حضرت امام زمانه (عج) کے ظهور کی کیا علامات اور نشانیاں هیں؟ اور ان میں سے کون کون سی زیاده موثق اور با اعتماد هیں؟

0 0

پهلے کچھ مقدماتی نکات کا بیان ضروری هے اور اس کے بعد تفصیل سے جواب دیں گے:

۱. حضرت امام زمانه (عج) کے قیام کا مسئله، دنیا کے اهم ترین مسائل میں سے هے، جس کی وجه سے اس قیام کے اصلی وارث کو «موعود ادیان» اور مصلح جهانی کا لقب دیا گیا هے.

۲. کیونکه آپ کا ظهور دنیا کے عظیم واقعات میں سے هے، لهذا اس کے ساتھ ایسی نشانیاں هونی چاهئیں جو اب تک واقع نه هوئی هوں. جس طرح حضرت ختمی مرتبت (ص) کی ولادت جیسے اهم واقعات بھی کچھ نشانیوں کے همراه تھے.

۳. ان علائم اور نشانیوں کے فوائد اور ثمرات کا نتیجه کچھ یوں هو سکتا هے:

          ان نشانیوں میں سے بعض اتنی عظیم هیں که خود قیام اور قیام کرنے والے (عج) کی عظمت اور آپ کی کرامت کو بیان کرتی هیں.

          ان نشانیوں میں سے بعض ایسی هیں جو دشمنوں کے دلوں اور ان کی تنظیموں میں رعب اور خوف ڈالنے کے لئے هیں.

          بعض ایسی هیں جو اس قیام کے منتظر لوگوں کو خوشخبری دینے کے لئے هیں.

۴. یه بهت اچھی بات هے که مٶمنین حضرات ان نشانیوں سے آگاه رهیں تا که دھوکه اور فریب میں مبتلا نه هو جائیں اور هر قسم کے حادثے کو ظهور کی علامت هی نه سمجھ بیٹھیں کیونکه «جھوٹے مهدی» اور دوسرے دھوکه باز افراد اسی غفلت سے غلط فائده اٹھا سکتے هیں. اسی طرح حد سے زیاده ان نشانیوں کی کھوج لگانا بھی صحیح نهیں هے. اور اس کی وجه جواب کے اگلے حصه میں بیان کی جائے گی.

 

علائم ظهور کی تفسیر

ظهور کی نشانیوں کو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا گیا هے، من جمله: حتمی اور غیر حتمی نشانیاں. اکثر لوگ اس غلط فهمی میں مبتلا هیں که بعض نشانیوں کے حتمی هونے کی وجه سے «ظهور» سو فیصد انهیں علامتوں سے وابسته هے! حالانکه – بعض روایات کے مطابق- ظهور کا مسئله «الله تعالی کے اراده» سے متعلق هے. اس صورت میں کوئی فرق نهیں پڑتا که کون کون سی نشانیاں واقع هوئی هیں اور کون سی واقع نهیں هوئی هیں. اس صورت میں حتمی نشانیوں کا یه معنی بنتا هے که بعض نشانیوں کے واقع هونے سے ظهور کا احتمال بڑھ جاتا هے (صرف ظهور کا احتمال بڑھ جاتا هے نه که سو فیصد واقع بھی هو جائے گا). لهذا اب واضح هو گیا هے که حتمی نشانیوں کی نسبت، غیر حتمی نشانیوں کا مطلب یهی هے که ان کے واقع هونے سے ظهور کا احتمال بھی کم هو جاتا هے.

حتمی اور غیر حتمی نشانیوں کا اس طرح معنی نکالنے کی وجه، آنے والی حدیث میں غور کرنے سے واضح هو جاتا هے:

«داٶد بن ابی القاسم نقل کرتے هیں که حضرت امام جواد (علیه السلام) کے هاں حاضر تھے. ظهور کی نشانیوں اور سفیانی نام کے کسی شخص کے خروج اور قیام کی بات چل نکلی اور یه که بعض روایتوں میں اس کے قیام کو ظهور کی علامت سمجھا گیا هے اور یه ضرور واقع بھی هو گا. میں نے امام (ع) کی خدمت میں عرض کی: کیا الله تعالی حتمی امور کے واقع هونے یا ان امور کی خصوصیات میں تبدلی (یعنی بداء) کرتا هے؟ (ایسا که یه حتمی امور یا بالکل واقع هی نه هوں یا ایسا هو که ان حتمی امور کے بارے میں بتائی گئی صفات ان میں نه پائی جائیں) آپ (ع) نے فرمایا: جی هاں، هر قسم کی تبدیلی اور تصرف کا احتمال (حتی که حتمی امور میں بھی) پایا جاتا هے! میں نے عرض کی: اس صورت میں تو همیں یه ڈر هے که کهیں الله تعالی حضرت قائم (عج) کے ظهور اور فرج میں بھی تبدیلی یا انصراف (بداء) هی نه کر ڈالے!

آپ (ع) نے جواب میں فرمایا: [ایسا کبھی نهیں هو سکتا؛ کیونکه] حضرت قائم (عج) کا قیام کرنا، الله تعالی کے [تبدیل نه هونے والے] وعدوں میں سے هے»[1].

