حضرت آدم علیه السلام وحوا کے کتنے فرزند تھے؟

0 0

180x480 Banner

حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں کے بارے میں ، بهت سے دوسرے تاریخی حوادث اور واقعات کے مانند کوئی قطعی نظریه موجود نهیں هے، کیونکه قابل اعتبار تاریخی کتا بوں میں حضرت آدم علیه السلام کے فرزندوں کے نام اور تعداد کے بارے میں اختلافات پائے جاتے هیں – یه شاید ان کے اور تاریخ کے درج اور تحریر میں آنے کے در میان زمانه کا طولانی فاصله یا ان سب کے نام اهم نه هونے کی وجه سے تھا—

قاضی ناصر الدین بیضاوی اپنی کتاب ” نظام التواریخ” میں حضرت آدم علیه السلام اور حوّا کے فرزندوں کی تعداد کے بارے میں لکھتے هیں : ” حوّا جب بھی حامله هوتی تھیں ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو ایک ساتھـ جنم دیتی تھیں اور هر بطن کی ماده کو دوسرے بطن  کے نر کے ساتھـ بیاها دیا جاتا تھا (یعنی ایک بطن کی ماده کودوسرے بطن کے نر سے شادی کی جاتی تھی) ، وه اس سلسله میں آگے لکھتے هیں: اس (حوّا) نے ایک سو بیس بطن سے فرزندوں کو جنم دیا اور قابیل چوتھے بطن کا بیٹا تھا- هابیل کے هلاک هونے کے پانچ سال بعد ایک بطن سے آدام کا ایک بیٹا پیدا هوا اور اس کے همراه بیٹی نهیں تھی – اس کا نام ” شیث” رکھا گیا اور فر مایا وه هابیل کے بد لے میں ایک اور مبارک بیٹا هے اور وه پیغمبر هو گا [1]– اس نظریه کے مطابق حضرت آدم و حوا کے ٢٣٩فرزند تھے-

طبری نے اپنی تاریخ میں اس نظریه کی حسب ذیل تین تشریحیں لکھی هیں :

١-بیٹے اور بیٹیوں پر مشتمل ١٢٠ فرزند-       ٢-چالیس بیٹے اور بیٹیاں- ٣- ٢٥ بیٹے اور ٤ بیٹیاں مزید معلو مات کیلئے ملاحظه هو : تاریخ طبری ، تاریخ الامم والملوک ، ج١، ص١٤٥-


مزید  ائمه معصومین کی امامت نه کلی طور پر بلکه خاص امامت، یعنی حضرات معصومین (ع) کی ان کے خاص اسم و رسم کے ساتھـ حقیقی شخصیت کے بارے میں دین سے باهر، مثلا ایک غیر شیعه یا حتی ایک مسلم کے سامنے کیا دلائل پیش کئے جاسکتے هیں؟

[1] – بیضاوی ،ناصر الدین ، ومیر هاشم، محدث، ص٥- ٦-

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...