خداوند متعال نے کعبه کو تعمیر کر نے کا کیوں حکم دیا؟

0 0

کعبه کی تعمیر کے سلسله میں ، قرآن مجید کی آیات اور تاریخی اسناد کے مطابق مکه مکرمه، برکات الهی ، هدایت بشر[1] اور حضرت حق کی عبودیت کے لئے اجتماع [2]کے مرکز کی ایک علامت کے طور پر مقررکیا گیا هے– خداوند متعال نے اس خشک وبنجر جگه کو بے شمار دنیوی خیر وبر کت عنایت کر کے اپنی رزّاقیت کا مظاهره کیا هے[3]، اور اس حقیقت کو پیش کر کے که یه جگه قرب الهی حاصل کر نے کا مقام هے، دنیا کے لوگوں کی هدایت کے لئے سلوک بندگی کی کیفیت کی عکاسی کی هے – خداوند متعال نے کچھـ خاص ایام کے دوران کئی شرعی احکام و اعمال کو مقرر فر ما کر ، انسانوں کے لئے راه عبودیت کی نشاندهی کی هے تاکه انسان اپنے نفس کے چنگل سے آزاد هو کر ، هر قسم کی آلودگی ، تمایلات، رنگ و حالات سے اپنے آپ کو پاک کر کے اخلاص، سر بلندی اور توبه کے ذریعه قرب الهی تک پهنچ جائے-[4] اس کے علاوه اپنے گھر کو مقام ابراهیم(ع) کی علامت ، حرم امن اور مستطیع لوگوں کے لئے حج کے طور پر معرفی کیا هے که ان میں سے هر ایک چیز خدا کی عظمت کو بیان کرتی هے اور حقیقت میں کونسی علامت اس سے واضح تر هو سکتی هے که هر سال هزاروں افراد اس جگه پر جمع هو کر مناسک واعمال انجام دیں ، خدا کے حضور اپنی عبودیت کا مظاهره کریں اور یه کام بذات خود دوسرے لوگوں کے لئے تبدیلی ایجاد کر کے بیداری کا سبب بن جاتا هے-[5]

خداوند متعال نے اس گھر کو تعمیر کر نے کا حکم فر مایا تا که نماز ، قربانی اور مردوں کو قبر میں ڈالتے وقت قبله کے عنوان سے لوگوں کو اپنی یاد دلائے- اس کے علاوه تمام بظاهر متفرق دلوں کو ایک جگه جمع کرتا هے تاکه ان میں توحید اور یکجهتی کی روح کو پرورش دے اور اس کے ذریعه اپنے دین کو زنده ، مستحکم اور پائیدار بنائے-[6]

لهذا اس مقدس مکان کی تعمیر کا مقصد اس کے علاوه کچھـ نهیں هے که اسے معنوی اور ماورائے مادی مسائل کی علامت قراردے-

قرآن مجید اس مکان کی تعمیر کے مقاصد اور اس کے گزشته ریکارڈ کی طرف اشاره کرتے هوئے ارشاد فر ماتا هے: ” بیشک سب سے پهلا مکان جو لوگوں کے لئے بنایا گیا هے وه مکه مکر مه میں هے، جو مبارک هے اور عالمین کے لئے مجسم هدایت هے-[7]

یهاں پر هم ذیل میں خلاصه کے طور پر کعبه کی تعمیر کے چند مقاصد اور فوائد کے بارے میں اشاره کر تے هیں :

١- اسلامی اقتدار کا مرکز:

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے نقل کی گئی ایک روایت میں آیا هے که : “بیشک خداوند متعال نے انسانوں کو پیدا کیا اور انھیں دینی احکام کی پیروی کر نے کا حکم فر مایا اور ان کے لئے دنیوی مصلحتوں کو منظم فر مایا اور اس سلسله میں خانه کعبه کو مسلمانوں کے اجتماع و اقتدار کا مرکز قرار دیا تاکه مسلمان دنیا کے کونے کونے سے آکر وهاں پر اجتماع کریں-[8]

