حضرت موسی علیھ السلام کے ذریعے قبطی آدمی کا قتل ھونا، ان کی عصمت کے ساتھه کس طرح موافق ھے۔

0 0

اس سوال کے جواب میں چند نکات کی طرف اشاره کرنا ھے :

الف ) عصمت کے بارے میں مختصر وضاحت:

لغت میں عصمت،کے معنی محفوظ اور مصئون رھنے، کسی چیز سے تمسک کرنے



[1]



کے ھیں۔ متکلمین کی اصطلاح میں : خدا کا ایسا کرم ھے کھ جس کے ھوتے ھوئے، شخص کے اندر اطاعت کے ترک کرنے اور گناه کرنے کا اِدّعا نھ رھے۔ اگرچھ وه ان کے انجام دینے پر قدرت رکھتا بھی ھے۔



[2]



ب) انبیاء کی عصمت کے بعض دلائل:

۱۔ اگر انبیاء الھی معصوم نھ ھوں تو نقضِ غرض(منافی مقصد) ھوگا، کیونکھ انبیاء کی بعثت کا مقصد یھ ھے کھ لوگوں کو اپنے حقیقی مفاسد اور مصالح سے آگاه کریں، اور ایسے مقدمات مھیا کریں جن کے ذریعے دنیاوآخرت کے کمال اور سعادت کے لئے لوگوں کی تربیت اور تزکیھ ممکن ھوسکے۔ یھ مقصد عصمت کے بغیر حاصل نھیں ھوگا۔ کیوں کھ جب نبی کوئی معصیت انجام دے تو ھمارے اوپر یا اس کی پیروی کرنا یا واجب ھے یا نھیں۔ اگر پیروی نھ کریں تو بعثت کا فائده ختم ھو جاے گا، اور دوسری جانب معصیت میں پیروی کرنا بھی جایز نھیں ھے۔

۲۔ بعثت سے پھلے یا بعثت کے بعد، نبی کی معصیت لوگوں کی نفرت اور پیروی نھ کرنے کا سبب بنتی ھے۔

مذکوره دلائل اور دوسرے متعدد دلائل جو انبیاء کی عصمت کے بارے میں بیان ھوئے ھیں وه وجوب عصمت ابنیاء کے لئے قطعی ھیں۔

ج ) حضرت موسی کی عصمت کس طرح قرآن کی بعض آیات کے ظاھر، جیسے قبطی مرد کے قتل کرنے سے موافق ھے؟

قرآن مجید فرماتا ھے: “موسی شھر میں اس وقت داخل ھوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انھوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ھوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے،  تو جو اُن کے شیعوں میں سےتھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسی نے ایک گھونسھ مار کر دشمن کی زندگی کا خاتمه کردیا اور کھا کھ یقیناً یه شیطان کے عمل سےتھا اور یقیناً شیطان دشمن اور کھلا ھوا گمراه کرنے والا ھے ، موسی نے کھا کھ پروردگارا میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی، لھذا مجھے معاف کردے تو پروردگار نے معاف کردیا کھ وه بھت بخشنے والا اور مھربان ھے” ۔



[3]


مزید  زیارت عاشورا میں ذکر ھوئے ، ائمه علیھم السلام کو اپنے مقام سے بر طرف کر نے کے معنی کیا ھیں ؟

اب سوال یھ ھے کھ حضرت موسی نے جو کھا” یقینا یه شیطان کے عمل سے تھا۔ اور وه کھلا ھوا گمراه کردینے والا ھے” اور اُن کےکھنے کے مطابق کھ ” پروردگارا میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی لھذا مجھے معاف کردے”

اُن کی عصمت کے ساتھه کس طرح موافق ھے؟

اس سلسلے میں کھنا چاھئے : کھ  فرعون کے ایک درباری ( قبطی ) نے حضرت موسی علیھ السلام کے ایک پیروکار کو ایندھن جمع کرنے پر مجبور کیا تھا اور اسی پر وه آپس میں لڑ پڑے۔ اس وقت موسی مدد کے لئے آئے اور قبطی کو ایک گھونسھ مارا، جس کی وجھ سے قبطی مرگیا۔



