دوسرے ادیان کے پیروں کے ساتھـ مسلمانوں کے صلح آمیز سلوک کے بارے میں قرآن مجید کا نظریه کیا هے؟

0 0

“پرامن مذهبى بقائے باهمى” اسلام کا ایک بنیادى نظریه هے اور قرآان مجید کى متعدد آیات نے اس نظریه کى گوناگون صورتوں میں اور صراحت کے ساتھـ تاکید کى هےـ قرآن مجید کے مطابق، مذهبى جنگ اور عقائد میں اختلافات کى وجه سے لڑنے کا کوئى معنى نهیں هے، جب که بعض دوسرے مذاهب میں اس چیزکا مشاهده هوتا هے،جیسے عیسا یئوں کى صلیبى جنگیںـ اسلام میں دوسرے ادیان کے پیروکاروں کے بارے میں کینه و دشمنى رکھنے کى ممانعت کى گئى هے اور دوسروں کے ساتھـ تو هین آمیز سلوک کرنا غیر دینى طرز عمل هےـ

قرآن مجید نے پر امن بقائے باهمى کے لئے مختلف راهیں بیان کى هیں، جن میں سے چند اهم راهیں حسب ذیل هیں:

1ـ عقیده اور فکر کى آزادى

2ـ مشترک اصولوں پر توجه کرنا

3ـ نسل پرستى کى مذمت ـ

4ـ پرامن گفتگو

5ـ صلح و امن کى تجویز کا استقبال کرنا

6ـ اقلیتوں کے حقوق کو قبول کرنا

7ـ انبیاء (ع) اور آسمانى کتابوں کو باقاعده طور پر قبول کرنا

8ـ بین الاقوامى امن

9ـ دوسرے ادیان کى برترى جوئى کے تو همات سے مبارزه و مجاهدت کرنا

10ـ بین الاقوامى مسائل میں تعاون کرناـ

تفصیلی جوابات

” پر امن مذهبى بقائے باهمى”، اسلام کا ایک بنیادى نظریه هے اور قرآن مجید کى متعدد آیات میں مختلف صورتوں میں اس کى صراحت کے ساتھـ تاکید کى گئى هے، جبکه چوده سو سال پهلے انسان کے لئے “بقائے باهمى” کا مفهوم مکمل طور پر قابل فهم نهیں تھاـ

قرآن مجید کے مطابق مذهبى جنگ اور عقیده میں اختلاف کى وجه سے لڑائى کا کوئى معنى نهیں هے، جبکه بعض ادیان اور مذاهب میں، اس قسم کى جنگوں کا مشاهده کیا جاتا هے، جیسے، عیسایئوں کى صلیبى جنگیںـ اسلام میں دوسرے ادیان کے پیروں کے بارے میں کینه اور دشمنى رکھنے کی ممانعت کى گئى هے اور دوسروں کے ساتھـ توهین آمیز سلوک کرنا غیر دینى طرز عمل قرار دیا گیا هےـ

قرآن مجید عیسایئوں اور یهودیوں کے ایک گروه کى طرف اشاره کرتا هے جنهوںنے ایک دوسرے کے خلاف مذاق اڑانے اور کفر کا الزام لگانے کا طرز عمل اختیار کیا تھا اورایک دوسرے کى توهین کرتے هوئے اور ایک دوسرے کے انسانى حقوق پامال کرتے هوئے، مسلسل اختلافات اور جنگ کے شعلوں کو بھڑکاتے تھے:” اور یهودى کهتے هیں که نصارىٰ کا مذهب کچھـ نهیں هے اور نصارىٰ کهتے هیں که یهودیوں کى کوئى بنیاد نهیں هے حالانکه دونوں هى کتاب الهىٰ کى تلاوت کرتے هیں اور اس کے پهلے جاهل مشرکین عرب بھى یهى کها کرتے تھےـ خداان سب کے درمیان روزقیامت فیصله کرنے والا هےـ[1]

قرآن مجید نے “پرامن بقائے باهمى” کى ضمانت کے لئے مختلف راهیں بیان کى هیں، جن میں سے چندا هم راهیں حسب ذی

مزید  زیارت عاشورا کے اس جمله : " برئت الی الله والیکم منھم" میں خدا کی طرف یا معصومین {ع} کی طرف بیزاری کے کیا معنی هیں؟
تبصرے
Loading...