روایتوں کے مطابق، غیر مسلموں کے ساتھـ کیسا سلوک کیا جاناچاهئے؟

0 0

اسلام، انسان کى پاک فطرت اور مهر و محبت کا دین هے اور تمام بشریت کى هدایت و سعادت کے لئے آیا هےـ روایات اور احادیث میں غیرمسلمانوں کے ساتھـ صلح آمیز بقائے باهمى پر چلنے اور ان کے انسانى حقوق کى رعایت کرنے کى تاکید کى گئى هے اور اسلام کے بیشوا همیشه، مسلمانوں کو دوسرے مذاهب کے پیروں کے ساتھـ عدل و انصاف سے پیش آنے، ان کے حقوق کى رعایت کرنے اور آزار واذیت سے پرهیز کرنے کى نصیحت کرتے تھے ـ یهاں پر هم چند نمونوں کى طرف اشاره کرتے هیں:

پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم فرماتے هیں :” جو کوئى اسلام کے ساتھـ معاهده کئے گئے کسى شخص پر ظلم کرے اور اس کى طاقت سے زیاده کوئى ذمه دارى اس پر ڈال دے، تو  میں قیامت کے دن خود اس کا دشمن هوں گا ـ[1]

مزید فرماتے هیں:” جو شخص اهل ذمه (یهودى، عیسائى اور زرتشى جو اسلام کى پناه میں هوں) کو اذیت پهنچائے، اس نے مجھے اذیت پهنچائى هے” ـ[2]

امام على علیه السلام نے فرمایا هے: “جس شخص نے اهل ذمه کو اذیت پهنچائی، گویا اس نے مجھے اذیت پهنچائی هےـ”[3]

ائمه اطهار علیهم السلام، غیر مسلمانوں کی معیشتی حالات کے سلسله میں اپنے آپ کو مسئول جانتے تھے ـ

ابن عباس، پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم سے نقل کرتے هیں که آنحضرت (ص) نے فرمایا: “تمام ادیان الهٰی کے فقراء کو صدقه دینا ـ [4]

حضرت امام علی علیه اسلام، مالک اشتر کے نام تحریر کئے گئے اپنے خط کے ایک حصه میں فرماتے هیں: ” اے مالک! مهربان بننا اور اپنی رعایا کو همدردی کی نگاه سے اور محبت بھرے دل سے دیکھنا، اور ان کی جان و مال پر ایک درنده کے مانند حمله آور نه هوناـ اے مالک! آپ کے رعایا، دو قسم کے علاوه نهیں هیں، یا مسلمان هیں اور تیرے دینی بھائی هیں، یا دوسرے مذاهب کی پیرو هیں که اس صورت میں تیرے جیسے انسان هیں[5] ـ”

قابل توجه بات هے که مالک کے نام حضرت امیرالمومنین علیه السلام کا فرمان اس وقت صادر هوا هے جب که مصرمیں مسلمانوں کی کوئی خاص تعداد نهیں تھی اور اسلام کے سپاهیوں کے هاتھـ مصر کو فتح کئے هوئے گئے چند سال سے زیاده نهیں گزرے تھے اور قدرتی بات هے که ان چند برسوں کے دوران بهت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اکثریت عیسائیوں کی تھی [6]ـ

حضرت امام صادق علیه السلام اهل ذمه کے حقوق کے بارے میں یوں فرماتے هیں: ” جو لوگ مسلمانوں کی پناه میں هیں، ان کا حق یه هے که جو چیز خداوند متعال ان سے قبول کرتا هے اسے آپ بھی قبول کرنا اور جب تک وه خدا سے کئے هوئے اپنے عهد و پیمان پر برقرار هیں، ان پر ظلم نه کرناـ[7]

اس کے علاوه، پیغمبر اکرم صلى الله علیه وآله وسلم اور ائمه اطهار علیهم السلام کی طرف سے مسلمانوں کے دوسرے ممالک میں (غیر اسلامی حکومتوں میں) زندگی بسر کرنے والے دوسرے مذاهب کے پیرٶں کے ساتھـ صلح آمیز زندگی بسر کرنے کی تاکید و سفارشیں کی گئی هیں که حقیقت میں وهی بقائے با همی کا جذبه هے جس کی قرآن مجید نے بھی تاکید کی هے اور اظهار کرتا هے که اسلام ابتداء میں اور ذاتی طور پر کسی بھی غیر مسلم کے ساتھـ جنگ نهیں چاهتا هےـ

