خداوند عالم نے یه جانتے هوئے که بهت سے لوگ جهنم میں جایئں گے پھربھی انھیں کیوں پیدا کیا ؟

0 1

((شقی لوگوں کی خلقت اور ان پر عذاب کا معما)) کے مسئله کی بازگشت ((جبر و اختیار)) کی مشهور بحث کی جانب هے : خداوند عالم نے جو ابتدا سے موجودات عالم کی طبیعت اور ان کے انجام سے باخبر تھا ، انھیں کیوں پیدا کیا ؟ یه خلقت جبری تھی جو پوری طرح انسان کے اختیار سے خارج تھی دوسری طرف اگر یه مخلوق سرکشی و گناه نه کرے تو خداوند عالم کے علم کے ساﺘﮭ که یه گناه کرے گا تضاد لازم آئے گا لهذا یه مخلوق مجبور هے که مدام سرکشی کرتی رهے اور اس کے سوا کوئی اور راسته نهیں ، یه دوسرا جبر هے ۔

اس وجه سے هم چند نکتوں کی شکل میں خداوند عالم کے علم اور بندوں کے مجبور یا مختار هونے کے باره میں بحث کریں گے :

1- خداوند عالم کا موجودات کے اعمال و کردار سے با خبر هونا ان کے غلط کام کرنے پر مجبور هونے کا سبب نهیں بنتا ۔ مثال کے طور پر اگر آپ بلند مقام یا بلڈنگ کی موقعیت سے فائده اٹھاتے هوئے اپنے کسی دوست کی ڈرائوری کا مشاهده کریں اور یه دیکھیں که وه اس طرح ڈرائوری کرنے سے یقیناً گر جائے گا اور اس کے اس برے اور بے اصول اور بے عقل رویه کی بنیاد پر اس کے برے نتیجه کے بارے میں پوری طرح باخبر هوجائیں اور ﻜﭽﮭ منٹ بعد وه طبیعی طور پر اپنے کیئے کے نتیجے تک پهنچ جائے تو کیا آپ قصوروار هوں گے ؟ یا آپ اس کے گڑھے میں گر جانے کا سبب هیں ؟ کیا حکومت اور سڑک کے انجینئر اور گاڑی و سڑک کے صحیح استعمال نه کرنے کی وجه سے هوتے هیں ؟ یه سب سڑک کے حادثات کے جبری عامل هیں ؟

خداوند عالم نے هرگز کسی کی مقدرو انجام کو گناه و معصیت مین نهیں لکھا هے بهت سے علمائے اسلام نے اس حدیث کو پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم)  سے نقل کیا هے ((جو لوگ مقدر کی باتیں کرتے هیں اور یه خیال کرتے هیں که اس کے گناه ان مقدر و عاقبت کی بنیاد پر هیں جنھیں خدا نے ان کی تقدیر میں ﻠﻜﮭ کر انھیں مجبور کر رکھا هے ۔ نتیجه میں ان پر عذاب مختار نه هونے کی وجه سے هے ۔ انھیں یه معلوم هونا چاهیئے که ان کی یه فکر غلط هے اور اکثر انبیاء (علیهم السلام) بھی ان کی حرکت سے ناراض هوکر ان پر لعنت بھیجتے هیں ))[1]

2- بهتر یه هوگا که هم کهیں که خداوند عالم کو یه علم هے که کون هے جو هدایت کے اسباب سے فائده اٹھا ئے گا اور کون اسے ٹھکرائے گا اور عذاب بھی لوگوں کی اختیاری کردار کا نتیجه هے جو اس کے هدایت کے اسباب سے استفاده نه کرنے کا صله هے بالکل اس ماهر استاد کی طرح جو کلاس کے شروع میں پڑھائی میں کامیابی حاصل هونے کے اسباب بتا دیتا هے اور یه جانتا هے که کون اس کی بات کو اچھی طرح سے سن رها هے اور کون لوگ حواس باخته هیں ، طبیعی بات هے که انعام اور نمبر ان لوگوں کے لیئے هے جو اس کے حقدار هیں اور فیل هونا اور سردرد بھی ان کے لیئے هے جو اپنے اعمال کے ذریعه یهی مطلب کرتے هیں ، لهذ امعلم کا باخبر هونا بچوں کے کردار سے نقاب هٹادیتا هے نه یه که ان کو سستی و تنبلی پر مجبور کرتا هے ۔