[4]



جو کچھه مفسرین نے بیان کیا ھے وه یھ ھے کھ موسی کا یھ عمل ترک اولی تھا اور اس کام کی وجھ سے اُنھوں نے اپنے آپ کو زحمت میں ڈالا۔ اسی وجھ سے فرعونی اُنھیں نھیں چھوڑیں گے۔ “ترک اولی” اس کام کو کھتے ھیں، جو بذاته حرام نھیں ھے بلکھ اس کا مطلب اچھے کام کو ترک کرنا ھے بغیر اس کے کھ کوئی خلاف عمل انجام پایا ھو۔



[5]


کتاب ” عیون اخبار الرضا” میں آیا ھے کھ مامون نے یھی سوال حضرت امام رضا علیھ السلام سے کیا تو جواب میں حضرت علیھ السلام نےفرمایا: کھ ” یقینا شیطان کے عمل سے تھا” سے مراد ان دو آدمیوں کی لڑائی ھے، اور جملھ ” پروردگار میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی” سے مراد یھ ھے کھ مجھے اپنے آپ کو جھاں پر نھیں رکھنا تھا رکھه لیا اور مجھے اس شھر میں نھیں آنا چاھئے تھا۔ ” مجھے معاف کردے” سے مراد مجھے دشمن سے چھپا دے کیونکھ “غفران” کے ایک معنی چھپانے کے ھیں۔



[6]


مزید  ھم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو قران مجید میں ’’علیکم انفسکم ‘‘ جیسی آیتیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دعایئں پہلے اپنے لیئے پھر اپنے اقرابتداروں اور پھر اسکے بعد باقی مومنوں کےلیئے کریں اور دوسری طرف ایسی روایتیں بھی ملتی ہیں جن سےثابت ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ (س) پہلے دوسروں کے لئے دعایئں فرماتی تھیں آپ اس ظاھری تناقض اور ٹکراو کی کیسے توجیح کرتے ہیں اور ھم اپنی دعاوں میں کس ترتیب کی رعایت کریں

سید مرتضی علم الھدی(رح) نے کتاب ” تنزیھ الانبیاء ” میں اس آیت کی دو وجھ بیان کیں ھیں:

۱۔ “ظلم” سے مراد مستحب کا ترک کرنا ھے جو مرد قبطی کے قتل میں تاخیر کرنا تھا۔ حضرت موسی علیھ السلام نے اپنے شیعھ کی مدد کرنے میں جلدی کی اور اس طرح ترک اولی کیا ، اور اس مستحب کام پر ثواب سے محروم ھوے لھذا فرمایا ” میں نے مصیبت مول لی ”

۲۔ ” یھ شیطان کے عمل سے تھا” سے مراد اس قبطی کی لڑائی ھے۔ حضرت موسی اس آدمی کو نھیں مارنا چاھتے تھے بلکھ اپنے شیعھ کی مدد کرنا چاھتے تھے۔



[7]


شیخ طوسی (رح) نے تفسیر تبیان میں فرمایا ھے ” اس قطبی مرد کا قتل کرنا برا نھیں تھا اور خدا نے حضرت موسی کو اُسے مارنے کا امر کیا تھا۔ لیکن بھتریھ تھا کھ کچھه مصالح کے تحت موسی اس قتل میں تاخیر کرتے ، اور چونکھ جلدی ھی یھ قتل کیا اسی لئے موسی نے استغفار کیا۔



[8]


صاحب مجمع البیان نے بھی اس سوال کا جواب دیا ھے کھ ” قتل اس مومن کو ظالم کے ھاتھه سے چھڑانے کے لئے تھا،اور خود قتل مقصود نھیں تھا، پس وه حَسَن اور غیر قبیح تھا۔



[9]


