حرکت جوهری کا مراد کیا هے؟

0 0

حرکت جوهری کو بیان کرنے کے لئے ضروری هے که هم پهلے حرکت و جوهر کے معنی بیان کریں:

فلسفی بیان میں حرکت، یعنی قوه سے فعل میں ایک شے کی تندریجی تغییر یا خروج هے، یعنی حرکت، وجود کا ایک طریقه هے که شےاس کے ذریعه تدریجاً حالت قوه سے خارج هوکر فعلیت میں پهنچ جاتی هے ـ اس کا تدریجی هونا اس معنی میں هے که جو اجزاء اس وجود کے لئے فرض کئے جاتی هیں ایک هی زمانه میں آپس میں جمع نهیں هوتے هیں، بلکه پوری مدت میں تدریجاً وجود میں آتے هیں ـ[1]

جوهر، ایک ماهیت هے که وجود میں آنے کے لئے موضوع کا محتاج نهیں هے ـ اس کی پانچ قسمیں هیں: 1ـ ماده 2ـ صورت 3ـ عقل 4ـ نفس 5ـ جسم[2]، اور اس کے بر خلاف عرض، کو خارج میں وجود میں آنے کے لئے موضوع کی ضرورت هوتی هے ـ مثال کے طور پر رنگ، جو عرض کی ایک قسم هے اور خارج میں وجود میں آنے کے لئے ضروری هے که ایک موضوع پر ایجاد هوجائے ـ لیکن جوهر کا چونکه مستقل اور آزاد وجود هے، اس لئے اسے خارج میں ایجاد هونے کے لئے موضوع کی ضرورت نهیں هے ـ مثال کے طور پر جسم ـ

لیکن حرکت جوهری کے (ساده الفاظ میں) یه معنی هیں که عالم کی بنیاد کو جوهر تشکیل دیتا هے اور تمام جواهر دائماً اور لمحه به لمحه حرکت کی حالت میں هیں ـ حتی یه که ایک جوهر کے اعراض مثل رنگ و حجم وغیره بھی تغییر هوتے هیں، یه خود اس جوهر کی ذات میں حرکت کی وجه سے هے ـ جو دائماً حرکت میں هے ـ دوسرے الفاظ میں حرکت جوهری عین وجود جوهر هے اور صرف فاعل الٰٰهی اور هستی بخش کی محتاج هے اور جوهر کا ایجاد بالکل وهی ایجاد حرکت جوهری هے ـ لیکن حرکت اعراض حرکت جوهر کے تابع هے ـ[3] اعراض میں تغیر و تبدل ان کی جوهری فطرت کا معلول هےـ یعنی هم ایک جوهر کے اعراض کی حرکت میں کوئی شک و شبهه نهیں رکھتے هیں، مثلاً هم دیکھتے هیں که سیب کا رنگ بدلتا هے لیکن اس تغییر کی علت اس کے جوهر میں حرکت هے، اس لحاظ سے ان تغیر و تبدالات کا فاعل طبیعی خود ان کے مانند متغیر هونا چاهئے، پس خود جوهر جو حرکات عرض کے لئے فاعل طبیعی شمار هوتا هے، متحرک هونا چاهئےـ

ملاصدرا سے پهلے جوهر میں حرکت کی بحث نهیں تھی اور صرف بعض یونانی ملاسفه سے کچھـ باتیں نقل هوئی هیں جو حرکت جوهر پر قابل تطبین تھیں، لیکن اسلامی فلاسفه میں، صرف ملاصدرا (صدرالمتالهیں شیرازی) هیں جس نے حرکت جوهری کی بحث پیش کی هے اور اسے دلیل کے ساتھـ ثابت کیا هے ـ اس کی دلائل میں سے ایک یه هے که اعراض اپنے موضوعات سے الگ کوئی مستقل وجود نهیں رکھتے هیں بلکه اعراض وجود جوهری کی شان میں سے هیں اور ایک طرف سے جب یه اعراض تغییر کرتے هیں تو ان میں حرکت پیدا هوتی هے اور هم یه سمجھتے هیں که جوهر بھی حرکت رکھتا هے، کیونکه ایک موجود میں جس قسم کی تغییر ایجاد هوجائے خود اس کے لئے ایک تغییر اور اس کی اندرونی و ذاتی تغییر کی ایک علامت شمار هوتی هے، نتیجه کے طور پر حرکات عرض، جوهر میں حرکت کی علامت هیں اور یه وهی حرکت جوهری هے ـ

حرکت جوهری کو ثابت کرنے کی ملا صدرا کی دلائل میں سے ایک اور دلیل یه هے که وه کهتے هیں:

هر موجود مادی، زمانه اور بعد زمانی رکھتا هے اور هر موجود جس میں بعد زمانی هو وه تدریج الوجود هے ـ نتیجه کے طور پر جوهر مادی بھی حرکت رکھتا هے ـ[4]

دوسری جانب سے بعض مفسرین نے حرکت جوهری کے سلسله میں قرآن مجید کی بعض آیات کو بھی مثال کےطور پر پیش کیا هے، جیسے ” اور تم دیکھو گے تو سمجھو گے که جیسے پهاڑ اپنی جگه پر جامد هیں، حالانکه یه بادلوں کی طرح چل رهے هیں ـ”[5] اور اسے حرکت جوهری کے طور پر پیش کیا گیا هے اور کها هے که تمام موجودات اپنے ذاتی جوهر کےساتھـ غایت وجود کی طرف حرکت میں هیں اور یهی حرکت جوهری هے ـ[6] دوسرے الفاظ میں، آپ پهاڑ کو جامد سمجھتے هیں جبکه وه اپنی حرکت جوهری کے ساتھـ دائماً حرکت کی حالت میں هیں ـ

حرکت جوهری کے ثبوت میں کچھـ اور دلائل پیش کئے گئے هیں جو فلسفی کتابوں میں مفصل طور پر بیان هوئے هیں ـ[7]

مزید معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعه کیا جاسکتا هے ـ

شرح منظومه، حاج ملا هادی سبزواری،نوشته استاد شهید مطهری

بدایة الحکمة و نهایة الحکمة ـ علامه طباطبائی

اسفار اربعه، ملاصدرا، مراجعه فرمائید.


مزید  جن مواقع پر نماز کی حالت میں [کھڑے یا دوسری حالت میں] آرام میں ھونا ضروری ھے، کیا اس حالت میں سر یا هاتھ کو هلانے سے بھی نماز باطل ھوتی ھے؟

[1]  مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش فلسفه، ج 2، ص 285 الی 293، نشر بین الملل، چاپ هفتم، قم، 1386 ش.

[2]  طباطبائی محمد حسین نهایة الحکمه ص 207؛ نک: سؤال 785، نمایه: جوهر و عرض.

[3]  آموزش فلسفه، ج 2، ص 334 و مطهری، مرتضی، مقالات فلسفی، ج 1، ص 286، انتشارات صدرا.

[4]  آموزش فلسفه، ج 2، ص 335.

[5] سوره نمل، 88، وَ تَرَى الجِْبَالَ تحَْسَبهَُا جَامِدَةً وَ هِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ…

[6]  معصومی همدانی، سید محمد باقر، ترجمه المیزان، ج 15، ص 578، چاپ جامعه مدرسین.

[7]  ایضاً

تبصرے
Loading...