توشه راهیان نور-” مرکز آموز های تخصصی باقر العلوم ، ش٤٦، ص ٢٣٥- ٢٥٤ –

[2] – امام سجاد (ع) فر ماتے هیں : ” محبوب ترین آنسو، وه آنسو هیں جو مخلصانه طور پر رات کی تاریکی میں خدا کے ڈر سے بهائے جاتے هیں ” بحار ج٩، ص٣٢٩باب فضل البکاء ،اور یقینا اس قسم کے آنسوٶں کا سر چشمه وه اعتقاد هے جو هم خدا اور عالم آخرت کے بارے میں رکھتے هیں –

[3] – سوره توبه کی آیت نمبر ٩٢ میں بعضون کے وصف میں فر ماتا هے: ” ان کی آنکهوں سے آنسو جاری تھے اور انهیں اس بات کا رنج تھا که ان کے پاس راه خدا میں خرچ کر نے کے لئے کچھـ نهیں هے –

[4] – دلایل النبوه ، بیهقی ، ج٧، ص٢٦٦-

[5] – جب جعفر بن ابیطالب حبشه سے مدینه آگئے، تو رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم ان کے استقبال کے لئے نکلے اور” بکی فر حا برویته” ، بحار الانوار ، ج٢١، ص٢٤-

[6] – میزان الحکمه، ج ١٠، ص ٧٠٠، بحار الانوار، ج٤٣، ص٢٨٢و ٢٨٣

[7] – بحار، ج٢٣، ص١٥١-

[8] – نوٹ: اگر چه گریه کی بعض قسمیں ایک لحاظ سے عام هیں اور ممکن هے کچھـ مزید قسمیں بھی ان میں شامل هو جائیں یا گریه کے وجود میں آنے کے لئے کچھـ دوسرے عامل موثر هوں، لیکن بیشتر وضاحت کے لئے اور اصلی عامل پر توجه کر نے کے لئے هم نے بحث کو اس طرح پیش کیا هے-

[9] – ” فاطمه بضعه منی من سرها فقد سرنی ومن ساء ها فقد سائنی ، فاطمه اعز الناس علی” بحار الانوار ، ج٤٣، ص٢٣، صحیح مسلم ، ج ٥، ص٥٤- ” ان الله لیغضب لغضب فاطمه ویر ضی لرضاها” ، کنزالعمال، ج١٢، ص١١١، بحار الانوار ، ج٤٣، ص١٩، ” فاطمه قلبی و روحی التی بین جنبی فمن آذاها فقد آذانی”-

[10] – حضرت یعقوب (ع) نے اپنے بیٹے کے فراق میں اس قدر گریه کیا که آپ(ع) نا بینا هو گئے – امام سجاد علیه السلام نے، ان کے زیاده گریه کر نے کے سلسله میں سوال کر نے والے کے جواب میں فر مایا: ” یعقوب ، اپنے صرف ایک بیٹے کے فراق میں اس قدر روئے که ان کی آنکهیں نا بینا هو گئیں جبکه جانتے تھے که یوسف زنده هیں اور میں کیوں محزون نه هو جاٶں -“، حلیه الاولیاء، به نقل از ترجمه ی کتاب اعیان الشیعه ، سید محسن امین ، ص٧٢)-

[11] ـمفاتیح الجنان ص، ٧٧٩- هم زیارت وارث میں شهداء سے مخاطب هو کر پڑھتے هیں “وفزتم فوزا عظیما فیا لیتنی کنت معکم فافوز معکم” خدا کی قسم آپ ایک بڑی نجات پاچکے هیں ، کاش که میں بھی آپ کی رکاب میں هوتا اور یه نجات پاتا ، مفاتیح الجنان ، ص٧٨٧-

[12] -ماهرین نفسیات کے مطابق پهلی قسم میں بھی گریه سکون قلب اور صد مه کے درد کو هلکا کر نے میں موثر هے-