امام علی علیه السلام، مالک اشتر کو لکھے گئے اپنے خط کے ایک حصه میں فرماتے هیں: ” اگر آپ کے اور آپ کے دشمن کے درمیان کوئی عهد و پیمان منعقد هوا، اور یا آپ نے انھیں پناه دینے کا وعده کیا هے، تو اپنے وعده کو پورا کرنا اور اس پر عملی خامه پهناتا اور اپنے عهد و پیمان کا احترام کرنا اور اپنی جان کو اپنے تعهدات کے لئے سپر قرار دینا کیونکه عهد و پیمان پر وفا کرنے کے مانند کوئی فریضه الهٰی نهیں هے ـ دنیا کے لوگ تمام اختلافات کے با وجود، عهد و پیمان کے بارے میں اتفاق نظر رکھتے هیں، حتی مسلمانوں کے علاوه زمان جاهلیت کے مشرکین بھی اس کی رعایت کرتے تھے، کیونکه انهوں نے عهد شکنی کے تجربے کو آزمایا تھاـ اس بناپر اپنے عهد و پیمان میں ممکنه پیمان شکنی کی خیانت نه کرنا اور دشمن کو دھوکه نه دینا کیونکه جاهل اور شقی شخص کے علاوه کوئی خداوند متعال کے ساتھـ گستاخی نهیں کرتا هے ـ خداوند متعال عهد و پیمان کو، جو اس کے نام سے منعقد هوتا هے، اپنی رحمت سے اپنے بندوں کے لئے آرام و آسائش اور امن و امان کا سبب قرار دیتا هے، تا که لوگ اس کی پناه مین آئیںـ”[8]

نتیجه یه که، ائمه اطهار کے کی غیر مسلمانوں کے ساتھـ روابط کے سلسله هیں، عدل و انصاف کی رعایت، ان کے حقوق ادا کرنا اور دوسرے مذاهب کے پیرٶں کو اذیت پهنچانے سے پرهیز کرنے کی تاکید هے، مگر یه که وه عهد شکنی اور کسی خیانت کے مرتکب هو جائیں، تو اس صورت میں اسلام سختی کے ساتھـ مقابله کرنے اور فتنه کو خاموش کرنے کا حکم دیتا هے، قرآن مجید میں اس سلسله مین ارشاد الهٰی هے :

“کهئے اے اهل کتاب کیوں صاحبان ایمان کو راه خدا سے روکتے هو اور اس میں کجی تلاش کرتے هو جبکه تم خود اس کی صحت کے گواه هو اور الله تمھارے اعمال سے غافل نهیں هےـ[9]


مزید  اهل سنت کے مانند شیعوں میں بھى تصوف اور عرفان کا سلسله پایا جاتا هے یا نهیں؟ کیا آج کے معاشره میں شیعوں میں ایسا سلوک پایا جاسکتا هے؟ اگر ممکن هے، تو اسے کهاں سے شروع کریں؟ اس راه کو مرشد و پیرکامل کے بغیر طے کیا جاسکتا هے یا نهیں؟و ­­­؟

[1]  ملاحظه هو: صدر الدین بلاغى، عدالت وقضا در اسلام، ص 57: زین العابدین، قربانى، اسلام وحقوق بشر، ص 397. ” من ظلمـ معاھداً و کلفھ فوق طلاقتھ فانا حصھ یوم القیامۃ”

[2]  صدر الدین، بلاغى، ھمان، ص 57، ” من آذى ذمیاً فقد آذانى “

[3]  ابن ابى الحدید، شرح نھج البلاغه، ج20، ص 253، حدیث 578، ” من آدى ذمیاً آذانى “

[4]  عفیف عبد الفتاح طباره، روح الدین الاسلامى، ص 276، ” تصدقوا على اھل الادیان کلھا “

[5] نھج البلاغه، نامه 53، ” واشعر قلبک الرحمۃ للرعیۃ والمحبۃ لھم، و اللطف بھم، ولا تکونن علیھم سبعاً ضاریا تغتنم اکلھم، فانھم صنفان: اما اخ لک فى الدین، او نظیر لک فى الخلق….”

[6]  مجله مکتب اسلام سال 8، ش 5، ص49.

[7] وسائل الشیحۃ، ج 15، ص177، باب سوم، ” وحق اھل الذمۃ ان تقبل ماقبل الله عزو جل ولا تظلمھم ما وفوالله عزوجل بعھده”

[8]  نھج البلاغۃ، نامه 53، ” ان عقدت بینک و بین عدوک عقدۃ اولبستھ منک ذمۃ فحط عھدک بالوفاء ارع ذمتک بالامانۃ، اوجعل نفسک جنۃ دون ما اعطیت فانھ لیس من فرئض الله شى ء الناس اشد علیھ اجتماعاً، مع تفرق اھوائھم، من تعظیم الوفاء بالھود “

[9]  آل عمران، 99 ” قل یا اھل الکتاب لم تصدون عن سبیل الله من امن تبغونھا عوجاً انتم شھداء وما الله بغافل عما تعلمون “.

تبصرے
Loading...