حضرت (ع) سے نقل کی گئی ایک اور روایت میں بیان کیا گیا هے که : ” اگر اقوام صرف اپنے علاقوں اور جو کچھـ وهاں پر هے اسی پر اکتفا کریں اور صرف اپنی پونجی کو هی کافی سمجھیں ، توزمینیں برباد هوں گیں ، تجارت نابود هو گی اور وه ملک ثقافتی نقصانات سے دو چار هو جائے گا- [9]

٢- ایک قابل احترام مرکز :

ایک عالی مکتب کے لئے ایک مستحکم مورچه اور قابل احترام مرکز کا هو نا ضروری هے- خدا وند متعال نے اس سلسله میں اپنے انبیاء کے توسط سے اس عالمی مرکز کی بنیاد ڈالی اور اراده فر مایا که روز بروز اس کے احترام کو بڑھاوا ملے-

قرآن مجید ، حضرت ابراهیم علیه السلام کے اپنی ذریت کے لئے مسکن قرار دینے کے حیرت انگیز واقعه کی طرف اشاره کر نے کے ضمن میں ، اس گھر کا احترام و تکریم بیان فر ماتا هے : ” پروردگارمیں نے اپنی ذریت میں سے بعص کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاه وادی میں چھوڑ دیا هے— [10]

امیرالمٶمنین حضرت علی بن ابیطالب علیه السلام نے بھی خانه کعبه کی اهمیت اور احترام کی طرف اشاره کر تے هوئے “قاصعه” نامی اپنے خطبه میں فر مایا :” کیا تم لوگ نهیں دیکھتے هو که خدا وند متعال نے دنیا کے لوگوں کو حضرت آدم (علیه السلام ) کے زمانه سے آج تک پتھر کے ٹکڑوں کے ذریعه آزمایا هے ( که کیا وه تواضع و فر مانبرداری کرتے هیں یا نهیں ) اسے اپنا گھر قرار دیا اور پهر آدم (ع) اور اس کے فرزندوں کو حکم دیا که اس کے گرد طواف کریں- [11]

٣- امن برقرار کر نا :

قرآن مجید کے بیانات کے مطابق کعبه امن اور لوگوں کے اجتماع کا مرکز هے[12]– پوری تاریخ میں جس قدر دشمنوں نے اس مرکز کو منهدم اور بے احترامی کر نے کی کوشش کی هے ، خداوند متعال نے ان کے ارادوں کو بے اثر کر کے انھیں ناکام بنا دیا هے، اصحاب فیل کی مشهور داستان اور ابرهـ اور اس کے هاتھیوں کے کچل جانے اور فرار کر نے کا ماجرا خدا وند سبحان کے اراده کی نشانی هے-

٤- مناسک حج بجا لانا:

قرآن مجید نے اس باشکوه تقریب (مناسک حج) اور اس کی عظمت کی طرف اشاره فر مایا هے، جس میں بهت سے تربیتی ،اقتصادی ، اخلاقی اور سیاسی — فائدے هیں – جهاں پرلفظ ” منافع” کے ذریعه واضح طور پر اس کے بے شمار فوائد کی طرف اشاره کرتا هے : ” تا که اپنے منافع کا مشاهده کریں اور چند معین دنوں میں — خدا کانام لیں ![13]

٥- دوسرے فوائد اور مقاصد :

مقاله کے خلاصه کے پیش نظر هم کعبه کی تعمیر کے دوسرے فوائد اور مقاصد کی تفصیل بیان کرنے سے صرف  نظر کرتے هوئے ان میں سے صرف چند ایک کی طرف اشاره کر نے پر اکتفا کرتے هیں :

الف : مسلمانوں کے لئے تجارتی مرکز قائم کر نا تا که مسلمان تجارتی میدان میں ترقی کریں –

ب : ثقافتی رشد و بالید گی اور تبادله خیال کے لئے ایک مرکز کا قیام-

ج : شرک و کفر کے خلاف جهاد کے لئے ایک اهم مورچه قائم کر نا-

د- دشمنان اسلام کے لئے رعب و وحشت ایجاد کر نے اور مستکبرین سے بیزاری کا ایک مرکز قائم کر نا-

و- امت اور امام ورهبری کے در میان انسجام بر قرار کر نے کے لئے ایک مرکز قائم کر نا-