علم الحدیث کے عظیم عالم جناب «محدث نوری» مذکوره حدیث کے بارے میں یوں فرماتے هیں:

« … حضرت امام زمانه حضرت حجة بن الحسن المهدی (عج) کا ظهور اور قیام ضرور محقق اور واقع هو گا اور اس میں کوئی تبدیلی یا تخلف نهیں هو گا، لیکن اس کے علاوه جو کچھ بھی خود ظهور کی نشانیاں یا ظهور کی زمانے کی نشانیاں بتائی گئی هیں، وه سب متغیر اور تبدیل هو سکتی هیں اور ممکن هے مقدم (پهلے) یا مٶخر (دیر سے) واقع هو جائیں. حتی که وه نشانیاں جن کو محتوم علائم میں سے شمار کیا گیا هے! کیونکه –ان روایات میں- محتوم اور حتمی علائم کا مطلب یه هر گز نهیں که ان میں کوئی تبدیلی واقع نهیں هو گی اور بالکل ویسے هی جس طرح حدیثوں میں آیا هے، اسی طرح واقع بھی هو جائیں گی، بلکه حتمی علائم کا معنی یه هے که ان میں کسی حد تک تاکید موجود هے جو کسی مرحلے میں تبدیلی کرنے کے منافی نهیں هے»[2].

لهذا بهتر هے که سب مل کر عظیم مقصد یعنی ظهور کے لئے زمینه سازی اور تیاری کے لئے کوشش کریں اور حد سے زیاده پریشانی کرنے کے بجائے (جو کبھی الله تعالی کی رحمت اور حضرت امام عصر (عج) کی عنایت سے مأیوسی کا باعث بھی بن سکتی هے)، خالصانه اور خاضعانه دعائیں کریں اور ساتھ ساتھ جسمانی اور روحانی طور پر اپنے آپ کو تیار کریں تا که الله تعالی کی رحمت کا چشمه پوٹھے اور وه «فرشته ظاهر هو جائے» اور یه سب دین کے بارے میں زیاده معرفت اور پهچان حاصل کرنے اور اسی طرح واجبات کو انجام دینے اور محرمات کو ترک کرنے کی صورت میں هی میسر هو سکے گا.

مزید  کیا انسان زمیں پر موجود مخلوقات کی به نسبت اشرف المخلوقات هے یا تمام هستی اور کائنات کی مخلوقات کی به نسبت ؟ کیا انسان سے بھی شریف تر مخلوق کے خلق کئے جانے کا امکان هے؟

 

حتمی نشانیوں کی قسمیں اور ان کی تعداد

بعض احادیث کے مطابق پانچ علامتوں کو حتمی نشانیوں میں سے گنا گیا هے، جن کا ذکر آگے کیا جائے گا. البته ان نشانیوں کی توضیح اور تفصیل اتنی طویل هے که اس مختصر سے جواب میں ان کی تفصیل بتانا ممکن نهیں هے.

ابی حمزه ثمالی فرماتے هیں: «امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں عرض کی که آپ کے والد گرامی حضرت امام محمد باقر (ع) فرمایا کرتے تھے که: سفیانی نام کے شخص کا خروج حتمی هے اور آسمان میں ایک آواز کا گونجنا بھی حتمی هے اور اسی طرح سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع کرنا بھی حتمی هے اور بعض دوسری چیزوں کا بھی ذکر فرمایا جن کو آپ (ع) حتمی امور میں سے سمجھتے تھے.

حضرت امام جعفر صادق (ع) نے اپنے والد گرامی کی کلام کو یوں مکمل فرمایا: «اور بنی فلان (شاید بنی امیه یا وهی باطل گروه) کا اختلاف بھی حتمی هے؛ اور «نفس زکیه» کا قتل هونا بھی حتمی هے اور حضرت قائم (عج) کا قیام بھی حتمی هے بلکه یقینی وعده هے. میں نے عرض کی: آسمانی آواز کے بارے میں مزید تفصیل بیان فرمائیے!؟ آپ نے فرمایا: «دن کے شروع هونے کے وقت ایک منادی بهت اونچی آواز میں (ایسے که هر قوم کا فرد اپنی زبان میں اس کو سمجھ سکے گا) پکارے گا:

«الا انَّ الحق فی علی و شیعته»؛ جان لو که علی اور اس کے شیعه حق پر هیں. اور اسی دن کے آخر میں ابلیس پکارے گا: «الا انّ الحق فی سفیانی و شیعته»؛ جان لو که سفیانی اور اس کے پیروکار حق پر هیں.

یه وه موقع هو گا جب متزلزل عقیده رکھنے والے (یعنی اهل باطل) شک میں پڑ جائیں گے»[3].

مزید  کیا بھشت میں بھی فقھی احکام موجود ھیں؟

 

نکته

«نفس زکیه» سے مراد، ایک عظیم انسان هے جو حضرت امام زمانه (عج) کی طرف سے تبلیغ کرنے پر مامور هوگا لیکن کعبه کے ساتھ (رکن اور مقام کے درمیان) شهید کر دیا جائے گا[4].

اور «سفیانی» بھی معاندین میں سے هوگا جو آپ سے مقابله کرنے کے لئے قیام کرے گا اور «بیداء» نامی سرزمین پر (یمن میں) – الله تعالی کے حکم سے – اپنے تمام سپاهیوں کے ساتھ زمین کے اندر غائب هو جائے گا[5].



[1] . بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۲۵۰-۲۵۱، طبع اسلامیه

[2] . محدث نوری، نجم الثاقب، ص ۸۳۲، جمکران پبلیکیشنز

[3] . کمال الدین، ج ۲، ص ۶۵۲

[4] . بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۳۰۷، ح ۸۱

[5] . رضوانی، علی اصغر، موعود شناسی، ص ۵۲۴، جمکران پبلیکیشنز

تبصرے
Loading...