خجالت کو کیسے ختم کیا جاسکتا هے؟

0 0

سوال کا جواب دینے سے پهلے قابل ذکر بات هے که:

خجالت اور شرمیلا پن ایک ایسی آفت هے جو انسان کی ترقی اور پیش رفت میں رکاوٹ بن کر ناپخته رفتار، نامناسب رد عمل، سرگرمیوں سے اجتناب کرنے شخصیت مجروح هونے اور دوست پیدا کرنے میں مشکلات کا سبب بنتی هے اور انسان کے جسم و روح کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرتی هے ـ خجالت انسان کو نئے افراد سے ملنے میں پریشان اور دشواریاں ایجاد کرتی هے، اور شخص کو کسب و کار اور تجارت کے لئے نئی جگهوں میں داخل هونے کو سخت بناتی هے اور لوگوں سے دور رهنے اور توانائی رکھنے کے باوجود، عجز و ناتوانی کا احساس کرنے کا سبب بنتی هے ـ

خجالت باطنی دشمن کی صورت میں ظاهری دشمن کے مانند کام کرتی هےـ مثال کے طور پر : ایک شرمیلا طالب علم اپنی مشکل کو بیان نهیں کرسکتا هے اور همیشه انتظار میں رهتا هے که دوسروں کی طرف سے اس سے سوال کیا جائے تب وه اپنی مشکل بیان کرے ـ

خجالت اور شرمیلا پن صرف ایک احساس هے ـ یعنی ایک باطل تصور هے اور حقیقت پر مبنی کوئی چیز نهیں هے ـ شرمیلا انسان تصور کرتا هے که وه اجتماعی قدر و منزلت نهیں رکھتا هے اور دوسرے اس کی قدر و منزلت کے قائل نهیں هیں، جبکه ممکن هے اس قسم کی کوئی چیز حقیقت نه هو ـ جب تک شرمیلے انسان میں یه تصور موجود هے، وه اس کے برے نتائج سے محفوظ نهیں ره سکتا هے ـ

شرمیلے انسان، خود کو فکری لحاظ سے ضعیف اور حقیر جانتے هیں ـ اگر کوئی مطلب لکھتے هیں یا کوئی بات کهتے هیں اور کسی مطلب کو جانتے هیں٬ اسے بیان شمار کرتے هیں اور خیال کرتے هیں چونکه اسے سب لوگ جانتے هیں، اس لئے اسے اظهار نهیں کرتے هیں ـ ایسے لوگ اپنے آپ کو تقریر کرنے کے لئے مشکل سے آماده کرسکتے هیں اور فوراً ان کے هاتھـ پیر پھول جاتے هیں، اپنی بات بھول جاتے هیں اور دوسرے لوگوں کے ان کے ضعف کے بارے میں آگاه هونے میں وه خود سبب بن جاتے هیں ـ اس طرز فکر اور باطل تصور کا تنیجه گوشه نشینی هے ـ[1]

خجالت کو ختم کرنے کی راهیں:

خجالت کے منفی نتائج پر توجه کرنا، انسان کو یه سوچنے پر مجبور کرتا هے که خجالت اور شرمیلے پن کو ختم کرنے کی کوئی راه پیدا کرے، لیکن هر چیز سے پهلے جاننا چاهئے که اولاً: یه دوسری تمام ناپسندیده صفات کے مانند قابل علاج ایک نفسیاتی حالت هے ثانیاً : ممکن هے اس بیماری کا سبب بچپن اور نوجوانی سے مربوط هو ـ

اس بیماری کا بچپن میں علاج کرنے کے لئے مندجه ذیل مطالب کی رعایت کی جانی چاهئے:

همیں چاهئے که اپنے بچوں کو معاشرتی بنایئں اور انھیں اپنےساتھـ دوست واحباب کے گھر لے جایئں اور اسی طرح دوستوں کو اپنے گھر میں دعوت کریں، دوسروں کے سامنے اپنے بچے کی تعریف کریں اور اس سے دوسروں کے سامنے بولنے کی همت افزائی کریں ـ