[13] – بعض اوقات کها جاتا هے که ایران میں عزاداری کے مراسم، افسردگی کا سبب بنتے هیں، اور بظاهر ان کی مراد اختلالات افسردگی کی اصلی قسم هے جو بهت شدید هوتی هے اور اسی طرح وقتی ،جیسے ، اختلال ملال بیش از حد یا اختلال افسردگی نفسیاتی اسکیز وفرنی کا نتیجه نهیں هے ، بلکه ان کی مراد عادات میں افسردگی کا اختلال هے جس کی نشانیاں حسب ذیل هیں:

                الف) کم اشتهائی یاپر اشتهائی ، بے خوابی یا پر خوابی ، انرجی کی کمی یا احساس خستگی، اعتماد نفس یا احساس کمتری ، ضعف وکمزوری، فیصله لینے میں مشکل اور بے چارگی کی  احساس کے دویا چندنشانیاں موجود هوں-

ب)یه نشانیاں دن میں اکثر اوقات اور اکثر دنوں میں ، کم ازکم دوسال تک جاری رهیں –

ج) یه نشانیاں اجتماعی کار کردگی ، شغلی و… میں اختلال کا سبب بنیں اور …

                اس کے علاوه ماهر نفسیات نے عادات میں افسردگی کے بارے میں کها هے که مندرجه ذیل تین عوامل انسان کے ذهن پر اثر انداز هو سکتے هیں : حیاتی عامل( دماغ کی حالت اور اس کے مختلف حصوں کا کام) ،وراثتی عامل{جو خاندان اور جین(gene) سےمربوط هوتاهے}اور ماحول کے هیجان ، جیسے شدید ذهنی دباؤ کرنے والے حوادث ،فقدان، بحران و غیره- البته ماحو لیاتی ذهنی دباٶ کے تجربے صرف ان لوگوں میں افسردگی کا سبب بنتے هیں جو حیاتی اور وراثتی آمادگی رکھتے هیں –اور ذهنی دباٶ کر نے والے عوامل عبارت هیں: مشغله سے محروم هو نا ، ایک رابطه کا منقطع هو نا، کسی رشته دار کا مر جانا، ناکام ازدواج ، اقتصادی مشکلات اور سر انجام صدمه پهنچنا ذهنی دبا ٶ کر نے میں موثر هیں- ( اس سلسله کتاب روانشناسی امریکه ، ترجمه نیکخو، محمد رضا ، چهار مین باز نگری – اختلال های روانی {{dsmivص٥٦٤- ٦٠٢، ٨٨- ٩٦، ملاحظ هو) لیکن عزاداری کے مراسم نه صرف ذهنی دبا ٶ ایجاد نهیں کرتے هیں بلکه ذهنی دبا ٶ کو دور کر نے میں کلیدی انجام ادا کر تے هیں اور افسردگی کی کسی بھی علامت کو نهیں کرتے هیں – البته یه تجزیه مراسم عزاداری کے بارے میں مادی نقطه نظر سےهے- لیکن اسلامی نقطه نظر اور معنوی تجزیه کے مطابق مذکوره موارد انسان کو متلاطم کر کے ذهنی دبا ٶ کا سبب نهیں بن سکتے هیں کیو نکه وه خدا پر اعتقاد رکھتا هے اور اسی کو اپنا رزاق جانتا هے اور اسی پر توکل کرتا هے اور اس کے قضا و قدر پر راضی هے-

[14] -مولوی:

گریه بر هردرد بی درمان دواست

چشم گریان چشمه ی فیض خداست

گریه مروارید بحر رحمت است

دیده ی گریان کلید جنت است

تا گرید ابر کی خندد چمن

تانگرید طفل کی نوشدلبن

تا نگرید کودک حلوا فروش

دیگ بخشا یش نمی آید به جوش

[15] – نهج البلاغه ، خ ٢٧ ، ص ٩٥-

[16] – ملا قاسم مشهدی :

موج اشکم بی سخن اظهار مطلب می کند

جنبش ریگ روان ، بانک درا باشد مرا-

[17]  صحیفه نور ، ج٨، صص ٧٢- ٦٩-

[18] – صحیفه نور ، ج١٣، ص١٥٤-

[19]  – سیری در سیری نبوی ، ص٥٨-

[20] – اس مسئله کے بارے میں ایک مفصل بحث کی ضرورت هے ، مناسب فرصت ملنے پر اس پر روشنی ڈالیں گے-

تبصرے
Loading...