رقص حرام ھونے کے بارے میں احادیث کا سند کے ساتھه ذکر کریں۔

0 0

سوال کا جواب دینے سے پھلے ایک مقدمھ کی طرف توجھ کرنا ضروری ھے۔ اور وه یھ کھ صرف کسی روایت کا روایاتی کتب میں ھونا، دلیل کے طور پر پیش نھیں کیا جاسکتا ھے۔ روایت کو دلیل بنانا صرف فقھا کے اختیار اور ان کی مھارت کے دائره میں آتا ھے۔ احکام شرعی کا استنباط کرنا ان کی خصوصی  مھارتوں میں سے ھیں ۔ کیوں کھ کسی روایت سے استفاده کرنا اور اس سے دلیل لانا ، کچھه مقدمات اور علوم پر منحصر ھے جو سب لوگوں کے بس کی بات نھیں اور یھ مھارت صرف علماء کے پاس ھیں۔

اس لئے جب ھم فقھی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ھیں تو ھم دیکھتے ھیں  کھ فقھاء کی نظریں ، رقص کے مسئلے میں مختلف ھیں ۔ بعض کا نقطه نظر یھ ھے کھ رقص مطلق طور پر ( اس کی سب انواع ) حرام نھیں ھیں ، یعنی اگر رقص حرام کا م کا سبب نھ بنے تو وه حرام نھیں ھے ۔ یھ مرحوم آیۃ اللھ خوئی اعلی اللھ مقامھ کا نظریھ ھے وه اس سوال کے جواب میں کھ کیا شادی کی محفلوں میں مردوں کے لئے رقص اور تالیاں بجانا جائز ھے؟ اور کیا عورتوں کیلئے بھی جائز ھے؟ فرماتے ھیں: رقص فی نفسھ ( اپنے طور سے) حرام نھیں ، جب تک کسی حرام میں مبتلا ھونے کا باعث نھ بنے جیسے مرد اور عورت کا گھل ملنا وغیره۔ [1] ان کے شاگرد ، آیۃ اللھ شیخ جواد تبریزی اعلی اللھ مقامھ بھی ان کے نظریه کی تائید کرتے ھیں۔

بعض دیگر مراجع نے بیان کیا ھے کھ رقص اس صورت میں حرام ھے جب وه شھوت کی تحریک دے یا حرام میں مبتلا ھونے کا سبب بنے ۔ حضرت آیۃ اللھ العظمی سید علی خامنھ ای فرماتےھیں۔ اگر رقص اس حال میں ھو کھ شھوت کو تحریک دے یا حرام میں مبتلا ھونے کا سبب بنے یا اس سے کوئی مفسده پیدا ھوجائے تو جائز نھیں ھے۔ [2]

بعض دوسرے فرماتے ھیں ، رقص ھر صورت میں حرام ھے۔[3]

رقص کے حرام ھونے میں دو طرح کی احادیث سے استناد کیا جاسکتا ھے۔

۱۔ ان میں سے ایک قسم عام ھے جو ھر طرح کے لھو و لعب اور لغو سے نفی کرتی ھیں ، جس میں رقص بھی شامل ھے ، جیسے کھ امام صادق علیھ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا ھے: ” جب آدم کی اس دنیا سے رحلت ھوئی تو ابلیس اور قابیل نے انھیں  طعنھ دئے ( یعنی اں کے مرنے پر خوشی منائی) اور ساز و آواز میں مصروف ھوئے ، پس جو بھی اس دنیا میں اس طرح لذت حاصل کرے اس نے ان دو کی اقتدا کی ھے۔ [4] اور [5]

ایک اور حدیث میں حضرت امیر المومنیں علی علیھ السلام سے منقول ھے کھ آپ نے فرمایا : ” وه عاقل نھیں ھے جو لھو اور لعب اور طرب میں  اپنے آپ کو مشغول رکھے ” [6]

۲۔ دوسری  قسم کی روایتیں واضح طور پر رقص سے “نفی” کرتی ھیں جیسے مندجھ ذیل احادیث۔