بچوں کو اجتماعی و معاشرتی بنانے اور شرمیلے پن سے مقابله کرنے کا ایک موثر طریقه یه هے که بزرگ افراد چند سوالات پیش کرکے بچوں کو غور و فکر کرنے اور بات کرنے پر مجبور کریں کتنا اچھا هے که اس سلسله میں بچوں کو بڑوں کے ساتھـ شرکت کرنے کی اجازت دی جائے تاکه بچه خجالت اور شرمیلے پن سے دوچار نه هوجائے اور گستاخی سے اجتناب کرتے هوئے اجتماعی ماحول میں اور اشخاص کے سامنے، اپنے وجود کی هنر مندیوں کا مظاهره کرے اور اپنی شخصیت کو ظاهر کرے، اس کے علاوه کوئی اور طریقه نهیں هے، جس کے ذریعه هم اس کو اجتماع میں حاضر هونے اور بات کرنے اور بحث و مباحثه میں حصه لینے کی مهلت فراهم کریںـ جو مطالب وه بیان کرتا هے، همیں ان کی همت افزائی کرنی چاهئے اور اگر وه کسی غلطی سے دوچار هوتا هے تو اس کی محبت ، احترام اور تواضع کے ساتھـ اصلاع کریں ـ

بچے کو بحث و مباحثوں اور صلاع و مشوروں میں شرکت کرنے کی فرصت دینا اور اسے اپنی یادیں بیان کرنے کی همت افزائی کرنا اور اسے ذمه داری سونپنا، اس کی شخصیت کو تجلی بخشنے اور خجالت و شرمیلے پن سے بچنے کے ذرائعے هیں ـ

اهم بات یه هے که بچه اپنے وجود کا اظهار کرنے کے سلسله میں گستاخی سے دوچار نه هو جائے اور دوسروں کی شخصیت، ان کے نظریات اور رائے کا بھی احترام کرے ـ اگر کسی جگه پر اس کی شخصیت کی بے احترامی کی گئی اور اس کی عزت کو کوئی ٹھیس پهنچی تو اسے صراحت کے ساتھـ لیکن مودبانه طور پر اپنےحق کا دفاع کرنا چاهئے ـ

لیکن جوانی کے دوران اس بیماری کا علاج کرنے کے لئے مندرجه ذیل مطالب کی رعایت کی جانی چاهئے :

1ـ تلقین:

علم نفسیات کے ماهریں کے مطابق، “تلقین”، بهت سی جسمانی اور روحانی بیماریوں کے علاج میں موثر هے ـ اس جمله کو همیشه دهرایئے که :”میں بهت سے کام انجام دے سکتا هوں مثلاً میں دوسروں کے سامنے بول سکتا هوں ـ” کیونکه شرمیلا پن، ناکامی کے خوف کی علامت، اور اشخاص سے مواجه هونے میں وحشت کی دلیل هے اور یه ذهنی کمزوری معاشره سے فرار کرکے دور نهیں هوسکتی هے ـ رات کو سوتے وقت اور بدن کو سکون ملنے پر یه جملات دهرانے چاهئے: “میں بھی دوسروں کے مانند توانایئاں اور قابلتیں رکھتا هوں”ـ اور یه ایک حقیقت هے که جس سے پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے پرده اٹھایا هے، جب آپ نے فرمایا: “لوگ خزانه هیں، سونے اور چاندی کے خزانوں کے مانندـ”[2] میں اپنی بات بیان کرنے کی طاقت رکھتا هوں ـ میں دوسروں سے هرگز نهیں ڈرتا هوں ـ میں جیسا هونا جاهوں، ویسا هونے کی طاقت رکھتا هوںـ”

2ـ خود اعتمادی:

انسان کو اپنی خوش بختی اور سعادت حاصل کرنے کے لئے اپنی شخصیت، اراده اور عمل پر بھروسه کرنا چاهئے اور یقین کرنا چاهئے که ترقی و کمال کے مراحل کو خود طے کرے ـ[3] جب وه اپنی فکر و عقل کی طرف رجوع کرتا هے اور صیحح تجزیه و تحلیل کرتا هے اور پاتا هے که خداوند متعال مهربان هے اور اس نے اسے اپنے دوسرے بندوں کے مانند پیدا کیا هے اور اسے عقل و سالم بدن عطا کیا هے اور اچھی استعداد عطا کی هے، تو وه اس نتیجه پر پهنچتا هے که وه دوسروں سے کوئی چیز کم نهیں رکھتا هے ـ جب وه سمجھـ لیتا هے که وه دوسروں کے مانند هے٬ تو یقین کرتاهے که اسے دوسروں کے مانند معاشرت کرنی چاهئے اوردوسروں سامنے بولنے میں شرم نهیں کرنی چاهئے ـ

خداوند متعال نے انسان میں “اراده” نام کی ایک طاقت قرار دی هے اگر وه اس طاقت سے استفاده کرے تو وه مشکلات پر قابو پاسکتا هے ـ