اسی وجه سے متکلمین کهتے هیں که : خدا کو بندوں کی معصیت و اطاعت کا علم هے اور یه علم بندوں کے کردار کا کاشف اور تابع [2] هے [3] ۔

3- یه تمام اعتراضات اسی وقت صحیح هوسکتے هیں جب خدا هدایت کا کوئی وسیله فراهم کئے بغیر لوگوں سے اطاعت چاهے لیکن جب باطنی پیغمبر(عقل سلیم) اور ظاهری پیغمبر(انبیاء وائمه(علیهم السلام) کتاب اور علمائے ربانی)

اسی لیئے هیں تاکه وه بتائیں اور هدایت کریں ۔  پھر قصوروار کون هے ؟کیا وه هے جو سیکڑوں سگنل کے هوتے هوئے الٹا راسته چلے ؟ یا وه جو مخالفت کرنے والے کو سگنل ٹوڑنے پر سزا دے ؟

4- آج کی دنیا کی زندگی قصد و اراده کے ایک اسکول کے مانند هے اور هر شخص کی شقاوت و سعادت اسی کے هاﭡﮭ میں هے ، خود اسی کو آگے بڑھ کر خداوند عالم سے هدایت اور زیاده سے زیاده توفیقات طلب کرنا چاهئے ۔

5- خداوند عالم نے انسان کو پیدا کیاهے اور یه اراده کیا هے که وه کمال تک پهنچے ۔ اور کمال تک پهنچنے کے لیئے شیطان کا کردار بھی نظروں کے سامنے هونا چاهیئے تا که انسان اسے مد نظر رکھتے هوئے اس عالم امکان میں ترقی کرے ایک مؤمن و حق کی راه پر چلنے والے کے لیئے شیطان کا وجود نقصانده نهیں هے بلکه ترقی و کمال کا وسیله هے اس لیئے که آگے بڑھنا ، ترقی کرنا اور کمال تک پهنچنا همیشه اپنی ضدوں کے درمیان هی تشکیل پاتا هے [4] ۔

6- هر چند جن و انس کے شیطان کا کردار ضروری هے اور انھیں هونا چاهیئے ، لیکن اس کردار کو کون ادا کرے گا یه انھیں کے اراده و اختیار میں هے جس پر خداوند عالم کی جانب سے کسی قسم کا کوئی جبر نهیں هے ۔

پروردگار عالم نے شیطان کو بھی شیطان بنا کر پیدا نهیں کیا ، اس  لیئے که وه کئی سال (6 هزار سال) [5] تک فرشتوں کے ساﭡﮭ اٹھتا بیٹھتا اور عبادت کرتا رها ، لیکن بعد میں خود هی تکبر کی وجه سے سرکشی کرنے لگا اور خدا کی رحمت سے دور هوگیا ۔

اسی طرح یزید کا کام هے جو کارنامه انجام دیا هے ۔ یعنی یزید نے اپنے اراده و اختیار سے اس برے کردار کو اپنایا پس یزید یه نهیں کهه سکتا که خدا تو نے مجھے کیوں پیدا کیا ؟ اس لیئے که خداوند عالم اس سے کهے گا تمهارے کردار کی خلقت ایک ضرورت تھی ؛ اب اگر یزید یه کهے که کیوں میں اس کردار کو ادا کروں ؟ تو خداوند عالم جواب دے گا که تو نے خود اپنے اراده واختیار سے اپنا یا هے اگر تو چاهتا تو یزید نه بنتا اب تجھے اسی لیئے سزا ملے گی ، که تو یزید بنا ،دوسرے لوگ ان کے بارے میں غور و فکر کے خود کمال تک پهنچیں ، مثال کے طور پر یقیناً ایک یزید هونا چاهیئے تا که امام حسین (علیه السلام) اور آپ کا وه کارنامه جسے آپ (علیه السلام) نے انجام دیا هے معنی پیدا کر سکے اور یه وهی میدان هے جهاں امام حسین (علیه السلام) شهادت کے اعلیٰ درجه پر فائز هوتے هیں لیکن خداوند عالم نے کسی کو مجبور نهیں کیا هے که وه ضرور بضرور یزید کا مصداق قرار پائے یه خود انسان هے جو اپنے هی اراده و اختیار سے اپنے لیئے ایسی جگه مقرر کرتا هے ، اسی وجه سے وه خداوند عالم سے یه پوﭽﮭ نهیں سکتا که کیوں میں هی یزید کا کردار ادا کروں ، اسی لیئے که یهاں کسی قسم کا الزام در کار نهیں هے اور وه (انسان) خود چاهتا تو ایسانه بنتا ۔

