ذھن کو قوت بخشنے والے معنوی اور مادی طریقوں کو احادیث اور آیات کی روشنی میں بیان کیجئے؟

0 0

جو امور حافظھ اور سمجھه کو قوت بخشتے ھیں وه چند قسموں میں تقسیم ھوتے ھیں۔

الف ) معنوی امور :

۱۔ خدا کو یاد کرنا ( عبادت اور شرعی فرائض کو انجام دینا خصوصا اول وقت کی نماز )

۲۔ ان دعاؤں کو پڑھنا جو حافظھ کی قوت کیلئے مؤثر ھیں ، معصوم امام سے منقول ھے کھ خداوند متعال سے چاھو کھ تمھاری عقل کو تیز بنائے اور خداوند متعال سے فھم اور سمجھه زیاده ھونے کی دعا کرو۔ [1] ۔ نمونھ کے طور پر حافظھ کی قوت کے لئے چند دعاؤں کو نقل کرتے ھیں:

الف۔) یه دُعا جو رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے امیر المؤمنیں کو حافظھ کی قوت بڑھانے کے لئے تعلیم دی ھے: ” سبحان من لا یعتدی علی اھل مملکتھ ، سبحان مں لا یاخذ اھل الارض بالوان العذاب ، سبحان الروف الرحیم ، اللھم اجعل لی فی قلبی نوراً و بصراً و فھماً و علماً انک علی کل شیء قدیر “[2]

ب)۔ سید ابن طاؤوس نقل کرتے ھیں کھ دل کو زنده کرنے کے لئے اس دعاکو تین مرتبھ پڑھیں۔ ” یا حی یا قویم یا لا الھ الا انت اسئلک ان تحی قلبی اللھم صلی علی محمد و آل محمد ” [3]

ج)۔ مطالعھ کرنے کے وقت کی دعا:

اللھم اخرجنی من ظلمات الوھم و اکرمنی بنور الفھم اللھم افتح علینا ابواب رحمتک و انشر علینا خزائن علومک برحمتک یا ارحم الراحمین۔[4]

د)۔ نماز صبح کے بعد اس سے پھلے کھ کلام کرے یھ دعا پڑھے:” یا حی یا قیوم فلا یفوت شیئاً علمھ و لا یؤده” [5]

۳۔ قرآن پڑھنا خصوصا آیۃ الکرسی۔

۴۔ جو چیزیں نسیان او بھول جانے کا سبب بنتی ھیں ان سے دوری اختیار کرنا ، جیسے معصیت ، گناه ، دنیا سے زیاده وابستگی اور دوستی، دنیاوی کاموں میں حد سے زیاده مصروف رھنا۔ اور دنیاوی مسائل کیلئے غمگین اور محزون رھنا۔ [6]

۵، مطا لعھ کے وقت بے چینی کو کم کرنا، آرام اورسکون حاصل کرنا۔

۶۔ ذھنی مصروفیات کو کم کرنا۔

۷۔ توجھ اور التفات کو قوت بخشنا۔

نکتھ:

جو کچھه حافظھ کی قوت کیلئے دعائیں اور روایات بیان ھوئی ھیں وه کامل سبب(علت تامھ) محسوب نھیں ھوتی ھیں۔ حافظھ اور ذھن کو بڑھانے کے لئے بعض اسباب ھمارے اختیار میں نھیں ھے اور وه وراثت اور جنٹک (Genetic)                                                                                                                                                                                       سے متعلق ھیں۔

دوسرے الفاظ میں یھ کھ ھر انسان کا حافظھ اور ذھنی قوت مختلف وراثتی اور ماحولیاتی اسباب سے متعلق ھے۔ جن میں بعض اسباب ھمارے اختیار میں ھیں اورجن کا ھم نے اوپر ذکر کیا ھے ، ان میں سے بعض انسانی طاقت سے باھر ھیں ، جیسے دادا اور پر داداؤں کے جینز اور نسلی حالت، پس یھ توقع نھیں کرنی چاھئے کھ مذکوره کاموں کو انجام دینے سے کھ جو بے شک اثر بھی رکھتے ھیں کوئی معجزه ھوجائے اور دفعتا آپ کا ذھن اور ھوش کی میزان ۹۰ سے ۱۳۰ ھوجائے اور اگر ایسا نھیں ھوا تو ائمھ طاھرین علیھم السلام  کے اوامر پر اعتقاد کم ھوجاے گا۔