اگر انسان خدا پر بھروسه کرے، تو اس میں خود اعتمادی پیدا هوتی هے اور انسانی مقاصد کی راه میں زوال سے دوچار نهیں هوتا هے ـ انسان کی سعادت اس کے عقائد اور اعمال سے وابسته هے، اور اس کی بدبختیوں کا سرچشمه اس کے ناپسندیده رفتار و کردار هیں ـ جو اپنے دشمنوں اور نادان دوستوں کے وسوسوں کی طرف توجه کئے بغیر اپنے کار وتلاش کو جاری رکھتا هے٬ اسے جلدی نتیجه حاصل هوتا هے اور روز بروز اس کی امیدیں بڑھتی هیں ـ اور جو حقارت آمیز نگاهوں سے کام کاج کو چھوڑتا هے اور نا امید هوتا هے، روز بروز اس کی سستی اور افسردگی میں اضافه هوتا هے ـ

3ـ مشق:

خجالت جیسی، ایک ناپسندیده عادت کو ختم کرنے کے لئے مشق کرنی چاهئے جیسے : گروپ مباحثوں میں شرکت کرنا، گروه کے اراکین سے تعاون کرنا اور اپنے نظریات پیش کرنا اور بولتے وقت مخاطبین کے چهروں پر توجه نه کرناـ یه ایک فطری بات هے که تمام بولنے والے ابتداء میں کم و بیش آپ کی جیسی مشکلات سے دوچار هوتے هیں اور حتی جملات کو ادا کرنے میں مشکلات اور کمزوریوں سے دوچار هوتے هیں، لیکن صبر و شکیبائی اور مشق و تمرین سے اپنے نقائص کو دور کرتے هیں اور رفته رفته مشق کو دهرانے کے نتیجه میں مکمل طور پر خجالت کو اپنے سے دور کرتے هیں ـ

4ـ امید:

امیدوار هونا، یقین پیدا کرنا، ایک قطعی فیصله اور آهنی اراده رکھنا ایسی چیزیں هیں جو شرمیلے پن کی مشکل کو مکمل طور پر حل کرسکتی هیں ـ

حضرت موسی علیه السلام لکنت زبان سے دوچار تھے، لیکن وه خدا پر بھروسه کرکے اجتماعات میں ایسے ظاهر هوئے که حتی ان کے دشمن بھی ان کی اس کمزوری کو مذاق کرنے کا وسیله قرار نهیں دے سکے تا که اسے گوشه نشینی کرنے پر مجبور کریں ـ نا امیدی سے نجات پانے کے لئے بهت سی راهیں موجود هیں ـ ان میں سے ایک خدا پر بھروسه کرنا هے ـ انسان اپنے پروردگار اور هستی بخش جھان پر بھروسه کر کے تنهائی٬ نا امیدی اور اراده کے فقدان کے کابوس سے نجات پاسکتا هے ـ

5ـ دوسروں کے توسط سے عیب نکالنے سے نه ڈرنا:

دنیا میں کوئی انسان عیب و نقص کے بغیر نهیں هے ـ عاقل اور فهمیده انسان وه هے جو اپنے عیب کو دور کرنے کے لئے اقدام کرے، نه یه که اپنے عیب کے بارے میں سننے ناراض هوجائے اور اس سے ڈرے ـ

امام جعفر صادق علیه السلام نے فرمایا: “میرے محبوب ترین دوست وه هیں جو میرے عیبوں کو مجھے بتادیں”[4] جب نقص معلوم هوگیا، کسی نے همیں تذکر دیا که فلاں نقص رکھتے هو، همیں ناراضگی کے بجائے خوشحال هونا چاهئے اور اس کا شکریه بجا لانا چاهئے اور جتنا جلد ممکن هوسکے اپنے عیب کو دور کرنے اور اس کا علاج کرنے کی کوشش کرنی چاهئے اس لحاظ سے بولنے سے نهیں ڈرنا چاهئے که کهیں هم سے کوئی عیب نمایاں هوجائے، بلکه پوری شجاعت کے ساتھـ بولنا چاهئے ـ

6ـ معاشرتی هونا:

خجالت اور شرمیلے پن کو ختم کرنے کے لئے معاشرتی هونا چاهئے اور یه کام مندرجه ذیل نکات کی رعایت سے انجام پاسکتا هے :

الف ـ سلام کرنے میں سبقت حاصل کرناـ

ب ـ سلام کے بعد مرسوم جملات سے احوال پرسی کرنا اور فردمقابل سے فوری طور پر دور نه هوناـ

