خدا وند متعال نے کس خصوصیت کی بناپر حضرت سلیمان کو ملک و حکومت عطا کی ؟

0 0

جواب سے پهلے، مقدمه کے طور پر ایک اور سوال و جواب پر غور کر نا ضروری هے، وه سوال یه هے که هم جانتے هیں که انبیاء کا مقصد اور خدا کی طرف سے ان کی رسالت کی وجه ، بندوں کو خدا کا کلام اور نجات کا پرو گرام پهنچانا اور خالص توحید کی طرف دعوت کر نا تھا ، جو موحدین الهی کے لئے بهترین تحفه هےـ لهذا ان میں سے هر ایک کیوں ایک خاص سیرت اور شخصیت کا مالک هو اور بنیادی طور پر انبیاء کو قدرت، ملک اور وسیع حکو مت کی ضرورت کیوں هے ؟

جواب میں کها جاسکتا هے : پهلے یه که، بعض امور میں توازن پیدا کر نا اور بهت سے دینی مسائل کو نافذ کر نا ،قدرت اور حکو مت کے بغیر ممکن نهیں هے- مثال کے طور پر مالی قوانین جهاد وغیره – اب اگر حکام خدا کے احکام کی فرماں برداری نه کریں اور دینی امور کے نفاذ میں کو تاهی کریں تو اس صورت میں ان کے ساتھـ مقابله کر نا واجب هے تاکه اقتدار پر قبضه کر کے خداوند متعال کے ارادوں کو عملی جامه پهنایا جا سکے- دوسرے یه که ، خدا کی طرف سے انبیاء کو ملک وقدرت عطا کر نا ، کافر حکام پر حجت تمام کر نے کی غرض سے تھا تاکه یه لوگ دعوی نه کریں که جو بھی ان کی جیسی حالت میں ھوتا ، شیطانی وسوسوں سے دو چار هو تا اور اس کے فریب میں آتا اور سر انجام ظلم وگناه کا مرتکب هو جاتا !

تیسرے یه که انبیاء کی تبلیغ صرف عوام الناس کے لئے نهیں تھی بلکه حکمراں طبقه بھی ان کا مخاطب تھا – معاشره کے حکام اور صاحب اقتدار بھی دوسرے لوگوں کے مانند اسوه، پیشوا اور راهنما کے محتاج هیں تاکه اپنی حکمرانی کے دوران اس سے تمسک کر کے سیدھے راسته سے منحرف نه هو جائیں – اس لئے ضروری هے که بعض انبیاء اپنی رسالت کے طریقه کار میں صاحب ملک وقدرت هوں ، اور وقت اور مستقبل کے حکام کے لئے ایک مناسب نمونه عمل بن جائیں-

اس ضرورت کے پیش نظر خدا وند متعال نے بعض انبیاء ، جیسے: حضرت سلیمان (ع) ، طالوت اور محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم وغیره کو قدرت و حکو مت عطا کی تاکه دوسرے ان سے زندگی کے صحیح طریقے کو سیکھـ لیں اور جان لیں که جس حالت میں بھی ھوں اور جس حکو مت و اقتدار پر هوں ، وه خدا کے اراده کے تحت هیں [1] اور وه ایک کمزور مخلوق هیں جن کا هو نا یا نه هو نا خدا کے فضل و کرم پر منحصر هے- یه مطلب حضرت سلیمان علیه السلام کو ملک و حکو مت عطا کئے جانے کے سلسله میں ، که جو اد کی اپنی دعاٶں کا نتیجه تھا ، اور حضرت سلیمان کی  کے ذکر داستان میں ، واضح طور پر مشاهده کیا جاسکتا هے-

اب اصل سوال، یعنی اس قسم کی وسیع حکومت کا صرف حضرت سلیمان علیه السلام کے لئے مخصوص هو نے کے سلسله میں کها جاسکتا هے که:

١- اگر انبیائے الهی میں سے کسی ایک کو مطلق ملک اور حکو مت عطا کر نے کے بعد مذکوره مقاصد پورے هو جائیں تو پھر خدا کی طرف سے اس قسم کی حکو مت کی تکرار کی ضرورت نهیں هوتی هے- خداوند متعال کے کا م میں بے هوده اور بے فائده تکرار کا وجود نهیں هے-

٢) حضرت سلیمان علیه السلام سے مخصوص اور منحصر ملک و سلطنت جو خدا سے عفو و بخشش کی دعا کے بعد انهیں حاصل هوئی تھی ، خود حضرت سلیمان کی درخواست کی وجه سے عطا هو ئی تھی که انهوں نے خدا وند متعال سے التجا کی تھی که بارالها ! مجھے ایسی حکومت عطا کر که میرے علاوه کوئی اس کا سزاوار نه هوـ [2] پس حضرت سلیمان علیه السلام کی حکومت کے  ان سے مخصوص هونے کی وجھ ان کی دعاٶں میں و تلاس کرنی چاهئے-

٣) انبیاء علهیم السلام اپنے لئے کو ئی چیز نهیں چاهتےهیں بلکه وه صرف امر الھی کے تحت اپنی ماموریت انجام دینے یعنی کلام الهی کو لوگوں تک پهنچانے کے ذمه دار هیں- لیکن کبھی کبھی اس سلسله میں کفار وشیاطین کی طرف سے گونا گون مشکلات پیدا کی  جاتی هیں – ان مشکلات میں سے ایک اهم مشکل حضرت سلیمان کے زمانه میں پیدا هوئی- پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی ایک روایت میں آیا هے که : سلیمان علیه السلام نے ایک وسیع حکو مت کے لئے اپنی درخواست کو ، فساد اور شیطان( پر غلبه پانے) کےلئے کیا هے-[3] دشمنوں کی ریشه   دوانیوں کو ختم کرنے کے لئے ان کے هی حربه، یعنی اسی جنس کی قدرت دافعه سے استفاده کر نا چاهئے – لیکن اس طرح که یه قدرت دافعه وارد هوئی قدرت سے قوی تر هو تاکه شریعتمداروں اور متدینوں کے جسم پر کوئی چوٹ  نه آئے –

