حج یا عمره سے پهلے ایک جوان کو اپنے تزکیه نفس کے لئے کیا قدم اٹھانا چاهئے؟

0 0

چوں که حج یا عمره بهت هی اهم اعمال میں سے هے اور انسان اس معنوی و روحانی سفر میں زیاده سے زیاده فائد حاصل کرنا چاهتا هے ، لهٰذا ان اعمال کے انجام دینے سے پهلے سے خود کو آماده کرنا ضروری هے اور اپنے اندر خاص حالات پیدا کرنے جن میں سے بعض کی طرف ذیل میں اشاره کیا جا رها هے :

1۔ اپنی نیت کو اس طرح خداوند عالم کے لئے خالص قرار دیجئے که دنیا کی کوئی غرض آپ کے دل میں نه هو جیسے ریا کاری ، حج نه کرنے سے لوگوں سے مذمت کا ڈر یا تجارت وغیره ، اس لئے که یه ساری چیزیں انسان کے اعمال کو قرب الٰهی اور خلوص نیت سے خالی کر دیتی هیں اور ثواب سے محروم کردیتی هیں۔

2۔ خلوص دل سے اپنی گناهوں س توبه کریں؛ یعنی اس کے انجام دینے پر شرمنده هو اور دل سے یه عزم کریں که انھیں کبھی بھی انجام نه دیں گے ، گذشته گناهوں پر شرمنده هوتے هوئے هر حال میں خدا وند عالم سے مغفرت طلب کریں دوسروں کے هڑپ کئے هوئے حقو ق یا بر باد کئے گئے مال کو ( اگر هے تو اصل مال اور اگر نهیں هے تو اس کا عوض) اس کے مالک کو واپس کردیں اسی طرح لوگوں کے معنوی حقوق جیسے اگر کسی پر تهمت لگائی هو غیبت اور آبرو ریزی کی هو تو لوگوں سے معذرت طلب کریں اور اگر ایسا نه کرنے میں کسی فساد کا ڈر هے تو کسی نه کسی طرح اس کا ازاله کریں مثال کے طور پر اس کی خوبیوں کی لوگوں کے درمیان بیان کریں اورخداوند عالم کی بارگاه میں اس کے لئے مغفرت طلب کریں اور جو الٰهی حقوق اور فریضے کفارے وغیره کے ذریعه جبران کے قابل هیں ان کے ازاله کا عزم کریں ۔

روح پر گانه کے تخریبی آثار کو ختم کرنے کا طریقه جاننے کے لئے اخلاق کی کتابوں (جیسے معراج السعادة مؤلفه نراقی مرحوم وغیره ) کی طرف رجوع کریں ۔

3۔ اگر اب تک آپ نے خمس نهیں نکالا هے اور نه هی خمس کی تاریخ معین کی هے تو هر سال کے لئے خمس کی تاریخ معین کریں اور اپنے مال سے خمس نکالیں ۔

4۔ سر زمین وحی( مکه ) پهنچ کر اعمال حج سے پهلے کوشش یه رهے که ان کاموں سے اجتناب کریں جو معنوی امور میں حائل اور دل کو مشغول کرنے کا سبب هوتے هی ، مثال کے طور پر بازار وغیره کم جائیں۔

5۔ زاد سفر اور حج اخراجات حلال کی کمائی سے مهیا کریں اور اس میں کنجوسی سے کام نه لیں بلکه راخ دلی کے ساﺘﮭ خرچ کریں۔

6۔ اپنے هم سفر اور دوستوں کے ساﺘﮭ اچھا برتاؤ کریں ” اور ان کے ساﺘﮭ بشاش اور خوش خلام رهیں، تواضع و انکساری سے کام لیں اور بیهوده باتوں ، بکواس اور بد اخلاقی سے پرهیز کریں ، مرضی الٰهی کے خلاف کوئی بات نه کهیں کسی سے جنگ اور دشمنی مول نه لیں ۔

7۔ اپنی طاقت و پر بھروسه و تکیه نه کریں بلکه فقط خدا وند عالم پر بھروسه کریں اور اسی سے مدد طلب کریں تکه ایک مقبول شده حج یا عمره اور مبارک اور مقبول سعی کے همراه اپنے وطن واپس آئیں ۔[1]


مزید  کیا اسلامی نظام میں، دوسرے درجے ا ور اس کے بعد درجے والے مدیر{ ایڈ منستریٹر} بھی ولایت کے وسیع اختیارات کے مالک ہیں اور ان کی مخالفت خلاف شرع شمار ھوگی؟

[1] مجلسی ، بحار الانوار، ج96 ، ص 124- 126 ، چاپ بیروت، دار الوفائ، 1404ھ۔

تبصرے
Loading...