ج ـ اجتماعی کاموں، جیسے : گھرمیں، مدرسه اور یونیورسٹی میں، ایکسکرشن اور اجتماعی کھیل کود کے سلسله میں کوششیں کرنا ـ

دـ اپنے بدن کے اعضاء (هاتھـ، پاوں، بات کرنے کے طریقه. . .) کی طرف توجه نه کرنا اور دوسروں کے ساتھـ گفتگو کرتے وقت یا اجتماع میں بولتے وقت مورد نظر مطالب پر تمرکز کرناـ

ھ ـ اچھے افراد سے دوستی برقرار کرنا، جو سرگرم اور فعال هوں اور خجالت کا احساس نه کرتے هوں ـ

7ـ سوره طه کی آیت 25 سے 26 تک تلاوت کرنا:

“قال رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھواقولی” (موسی علیه السلام نے عرض کی پروردگار میرے سینے کو گشاده کردے ، میرے کام کو آسان کردے اور میری زبان کی گره کو کھول دے)

هر کام کی کامیابی کے لئے پهلی شرط وسعت نظرهے ـ انسان کو مسئولیت سے ڈرنے اور اس سے بھاگنے کے بجائے اس کے امکانات، مقدمات اور وسائل کو خدا کی مدد سے فراهم کرنا چاهئے ـ[5] مذکوره آیت حضرت موسی علیه السلام کی داستان کو بیان کرتی هے، انهوں نے نه صرف یه که خدا کی طرف ان پر ڈالی گئی ذمه داری کے بھاری هونے سے خوف کا احساس نه کیا، البته خداوند متعال سے اس ماموریت میں کامیابی کے وسائل کی درخواست کی ـ اور چونکه کامیابی کا سب سے پهلا وسیله، عظیم روح، بلند فکر اور توانا عقل، دوسرے الفاظ میں وسعت نظر بھی هے، لهذا عرض کی: “میرے پروردگار میرے سینه کو گشاده کردینا ” اور چونکه اس راه میں فراوان مشکلات هیں اور یه مشکلات خدا کی مهربانی کے بغیر دور نهیں هوسکتی هیں، اس لئے دوسرے مرحله میں خداوند متعال سے درخواست کی که اس کے لئے کام آسان کرے اور راسته کی مشکلات کو هٹا دے اور کها “اورمیرے کام کو آسان کردے” اس کے بعد حضرت موسی علیه السلام نے قدرت بیان عطا کرنے کی درخواست کی اور عرض کی: “اور میری زبان کی گره کو کھول دے” اور خاص کر اس کی علت کو یوں بیان کیا : “تاکه میری بات کو سمجھـ لیں”[6]

اگرچه اس آیه شریفه کی شان نزول دوسروں کے سامنے بات کرنے کے بارے میں هے لیکن دوسرے مواقع، جیسے خجالت وغیره کے سلسله میں بھی اس سے استفاده کیا جاسکتا هے، پس هم اس آیه شریفه سے خدا پر توکل کرنے اور اجتماعی حالات اور دوسروں کی طرف سے کئے جانے والے تمسخر سے نه ڈرنے کے سلسل میں سبق حاصل کرسکتے هیں اور خجالت کے وقت اس آیه شریفه کو پڑھنے سے اس سبق کے بارے میں اپنے آپ کو تذکر دے سکتے هیں ـ


مزید  عورتوں اور مردوں کی عقل کے درمیان کی نسبت کے سلسله میں حضرت علی علیه السلام کا کیا نظریه هے؟

[1]  خجالت کی بنیادوں اور عوامل سے مزید آگاهی حاصل کرنے کے لئے ملاحظه هو: عنوان: “ریشھ ھا و عوامل خجالت و کم رویی”، سوال 1709 (سایٹ: 1715)

[2]  النَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّة؛ بحارالأنوار، ج58 ، ص 65.

[3]  قرآن مجید اس سلسله میں ارشاد فرماتا هے: ان الله لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم، ” خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نهیں بدلتا هے جب تک وه خود اپنے آپ کو تبدیل نه کرلے ” سوره رعد /11

[4]  أَحَبُّ إِخْوَانِی إِلَیَّ مَنْ أَهْدَى عُیُوبِی إِلَی؛‏ بحار الأنوار، ج‏71، ص282؛ میزان الحکمه، ماده عیب، شماره 14684.

[5]  ملاحظه هو: تفسیر نور، ج‏7، ص 337.

[6] برگزیده تفسیر نمونه، ج3، ص 116.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.