تفسیر فتح القدیر میں آیا ھے کھ یھ طلب مغفرت ، ترک اولی کی وجه سے ھے ، اور ” ظلمت نفسی ” سے مراد یھ کھ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا کیونکھ ایک فرعونی کو مارا۔ کیونکھ اگر فرعون کو پتا چلے گا تو وه مجھے مارڈالے گا اور ” فاغفرلی” سے مراد یھ ھے کھ خدایا اس کو چھپادے تا کھ فرعون کو پتھ نھ چلے۔

اور اگر قرآن مجید سوره شعرا آیھ ۱۴،میں موسی کے قول سے فرماتا ھے کھ ” لھم علی ذنب” ( اور میرے اوپر ان کا ایک جرم بھی ھے) تو یھ فرعونیوں کا گمان اور عقیده تھا نھ کھ حضرت موسی واقعی  گناھکار تھے۔



[10]


مزید  شیاطین کو سنگسار کرنے سے مراد (جوقرآن مجید میں آیا ھے) کیا ھے؟

پس نتیجھ کے طور پر یھ کھه سکتے ھیں: کھ گناه اور معصیت کے کچھه مراحل ھیں ، کبھی انسان شرعی قوانین اور اخلاقی دستور کی خلاف ورزی کرتا ھے، یھ عصمت کے منافی ھے۔ لیکن کبھی ایسا نھیں ھوتا ھے بلکھ صرف ایک ترک اولی ھوتاھے اگرچھ یھ مقربین کے نزدیک معصیت ھے لیکن عصمت کے منافی نھیں ھے اور یھ ” حسنات الابرار سیئات المقربین ” ( ابرار کی نیکیاں مقربین کے گناه محسوب ھوتے ھیں ) کے باب سے ھے اور بس۔

مزید اطلاع کیلئے رجوع کریں:

۱۔ عنوان، قرآن میں انبیاء کی عصمت ،نمبر 2719، ( سائٹ ، 3005)

۲۔ عنوان، قرآن کی نظر میں انبیاء کی عصمت ، نمبر ۱۱۲، ( سائٹ نمبر )







[1]



 
مفردات راغب ،کتاب العین ، ماده عصم۔






[2]



 

 سبحانی ، جعفر، محاضرات فی الاھیات، ص ۴۰۵۔






[3]



 

 ودخل المدینة على حین غفلة من أهلها فوجد فیها رجلین یقتتلان هذا من شیعته وهذا من عدوه فاستغاثه الذی من شیعته على الذی من عدوه فوکزه موسى فقضى علیه قال هذا من عمل الشیطان إنه عدو مضل مبین * قال رب إنی ظلمت نفسی فاغفر لی فغفر له إنه هو الغفور الرحیم، سوره قصص، / ۱۵، ۱۶۔






[4]



 

 مکارم شیرازی ، تفسیر نمونھ، ج ۱۶۔ ص ۴۳، مکارم شیرازی ، تفسیر البیان ، ج ۷۔ ، ،

شیخ طوسی، تفسیر تبیان، ج ۲، ص ۳۹۱۔ تفسیر اثنی عشری، ج ۱۰ س ۹۴۔






[5]



 

 تفسیر نور الثقلین ، ج ۴، ص ۱۱۹، تفسیر اثنی عشری ،ج ۱۰ ، ص ۹۴،






[6]



 

 عیون اخبار الرضا، علیھ السلام ، باب ۱۵، عروسی حویری عبد علی بن جمعھ ، نور الثقلین ، ج ۴ ص ۱۱۹، المیزان ج ۱۶۔ ص ۱۸۔






[7]



 

 منقول از مجمع البیان،






[8]



 

 تفسیر تبیان، ج ۲، ص ۲۹۱۔ چاپ رحلی۔






[9]



 
طبرسی ، فضل بن حسن ، مجمع البیان ، ج ۷ ص ۳۸۲۔






[10]



 

 شوکانی محمد بن علی ، تفسیر فتح القدیر ، ج ۴ ص ۱۶۴۔

تبصرے
Loading...