خیر وشر کے پیش نظر ، دنیا میں برائی اور بهلائی کو کیسے خداکی مهربانی ثابت کیا جاسکتا هے؟

0 0

خداوند متعال کی مهر بانی جیسی صفات کی بحث میں اس نکته کی طرف توجه رکهنا ضروری هے که هر مخلوق کی خصوصیات کو اس مخلوق کی عظمت اور وجودی ابعاد کے پیش نظر تحقیق کی جانی چاهئے- مسال کے طور پر ایک طفل شیر خوار کے بارے میں ایک بچے کی مهربانی صرف اسی حد میں هے که وه اس طفل شیر خوار کو خطرناک چیزوں کے نزدیک جانے نهیں دیتا هے اور جن کهانے پینے کی چیزوں کو خود پسند کرتا هے وهی اس کو بهی دیتا هے-

لیکن اس کے ماں باپ کی مهر بانی کا دائره وسیع تر هوتا هے- یعنی وه اس کو خطرے سے بھی دور رکهتے هیں اور اس کے کهانے پینے اور لباس کی ضرورتوں کو بهی پورا کرتے هیں ، اور اسے خطر ناک بیماریوں سے محفوظ رکهنے کے لئے کبهی اس کی مرضی کے خلاف درد ناک ویکسین کے انجکشن لگواتے هیں جو اس کے لئے تکلیف اور درد کا سبب بنتے هیں اور ممکن هے یه ویکسین بچے کے لئے ایک هفته تک بخار اور تشنج میں مبتلا کر کے بسترے پر لیٹنے کا سبب بنے- لیکن اس کے ماں باپ اس کام کو مکمل احتیاط اور توجه کے ساتھـ انجام دیتے هیں ، کیونکه اس کام کو اپنے فرزند کے حق مین  بالکل لطف و مهر بانی سمجهتے هیں – کیونکه وه جانتے هیں که اگر ان کا فرزند اس رنج و تکلیف کو برداشت نه کرے تو وه مهلک بیماریوں سے نهیں بچ سکتا هے اور اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی هے – لهذا چونکه آج کی یه تکلیف اور رنج بیماریوں کے مقابل میں صحت وسلامتی اور مقاومت کا سبب هے ،اس لئے وه اس کو عین مهر بانی جانتے هیں ، اس طرح که اگر کوئی ماں باپ اس لئے که اس کے فرزند ناراحت نه هو جائیں ، اس کام کو انجام نه دیں تو سب لوگ ان پر نا مهربانی اور سنگدلی کا الزام لگا کر ان کی سرزنش کریں گے-

اسی طرح اپنے بندوں کی به نسبت خدا کی مهربانی ، شیر خوار بچے کی به نسبت ماں باپ کی مهر بانی سے فرق رکهتی هے اور یه مهر بانی بلند تر سطح پر هوتی هے – اگر هم انسانی زندگی کو دنیا تک محدود اور موت کو زندگی کا خاتمه سمجھـ لیں تو ممکن هے هم بعض ناخوشگوارحالات کو بندوں کے حق میں کم لطفی جان لیں ، لیکن اگر هم تمام عالم هستی کو مد نظر رکهتے هوئےمن جمله دنیا وآخرت ، یعنی انسان کی پیدائش سے پهلے ، اس دنیا کی پوری زندگی ، موت کے بعد برزخ ، قیامت، بهشت اور جهنم ،جو مخلوقات کے لئے مد نظر رکهے گئے هیں ، کو مجموعی طور پر انسان کی زندگی سمجھـ لیں اور خداوند متعال کی مهر بانی کو اسی وسعت میں تحقیق کریں، تو هم تمام واقعات اور حوادث کو بندوں کی به نسبت خداوند متعال کی عین مهر بانی سمجھـ لیں گے-

چونکه همیں خلقت میں غور وخوض کر نے کے نتیجه میں معلوم هو تا هے که خداوند متعال نے مخلوقات کی تمام ضروریات کو کمال تک پهنچنے کے لئے ان کے تناسب سے فراهم کیا هے – یعنی هر مخلوق کے رشد وکمال کی حالت کو اس کی حد واندازه میں فراهم کیا هے که یه پروردگار عالم کی اس کی مخلوقات کی به نسبت محبت کی علامت هے-