۱۔ امام صادق سے منقول ھے کھ پیغمبر اکرم نے فرمایا: میں تمھارے لئے رقص ، مزمار اور بربط اور طبل ( آلات موسیقی ) سے نفی کرتا ھوں۔[7]

ب) رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم سے منقول ھے کھ آپ نے: “ضرب اور رقص اور کسی بھی طرح کے لھو و لعب اور مجالس لھو میں حاضر ھونے اور ان کو سننے سے نفی کیا ۔۔۔۔ [8]

البتھ سند کے اعتبار سے بحث اور اس روایت کی دلالت وغیره (دونوں )،ماھرین اور فقھ سے مخصوص بحث ھے جو اپنی جگھ پر بیان ھوجائے گی۔[9]


مزید  میں یہ جاننا چاہتا ھوں کہ اہل سنت، خاص کر وہابی کس دلیل سے کہتے ہیں کہ انبیاء {ع} صرف وحی حاصل کرنے میں معصوم ہیں، نہ کہ دوسرے حالات میں؟

[1]  صراط النجاۃ ، آیۃ الل خوئی ( با حواشی تبریزی ) ج ۱ ص ۳۷۲۔

[2] اجوبۃ الاستفتاءات ( عربی ) ج ۲ ص ۱۴۔

[3]  محمودی ، سید محسن ، مسائل جدید از دیگاه علماء و مراجع تقلید ، ج ۱ ص ۲۰۳ ۔۔ ۲۰۴۔

[4]  و عنھم عن سھل عن سلیمان بن سماعۃ عن عبداللھ بن القاسم عن سماعۃ قال :قال ابو عبدا للھ علیھ السلام :”لما مات ادم سمعت بھ ابلیس و قابیل فاجمتعا فی الارض فجعل ابلیس و قابیل المعارف الملاھی شماتۃ۔ یا آدم علیھ السلام فکل ما کان فی الارض مں ھذ الضرب الی یتلذذ بھ الناس فانما ھو من ذلک” ، حر عاملی ، محمد بن حسن ، وسایل الشیعھ ، ج ۱۷ ، ص ۳۱۴۔ ابواب یا یکسب بھ ، باب تحریم استعمال الملاھی بجمیع اصنافھا و بیعھا و شرائھا۔

[5]  یھ روایت معتبر نھیں ھے کیونکھ صرف ایک سند کے ساتھه نقل ھوئی ھے اور اس سند میں ایک راوی عبداللھ بن قاسم حضرمی کے نام سے موجود ھے جو باطل ھونے میں مشھور ھے ، نجاشی نے اس کے بارے میں فرمایا:” کذاب اور غالی ھے جو غلا ت سے روایت نقل کرتا ھے اور اس کی روایتیں مورد اعتماد نھیں ھے “، نیز شیخ طوسی ( رح) نے اس کے بارے میں کھا ھے: وه وافقی مذھب ھے ، معجم رجال الحدیث ج ۱۰ ص ۲۸۵

[6]  نوری ،میرزا حسین ، مستدرک الوسائل ج ۱۳ ص ۲۲۰۔

[7]  علی بن ابراھیم عن ابیھ عن النوفلی عن السکونی عن ابی اعبدا للھ علیھ السلام قال رسول اللھ صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم : انھاکم عن الزقن و المزمار و عن الکوبات و الکبرات ” الکافی ، ج ۶ ص ۴۳۲۔ باب الغناء ، ۔۔۔۔ وسائل الشیعۃ ، ج ۱۷ ص ۳۱۳۔

[8]  مستدرک الوسائل ، ج ۱۳ ص ۲۱۸، موسسھ آل البیت ، بھ نقل از عوالی اللئالی ، ج ۱ ص ۲۶۲۔

[9]  غایۃ الامال فی شرح کتاب الماسب ، ج ۱ ص ۱۲۴۔

تبصرے
Loading...