جو سود بینک سے لیا جاتا ھے ۔ اس کا کیا حکم ھے ؟ کیا اسلامی ملکوں کے بینکوں اور غیر اسلامی بنکوں سے سود لینے میں فرق ھے؟

0 0

غیر اسلامی ممالک کے بنکوں کے بارے میں حضرت آیۃ اللھ العظمی سید علی خامنھ ای ( مد ظلھ العالی ) کا فتوی یوں ھے:

الف) سود دینا حرام ھے ، یعنی بینک سے قرض لینا اس شرط کے ساتھه کھ زیاده پیسھ واپس کیا جائے گا یھ حرام ھے۔ مگر یھ کھ اس کو اتنی ضرورت ھو جو حرام کے ارتکاب کو جائز کرے۔ البتھ ایک شخص حرام سے بچنے کیلئے زیاده پیسھ دینے کا قصد نھ کرے اگر چھ وه  جانتا ھو کھ بینک اس سے لے گا۔[1]

ب) غیر اسلامی ممالک کے بینکوں سے سود لینا جائز ھے ۔[2]

کریڈٹ کارڈ کے بارے میں حضرت آ یۃ اللھ العظمی سید علی خامنھ ای کا فتوی یوں ھے:

جو پیسھ اکونٹ میں موجود ھے اور استعمال کرتے وقت اسے اٹھاتے ھیں اس میں کوئی اشکال نھیں لیکن جو رقم اکونٹ میں پیسھ موجود ھونے کے بغیر آپ کو دی جاتی ھے اگر وه قرض کے عنوان سے ھے اس پر سود لیتے ھیں ، تو قرض کی اصلی مقدار صحیح لیکن اس سے زیاده ربا اور حرام ھے۔ [3]



[1]  توضیح المسائل مراجع ، ج ۲ ص ۹۳۵۔ ص ۱۹۱۱۔

[2]  ایضا ً ص ۹۳۶ ، ص ۱۹۱۷

[3]  پاسخ دفتر رھبری بھ سوال ۳۶۹۔ ، عنوان : کارتھای اعتباری و ربای بانکی۔

مزید  آیہ شریفہ " سماعون للکذب اکالون للسحت" کیسے رشوت کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے؟
تبصرے
Loading...