اس کے علاوه جس خدا کی طاقت ختم نه هونے والی اور اس کا علم لا محدود هے اور اس کے دوسروں کو خیر کر نے میں کوئی چیز رکاوٹ نهیں بن سکتی هے، کیونکه نه کوئی اس سے حسادت کر نے والا هے اور نه وه اپنی طاقت کے نابود هونے سے ڈرتا هے اور نه اس میں جهل اور معلومات کی کمی کا امکان هے تاکه یه چیزیں اس کی بخشش اور مهر بانی میں رکاوٹ بن سکیں ، ایسے خدا کے بارے میں کیسے قبول کیا جاسکتا هے که وه اپنی مخلوقات کو خیر پهنچانے میں دریغ اور کوتاهی کرے؟ بلکه اس نے اپنے علم وقدرت اور بے انتها لطف و مهر بانی سے عالم (احسن نظام) کو تخلیق کیا هے جس میں بیشتر خیر ونیکی حاصل هوتی هے اور اس کے معنی یه هیں که خداوند متعال کی مهر بانیاں الهی حد وعظمت میں هوتی هیں-

اس کے علاوه جس خدانے والدین ، خاص کر ماں کے دل میں اپنے فرزندوں کے بارے میں مهر ومحبت قراردی هے، اس کے لئے ضروری هے که خود بھی اس مهرو محبت کے بالاتر اور مکمل تر درجه پر فائز هو اور محبت سے خالی نه هو – کیونکه فلاسفه کے قول کے مطابق : ” جودوسروں کو کمال بخش سکتا هو، ممکن نهیں هے که وه خود صاحب کمال نه هو



[1]



-”

لیکن دنیا میں موجود ناخوشگوایاں ، ظلم ، مشکلات ، رنج و مصیبتیں ، محرو میتیں اور موت وفوت جیسے حوادث دوحصوں میں تقسیم هوتے هیں:

١- وه حوادث جو انسانوں کے ناپسند طرز عمل کی وجه سے پیدا هوتے هیں ، جیسے: ظلم ، قتل، اور غارت وغیره-

٢- وه ناخوشگواریاں جوفطری حوادث کی وجه سے پیدا هوتی هیں، جیسے: سیلاب، زلزلے، خشک سالی اور بیماریاں وغیره-

حوادث کی پهلی قسم کے بارے میں قابل ذکر بات هے که، چونکه خداوند متعال نے انسان کو ایک بااختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا هے تاکه وه بهلائی اور برائی،بدصورتی و خوبصورتی اور خیر وشر میں سے ایک کا انتخاب کرے، اس قسم کے نظام کا لازمه یه هےکه بعض اوقات انسانوں کے توسط سے اختیارات کا ناجائز فائده اٹھانے کے نتیجه میں معاشره میں شر، برائیاں ، ظلم اور بے انصافیاں وجود میں آتی هیں اور واضح هے که یه ناخوشگوار واقعات خدا کی طرف سے نهیں بلکه خدا کی مخلوقات کی طرف سے حاصل هوئے هیں- چنانچه قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے: ” لوگوں کے هاتهوں کی کمائی کی بناپر فساد خشکی اور تری هر جگه غالب آگیا هے



[2]



-” لیکن قیامت اور لوگوں کے اعمال اور حقوق کے دقیق حساب وکتاب کے پیش نظر ان مظالم اور بے انصافیوں کی تلافی هوگی-

دوسری قسم کے بارے میں ، جوقدرتی حوادث کے نتیجه میں رونما هو تے هیں درج ذیل نکات کو بیان کیا جاسکتا هے:

١- یه دنیا انسانوں کے لئے امتحان کا هال اور دقیق حساب و کتاب کی جگه هے اور تمام واقعات ، من جمله آسائشیں ، سختیاں ، شادیاں ، مصیبتیں ، نعمتوں کی فراوانیاں ، اور محرو میتیں وغیره برے اور بهلے کے در میان تشخیص دینے اور امتحان کا وسیله هیں- اگر هم خداوند متعال کی طرف سے اس سلسله میں سر بلند افراد کو عطا کی جانے والی ناقابل توصیف پاداش واجر کو مد نظر رکهیں تو همیں معلوم هوگا که اس دنیا کے تلخ ترین حوادث خداوند متعال کی عین مهر بانی اور بے انتها لطف وکرم هیں، کیونکه جس قدر رنج و مصیبتیں زیاده هوں ، اجر و ثواب بهی اسی قدر کئی گنا زیاده هو تا هے-

قرآن مجید نے بهت سے مواقع پر مذکوره مطلب کی طرف اشاره کیا هے اور ارشاد بار تعالی هے: ” اور هم یقیناً تمهیں تھوڑے خوف تهوڑی بهوک اور اموال ، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر ! ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں



[3]



-”

٢- مشکلات اور سختیاں ، افراد کی تر بیت کر نے والی ، قوموں کو بیدار کر نے والی اور ان کے عزم و اراده کو ابهار نے والی هوتی هیں



[4]