ھاں البتھ ایک ۱۰۰ نمبر ذھن اور ھوش کو قوت بخشا جاسکتا ھے تاهم یھ کام نشوونما کے خاص دور میں جیسے ماں کے پیٹ میں اور بچپن کے ابتدائی دور میں بچے اور ماں کو بھتر غذا اورکھانے کے صحیح پروگرام میں ، اور اسی طرح بچے کی نشو ونما کے ماحول کو صحیح محرکات فراھم کرنے سے بھی بچے کی فکری توانائی کو زیاده کیا جاسکتا ھے لیکن جوانی اور درمیانھ سال میں زیاده تر اس کے بارے میں سوچنا چاھئے کھ ذھانت کی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور اس کیلئے کشادگی اور قابلیت کے اسباب فراھم کئے جائے تا کھ جو کچھه خداوند متعال نے انسان کی خلقت میں قرار دیا ھے وه ظاھرھوجائے اور یھ روایات اور نصیحتیں زیاد تر اسی جانب اشاره کرتی ھیں۔

ب ) مادی امور کا خیال رکھنا۔

۱۔ طبیعی اور فیزالوجی ضرورتوں کو مھیا کرنا ( جیسے مناسب غذا، کسرت ، صحت عامھ کا خیال رکھنا)

۲۔ مسواک کرنا۔

۳۔ گلکوز کی کثرت والے مواد کا استعمال کرنا ( جیسے خرما ، شھد ، قدرتی مٹھائیوں کا استعمال ) کلشیم ، فاسفورس اور ویٹامین کے حامل مواد کا استعمال کرنا۔ جیسے دودھ سے بنی ھوئی چیزیں ، مچھلی کا تیل ، سنگتره، ٹماٹر، گندم کا چھلکا، تازه سبزیاں، گاجر، اور کلیجی کا کھانا۔

کتاب مفاتیح الجنان میں آیا ھے : ناشتے میں انگور کا کھانا ، خصوصا اگر سرخ اور ۲۱ دانوں کے برابر ھو ، حلوا کھانا، گردن کا گوشت ، شھد اور مونگ کا کھانا، حافظھ کو قوت بخشنے کے لئے مفید ھے.[7]

۴۔ مطالب کی مشق اور تکرار کرنا۔ ( یھ بھت اھم ھے)

۵۔ ھر ۴۵ منٹ مطالعھ کرنے کے بعد دس منٹ آرام کرنا۔

۶۔ سانس لینے کی مشق کرنا ، اس تمرین کو انجام دینے کیلئے کافی ھے که کھڑے ھوکر یا سونے کی حالت میں پھیپھڑوں کو ھوا سے بھر کر آھستھ سے سانس واپس کریں۔

ج) ماھرین نفسیات کے کھنے پر عمل کرنا۔

ماھرین نفسیات کھتے ھیں: مندرجھ ذیل طریقوں س سے ھم اپنے حافظے کی قوت کو بڑھا سکتے ھیں۔

۱۔ تقطیع (حصوں میں بانٹنا)  : یعنی حروف کو الفاظ کے قطعات ( حصوں میں) ، اور الفاظ کےقطعات ( حصوں)  کو عبارات کے قطعات میں تقسیم کیا جاسکتا ھے اور اسی تقطیع کے ذریعے ھم حروف یا اَرقام کو معنی دار قطعات میں تبدیل کرسکتے ھیں اور اپنے حافظھ کی ظرفیت کو زیاده کرسکتے ھیں ، جیسے اعداد ۱۴۹۔۔۲۱۷۷۔۔ ۶۱۹ ۔۔ ۸۳ کی زنجیر کو ۱۹۸۳۔۔۔ ۱۱۷۶۔۔ ۱۴۹۲ ( جو کھ عیسوی سال ھیں ) میں تبدیل کرسکتے ھیں اور اس طرح اپنے حافظھ کو قوت بخش سکتے ھیں۔

۲۔ معنی دار بنانا: یھ طریقھ اور طریقوں سے زیاده حافظھ کو قوت بخشتا ھے اور جتنا بھی معنی گھرا اور زیاده جزئیات کے ساتھه کوڈ میں رکھا جائے گا  اتنا ھی زیاده دیر تک اور بھتر طریقھ پر یاد میں رھتا ھے ، پس جب کسی کتاب کا کوئی نکتھ یاد کرنا چاھتے ھو تو اس کی یاد آوری اس صورت میں زیاده ممکن ھے کھ اس کے الفاظ کی بھ نسبت معنی کی طرف زیاده توجھ کی جائے ، جتنا بھی گهرے اور کامل طور پر معنی پر توجھ کریں اس کو اتنا ھی زیاده بھتر یاد کرسکتے ھیں۔

