جھاں پر غسل کرنے کی طاقت نھیں ، وھاں پر کیا کرنا چاھئے۔

0 0

آپ کا فرض ، غسل جنابت کے بدلے تیمم کرنا ھے یعنی غسل جنابت کے بدلے آپ تیمم کریں اور نماز صبح پڑھ لیں اور بعد والی نمازوں کیلئے غسل کریں۔

اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ھے کھ یھ مسئلھ نماز صبح کیلئے مخصوص نھیں ھے ۔ بلکھ دوسرے اوقات میں بھی یھی حکم ھے یعنی اگر کوئی جنب ھوا اور نماز کے وقت میں وه غسل نھ کرسکا تو اس کا فرض تیمم کرنا ھے ۔ اور نماز قضا ھونے سے پھلے تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔

لیکن اس نکتھ کی طرف توجھ کرنا ضروری ھے کھ اگرکوئی شخص مباشرت سے پھلے جان لے کھ طلوع آفتاب تک وه غسل نھیں کرسکتا تو کیا وه اپنی بیوی کے ساتھه مباشرت کرسکتا ھے؟

مراجع تقلید اس سلسلے میں فرماتے ھیں: اس کام کے انجام میں کوئی شرعی اشکال نھیں اور اس طرح کے شخص کا فرض بھی تیمم کرنا ھے۔

پس یھ شخص غسل جنابت کے بدلے ، تیمم بدل از غسل کرے گا اور اسی تیمم سے نماز پڑھے گا۔ [1]



[1]  حسینی ، سید مجتبی ، رسالھ دانشجوئی ، ده مراجع کی نظر کے مطابق ص ۸۰ مسئلھ ۸۸۔

مزید  اسلامی فلسفه کے مطابق معاد کی کیفیت کیسے قابل توجیه هے؟ کهاجاتا هے که فلاسفه اور متکلمین کے درمیان اس سلسله میں اختلاف نظر پایا جاتاهے؟ اس کے دلائل بیان فرمائیے؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.