– اور اسی وجه سے سختیوں کا وجود خلقت کے مقصد کے بالکل مطابق هو تا هے اور انسانوں کو کمال تک پهنچانے والے خداوند متعال کی مهر بانی کے منافی نهیں هے-

٣- بهت سی نا خوشگواریاں انسان کی رشد وپالید گی میں کلیدی رول ادا کرتی هیں – جن انسانوں نے فقر و محتاجی میں رشد کیا هے اور سختیوں اور نا خوشگوار حالات سے مقابله کیا هے انهیں نمایاں کا میابیاں حاصل هوئی هیں که انسانی معاشرے ترقی اور پیشرفت میں ان کے مر هون منت هیں-

٤- اگر بد صورتی ، خوبصورتی کے ساتھـ نه هوتی تو نه خوبصورتی ، خوبصورت هوتی اور نه بد صورتی ، بد صورت هو تی، اور اگر سب لوگ خوبصورت هو تے تو خوبصورتی هی نه هو تی اور کوئی خوبصورت نه هو تا —حقیقت میں خوبصورتوں کی کشش بد صورتوں کے دافعه سے توانائی حاصل کرتی هے



[5]




٥- بدصورتیاں ، زیبائیوں کا مقدمه هیں اور زیبائیوں کو پیدا کر نے والی هوتی هیں ، یعنی مشکلات اور مصیبتوں کے اندر خوش بختی اور سعادت مضمر هوتی هے ، اس کے علاوه کبهی سعادتوں کے اندر بدبختیاں مضمر هوتی هیں اور یه اس دنیا کا فارمولا هے



[6]




اگر هم مجموعی طور پر ان مسائل کو مد نظر رکهیں تو واضح هوگا که جن چیزوں کے بارے میں هم اس دنیا میں احساس کر رهے هیں که وه شر هیں ، حقیقت میں وه بلند ترین نیکیوں تک پهنچنے کی راه کے علاوه کچھـ نهیں هیں –

اما، آپ کے سوال کے آخری حصه، یعنی شر کو پیدا کر نے والے کےبارے میں قابل ذکر بات هے که شرکوئی ایسی چیز نهیں هے جسے پیدا کیاگیا هو بلکه یه ایک عدمی امر هے جو کسی دوسری چیز کے نابود هو نے کے نتیجه میں پیدا هو تا هے – مثال کے طور پر بدن کے کسی عضو کا ناقص هونا، پیدا نهیں هوا هے بلکه یه انسان کے اعضاء میں کسی عضو کے نه هو نے یا عدم خلق کا نتیجه هے – اس طرح شبهه “ثنویه” اور عالم میں دوخداٶں کے هونے کا توهم ختم هو تا هے ، کیو نکه هستی دوقسم کی نهیں هے تاکه اس کے دو مبدا هوں



[7]



– بلکه هستی، هو نے کے لحاظ سے خیر هے اور نیستی و نابودی ، نه هونے اور وجو نه رکهنے کے لحاظ سے شر هے – اور یه هستی هے که جسے خالق کی ضرورت هے ورنه عدم اور نیستی کو تو خالق کی ضرورت هی نهیں هے – پس عالم کا صرف ایک هی خالق هے-

مزید معلو مات حاصل کر نے کے لئے ملاحظه هو:

١- تفاوتوں کے وجود کا فلسفه، بد صورتی اور خوبصورتی اور هدایت و گمراهی ، سوال نمبر : ٢655 (2806)

مزید  صدر اسلام میں حماده عورت تھی یا مرد، اس کی شخصیت کیسی تھی؟

٢- طبیعی بلائیں ( سیلاب ،زلزله ، طوفان وغیره) اورعذاب الهی ، سوال نمبر : 3095 (3364)

٣- بلاٶں کا امتحان اور عذاب الهی اور ان دونوں کے درمیان تشخیص دینے کا معیار، سوال نمبر: 2428 (2562)

٤- امتحانات الهی کا مقصد، سوال نمبر: –







[1]



 
– بدایۃ الحکمۃ علامه طباطبائی ، ص٢٦٩; “معطی الکمال غیر فاقد”






[2]



 
– سوره روم ، ٤١” یظهر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس”






[3]



 
– سوره بقره ، ١٥٥: “ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال و الا نفس و الثمرات و بشر الصابرین “-








[4]



 
– عدال الهی شهید مطهری ،ص١٥٦-






[5]



 
– عدال الهی شهی مطهری ،ص١٤٣-






[6]



 
– عدال الهی شهی مطهری، ص١٤٩-






[7]



 
– کتاب عدل الهی شهید مطهری،ص١٣٥-

تبصرے
Loading...