مزید  لفظ بدظن (مثلا قرآن مجید میں) کس معنی میں آیا هے؟ بدظنی کی علت کیا هے؟ انسان کیوں بدظن هوتا هے؟بدظنی کے علاج کا طریقه کیا هے؟کیا بدظنی وهی شک هے؟بدظنوں کے بارے میں قرآن مجید کا نظریه کیا هے؟ اور ان کے ساتھـ کیسے مقابله کرنا چاهئے؟اگر بدظنی کی بیماری کا علاج هو جائے تو پھر سے اس میں مبتلا نه هونے کے لئے کیا کام انجام دینا چاهئے؟کیا بدظن انسان تمام انسانوں کے بارے میں بدظن هوتا هے یا خاص افراد کے بارے میں بدظن هوتا هے؟ اگر اس کا جواب خاص افراد هے تو مثال کے طور پر وه کون سے افراد هوسکتے هیں (کیا وه افراد هوسکتے هیں جن کو وه بهت پسند کرتا هے---)؟اس بیماری سے دوچار نه هونے کے لئے همیں کیا کرنا چاهئے؟بدظنی کے اثرات کیا هیں؟بدظن شخص کو پهنچنے والے نقصانات زیاده تر کس جهت سے هوتے هیں (روحانی وغیره) اگر ممکن هو تو اس موضوع کے تمام حهات میرے لئے بیان کیحئے؟اگر کوئی شخص دوسروں کے بارے میں هو جانے والی بدظنی کا علاج نه کرے اور اسی طرح آگے بڑھے تو وه دوسروں کو کیا نقصانات پهنچا سکتا هے؟کیا بدظن شخص کے اپنے لئے پیدا کرنے والے نقصانات زیاده هیں یا دوسروں کے لئے یا معاشره کو پهنچنے والے نقصانات زیاده هیں؟کیا اپنے آپ کی اصلاح نه کرنے والے کے لئے کوئی اخروی عذاب بھی هے؟اس بری صفت میں مبتلا افراد، خود اس سے رنجیده هوتے هیں کیا وه عذاب سے بھی دوچار هوں گے؟کیا ان کے لئے اخروی عذاب کے علاوه دنیوی عذاب بھی هوگا؟بدظن شخص کی، معاشره میں کیا حیثیت هوتی هے؟کیا بدظن شخص کے ساتھـ هم نشینی هم پر کوئی اثر ڈال سکتی هے؟ یعنی کیا یه ممکن هے که هم بھی بدظن بن جائیں؟کیا بدظن افراد اکثر جوان هوتے هیں یا تمام قسم کے لوگ اس میں شامل هوتے هیں اور حقیقت میں میری مراد یه هے که کیا یه صفت انسان کی عمر کے ایک خاص دور سے متعلق هوتی هے یا هر عمر کے لوگوں میں یکسان هوتی هے اور کسی خاص سن و سال سے متعلق نهیں هوتی هے؟بدظن افراد کے بارے میں ماهریں نفسیات کا کیا نظریه هے؟

[1] – سوره آل عمران ،٩٦-

[2] – سوره بقره ،١٢٥-

[3] – سوره ابراهیم ، ٣٧-

[4]  طبا طبا ئی سید محمد حسین ،المیزان ،ج١،ص٢٩٨-

[5]  ایضاً ،ج٣،ص ٣٥٤-

[6] – ایضاً، ج٦،ص١٤٢-

[7] – “ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وهدی للعا لمین” ،سوره آل عمران،٩٦-

[8] – ” ان الله خلق الخلق — وامرهم بما یکون من امر الطاعۃ فی الدین و مصلحتهم امر دنیا هم فجعل فیه الاجتماع من الشرق و الغرب” ،وسائل الشیعه، ج١١، ص١٤-

[9] – ایضا، ص١٥

[10] – ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیرذی ذرع عند بیتک المحرم” ،سوره ابراهیم ،٣٧-

[11] – نهج البلاغه ، خطبه ١٨٣-

[12] – سوره بقره ،١٢٥-

[13] – “لیشهدوا منافع لهم ویذکروا اسم الله فی ایام معلو مات” ،سوره حج ٢٨-

تبصرے
Loading...