سوره مبارکه بقره[4] کی آیت نمبر ١٠٢ اور حضرت سلیمان (ع) کی درخواست کے ساتھـ مذ کوره روایت کو ضمیمه کر نے سے واضح هو تا هے که اس پیغمبر بزرگ الهی کے زمانه میں ، شیاطین کے گھسنے کی راهیں خاص قدرت جیسے سحر و جادو تھیں جو  انسان یا حیوانات کے ذهن میں اثر کر کے انهیں مطیع بناتی هیں – اس لئے حضرت سلیمان علیه السلام کے لئے افراتفری سے دو چار حالات کو قابو میں لانے کے لئے اسی قسم کی ایک طاقت کا مالک هو نا ضروری تھا-

اس قسم کی قدرت کے لئے ضروری تها که حضرت سلیمان(ع) حیوانات کی زبان سے آشنا[5] هوں اور ایسے علوم سے آگاه هوں  که جنات کو تسخیر کر سکیں – اس قسم کی قدرت کا مالک هو نا حضرت سلیمان علیه السلام کی بے مثال اور اپنی نوعیت کی حکو مت کا سبب تها-

٤) بارگاه الهی میں حضرت سلیمان علیه السلام کی دعا سے دوسرے معانی بهی سمجهے جاسکتے هیں اور وه ان کا خداوند متعال سے معجزه کی درخواست کر نا هے-

هر پیغمبر کے لئے اپنے دعوی کے صحیح هو نے کو ثابت کر نے کے لئے ضروری هے که ایک معجزه، یعنی ایک ایسا کام انجام دے جو دوسروں سے ممکن نه هو، اور دوسری جانب سے انبیاء کا معجزه زمانه کے علوم اور اس زمانه کی اجتماعی ضرورتوں کے مطابق بھی هو –

جواب کے تیسرے حصه میں بیان هوا که حضرت سلیمان کے هم عصر لوگ ماورائی علوم کا زیاده تقاضا کرتے تهے اور لوگ غیر معمولی طریقوں سے قدرت حاصل کر نے میں انتهائی دلچسپی رکهتے تھے ، اسی لئے حضرت سلیمان علیه السلام کا معجزه بهی اسی جهت میں هونا چاهئے تها تاکه عام لو گوں کے لئے قابل قبول اور اتمام حجت هو اس لئے حضرت سلیمان علیه السلام اپنی نوعیت کے ایک ملک کا تقاضا کرتے هیں اور پروردگار عالم بهی اپنے پیغمبر کی درخواست کو منظور کر کے معجزه کے طور پر ایک وسیع حکو مت انھیں عطا کر تا هے، اس طرح که هوا کو ان  کے لئے مسخر بناتا هے ، جنات کو ان کے تسلط میں دیتا هے اور حیوانات کی زبان انھیں  سکها تا هے-

٥) پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم سے متعدد روایتوں میں نقل هوا هے که آپ(ص) نے فر مایا: خدا کی قسم ، بیشک مجهے وه چیز عطا هوئی هے جو سلیمان کو عطا کی گئی تهی بلکه جو کچھـ انھیں  اور دوسرے انبیاء کو عطا نهیں کیا گیا تها وه سب بهی مجهے عطا کیا گیا هے-

اس لحاظ سے پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم ایک ایسے ملک و قدرت سے بهره مند تھے ، جوحضرت سلیمان علیه السلام کی کو بھی نصیب نھیں ھوئے تھے۔

آخر میں  یه کهنا چاهئےکه حضرت سلیمان(ع) کی داستان، اد کی قدرت اور ان کے برتاٶ اور شان وشوکت کے بارے میں بعض لوگوں کے در میان بهت سے خرافات اور توهمات مشھور هیں- اس لئے ضروری هے که حقیقت کے متلاشی، اسلام کے صحیح منابع کا مطالعه کریں اور خرافات و توهمات سے دوری اختیار کریں-

منابع و ماخذ:

١-البخاری ، محمد بن اسماعیل ، صحیح بخاری انتشارات دار الفکر، بیروت-

٢- قمی، ابی الحسن ، علی بن ابراهیم، تفسیر قمی، دار الکتاب، قم، طبع چهاردهم ، سال ١٣٦٧٠ه- ش-

٣- مکارم شیرازی تفسیر نمونه ، دار الکتاب الاسلامیه ، طبو بیست وسوم-

٤- بحار الانوار ، علامه مجلسی ، محمد تقی، دارالکتب الاسلامیه ، طبع مروی، ١٣٦١ ه- ش-[6]


مزید  حضرت عیسی{ع} کو کیوں روح اللہ کہا جاتا ہے؟

[1] مکارم شیرازی ، ناصر، تفسیر نمونه، ص٢٧٩

[2] ” قال رب…هبلی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی …” ص،٣٥.

[3] البخاری ، محمد بن اسماعیل ، صحیح بخاری ، ج٢، ص ٦١

[4] ” والتبعوا ماتتلوا الشیاطین علی ملک سلیمان وما کفر سلیمان… یعلمون الناس السحر …”

[5] قمی ، ابی الحسن ، علی بن ابراهیم، تفسیر قمی، ج٢،ص٢٣٦.

[6] علامه مجلسی ، بحار الانوار ، ج١٤، ص٨٦.

 

تبصرے
Loading...