7- انسان کی خلقت در اصل خداوند عالم کا لطف و کرم هے جو اسے نصیب هوا هے ، بالکل اسی طرح جیسے کسی نے دسترخوان لگاکر ﻜﭽﮭ لوگوں کو دعوت کی که جو ﻜﭽﮭ دسترخوان پر هے نوش فرمایئں ، اب اگر کوئی خود هی اس پر موجود کھانا نه کھائے اور بھوک کے سبب ﻜﭽﮭ ایسے مشکلات سے دوچار هو جن کا جبران ممکن نه هو، تو میزبان پر کوئی اعتراض کا حق نهیں هے اور اس سے پوﭽﮭ تاﭽﮭ بھی نهیں کی جاسکتی که کیوں تم نے اس کی دعوت کی هے ، شاید اگر اس کی دعوت نه کرتا اور اپنے علم پر (که فلاں مهمان کھانا نهیں کھائے گا) اکتفاء کرتا تو ممکن تھا وهی مهمان اس سے پوچھتا که تم نے میرے دعوت کیوں نهیں کی اگر دعوت کرتے تو میں بھی وهی کھانا کھاتا۔


مزید  میں یہ جاننا چاھتا ہوں کہ اگر میں اعتقادی طور پر اور بھی مستحکم بننا چاھوں تو مجھے کیا کرنا چاھیئے؟

[1]  انّه (صل الله علیه وآله وسلم) قال : لعنت القدریه علی لسان سبعین نبیاً ۔ قیل: و من القدریۃ یا رسول الله ؟ فقال : قوم یزعمون ان الله قدر علیهم المعاصی و عذبهم علیها ۔ ( بحار، ج 5 ،ص47 )

آنحضرت نے فرمایا که : قدریه پر ستّر نبیوں نے لعنت بھیجی هے ، کسی نے کها ؛ یارسول الله قدریه کون هیں ؟ آنحضرت (صل الله علیه وآله وسلم)   نے فرمایا : ایک قوم هے جن کا خیال هے که خداوند عالم نے گناه ان کے مقدر میں ﻠﻜﮭ دئے هیں اور اس کو عذاب بھی کرے گا۔

[2]  یهاں تابع کے معنی یه هیں که علم ، معلوم کے مطابق هوتا هے ۔

قال: هو تابع بمعنی اصالۃ موازیه فی التطابق ۔

اقول : اعلم ان التابع یطبق علی ما یکون متأخراً عن المتنوع و علی ما یکون مستفاداً منه و ھما غیر مرادین فی قولنا العلم تابع للمعلوم فان العلم قد یتقدم المعلوم زماناً و قد یفید وجوه کالعلم الفعلی و انّما المراد ھنا کون العلم و المعلوم متطابقین بحیث اذا تصور ھما العقل حکم بأصالۃ المعلوم فی ھیئۃ التطابق و ان العلم تابع له و حکایۃ عنه و ان ما علیه العلم فرع علی ماعلیه المعلوم و علی ھذا التقدیر یجوز تأخر المعلوم الذی ھو الاصل عن تابعه فان العقل یجوز تقدم الحکایۃ علی المحکی ۔(کشف المراد ،ص231 )؛

میں کهتا هوں : جان لو که تابع اس چیز پر اطلاق هوتا هے جو متبوع کے بعد آئے اور یا متبوع سے هی ﺴﻤﺠﮭ میں آئے لیکن همارے اس قول سے که علم معلوم کا تابع هے ، یه دو معنی مراد نهیں هیں یقیناً علم کبھی معلوم پر تقدم هوتا هے اور کبھی اس کے وجود کو ثابت کرتا هے جیسے علم فعلی ، یهاں تابع سے مراد علم و معلوم کا ایک دوسرے کے مطابق هونا هے اس طرح که اگر عقل دونوں کا تصور کرے تو مطابقت میں معلوم کی اصلیت کا حکم دے اور یه که علم تابع هے معلوم قائم هے اور اس فرض کے ساﭡﮭ معلوم کا متأخر هونا جائز هے جو که اپنے تابع کی اصل هے یقیناً عقل، حکایت کا محکی پر مقدم هونا جائز قرار دیتی هے ۔

[3]  خواجه نصیر الدین طوسی ، کشف الاسرار،ص231

[4]  بیستونی ، محمد، شیطان شناسی از دیدگاه قرآن کریم ، ص17

[5]  نهج البلاغه ، خطبه قاصعه ، نمبر 234

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.