۳۔ نظم دینا: مطالب کو منظم کرکے انھیں آسانی سے یاد کیا جاسکتا ھے ، انھیں حفظ کرکے دوباره یاد کیا جاسکتا ھے ، یعنی کسی موضوع کو حفظ اور یاد کرنے کے لئے اور اس مطلب کو جس کے نیچے اور مطالب اور مختلف شاخیں ھیں انھیں ایک منطقی نظم میں لا کر کل سے جزء تک اور اوپر سے نیچے کی جزئی شاخوں میں تقسیم کرکے حفظ کیا جاسکتا ھے۔

۴۔ بناوٹ ( نسیج): ھم عام طورپر ایسے مطالب کو سیکھتے ھیں جو ایک خاص زمان اور مکان میں ھوتے ھیں ان شرائط کو جو سیکھنے کے وقت اس ماحول میں موجود ھوتے ھیں انھیں بناوٹ اور نسیج کھا جاتا ھے۔ اس وقت آسانی سے ان مطالب کو دوباره یاد میں لا سکتے ھیں جب یاد دلانے کی بناوٹ کو اسی طرح قرار دیں جو یاد کرنے کے وقت موجود تھی ، مثال کے طو پر اگر آپ اپنے مڈل سکول کے ھم جماعتوں کے ناموں کو یاد کرنا چاھتے ھوں تو اس مدرسے کی غلام گردش میں قدم رکھیں جس میں آپ مڈل میں پڑھتے تھے ، ان ھم جماعتوں کے ناموں کو یاد کرلینے میں آسانی ھوتی ھے۔

۵۔ پس ختام کا طریقھ : یھ طریقھ جو ایک طالب علم کو اپنی درسی کتابوں کے مطالب کو حفظ کرنے میں مدد دیتا ھے اس کا نام ” پس ختام طریقھ ” رکھا گیا ھے ، اس طریقے کا نام چھه مرحلوں کے ابتدائی حروف ، ۱۔ پیش خوانی(پ) ، ۲۔سوال کردن(س) سوال کرنا۔ ۳۔خواندن(خ) پڑھنا۔ ۴۔ تفکر(ت) فکر کرنا۔ ۵۔از حفظ کردن(ا) حفظ کرنا۔ ۶۔مرور کردن(م) دوره کرنا سے تشکیل پایا ھے۔

وضاحت:

فرض کیجئے آپ کسی کتاب سے کوئی مطلب ذھں کے سپرد کرنا چاھتے ھیں اور پھر اسے یاد میں لانا چاھتے ھیں ۔ تو ابتداء میں ایک پیش مطالعھ کرکے اھم موضوع سے آگاھی حاصل کریں گے اس طرح کا پیش مطالعھ کرنا سبب بنتا ھے کھ اس فصل کے مطالب کو آپ منظم کریں گے ۔ ( جیسا کھ بیان ھوا ) دوسرے اور تیسرے مرحلھ میں : ٓاپ ھر حصے سے بعض سوال پیدا کریں اور پڑھیں تیسرے  مرحلے میں ھر حصے کو سوالات کی جواب دھی کیلئے پڑھیں۔ چوتھے مرحلے میں پڑھتے وقت ، سوالات پیدا کرکے اور آگاھی سے رابطھ قائم کرکے ٓاپ مطلب کے بارے میں سوچئے اور پڑھے گئے مطالب کو معنی د یجئے پھر پانچویں اور چھٹے مرحلے میں یعنی حفظ سے مطالب کو کھنے میں اور دوره کرنے میں ٓاپ کو کوشش کرنی چاھئے کھ جن مطالب کو پڑھا ھے ان کی حقیقت کو یاد کریں اور اپنے پیش آمده سوالات کا جواب دیں ۔[8]

مزید اطلاع کے لئے سوال نمبر ۸۰۸ ، ” مطالعھ کے شرائط اور دعا ” کی طرف رجوع کریں۔


مزید  باوجودیکہ حضرت عیسی{ع} اس وقت زندہ ہیں، قرآن مجید نے ان کے بارے میں کیوں " متوفیک" کی تعبیر سے استفادہ کیا ہے؟

[1]  بحار الانوار ، ج ۱ ص ۲۲۴۔ روایت ۱۷۔ روایت عنوان بصری۔

[2]  مفاتیح الجنان ، فصل اول ، باب اول ، تعقیبات نماز۔

[3]  ایضا : کتاب باقیات صالحات۔

[4]  ایضا

[5] ایضاً

[6]  ایضا ً

[7]  ایضا۔

[8] ا پرسمان سی دی سے اقتباس ، تھوڑی تبدیلیاں لاکر اور دوباره لکھا گیا ھے۔

تبصرے
Loading...